أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالُوۡا مَاۤ اَخۡلَـفۡنَا مَوۡعِدَكَ بِمَلۡكِنَا وَلٰـكِنَّا حُمِّلۡنَاۤ اَوۡزَارًا مِّنۡ زِيۡنَةِ الۡقَوۡمِ فَقَذَفۡنٰهَا فَكَذٰلِكَ اَلۡقَى السَّامِرِىُّ ۙ‏ ۞

ترجمہ:

انہوں نے کہا ہم نے دانستہ آپ سے کئے ہوئے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کی، لیکن قوم (فرعون) کے زیورات کا بوجھ ہم پر لاد دیا گیا تھا تو ہم نے ان کو (آگ میں) ڈال دیا، سو اسی طرح سامری نے ان کو آگ میں ڈالا تھا

بنی اسرائیل کا بچھڑے کی عبادت پر عذر پیش کرنا 

طہ :87 میں بنی اسرائیل کا جواب ذکر فرمایا ہے انہوں نے کہا انہوں نے یہ کام اپنی ملک سے نہیں کیا۔ یعنی انہوں نے یہ کام ایسی چیز کی وجہ سے کیا ہے، جس کے وہ مالک نہیں تھے۔ یہ ان لوگوں کا جواب ہے جنہوں نے بچھڑے کے مجسمہ کی پرستش نہیں کی تھی گویا کہ انہوں نے یہ کہا کہ یہ کام ہمارے لوگوں نے کیا ہے اور چونکہ ہم ان کو روک نہیں سکے اس لئے ہم اس کام کو اپنا ہی کام قرار دیتے ہیں۔ لیکن ہمارا ان ان لوگوں پر بس نہیں چل سکا اور ان کے کاموں کی باگ دوڑ ہمارے اختیار میں نہ تھی اور اس کی دوسری توجیہ یہ ہے کہ یہ ان لوگوں کا جواب ہے جنہوں نے گو سالہ کے مجسمے کی پرستش کی تھی لیکن انہوں نے یہ عذر پیش کردیا کہ گوسالہ کے معاملہ میں ہم پر ایسا شبہ پیش کردیا گیا تھا جس کی وجہ سے ہم اس کی پرستش کرنے پر مجبور ہوگئے تھے اور وہ شبہ یہ تھا کہ بغیر کسی خارجی تحریک اور سبب کے وہ بیل کی سی آواز نکالتا تھا ہم کو سامری نے یہ بتایا کہ چونکہ یہ خدا ہے اس لئے آواز نکال رہا ہے۔

پھر انہوں نے کہا ہم پر قبطیوں کے زیورات لاد دیے گئے تھے۔ ایک قوال یہ ہے کہ حضرت موسیٰ نے ان سے فرمایا تھا کہ تم ان سے عاریتۃ زیورات لے لو۔ (یہ قول صحیح نہیں ہے) پھر فرمایا ان زیورات کو ساتھ لے چلو اور انہوں نے حضرت موسیٰ پر حجت پیش کرنے کے لئے اور الزام قائم کرنے کے لئے یہ کہا تھا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ زیورات بہ منزلہ مال غنیمت تھے اور مال غنیمت کھانا ان کے لئے حلال نہ تھا اس لئے وہ ان کو ٹھکانے لگانا چاہتے تھے۔

القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 87