أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ ذِكۡرٍ مِّنۡ رَّبِّہِمۡ مُّحۡدَثٍ اِلَّا اسۡتَمَعُوۡهُ وَهُمۡ يَلۡعَبُوۡنَۙ ۞

ترجمہ:

ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے جو بھی نئی نصیحت آتی ہے وہ اس کو کھیل کود کے مشغلہ میں ہی سنتے ہیں

قرآن مجید کے حادث ہونے کے اشکال کا جواب 

الانبیاء : ٢ میں فرمایا : ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے جو بھی نئی نصیحت آتی ہے وہ اس کو کھیل کود کے مشغلہ میں ہی سنتے ہیں۔ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی نصیحت کے لئے وقتاً فوقتاً آیات نازل فرماتا رہتا ہے، قرآن مجید میں اس کے لئے ذکر محدث کا لفظ ہے۔ معتزلہ نے اس سے یہ استدلال کیا ہے کہ اس آیت میں یہ واضح تصریح ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام حادث ہے، ہم کہتے ہیں اس کا تعلق کلام لفظی کے ساتھ ہے اور کلام لفظی کو ہم بھی حادث کہتے ہیں، ہم قدیم کلام نفسی کو کہتے ہیں۔

نیز فرمایا وہ نصیحت کو کھیل کود کے مشغلہ میں سنتے ہیں، اس کے دو معنی ہیں ایک یہ ہے کہ وہ اس نصیحت کو غفلت اور بےپرواہی سے سنتے ہیں اور اس کا دوسرا معنی یہ ہے کہ وہ اس نصیحت کا مذاق اڑاتے ہوئے اس کو سنتے ہیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 2