أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ رَبِّ اشۡرَحۡ لِىۡ صَدۡرِىْ ۞

ترجمہ:

موسیٰ نے کہا اے میرے رب ! میرے لئے میرا سینہ کھول دے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : موسیٰ نے کہا : اے میرے رب ! میرے لئے میرا سینہ کھول دے اور میرے لئے میرا کام آسان کر دے اور میری زبان کی گرہ کھول دے کہ وہ لوگ میری بات سمجھیں اور میرے لئے میرے اہل میں سے ایک وزیر بنا دے میرے بھائی ہارون کو اس سے میری کمر کو مضبوط کر دے اور میرے مشن میں اس کو میرا شریک کردے تاکہ ہم تیری بہت تسبیح کریں اور تجھے بہت یاد کریں بیشک تو ہمیں خوب دیکھنے والا ہے (طہ :25-35)

شرح صدر کی دعا کی حکمت 

جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ السلام کو فرعون کی طرف جانے کا حکم دیا اور ایک سخت اور مشکل کام کرنے کا حکم دیا تو حضرت موسیٰ نے اپنے رب سے آٹھ چیزوں کا سوال کیا اور اخیر میں یہ عرض کیا کہ میں نے ان آٹھ چیزوں کا اس لئے سوال کیا تاکہ میں تیری تسبیح اور تیرا ذکر زیادہ سے زیادہ کرسکوں۔ پہلا سوال یہ یہ کہ میرا سینہ کھول کر وسیع کر دے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایک اور جگہ فرمایا ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا :

ویضیق صدری ولا ینطلق لسانی (الشعراء :13) میرا سینہ تنگ ہے اور میری زبان نہیں چل رہی۔

سو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ ان کے سینہ کی تنگی کو فراخی اور وسعت سے تبدیل کر دے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کا منشاء یہ تھا ان کو جرأ ت، ہمت اور حوصلہ عطا فرما۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ نہیں فرمایا کہ میرا سینہ کھول دے بلکہ یہ فرمایا میرے لئے میرا سینہ کھول دے تاکہ یہ معلوم ہو کہ اس شرح صدر کا فائدہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو پہنچے گا نہ کہ اللہ تعالیٰ کو۔

دوسرا سوال یہ کیا اور میرے لئے میرا کام (مشنض آسان کر دے۔ یعنی اس مشن میں جو رکاوٹیں ہیں ان کو دور فرما دے اور اس مشن کی تکمیل کے جو اسباب اور وسائل ہیں وہ مہیا فرما دے۔

حضرت موسیٰ کی زبان میں گرہ کی وجوہ 

تیسرا سوال یہ کہ میرے لئے میری زبان کی گروہ کھول دے۔ ان کی زبان میں جو گرہ تھی اس کی دو جہیں ہیں ایک یہ کہ ان کی زبان میں پیدائشی گرہ تھی تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی کہ وہ اس گروہ کو زائل کر دے، دوسری وجہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بچپن میں فرعون کی داڑھی نوچ لی تھی تو فرعون نے کہا یہ میرا دشمن بنے گا اور ان کو قتل کرنے کا ارادہ کرلیا، تب اس کی بیوی آسیہ نے کہا یہ بےعقل بچہ ہے اور ایک تھال میں یاقوت اور انگارہ رکھا اور کہا اگر اس نے یاقوت کو اٹھا لیا تو اس کو ذبح کردینا اور اگر اس نے انگارہ اٹھا لیا تو پھر یہ اس کے بچپن کا تقاضا ہے اس کو چھوڑ دینا، پھر حضرت جبریل آئے اور انہوں نے حضرت موسیٰ کا ہاتھ انگارے پر رکھ دیا حضرت موسیٰ نے اس انگارے کو اٹھا کر منہ میں ڈال لیا اس وجہ سے ان کی زبان جل گئی اور ان کی زبان میں گرہ پڑگئی اور ان کی زبان میں لکنت پیدا ہوگئی۔ (جامع البیان رقم الحدیث :18173) اس روایت پر یہ اشکال ہے کہ اگر بچہ بالفرض انگارے کو پکڑ بھی لے تو اس کا ہاتھ فوراً جل جائے گا اور وہ اس انگارے کو چھوڑ دے گا اور اس کو انگارے کو منہ میں رکھ لینا عادۃ بہت بعید ہے، اسی لئے صحیح وجہ پہلی ہی معلوم ہوتی ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس گرہ کو کھولنے کا سوال ان وجوہ سے کیا تھا

(١) تاکہ فرائض رسالت کی ادائیگی میں خلل نہ ہو۔

(٢) جس شخص کی زبان میں لکنت ہو لوگ اس کی بات کو توجہ سے نہیں سنتے اور اس کو اچھا نہیں جانتے اور رسول کے لئے ضروری ہے کہ لوگ اس کی بات کو توجہ سے سنیں اور اس کو اچھا جانیں۔

(٣) اس لکنت کا دور ہونا ان کا معجزہ ہوجائے کیونکہ مصر والوں کو پتا تھا کہ ان کی زبان میں لکنت ہے اور یہ روانی سے بات نہیں کرسکتے، پھر جب وہ روانی سے بات کریں گے تو حضرت موسیٰ کا معجزہ ہوگا۔

(٤) اس سے حضرت موسیٰ کا متن آسان ہوگا کیونکہ فرعون جو غرور اور تکبر کی وجہ سے خدا بنا ہوا تھا اگر اس کے سامنے حضرت موسیٰ اٹک اٹک کر اور لکنت سے اللہ تعالیٰ کا پیغام سناتے تو وہ متاثر ہونے کے بجائے الٹا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مذاق اڑاتا۔

فقہ کا لغوی اور اصطلاحی معنی 

حضرت موسیٰ نے عرض کیا کہ لوگ میری بات سمجھیں۔ قرآن مجید میں ہے یفقھوا قولی یعنی لوگ جان لیں کہ میں کیا کہہ رہا ہوں اور میری بات سمجھیں، لغت میں فقہ کا معنی ہے لھم اور عرف میں اس سے علم شریعت مراد ہوتا ہے اور جس کو اس کا علم ہو اس کو فقیہ کہتے ہیں۔

امام ابوحنیفہ نے فرمایا فقہ کی تعریف یہ ہے کہ نفس کو اپنے نفع اور ضرر کی چیزوں کی معرفت ہوجائے اور اس کی مشہور تعریف یہ ہے : احکام شرعیہ عملیہ کا جو علم ان احکام کے دلائل سے ہو وہ فقہ ہے۔

وزیر کا معنی اور اس کے متعلق احادیث 

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے چوتھا سوال یہ کیا کہ میرے لئے ایک وزیر بنا دے۔ وزیر کا لفظ وزر سے ماخوذ ہے اور وزر کا معنی ہے بوجھ، وزیر کو وزیر اس لئے کہتے ہیں کہ وہ سلطان کی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھاتا ہے، وزیر کے متعلق حسب ذیل احادیث ہیں : 

قاسم بن محمد بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنی پھوپھی سے سنا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں سے جو شخص کسی منصب پر فائز ہوا پھر اللہ نے اس کے ساتھ خیر کا ارادہ کیا تو اس کے لئے ایک نیک وزیر دیتا ہے۔ اگر وہ بھول جائے تو وہ اس کو یاد دلا دیتا ہے اور اگر کو یاد ہو تو اس کی مدد کرتا ہے۔ (اس حدیث کی سند صحیح ہے) (سنن النسائی رقم الحدیث :4215

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ جس کو بھی خلیفہ بناتا ہے اس کے دو راز دار ہوتے ہیں ایک راز دار اس کی نیکی کا حکم دیتا ہے اور اس پر ابھارتا ہے اور دوسرا راز دار اس کی برائی کا حکم دیتا ہے اور اس پر ابھارتا ہے اور معصوم وہ ہے جس کو اللہ معصوم رکھے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :6611، صحیح ابن حبان رقم الحدیث :6192، مسند احمد رقم الحدیث 11362، عالم الکتب)

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا آسمان والوں میں سے بھی میرے دو وزیر ہیں اور زمین والوں میں سے بھی میرے دو وزیر ہیں، آسمان والوں میں سے میرے جو دو وزیر ہیں، وہ جبریل اور میکائیل ہیں اور زمین والوں میں سے جو میرے دو وزیر ہیں وہ ابوبکر اور عمر ہیں۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث :3680، المستدرک رقم الحدیث 3101 طبع جدید، المستدرک ج ٢ ص 264، طبع قدیم، حلیتہ الاولیاء ج ٨ ص 160 تاریخ بغداد ج ٣ ص 298 کنز العمال رقم الحدیث 32661)

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ وزیر کی ضرورت تو بادشاہوں کو ہوتی ہے اور رسول جو اللہ تعالیٰ کی وحی اور اس کے احکام پہنچانے کا مکلف ہوتا ہے اس کو وزیر کی کیا ضرورت ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ نیکی اور خیر کے کاموں میں جو شخص اخلاص کے ساتھ تعاون کرے اس کی اللہ سے دعا کرنے میں بھی بڑی تاثیر ہوتی ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے بھائی پر پورا اعتماد تھا کہ وہ نیکی اور خیر کے کاموں میں اور فرائض نبوت کی ادائیگی میں ان کے ساتھ بھرپور تعاون کریں گے۔

وزارت کے لئے بھائی کی تخصیص کی وجہ 

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا پانچواں سوال یہ تھا کہ وہ وزیر ان کے اہل سے ہو یعنی ان کے اقارب سے ہو۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا چھٹا سوال یہ تھا کہ ان کے بھائی ہارون کو ان کا وزیر بنادیا جائے اور اس کے دو سبب تھے۔

(١) دین کے کاموں میں تعاون کر بہت قابل تعریف اور لائق تحسین منصب ہے تو حضرت موسیٰ نے چاہا کہ یہ عظیم منصب ان کے بھائی کو حاصل ہو یا اس وجہ سے کہ دونوں بھائی ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے تھے اور ایک دوسرے کے ساتھ بہت تعاون کرتے تھے۔ (٢) دوسرا سبب یہ تھا کہ حضرت ہارون کی زبان حضرت موسیٰ سے بہت زیادہ فصیح تھی اور وہ اپنا موقف اور مافی الضمیر بہت آسانی کے ساتھ بیان کرسکتے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے متعلق فرمایا تھا :

واخی ہرون ھوافصح منی لساناً فار سلہ معی ردا یصدقنی، انی اخاف آن یکذبون (القصص :34) اور میرا بھائی ہارون مجھ سے زیادہ فصیح زبان والا ہے پس اسکو بھی میرا مددگار بنا کر میرے ساتھ بھیج دے کہ وہ میری تصدیق کریں گے، مجھے خطرہ ہے کہ وہ سب میری تکذیب کریں گے۔

ازر کا معنی 

حضرت موسیٰ کا ساتواں سوال یہ تھا کہ میرے بھائی سے میری کمر مضبوط کر دے، ازر کے معنی ہیں قوت، فازرہ کے معنی ہیں اس کی اعانت کی، ابوعبیدہ اور خلیل نے کہا ازر کے معنی ہیں پشت، خلاصہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان اللہ تعالیٰ سے یہ سوال کیا وہ ان کے بھائی حضرت ہارون کو ان کا وزیر بنا دے تاکہ وہ ان کی مدد کریں اور انکی کمر کو مضبوط رکھیں۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا آٹھواں سوال یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ حضرت رہارون کو ان کے مشن میں شریک کر دے اور مشن سے مراد نبوت ہے۔ کیونکہ حضرت موسیٰ کو علم تھا کہ حضرت ہارون عمر میں ان سے بڑے ہیں اور ان کی زبان صاف اور زیادہ فصیح ہیں۔

حضرت موسیٰ کی ان دعائوں کا سبب 

پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ عرض کیا کہ میں نے یہ دعائیں اس لئے کی ہیں کہ ہم تیری بہ تسبیح کریں اور تجھے بہت زیاد کریں۔ تسبیح کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات اور اس کے افعال کی ان چیزوں سے برأت بیان کی جائے جو اس کی شان کے لائق نہیں ہیں، خواہ دل میں اس برأت کا اعتقاد رکھا جائے یا زبان سے اس کی برأت کو بیان کیا جائے اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے اور اس کو یاد کرنے کا بھی ذکر ہے، ذکر کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کی صفات کمالیہ اور اس کی صفات جمال اور اس کی صفات جلال کو بیان کرنا، پس تسبیح کرنے کا معنی ہے نامنساب صفات کی اس سے نفی کرنا اور ذکر کا معنی ہے اس کی شان کے لائق صفات کا ذکر کرنا۔ اس کے بعد فرمایا بیشک تو ہمیں خوب دیکھنے والا ہے۔ اس کے حسب ذیل محامل ہیں :

(١) بیشک تو خوب جاننے والا ہے کہ ہم اپنی دعائوں اور عبادتوں سے محض تیری رضا جوئی کا ارادہ کرتے ہیں اور تیرے سوا اور کسی سے دعا نہیں کرتے۔

(٢) تجھ کو خوب معلوم ہے کہ میں نے جو یہ دعائیں کیں یہ صرف کار نبوت کے لئے کیں ہیں۔ 

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دعائیں کرنے کے بعد یہ کلمات اس لئے کہے تاکہ ظاہر ہو کہ انہوں نے اپنے تمام معاملات اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیئے ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 25