خطہ نجد اور نجدی فتنہ کا تعارف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

محترم قارئین : مسلمانوں کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ فتنوں والا نجد صرف ایک ہی ہے جس کا ذکر احادیث تاریخ میں آیا ہے. احادیث اور تاریخ اسلامی سے صرف ایک نجد کا ہی وجود ملتا ہے . اس نجد کے قبیلوں کے خلاف غزوہ بھی ہوا جسے غزوہ نجد کہتے ہیں جبکہ بہت سے سریے بھی ہوئے, حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ظاہری پردہ پوشی کے بعد اہل نجد والوں نے ہی سب سے پہلے ارتداد کیا اور مرتد ہوئے , مسیلمہ کذاب, طلیحہ اسد جیسے لوگوں نے جھوٹی نبوت کا دعوے کیئے . اس کے علاوہ پہلا گستاخ رسول بھی بنی تمیم کا ذی الخویصرہ التمیمی تھا جس کی نسل سے فتنہ پروروں کے پیدا ہونے اور اس کے ساتھیوں کی نشاندہی فرمائی گئی , خارجیوں کا بڑا فرقہ اباضیہ کا رہنما عبداللہ بن اباض جو بنو تمیم نجد کا تھا, اس کے علاوہ خوارج کا ابو بلال مرداس جس کو اس کی بہن نے خواب میں کتا بنے ہوئے دیکھا وہ بھی بنو تمیم کا تھا , عامر نجدہ جس کا تعلق قبیلہ بنو حنیفہ سے تھا جو نجد میں آباد تھا . حضرت علی رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے والے بھی نجدی اور تمیمی تھے اور امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے والے تین لوگ تھے اور ان تین لوگوں میں سے دو تمیمی تھے . غرض کے نجد سے بےشمار فتنے نکلے اور فساد بپا ہوئے جن کی تفصیلات ہم الگ مضمون میں بیان کریں گے . لیکن یہاں ہم قرآن و حدیث و تاریخ سے نجد کی حدود کا تعین کریں گے اور ان دو قبیلوں کا بھی ذکر کریں گے جن سے شیطان کے سینگ نکلنے کی پیشگوئی فرماکر فتنہ پرستوں کا تعین کر دیا گیا اور اہل مشرق سے کون سے لوگ مراد ہیں ان کا بھی تعین کریں گے . تمام واقعات کا ذکر غیرجانبدارانہ انداز سے کریں گے ان شاء اللہ ۔

مشرقین و مغربین کا بیان

کچھ لوگ بارہ نجد کا بہت ذکر کرتے ہیں, حالانکہ احادیث و تاریخ سے صرف ایک نجد ثابت ہے جسکی سرحدیں حجاز سے لیکر عراق تک ہیں یعنی عراق و حجاز کے درمیان کا علاقہ نجد ہے. کچھ لوگ اہل عراق کو اہل مشرق ثابت کرنے کے لیے سمتوں کی قرآنی اصطلاح پیش کرتے ییں کیونکہ جب صرف دو سمتیں ہونگے تو ظاہر بات ہے کہ ایک مشرق ہوگی دوسری مغرب تیسری کوئی سمت نہیں ہوگی تو اس طرح عراق خودبخود مشرق کی سمت میں آجائيگا جس سے عراق کو مشرق میں ثابت کیا جاسکتا ہے۔ حالانکہ ان لوگوں کی یہ غلط فہمی ہے کہ صرف دو سمتیں ہی ہیں جبکہ درج ذیل حدیث میں شمال کا بھی ذکر آیا ہے ۔

نجد, بنوتمیم اور حدیث شرک کا مصداق کون

محترم قارئین اُور یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ جس نجد سے فتنوں کا نکلنا مراد ہے وہ نجد عراق اور حجاز کے درمیان واقع ہے ۔ اور نجد کے جن قبیلوں سے فتنوں کے نکلنے کی نشاندہی فرمائي گئی وہ قبیلہ مضر و ربیعہ ہیں۔ مضر کی مشہور شاخ بنوتمیم ہے جس سے پہلا گستاخ رسول نکلا تھا، جبکہ ربیعہ کی مشہور شاخ بنوحنیفہ ہے جس سے پہلا جھوٹا داعی نبوت میسلمہ کذاب نکلا تھا ۔

اب ہم نبوتمیم اور خوارج کے متعلق آیات قرآنی اور فرامین مصطفی صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا مطالعہ کریں گے اور حدیث شرک کا مصداق کون ہے اس پر بھی بحث کریں گے . کچھ لوگ ایک حدیث جو صحاح ستہ کی مختلف کتابوں میں بیان ہوئی ہے اسکے بہت حوالے دیتے ہیں کہ یہ دیکھو بنی تمیم کی فضیلت بیان ہوئی ہے لیکن وہ آیات قرآنی اور احادیث بیان نہیں کرتے جن میں بنو تمیم اور انکے لوگوں کی مذمت بیان کی گئی ہے ۔ وہ لوگ نہ تو بنی تمیم کی بشارت ٹھکرانے والی حدیث بیان کرتے ہیں اور نہ ہی وہ حدیث بیان کرتے ہیں جن میں بنو تمیم کو محروم کردیاگیا۔ اس حوالے سے ہم چند احادیث بیان کریں گے تاکہ احادیث سے آپ کو سمجھ آ جائے ۔

بنو تمیم کی فضیلت والی حدیث

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب سے میں نے حضور صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سے بنی تمیم کے بارے میں تین باتیں سنیں ہیں، میں ان سے ہمیشہ محبت رکھتا ہوں، ان میں یہ تین باتیں پائي جاتی ہیں :

1: میری امت میں سے وہ دجال پر سب سے زیادہ سخت ہونگے ۔

2: اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس انکی ایک قیدی عورت تھی، آپ صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایاکہ ‘اسے آزاد کردو یہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہے ۔

3: اور انکے صدقات آئے تو آپ صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایاکہ یہ میری قوم کے صدقات ہیں ۔ (بخاری: کتاب العتق: باب من ملک من العرب)

درج بالا حدیث میں تین نقطے بیان ہوئے ہیں

1: وہ دجال پر سب سے زیادہ سخت ہونگے۔ اس سے پتہ چلاکہ لوہا لوہے کو کاٹتا ہے۔ جس طرح دجال سخت ہوگا, مقابلے میں بنی تمیم والے بھی سخت ہیں۔ بنی تمیم کے وہ لوگ یقینا خوش بخت لوگ ہوں گے جو دجال سے مقابلہ کریں گے۔ اللہ ہمیں بھی بنوتمیم کے اس گروہ میں شامل کرے جو دجال سے مقابلہ کریگا لیکن ایک حدیث کا مفہوم ہےکہ “بنوتمیم کے ایک گستاخ رسول شخص عبداللہ ذی الخویصرہ کی نسل سے ایسے لوگ پیدا ہونگے ۔ جو اللہ کی کتاب کی تلاوت سے زبان تر رکھیں گے، لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے پار نکل جاتا ہے۔ ایک اور حدیث میں آتا ہےکہ ” اس شخص کی نسل سے ایسی قوم پیدا ہوگی کہ وہ لوگ قرآن پڑھیں گے لیکن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، وہ بت پرستوں کو چھوڑ کر مسلمانوں کو قتل کریں گے۔ ایک اور حدیث میں ذی الخویصرہ تمیمی کے حوالے سے فرمایاکہ”آخری زمانے میں کچھ لوگ پیدا ہوں گے یہ شخص بھی انہیں لوگوں میں سے ہے (اور ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مشرق کی طرف سے ایک قوم نکلے گی یہ آدمی بھی ان لوگوں میں سے ہے اور ان کا طور طریقہ بھی یہی ہوگا) وہ قرآن مجید کی تلاوت کریں گے مگر قرآن ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ ان کی نشانی یہ ہے کہ وہ سرمنڈے ہوں گے ہمیشہ نکلتے ہی رہیں گے یہاں تک کہ ان کا آخری گروہ دجال کے ساتھ نکلے گا”یعنی بنوتمیم کے ذي الخویصرہ کی نسل سے لوگ دجال کے وقت مسلح خروج کریں گے۔۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بنوتمیم کے کچھ لوگ دجال کے خلاف لڑ رہے ہونگے اور کچھ لوگ مسلمانوں کے خلاف لڑ رہے ہونگے۔

2: دوسرا نقطہ یہ بیان ہوا ہے کہ اسے آزاد کردو یہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے ہیں ۔ حضور صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے قبیلہ اسلم کو بھی حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد قرار دیا ہے۔

قبیلہ اسلم اولاد اسماعیل علیہ السّلام سے ہے

حضرت سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم قبیلہ اسلم کے کچھ لوگوں کی طرف تشریف لےگئے اور وہ بازار میں تیراندازی کر رہے تھے تو حضور صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا” اے اولاد اسماعیل! تیراندازی کرو اس لئے کہ تمہارے باپ (اسماعیل) تیرانداز تھے اور میں فلاں شخص کے ساتھ ہوں، کسی ایک فریق کے بارے میں (آپ نے ایسا فرمایا) پاس دوسرے فریق کے لوگوں نے اپنے ہاتھ روک لئے، حضور صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایاکہ ان کو کیا ہوگیا ! لوگوں نے عرض کیا ہم کیسے تیراندازی کریں آپ تو فلاں کے ساتھ ہیں، فرمایا: تیراندازی کرو میں سب کے ساتھ ہوں ۔ (صحیح بخاری، جلد 2، حدیث 723،چشتی)

اس سے پتہ چلاکہ آل اسماعیل والا امتیاز صرف بنی تمیم کے لئے ہی خاص نہیں بلکہ بنو اسلم بھی آل اسماعیل سے ہیں۔ اسکے علاوہ بھی کئی اور قبائل ہیں۔

3: یہ میری قوم کے صدقات ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ آل اسماعیل حضور صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی ہی قوم ہے ۔ جیساکہ درج ذیل حدیث میں بھی آیاہےکہ:

غالب رضي اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے سامنے فیس (قبیلہ) کا ذکر کیا۔ آپ صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایاکہ اللہ قیس والوں پر رحم کرے۔ ان سے پوچھا گیا کہ اے اللہ کے رسول! کیا آپ قیس والوں کےلئے اللہ سے رحمت کی دعا کررہے ہیں؟ آپ صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایاکہ ہاں” انہوں نے ہمارے باپ اسماعیل بن ابراہیم خلیل اللہ کا مذہب اختیار کیا۔

قیس! سلامتی ہو ہمارے یمن پر، یمن! سلام ہو ہمارے قیس پر۔ قیس والے زمین پر اللہ کی آرمی ہیں ۔ (امام طبرانی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے صحیح کہا)

نتیجہ : پتہ چلاکہ بنوتمیم کو دوسرے قبیلوں پر فضیلت حاصل نہیں تھی بلکہ دوسرے قبیلوں کو بنوتمیم پر فضیلت حاصل یے جس کا ذکر ہم اپنے مقام پر کرینگے ۔

بنوتمیم کے لوگوں کو سورۃ الحجرات میں بےعقل کہاگیا ہے : اِنَّ الَّذِیۡنَ یُنَادُوۡنَکَ مِنۡ وَّرَآءِ الۡحُجُرٰتِ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡقِلُوۡنَ ﴿۴﴾ “وَ لَوۡ اَنَّہُمۡ صَبَرُوۡا حَتّٰی تَخۡرُجَ اِلَیۡہِمۡ لَکَانَ خَیۡرًا لَّہُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۵﴾

ترجمہ : بیشک جو لوگ آپ کو حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر سمجھ نہیں رکھتے اور اگر وہ لوگ صبر کرتے یہاں تک کہ آپ خود ہی ان کی طرف باہر تشریف لے آتے تو یہ اُن کے لئے بہتر ہوتا، اور اﷲ بڑا بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہے)

یہ آیت بنی تمیم کے دیہاتی لوگوں کے حق میں نازل ہوئی ، قبیلہ بنی تمیم کے چند لوگ دوپہر کے وقت مسجد نبوی میں آئے، حضور صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم اس وقت آرام فرما رہے تھے تو یہ لوگ باہر سے آوازیں دینے لگے تھے کہ اے محمد باہر آئيے ۔

علاّم ابن کثیر، آیت نمبر 4 اور 5 کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ : ان لوگوں کی مذمت بیان فرمائي جا رہی ہے جو حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں، یہ امہات المؤمنین کے گھر تھے۔ اجڈ بدوؤں کا یہی طریقہ تھا۔ یہ اقرع بن حابس تمیمی کے بارے میں نازل ہوئي۔(تفسیر ابن کثیر، جلد 4، صفحہ 363، سورت الحجرات)

قرآن میں بنوتمیم کے لوگوں کو بےعقل کہاگیا ۔ آگے حدیث میں آتا ہے کہ

بنوتمیم نے بشارت ٹھکرا دی جیساکہ بیان ہواکہ ” بنوتمیم کے چند لوگوں کا (ایک وفد) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے ان سے فرمایا اے بنوتمیم! بشارت قبول کرو۔ وہ کہنے لگے کہ بشارت تو آپ ہمیں دے چکے، کچھ مال بھی دیجئیے۔ ان کے اس جواب پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پرناگواری کا اثر دیکھا گیا، پھر یمن کے چند لوگوں کا ایک (وفد) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے ان سے فرمایا کہ بنو تمیم نے بشارت قبول نہیں کی، تم قبول کر لو۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم کو بشارت قبول ہے ۔ (صحیح بخاری, کتاب المغازی باب : بنی تمیم کے وفد کا بیان

حدیث نمبر :4365،چشتی)

تبصرہ : وہ کتنے بدقسمت لوگ ہونگے جنہیں حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بشارت دیں اور وہ ٹھکرا دیں ۔

کن قبیلوں کے حصے میں مغفرت اور سلامتی کی بشارتیں آئیں

بنوتمیم اور دیگر قبائل کی نسبت. قبیلہ غفار کو مغفرت کی مغفرت کی بشارت دی گئی جبکہ قبیلہ اسلم کی اللہ نے حفاظت فرمائی جو بہت بڑی خوشخبریاں ہیں جیساکہ حدیث میں آتا ہے کہ : بَاب دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِغِفَارَ وَأَسْلَمَ صحیح مسلم۔ جلد:۳/ تیسرا پارہ/ حدیث نمبر:۶۴۱۱/ حدیث مرفوع حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غِفَارُ غَفَرَ اللہُ لَهَا وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللہُ ۔

۶۴۱۱۔ ہداب بن خالد، سلیمان بن مغیرہ، حمید بن ہلال، عبد اللہ بن صامت، حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قبیلہ غفار کی اللہ نے مغفرت فرما دی اور قبیلہ اسلم کی اللہ تعالیٰ نے حفاظت فرمائی۔

ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ: صحیح مسلم۔ جلد:۳/ تیسرا پارہ/ حدیث نمبر:۶۴۱۵/ حدیث مرفوع ، و حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسٰی عَنْ خُثَيْمِ بْنِ عِرَاکٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللہُ وَغِفَارُ غَفَرَ اللہُ لَهَا أَمَا إِنِّي لَمْ أَقُلْهَا وَلٰکِنْ قَالَهَا اللہُ عَزَّ وَجَلَّ۔

ترجمہ : حسین بن حریث، فضل بن موسی، خثیم بن عراک بواسطہ اپنے والد، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قبیلہ اسلم کو اللہ تعالیٰ نے سلامت رکھا اور قبیلہ غفار کی اللہ تعالیٰ نے مغفرت فرما دی، یہ بات میں نےنہیں کہی بلکہ اللہ عزوجل نے اس طرح فرمایا ہے۔

اللہ اور اسکا رسول کن کن قبیلوں کے مددگار ہیں

بَاب مِنْ فَضَائِلِ غِفَارَ وَأَسْلَمَ وَجُهَيْنَةَ وَأَشْجَعَ وَمُزَيْنَةَ وَتَمِيمٍ وَدَوْسٍ وَطَيِّءٍ صحیح مسلم۔ جلد:۳/ تیسرا پارہ/ حدیث نمبر:۶۴۲۰/ حدیث مرفوع ۔ حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَالِکٍ الْأَشْجَعِيُّ عَنْ مُوسَی بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَنْصَارُ وَمُزَيْنَةُ وَجُهَيْنَةُ وَغِفَارُ وَأَشْجَعُ وَمَنْ کَانَ مِنْ بَنِي عَبْدِ اللہِ مَوَالِيَّ دُونَ النَّاسِ وَاللہُ وَرَسُولُهٗ مَوْلَاهُمْ۔

ترجمہ : زہیر بن حرب، یزید ابن ہارون، ابومالک اشجعی، موسی بن طلحہ، حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قبائل انصار مزینہ، جہینہ، اسلم، غفار، اشجع اور جو عبد اللہ کی اولاد میں سے ہیں یہ دوسرے لوگوں کے علاوہ میرے مددگار اور اللہ اور اس کے رسولؐ ان سب کے مددگار ہیں ۔

صحیح مسلم۔ جلد:۳/ تیسرا پارہ/ حدیث نمبر:۶۴۲۱/ حدیث مرفوع ۔ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ هُرْمُزَ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرَيْشٌ وَالْأَنْصَارُ وَمُزَيْنَةُ وَجُهَيْنَةُ وَأَسْلَمُ وَغِفَارُ وَأَشْجَعُ مَوَالِيَّ لَيْسَ لَهُمْ مَوْلًی دُونَ اللہِ وَرَسُولِهٖ۔

ترجمہ ؛ محمد بن عبد اللہ بن نمیر بواسطہ اپنے والد، سفیان، سعد بن ابراہیم، عبد الرحمٰن بن ہرمز الاعرج، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قریش اور انصار، مزینہ، جہینہ، اسلم، غفار، اشجع مددگار ہیں اور ان کا حمایتی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سواء کوئی نہیں۔

بنوتمیم سے کون کون سے قبیلے بہتر ہیں

صحیح مسلم۔ جلد:۳/ تیسرا پارہ/ حدیث نمبر:۶۴۲۳/ حدیث مرفوع

۶۴۲۳۔ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنّٰی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنّٰی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهٗ قَالَ أَسْلَمُ وَغِفَارُ وَمُزَيْنَةُ وَمَنْ کَانَ مِنْ جُهَيْنَةَ أَوْ جُهَيْنَةُ خَيْرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ وَبَنِي عَامِرٍ وَالْحَلِيفَيْنِ أَسَدٍ وَغَطَفَانَ۔

ترجمہ : محمد بن مثنی، محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، سعد ابن ارہیم، ابوسلمہ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قبیلہ اسلم، غفار، مزینہ، جہینہ یہ بہتر ہیں بنی تمیم، بنی عامر اور دونوں حلیفوں اسد اور غطفان سے .

صحیح مسلم۔ جلد:۳/ تیسرا پارہ/ حدیث نمبر:۶۴۲۴/ حدیث مرفوع ۔ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنِي و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنِ الْأَعْرَجِ قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهٖ لَغِفَارُ وَأَسْلَمُ وَمُزَيْنَةُ وَمَنْ کَانَ مِنْ جُهَيْنَةَ أَوْ قَالَ جُهَيْنَةُ وَمَنْ کَانَ مِنْ مُزَيْنَةَ خَيْرٌ عِنْدَ اللہِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أَسَدٍ وَطَيِّئٍ وَغَطَفَانَ۔

ترجمہ : قتیبہ بن سعید، مغیرہ حزامی، ابوزناد، اعرج ،حضرت ابوہریرہؓ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم۔ عمرو الناقد، حسن حلوانی، عبد بن حمید، یعقوب بن ابراہیم بن سعد بواسطہ اپنے والد، صالح، اعرج ،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں محمدؐ کی جان ہے! قبیلہ غفار، اسلم، جہینہ اللہ کے ہاں قیامت کے دن قبیلہ اسد غطفان ہوازن اور تمیم سے بہتر ہوں گے۔

صحیح مسلم۔ جلد:۳/ تیسرا پارہ/ حدیث نمبر:۶۴۲۵/ حدیث مرفوع ۔ حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمٰعِيلُ يَعْنِيَانِ ابْنَ عُلَيَّةَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَسْلَمُ وَغِفَارُ وَشَيْئٌ مِنْ مُزَيْنَةَ وَجُهَيْنَةَ أَوْ شَيْئٌ مِنْ جُهَيْنَةَ وَمُزَيْنَةَ خَيْرٌ عِنْدَ اللہِ قَالَ أَحْسِبُهُ قَالَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أَسَدٍ وَغَطَفَانَ وَهَوَازِنَ وَتَمِيمٍ۔

ترجمہ : زہیر بن حرب، یعقوب دورقی، اسماعیل ابن علیہ، ایوب، محمد، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قبیلہ اسلم، غفار اور مزینہ میں سے کچھ اور جہینہ یا جہینہ میں سے کچھ اور قبیلہ مزینہ اللہ کے ہاں بہترین ہیں، راوی کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ آپؐ نے فرمایا قیامت کے دن قبیلہ اسد غطفان ہوازن اور تمیم سے بہتر ہوں گے۔

صحیح مسلم۔ جلد:۳/ تیسرا پارہ/ حدیث نمبر:۶۴۳۰/ حدیث مرفوع ۔ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتُمْ إِنْ کَانَ جُهَيْنَةُ وَأَسْلَمُ وَغِفَارُ خَيْرًا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ وَبَنِي عَبْدِ اللہِ بْنِ غَطَفَانَ وَعَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ وَمَدَّ بِهَا صَوْتَهٗ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللہِ فَقَدْ خَابُوا وَخَسِرُوا قَالَ فَإِنَّهُمْ خَيْرٌ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي کُرَيْبٍ أَرَأَيْتُمْ إِنْ کَانَ جُهَيْنَةُ وَمُزَيْنَةُ وَأَسْلَمُ وَغِفَارُ۔

ترجمہ : ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، وکیع، سفیان، عبدالملک بن عمیر، عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری کیا رائے ہے کہ اگر قبیلہ جہینہ، اسلم اور غفار، بنی تمیم، بنی عبد اللہ بن غطفان اور عامر بن صعصعہ سے بہتر ہوں؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آواز کو بلند فرمایا، صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! پھر تو وہ لوگ ناکامی اور خسارے میں ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلا شبہ وہ ان سے بہتر ہیں ۔ بنو تمیم ناکام و نامراد اور خسارے والا قبیلہ دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم کی فضیلت کا بیان باب : ( قبیلہ ) (( مزینہ )) ، (( جہینہ )) ‘ اور (( غفار )) کی فضیلت ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اقرع بن حابس (التمیمی ) رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ حاجیوں کو لوٹنے والے ( قبائل ) اسلم، غفار، مزینہ اور جہینہ کے لوگوں نے بیعت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر ( قبیلہ ) اسلم، غفار، مزینہ اور جہینہ قبائل بنی تمیم، بنی عامر، اسد اور غطفان سے بہتر ہوں تو یہ لوگ ( یعنی بنی تمیم وغیرہ ) خسارے میں رہے اور نامراد ہوئے )؟ وہ بولا ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، وہ ان سے بہتر ہیں ( یعنی قبیلہ اسلم اور غفار وغیرہ قبیلہ بنی تمیم وغیرہ سے بہتر ہیں ۔ (اقرع بن حابس قبیلہ بنوتمیم سے تھے)

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے ارشاد فرمایاکہ تم جانتے ہوکہ جہینہ، مزینہ، اسلم اور غفار کے قبیلے بنی تمیم، بنی اسد، بنی عبداللہ بن غفطان اور بنی صعصعہ سے بہت اچھے ہیں، تو ایک آدمی نے عرض کیاکہ بنی تمیم وغیرہ نامراد اور ناکام ہوگئے؟ ارشاد فرمایا”ہاں” جہینہ وغیرہ کے قبائل بنی تمیم، بنی اسد، بنی عبداللہ بن غطفان اور بنی عامر بن صعصعہ سے بہت اچھے ہیں۔(صحیح بخاری، جلد 2، صفحہ 731، حدیث 7310)

حضرت ابوبکرہ رضي اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اقرع بن حابس (التمیمی) نے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سے عرض کیاکہ سراق الحجیج جو اسلم قبیلہ سے ہے اور غفار،مزینہ اور جہینہ نے آپ صلّی اللہ علیہ وآلہ وآلہ وسلّم سے بیعت کی ہے تو رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا”کیا تم جانتے ہوکہ اسلم مزینہ اور جہینہ یہ سب بنوتمیم، بنو عامر اورغطفان ناکام اور نامراد سے بہتر ہیں؟

اقرع بن حابس نے عرض کیا “جی ہاں”۔ آپ صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایاکہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اسلم و غفار وغیرہ بنی تمیم وغیرہ سے بہت اچھے ہیں۔(صحیح بخاری، جلد 2، حدیث 732، صفحہ 731)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خیرخواہ قبائل کون ؟

حضور صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایاکہ قریش، انصار، جہینہ، مزینہ، اسلم، غفار اور اشجح میرے خیرخواہ ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کے سوا اور کوئی ان کا حمایتی نہیں۔(صحیح بخاری، جلد 5، حدیث 3512،چشتی)

تبصرہ : ان احادیث سے پتہ چلاکہ بنی تمیم کی فضیلت پر جو حدیث ہے وہ صرف بنی تمیم کے لئے ہی مخصوص نہیں ہے بلکہ دیگر قبیلوں کی فضیلت بنو تمیم سے بڑھ کر ہے کہ جن کی افضلیت کے لئے حضور پاک صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے اللہ کی قسم کھاکر فرمایا۔ اور جن کی فضیلت کی قسم نبی کریم صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے کھائی ہو اسکے بعد کسی اوردلیل کی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی۔

اب کوئی ایک حدیث کو بنیاد بنالے کہ بنوتمیم کی تعریف فرمائی گئی ہے اس لئے فتنہ اس سے نہیں نکل سکتا تو انکے لئے عرض ہےکہ حضور صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا تھاکہ “انا مضری) میں مضری ہوں، حالانکہ مضر قبیلہ وہ قبیلہ ہے جہاں سے شیطان کے سینگ نکلنے کی پیشگوئی فرمائی گئي لیکن ظاہر ہے کہ مضر کی ساری نسل سے تو فتنے نہیں نکلیں گے اور فرما دیاکہ “میں بہترین قوم میں پیدا ہوا یعنی بنوہاشم میں.

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب ہوں۔ خدا نے مخلوق کو پیدا کیا تومجھے بہترین خلق (یعنی انسانوں) میں پیدا کیا، پھر مخلوق کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا (یعنی عرب و عجم)، تو مجھے بہترین طبقہ (یعنی عرب) میں داخل کیا۔ پھر ان کے مختلف قبائل بنائے تو مجھے بہترین قبیلہ (یعنی قریش) میں داخل فرمایا، پھر ان کے گھرانے بنائے تو مجھے بہترین گھرانہ (یعنی بنو ہاشم) میں داخل کیا اور بہترین نسب والا بنایا، (اس لئے میں ذاتی شرف اور حسب و نسب ہر ایک لحاظ سے تمام مخلوق سے افضل ہوں)۔‘)(أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : الدعوات عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم باب : (99)، 5 / 543 الرقم : 3532، وفي کتاب : المناقب عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم باب : في فضل النبي صلي الله عليه وآله وسلم، 5 / 584، الرقم : 3607 – 3608،چشتی)

سوال یہ ہے کہ : پھر قبیلہ مضرکے کون سے قبیلے سے شیطان کا سینگ نکلے گا؟ آپ خود اندازہ کرسکتے ہیں کہ کس قبییلے نے بشارت ٹھکرائی تھی، اور کن کن قبیلوں کو ناکام و نامراد قرار دیاگیا اور کن کن قبیلوں کو محروم کردیاگیا؟۔ بنو تمیم نے بشارت بھی ٹھکرائی، کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ وہ چند لوگ تھےجنہوں نے بشارت ٹھکرائی’ ان کو پوری قوم تو نہیں کہا جاسکتا ہے، توان سے اتنی سی گزارش ہے کہ وہ فرمان مصطفی ایک بار پھر پڑھ لیں حضور صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایاکہ بنو تمیم نے بشارت ٹھکرا دی۔ اس میں یہ نہیں فرمایاکہ بنو تمیم کے چند افراد نے بشارت ٹھکرا دی۔ سب سے پہلا گستاخ رسول بھی بنو تمیم کا ہی تھا، جس کی نسل سے فتنہ پرستوں کے نکلنے کی پیشگوئی فرمائی گئي، حجرہ مبارک کے باہر سے آوازیں دینے والے بھی بنو تمیم کے لوگ تھے، جن کی مذمت کےلئے قرآن کی آیات تک نازل ہوئيں۔ امید ہے کہ آپ سمجھ گئے ہونگے ذوالخویصرہ تمیمی والے واقعہ سے کہ فتنہ کہاں سے نکلے گا۔

مزید فتنہ نجد سے منسلک ایک حدیث پیش کرتے ہیں پہلے گستاخِ رسول کے حوالے سے : حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یمن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں چمڑے کے تھیلے میں بھر کر کچھ سونا بھیجا، جس سے ابھی تک مٹی بھی صاف نہیں کی گئی تھی۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ سونا (نجد کے) چار آدمیوں میں تقسیم فرما دیا، عیینہ بن بدر، اقرع بن حابس، زید بن خیل اور چوتھے علقمہ یا عامر بن طفیل کے درمیان۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب میں سے کسی نے کہا : ان لوگوں سے تو ہم زیادہ حقدار تھے۔ جب یہ بات حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا تم مجھے امانت دار شمار نہیں کرتے؟ حالانکہ آسمان والوں کے نزدیک تو میں امین ہوں۔ اس کی خبریں تو میرے پاس صبح و شام آتی رہتی ہیں۔ راوی کا بیان ہے کہ پھر ایک آدمی کھڑا ہو گیا جس کی آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئیں، رخساروں کی ہڈیاں ابھری ہوئیں، اونچی پیشانی، گھنی داڑھی، سر منڈا ہوا اور اونچا تہبند باندھے ہوئے تھا، وہ کہنے لگا : یا رسول اللہ! خدا سے ڈریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تو ہلاک ہو، کیا میں تمام اہل زمین سے زیادہ خدا سے ڈرنے کا مستحق نہیں ہوں؟ سو جب وہ آدمی جانے کے لئے مڑا تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ! میں اس کی گردن نہاڑا دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ایسا نہ کرو، شاید یہ نمازی ہو، حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : بہت سے ایسے نمازی بھی تو ہیں کہ جو کچھ ان کی زبان پر ہے وہ دل میں نہیں ہوتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا کہ لوگوں کے دلوں میں نقب لگاؤں اور ان کے پیٹ چاک کروں۔ راوی کا بیان ہے کہ وہ پلٹا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر اس کی جانب دیکھا تو فرمایا : اس کی پشت سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو اللہ کی کتاب کی تلاوت سے زبان تر رکھیں گے، لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے پار نکل جاتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ اگر میں ان لوگوں کو پاؤں تو قوم ثمود کی طرح انہیں قتل کر دوں ۔ (أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : المغازي، باب : بعث علي بن أبي طالب و خالد بن الوليد رضي اﷲ عنهما إلي اليمن قبل حجة الوداع، 4 / 1581، الرقم : 4094، و مسلم في الصحيح)

دوسری حدیث میں اس کی نسل سے فتنہ پروروں کے نکلنے کی پیشگوئی فرمائی کہ: اس کی نسل سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن بہت ہی اچھا پڑھیں گے ). ایک اور حدیث میں اس گستاخ کا نام اور قبیلہ ان الفاظ میں بیان ہواکہ:”ذی الخویصرہ نامی شخص جو کہ بنی تمیم سے تھا، نے کہا : یا رسول اللہ ! انصاف کیجیے.”(معاذاللہ اسکو تقسیم رسول غیرمنصفانہ لگی) ۔ (صحیح بخاری, کتاب الأدب، باب : ماجاء في قول الرجل ويلک، 5 / 2281، الرقم : 5811،چشتی)

سو پتہ چلاکہ فتنہ پرور ذی الخویصرہ تمیمی نجدی کی نسل سے نکلیں گے. نجد اور بنوتمیم سے نکلنے والے فتنوں کا بیان ہم الگ باب میں کریں گے لیکن یہاں ہم بنو تمیم سے نکلنے والے دو بڑے فتنوں کا ذکر کر رہے ہیں. پہلا فتنہ ذی الخویصرہ التمیی کا تھا جس کا مختصر بیان اوپر بیان ہو چکا ہے, اب ہم دوسرے فتنے کا بیان کریں گے اور حدیث شرک کا مصداق کون ہے اس پر مختصر سی روشنی ڈالیں گے ۔

حدیث شرک اور محمد بن عبد الوہاب التمیمی نجدی

تاریخ اسلام میں بڑے بڑے فتنے ظاہر ہوئے لیکن کوئی ایسی جماعت نہ ملی جس نے مسلمانوں کی اکثریت کو مشرک قرار دیا ہو اور انکے خلاف شرک کے نام پر جنگ کی ہو سوائے محمد بن عبدالوہاب کے جنہوں نے مسلمانوں کو مشرک سمجھا اور اس بنیاد پر ان سے قتال بھی کیا. ہمیں درج ذیل حدیث کا مصداق ابن وہاب کے سوا کوئی نظر نہیں آیا ۔

حدیث پاک میں آتا ہے کہ : حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بیشک مجھے جس چیز کا تم پر خدشہ ہے وہ ایک ایسا آدمی ہے جس نے قرآن پڑھا یہاں تک کہ جب اس پر اس قرآن کا جمال دیکھا گیا اور وہ اس وقت تک جب تک اﷲ نے چاہا اسلام کی خاطر دوسروں کی پشت پناہی بھی کرتا تھا۔ پس وہ اس قرآن سے دور ہو گیا اور اس کو اپنی پشت پیچھے پھینک دیا اور اپنے پڑوسی پر تلوار لے کر چڑھ دوڑا اور اس پر شرک کا الزام لگایا ، راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اے ﷲ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ان دونوں میں سے کون زیادہ شرک کے قریب تھا ؟ یا جس پر شرک کا الزام لگایا گیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شرک کا الزام لگانے والا ۔ (أخرجه ابن حبان في الصحيح، 1 / 282، الرقم : 81، والبزار في المسند، 7 / 220)

خوارج نے کفر کے فتوے لگائے , کبیرہ گناہ کرنے والوں کو کافر تک کہا اور مسلمانوں کا قتل عام بھی کیا لیکن کسی مسلمان جماعت پر شرک کا الزام لگاکر حملہ نہیں کیا . پھر تاریخ میں وہ وقت آتا ہے کہ مسلمانوں کو مشرک قرار دیکر انکی جان و مال کو حلال قرار دیا, اور روضہ رسول پر بوسیلہ رسول اللہ سے دعا مانگنے والوں کو مشرک قرار دیا گیا . جیساکہ سیلفیوں کے قاضی محمد بن عبد الوہاب کے حامی احمد بن حجر آل بوطامی سیلفی قاضی قطر لکھتے ہیں کہ : جنہوں نے توحید کو اچھی طرح پہچان لیا اور اسکی پیروی بھی کی اور شرک کو بھی جان لیا اور اسے ترک کردیا لیکن موحدین (وہابیوں ) سے نفرت کرتا ہے اور شرک (عامہ اہل اسلام) میں لت پت (مسلمان) لوگوں سے محبت کرتا ہے تو ایسا شخص بھی کافر ہے ۔ (حیات محمد بن عبدالوہاب نجدی ص 98، مترجم مختار احمد ندوی سلفی، مطبوعہ دارالاشاعت ) ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)