أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ بَصُرۡتُ بِمَا لَمۡ يَـبۡصُرُوۡا بِهٖ فَقَبَـضۡتُ قَبۡضَةً مِّنۡ اَثَرِ الرَّسُوۡلِ فَنَبَذۡتُهَا وَكَذٰلِكَ سَوَّلَتۡ لِىۡ نَفۡسِى ۞

ترجمہ:

سامری نے کہا میں نے وہ چیز دیکھی جو دوسروں نے نہیں دیکھی تو میں نے اللہ کے رسول (جبریل) کے نقس قدم سے ایک مٹھی بھر لی، پھر میں نے اس مٹھی بھر خاک کو بچھڑے کے مسجمہ میں ڈال دیا، میرے دل نے یہی بات بنائی تھی

حضرت موسیٰ کا سامری کو ملامت کرنا 

جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) حضرت ہارون (علیہ السلام) کے ساتھ مکالہ سے فارغ ہوگئے اور بنو اسرائیل کو سرزنش نہ کرنے کے متعلق ان کا عذر قبول کرلیا تو اب سامری کی طرف متوجہ ہوئے۔ یہ ہوسکتا ہے کہ سامری اس وقت وہیں موجود ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ کہیں اور ہوا اور اس کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بلایا ہو، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کے پاس حضرت موسیٰ خود گئے ہوں تاکہ اس سے خطاب کریں۔ بہرحال حضرت موسیٰ نے اس سے پوچھا تیرا کیا معاملہ ہے یعنی تو نے اس بچھڑے کو معبود کیوں بناا تھا ؟ سامری نے کہا میں نے وہ چیز دیکھی جو دوسروں نے نہیں دیکھی تو میں نے اللہ کے رسول کے نقش قدم سے ایک مٹھی بھر لی پھر اس مٹھی بھر خاک کو بچھڑنے کے مجسمہ میں ڈال دیا، میرے دل نے یہی بات بنائی تھی۔

اثر رسول کے متعلق مفسرین کی توجیہ 

جمہور مفسرین نے یہ کہا ہے کہ اس آیت میں رسول سے مراد حضرت جبریل (علیہ السلام) ہیں اور اثر سے مراد حضرت جبریل کی سواری کے پائوں کے نیچے کی مٹی ہے۔ پھر اس میں اختلا ہے کہ سامری نے حضرت جبریل کو کب دیکھا تھا اکثر نے یہ کہا ہے کہ جس دن سمندر کو چیرا گیا تھا اس دن سامری نے حضرت جبریل کو دیکھا تھا۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ جب حضرت جبریل (علیہ السلام) نازل ہوئے تاکہ حضرت موسیٰ کو طور پر لے جائیں تو سامری نے حضرت جبریل کو لوگوں کے درمیان دیکھ لیا تھا اور حضرت ابن عباس (رض) سے ایک روایت ہے کہ اس نے حضرت جبریل کو اس لئے پہچان لیا تھا کہ سامری نے حضرت جبریل کو بچپن میں دیکھا تھا کیونکہ جب فرعون نے بنی اسرائیل کی اولاد کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا اس سال سامری پیدا ہوا اس کی ماں سامری کو ایک غار میں ڈال آئی تھی وہاں حضرت جبریل آتے اور اپنا ہاتھ سامری کے منہ میں ڈالتے وہ اس کو چوستا تو اس کو غذا حاصل ہوجاتی۔ اس وقت سے سامری کے ذہن میں حضرت جبریل کی صورت نقش تھی اب اس نے ان کو دیکھا تو پہچان لیا۔ اس نے ان کی سواری کیپ ائوں کے نیچے سے مٹھی اٹھا لی اور اپنے پاس محفوظ رکھ لی اور اس نے جب بچھڑے کو بنایا تو اس کے اندر وہ مٹی ڈال دی جس کے اثر سے اس میں حیات آگئی اور وہ بیل کی سی آواز نکالنے لگا۔

اثر رسول کے متعلق ابو مسلم کی توجیہ 

امام رازی متوفی 606 ھ نے لکھا ہے کہ ابو مسلم اصفہانی نے یہ کہا ہے کہ قرآن مجید میں یہ تصریح نہیں ہے کہ طہ :96 میں رسول سے مراد جبریل ہیں یہ صرف مفسرین کا قول ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس آیت میں رسول سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہوں اور انکے اثر سیمراد ان کی سنت اور ان کا وہ طریقہ ہو جس کا انہوں نے حکم دیا تھا اور مفہوم یہ ہو کہ جب حضرت موسیٰ نے سامری کو بچھڑے کی عبادت پر ملامت کی تو اس نے یوں کہا مجھے اس چیز کی بصیرت حاصل ہوئی جس کی اور لوگوں کو بصیرت حاصل نہیں ہوئی۔ یعنی میں نے جان لیا آپ لوگ حق پر نہیں ہیں اور اے رسول میں نے آپ کی سنت اور آپ کے دین کا کچھ حصہ حاصل کیا تھا پھر میں نے اس کو پھینک دیا اور ترک کردیا، اور اس وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو خبر دی کہ اس کو دنیا اور آخرت کا عذاب ہوگا۔

ابو مسلم کی یہ تقریر ہرچند کہ عام مفسرین کی تفسیر کے خلاف ہے لیکن یہ تقریر حسب ذیل وجوہ سے راجح ہے اور تحقیق کے قریب ہے :

(١) حضرت جبریل کے لئے رسول کا لفظ مشہور نہیں ہے اور نہ طہ :96 سے پہلی آیتوں میں حضرت جبریل کا ذکر ہے حتیٰ کہ یہ کہا جائے کہ الرسول میں لام عہد ہے اور اس سے مراد حضرت جبریل ہیں۔

(٢) مفسرین کی تفسیر میں قبضۃ من اثر الرسول میں دو لفظ محذوف ماننے ہوں گے اور عبارت یوں بنے گی قبضۃ من الرحافر فرس الرسول میں نے رسول یعنی جبریل کی گھوڑی کے پیر کی خاک سے ایک مٹھی بھر لی اور حذف خلاف اصل ہے۔

(٣) اس کی وجہ بتانی پڑے گی کہ تمام لوگوں میں سے صرف سامری نے کیسے جبریل کو دیکھا اور پہچان لیا اور یہ کیسے جان لیا کہ ان کی گھوڑی کے پائوں کی خاک میں یہ اثر ہے کہ اس سے بےجان چیز زندہ ہوجائے گی۔ اور مفسرین نے جو یہ بیان کیا ہے کہ حضرت جبریل نے سامری کی اس کے بچپن میں تربیت اور پرورش کی تھی اول تو یہ بہت بعید ہے، ثانیاً سامری نے جوان ہونے اور عقل و شعور کے کامل ہونے کے بعد جبریل کو دیکھ کر یہ کیسے پہچان لیا کہ یہ وہی شخص ہے جس نے میری پیدائش کے بعد میری پرورش کی تھی۔

(٤) اگر اس تفسیر کو مان لیا جائے تو پھر کوئی شخص یہ اعتراض کرسکتا ہے کہ سامری کافر تھا اور جب اس کو یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ ایک خاک کی چٹکی بےجان چیز کو زندہ کرسکتی ہے اور سامری کے ایک عمل سے بےجان مجسمہ بیل کی سی آواز نکال سکتا ہے تو ہوسکتا ہے کہ حضرت موسیٰ کو بھی اس طرح کی کسی چیز کا علم ہوگیا ہو جس کی وجہ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ معجزات دکھائے ہوں اور پھر معجزات کے ثبوت کا دروازہ بند ہوجائے گا۔ (تفسیر کبیرج ٨ ص 92، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، 1415 ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 96