أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاَتۡبَعَهُمۡ فِرۡعَوۡنُ بِجُنُوۡدِهٖ فَغَشِيَهُمۡ مِّنَ الۡيَمِّ مَا غَشِيَهُمۡؕ‏ ۞

ترجمہ:

پس فرعون نے اپنے لشکر کے ساتھ ان کا پیچھا کیا، پھر سمندر نے ان کو ڈھانپ لیا جو ڈھانپ لیا

سمندر میں بنائے ہوئے خشک راستہ پر فرعون کے جانے کی توجیہ مفسرین کی طرف سے 

فرعون جو بنی اسرائیل کا پیچھا کرنے کے لئے سمندر کے ان خشک راستوں پر چل پڑا تھا اس کی وجہ مفسرین نے یہ ذکر کی ہے کہ فرعون کے لشکر نے فرعون سے کہا کہ تم دیکھ رہے ہو کہ موسیٰ نے سمندر پر جادو کردیا ہے فرعون ایک گھوڑے پر سوار تھا، اس وقت حضرت جبریل ایک گھوڑی پر سوار ہو کر فرعون کے آگے سے اس راستہ پر گئے۔ فرعون کے گھوڑے کو جب گھوڑی کی خوشبو آئی تو وہ فرعون کو لے کر اس راستہ پر دوڑا اور دوسرے فرشتوں نے چلا کر لشکریوں سے کہا بادشاہ سے مل جائو سو وہ سب ان راستوں میں داخل ہوئے سمندر آپس میں مل گیا اور وہ سب غرق ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کے لشکر کو غرق کردیا اور سمندر سے نکالے تاکہ ہم ان کو اچھی طرح دیکھ لیں، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی تو سمندر نے ان سب کو لا کر ساحل پر پھینک دیا اور بنو اسرائیل نے ان کے تمام ہتھیار لے لیے۔ حضرت ابن عباس (رض) نیبیان کیا کہ جبریل نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا یا محمد ! کاش آپ وہ منظر دیکھتے جب میں فرعون کو پانی اور مٹی میں چھپا رہا تھا اس خطرہ سے کہ وہ ہیں توبہ نہ کرلے۔

سمندر میں بنائے ہوئے خشک راستہ پر فرعون کے جانے کی توجیہ امام رازی کی طرف سے 

امام رازی نے یہ لکھا ہے کہ فرعون بہت عقلمند شخص تھا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ سمندر میں جو خشک راستے حضرت موسیٰ کے معجزے کی وجہ سے بن گئے تھے وہ ان پر چل پڑا ہو، اور یہ جو مفسرین نے لکھا ہے کہ حضرت جبریل نے اس کے آگے گھوڑی دوڑائی اس کے پیچھے اس کا گھوڑا دوڑ پڑا یہ بھی ناقابل فہم ہے۔ حضرت جبیل کو اس حیلہ کی کیا ضرورت تھی وہ ویسے ہی فرعون کو پورے لشکر سمیت اٹھا کر ان راستوں پر ڈال دیتے یا سمندر میں پھینک دیتے۔ پھر امام رازی لکھتے ہیں دراصل یوں ہوا ہوگا کہ فرعون لشکر کے درمیان ہوگا کیونکہ بادشاہ خطرات سے بچنے کے لئے لشکر کے درمیان میں چلتے ہیں تاکہ اچانک جو مصیبت پیش آئے وہ آگے چلنے والوں کو پیش آئے۔ پھر جب حضرت موسیٰ اور بنی اسرائیل ان رساتوں سے سلامتی کے ساتھ پارگزر گئے تو اس نے آزمائش کے لئے فوج کے چند دستوں کو روانہ کیا جب اس نے دیکھا کہ وہ سلامتی کے ساتھ ان راستوں سے گزر رہے ہیں تو پھر لشکر کے ساتھ وہ بھی اس راستہ سے گزرنے لگا اور جب پورا لشکر ان راستوں میں پہنچ گیا تو پھر وہ راستے پھٹ گئے اور سمندر آپس میں مل گیا اور فرعون اپنے لشکر سمیت غرق ہوگیا۔

فرعون کو کلمہ پڑھنے سے روکنے پر امام رازی کے اعتراض کا جواب 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے فرعون کو غرق کیا تو اس نے کہا میں اس پر ایمان لایا جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں (یونس 90) تو جبریل نے کہا اے محمد ! کاش آپ اس وقت مجھے دیکھتے جب میں سمندر کی کیچڑ اس کے منہ میں ال رہا تھا اس خوف سے کہ اس کے اوپر رحمت ہوجائے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث :3107، مسند احمد ج ١ ص 245، المعجم الکبیر رقم الحدیث :12932)

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ذکر فرمایا کہ جبریل فرعون کے منہ میں اس خوف سے کیچڑ ڈال رہے تھے کہ وہ کہے گا لا الہ الا اللہ تو اللہ اس پر رحم فرمائے گا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث :3108 مسند احمد ج ١ ص 240 صحیح ابن حبان رقم الحدیث :6215، المستدرک ج ٢ ص 240، شعب الایمان رقم الحدیث :9391)

امام رازی نے ان احادیث پر یہ اعتراض کیا ہے کہ یہ جو نقل کیا گیا ہے کہ جبریل اس کے منہ میں اس خوف سے کیچڑ ڈال رہے تھے کہ وہ ایمان لے آئے گا، یہ بعید ہے کیونکہ ایمان لانے سے منع کرنا فرشتوں اور نبیوں کی شان کے لائق نہیں ہے۔ (تفسیر کبیرج ج ٨ ص 82 مطبوعہ داراحیاء الترات العربی، بیروت :1415 ھ)

امام رازی کا ان احادیث پر یہ بہت قوی اعتراض ہے لیکن میں نے چونکہ اپنی زندگی احادیث کے پڑھنے، پڑھانے اور احادیث کی خدمت کرنے میں گزار دی ہے اس لئے میں اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی توفیق سے یہ کہتا ہوں کہ فرعون اللہ تعالیٰ کی متعدد آیتوں کا انکار کر کے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے مسلسل تکبر اور سرکشی کر کے، لوگوں پر ناحق بےدریغ ظلم کر کے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شان میں شدید گستاخیاں کر کے اس سزا کا مستحق ہوچکا تھا کہ اب اگر وہ ایمان لاتا پھر بھی اس کا ایمان قبول نہ کیا جاتا، اس کی نظیر وہ آیتیں ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ہم نے کافروں کے دلوں پر مہر لگا دی ہے :

ختم اللہ علی قلوبھم وعلی سمعھم (البقرہ : ٧) اللہ نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا دی ہے۔

مل طبع اللہ علیھا یکفروھم فلایومنون الا قلیلاً (النساء : ١٥٥) بلکہ ان کے کفر کی وجہ سے اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی پس وہ بہت کم ایمان لائیں گے۔

اسی طرح النحل :108، محمد :16، الاعراف :101100 یونس :74، الروم :59، المومن :25 التوبتہ :87 اور المنافقفون :3 میں کفار، منافقین اور جاہلوں اور معاندوں کے دلوں پر مہر لگانے کا ذکر ہے۔ اسی نہج پر جبریل کو اس وقت فرعون کے منہ میں مٹی ڈالنے کے لئے بھیجا تاکہ اس پر یہ واضح کردیا جائے کہ تو اب راندہ درگاہ ہوچکا ہے اور اب تیرا ایمان لانا مقبول نہیں ہے۔

امام رازی نے یونس :92میں بھی اس اعتراض کا ذکر کیا ہے او وہاں بھی میں نے اس اعتراض کا جواب لکھا ہے۔ (تبیان القرآن ج ٥ ص 463) لیکن یہاں پر میں نے زیادہ تحقیق کی ہے۔

حضرت موسیٰ کا ایک بڑھیا کی رہنمائی سے حضرت یوسف کا تابون نکالنا 

سعید بن عبدالعزیز بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) پر وفات کا وقت آیا تو انہوں نے اپنے بھائیوں کو ہلا کر کہا : اے میرے بھائیو ! میں نے دنیا میں کسی سے بھی اپنے اوپر کئے جانے والے ظلم کا بدلہ نہیں لیا اور مجھے یہ پسند تھا کہ میں لوگوں کی نیکیاں ظاہر کروں اور ان کی برائیاں چھپائوں اور دنیا سے میرا یہی آخرت کے لئے زاد راہ ہے، اے میرے بھائیوٖ ! میں نے اپنے باپ دادا جیسے عمل کئے ہیں تو تم مجھے ان کی قبروں کے ساتھ ملا دینا اور ان سے اس بات کا پکا وعدہ لیا، لیکن انہوں نے اپنے وعدہ کو پورا نہیں کیا، حتی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مبعوث کیا، انہوں نے حضرت یوسف کے متعلق معلوم کیا کہ ان کا صندوق کہاں دفن ہے تو صرف ایک بوڑھی عورت کا اس کا پتا تھا، اس کا نام شارح بنت شیر بن یعقوب تھا، اس نے حضرت موسیٰ سے کہا میں دو شرطوں پر تم کو اس کا پتا بتائوں گی۔ اس نے کہا ایک شرط تو یہ ہے کہ میں بوڑھی ہوں میں جوان ہو جائوں۔ حضرت موسیٰ نے فرمایا : منظور ہے۔ اس نے کہا دوسری شرط یہ یہ کہ میں جنت میں آپ کے درجہ میں آپ کے ساتھ رہوں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے گریز کر رہے تھے کہ آپ پر وحی ہوئی کہ اس شرط کو بھی مان لو تو آپ نے مان لیا۔ پھر اس بڑھیا نے اس صندوق کی رہنمائی کی تو حضرت موسیٰ نے اس صندوق کو نکال لیا۔ وہ عورت جب 52 سال کی عمر کو پہنچی تو اس کی جسامت 32 سال کی ہوجاتی، اس نے 1600 یا 1400 سال کی عمر پائی اور حضرت سلیمان بن دائود (علیہ السلام) نے اس سے شادی کی۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ٧، ص 2205 رقم الحدیث :12019، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ، 1417 ھ)

حافظ جلال الدین السیوطی متوفی 911 ھ نے بھی اس حدیث کو امام ابن اسحاق اور امام ابن ابی حاتم کے حوال ی سے ذکر کیا ہے۔ (الدرالمنثورج ٤، ص 591-592 مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1414 ھ)

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جنت عطا کرنے کا اختیار تھا 

امام حافظ احمد بن علی تمیمی متوفی 317 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابو موسیٰ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک اعرابی آیا، آپ نے اس کی عزت افزائی کی اور فرمایا : ہمارے پاس آئو، وہ آیا آپ نے اس سے فرمایا : تم اپنی حاجت بیان کرو۔ اس نے کہا : مجھے سواری کے لئے ایک اونٹنی چاہیے اور بکریاں چاہئیں جن کا ہم دودھ دو ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم بنو اسرائیل کی بڑھیا کی طرح ہونے سے بھی عاجز ہو ؟ آپ نے فرمایا : جب حضرت موسیٰ بنو اسرائیل کو لے کر مصر سے روانہ ہوئے تو وہ راستہ بھول گئے۔ حضرت موسیٰنے پوچھا : اس کی کیا وجہ ہے ؟ ان کے علماء نے کہا کہ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کی وفات قریب ہوئی تو انہوں نے ہم سے (یعنی ہمارے آباء و اجاد سے) یہ پختہ وعدہ لیا تھا اور اس پر قسم لی تھی کہ ہم مصر سے اس وقت تک روانہ نہیں ہوں گے جب تک ان کی نعش کو ساتھ نہیں لے جائیں گے۔ حضرت موسیٰ نے پوچھا : ان کی قبر کی جگہ کس کو معلوم ہے ؟ انہوں نے کہا : بنو اسرائیل کی ایک بڑھیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو بلوایا پس وہ آئی حضرت موسیٰ نے فرمایا : مجھے حضرت یوسف کی قبر بتائو۔ اس نے کہا اس وقت تک اس کا پتا نہیں بتائوں گی حتیٰ کہ آپ میری ایک درخواست منظور نہ کریں۔ آپ نے پوچھا : تمہاری کیا درخواست ہے ؟ اس نے کہا : میں جنت میں آپ کے ساتھ رہوں ! حضرت موسیٰ کو یہ ماننا ناگوار ہوا، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی کی کہ آپ اس کی درخواست منظور کرلیں ! تو وہ آپ کو دریائے نیل کی اس جگہ پر لے گئی جہاں کا پانی متغیر ہوچکا تھا، اس نے کہا : یہاں سے پانی نکالو، انہوں نے وہاں سے پانی نکالا۔ اس نے کہا : یہاں کھدائی کرو، کھدائی کے بعد وہاں سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی نعش برآمد کی، جب انہوں نے حضرت یوسف کی نعش اوپر اٹھائی تو ان کو گمشدہ راستہ روز روشن کی طرح مل گیا۔ (مسند ابویعلی ج ١٣، ص 236-237 رقم الحدیث :7254 مطبوعہ دارالثقافت العربیہ، 1413 ھ)

حافظ نور الدین الہیثمی متوفی 807 ھ نے لکھا ہے کہ مسند ابویعلی کی حدیث کے راوی صحیح ہیں اور اسی وجہ سے میں نے اس حدیث کو درج کیا ہے۔ (مجمع الزوائد ج 10 ص 170-171، مطبوعہ دارالکتب العربی بیروت 1402 ھ موارد الظمآن ج ٢، رقم الحدیث :2435، مطبوعہ مئوستہ الرسالہ بیروت، 1414 ھ)

امام ابو عبداللہ حاکم نیشاپوری نے اس حدیث کو اپنی سند کے ساتھ روایت کر کے لکھا ہے کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔ (المستدرک ج ٢ ص 571-672 علامہ ذہبی نے حاکم موافقت کی ہے، حافظ احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی 852 ھ نے اس حدیث کا ذکر کیا ہے : المطالب العالیہ ج ٣ رقم الحدیث :3462)

امام ابو حاتم محمد بن حبان متوفی 354 ھ نے اس حدیث کو اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔ (صحیح ابن حبان ج ٢، ص 500-501 رقم الحدیث :723)

خاتم الحفاظ حافظ جلال الدین سیوطی متوفی 911 ھ نے اس حدیث کو متعدد ائمہ حدیث کے حوالوں کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ (الدرالمنثور ج ٦، ص 302, 303 مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1414 ھ)

امام ابوبکر محمد بن جعفر الخرائطی المتوفی 327 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جب کسی کام کے متعلق سوال کیا جاتا، اگر آپ کا ارادہ اسے کرنے کا ہوتا تو فرماتے ہاں ! اور اگر آپ کا ارادہ نہ کرنے کا ہوتا تو آپ خاموش رہتے اور آپ کسی کام کے متعلق ” نہ “ نہیں فرماتے تھے۔ آپ کے پاس ایک اعرابی آیا اور اس نے کچھ سوال کیا، آپ خاموش رہے، اس نے پھر سوال کیا آپ خاموش رہے، پھر اس نے تیسری بار سوال کیا تو آپ نے گویا اسے جھڑکنے کے انداز میں فرمایا : اے اعرابی مانگ کیا چاہتا ہے ؟ ہمیں اس پر رشک آیا اور ہم نے گمان کیا کہ اب وہ جنت کا سوال کرے گا، اس نے کہا میں آپ سے ایک سواری کا سوال کرتا ہوں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ تمہیں مل جائے گی، پھر فرمایا : سوال کرو، اس نے کہا : میں اس کے پالان کا سوال کرتا ہوں، آپ نے فرمایا : یہ تمہیں مل جائے گا، پھر فرمایا : سوال کرو، اس نے کہا، میں آپ سے سفر خرچ کا سوال کرت اہوں۔ آپ نے فرمایا یہ تمہیں مل جائے گا۔ حضرت علی نے کہا : ہمیں اس پر بہت تعجب ہوا، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس اعرابی نے جن چیزوں کا سوال کیا وہ اس کو دے دو ۔ پھر اس کو وہ چیزیں دے دی گئیں۔ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس اعرابی کے سوال میں اور بنی اسرائیل کی بڑھیا کے سوال میں کتنا فرق ہے۔ پھر آپ نے فرمایا، جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو سمندر پار جانے کا حکم ہوا تو آپ کے پاس سواری کے لئے جانور لائے گئیوہ جانور سمندر کے کنارے تک پہنچے پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے منہ پھر دیئے اور خودبخود پلٹ آئے۔ حضرت موسیٰ نے کہا : اے رب ! یہ کیا مراجرا ہے ؟ حکم ہوا کہ تم یوسف کی قبر کے پاس ہو، اس کی نعش کو اپنے ساتھ لے جائو وہ قبر ہموار ہوچکی تھی اور حضرت موسیٰ کو پتا نہیں تھا کہ وہ قبر کہاں ہے پھر حضرت موسیٰ نے لوگوں سے سوال کیا کہ تم میں سے کسی کو پتا ہے، وہ قبر کہاں ہے ؟ لوگوں نے کہا : اگر کوئی جاننے والا ہے تو وہ بنی اسرائیل کی ایک بڑھیا ہے، اس کو معلوم ہے کہ وہ قبر کہاں ہے۔ حضرت موسیٰ نے کہا : ہمیں بتائو۔ اس نے کہا نہیں ! اللہ کی قسم ! جب تک تم میرا سوال پورا نہیں کرو گے ! حضرت موسیٰ نے کہا : بتائو تمہارا کیا سوال ہے ؟ اس بڑھیا نے کہا : میں یہ سوال کرتی ہوں کہ جنت کے جس درجہ میں تم رہو گے، اسی درجہ میں رہوں، ! حضرت موسیٰ نے کہا، صرف جنت کا سوال کرو۔ اس نے کہا : نہیں ! اللہ کی قسم ! میں اس وقت تک راضی نہیں ہوں گی جب تک کہ میں تمہارے ساتھ جنت میں تمہارے درجہ میں نہ رہوں ! حضرت موسیٰ اس کو ٹالتے رہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی : اس کو وہ درجہ دے دو ، اس سے تم کو کوئی کمی نہیں ہوگی ! حضرت موسیٰ نے اس کو جنت کا وہ درجہ دے دیا، اس نے قبر بتائی اور وہ حضرت یوسف کی نعش لے کر سمندر کے پار گئے۔ (مکارم الاخلاق ج ٢ ص 626، رقم الحدیث :669، مطبوعہ مطبع المدنی مصر، 1411 ھ)

امام سلیمان بن احمد طبرانی متوفی 360 ھ نے بھی اس حدیث کو اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ (المعجم الاوسط ج ٨ ص 376-377، رقم الحدیث :7763، مطبوعہ مکتب المعارف ریاض 1415 ھ)

حافظ الہیثمی نے اس کا ذکر کیا ہے۔ (مجمع الزوائد ج 10 ص 171) امام علی متقی ہندی متوفی 975 ھ نے بھی اس حدیث کا ذکر کیا ہے۔ (کنز العمال ج ١ ۃ ص 516 رقم الحدیث :34412 مطبوعہ موسستہ الرسالہ بیروت)

ان حدیثوں کے اہم اور نمایاں فوائد میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ اختیار دیا ہے کہ جس شخص کو جو چاہیں عطا کردیں، کیونکہ آپ نے فرمایا : مانگ اے اعرابی جو چاہتا ہے اور یہ کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنت کا سوال کرنے کی ترغیب دی، کیونکہ آپ نے فرمایا کہ تم میں اور بنی اسرائیل کی بھڑیا میں کتنا فرق ہے ! اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ اختیار دیا تھا کہ وہ بنی اسرائیل کی اس پیرزن کو جنت میں اپنا درجہ عطا فرما دیں، اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی طرف جنت عطا کرنے کی نسبت فرمائی اور یہی صحابہ کرام کا اعتقاد تھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جنت تک عطا کرنے کا اختیار تھا اسی طرح بنی اسرائیل کی اس پیرزن کا یہ اعتقاد تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نہصرف جنت بلکہ جنت میں اپنا درجہ بھی عطا فرما سکتے ہیں اور یہ کہ دنیا اور آخرت کی نعمتیں خواہ جنت ہو، ان کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کرنا شرک نہیں ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 78