أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاۡمُرۡ اَهۡلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَاصۡطَبِرۡ عَلَيۡهَا‌ ؕ لَا نَسْأَلُكَ رِزۡقًا‌ ؕ نَحۡنُ نَرۡزُقُكَ‌ ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلتَّقۡوٰى ۞

ترجمہ:

اور آپ اپنے اہل خانہ کو نماز کا حکم دیں اور خود بھی نماز پر جمے رہیں، ہم آپ سے (آپ کے رزق کا سوال نہیں کرتے، ہم خود آپ کو رزق دیتے ہیں اور نیک انجام صرف تقویٰ کا ہے

نماز پڑھنے کی تاکید 

طہ :132 میں فرمایا آپ اپنے اہل خانہ کو نماز کا حکم دیں، اس سے مراد ہے آپ اپنے اقارب کو نماز پڑھنے کا حکم دیں، اس آیت کے نازل ہونے کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر روز حضرت فاطمہ (رض) اور حضرت علی (رض) کے گھر جاتے تھے اور ان کو نماز کے لئے اٹھاتے تھے۔ حضرت عروہ بن الزبیر (رض) نہ جب بادشاہ کے محلات میں آرائش اور زیبائش کی چیزیں دیکھتے تو یہ آیت پڑھتے ولا تمدن عینیک …الایۃ پھر ان کو نماز پڑھنے کا حکم دیتے اور کہتے نماز پڑھو اللہ تم پر رحم فرمائے اور خد نماز پڑھتے اور حضرت عمر (رض) اپنے گھر والوں کو تہجد کی نماز کے لئے اٹھاتے اور خود بھی نماز پڑھتے اور اس آیت پر عمل کرتے۔

اس کے بعد فرمایا ہم آپ سے آپ کے رزق کا سوال کرتے ہیں اور نہ ان کے رزق کا سوال کرتے ہیں کہ آپ رزق کی فراہمی میں مشغولیت کی وجہ سے نماز نہ پڑھیں بلکہ آپ کے اور ان کے رزق کے کفیل اور ذمہ دار ہم ہیں۔ پھر جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اہل و عیال کو تنگی کا سامنا ہوتا تو آپ ان کو نماز پڑھنے کا حکم دیتے اور اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

وما خلقت الجن والانس الالیعبدون ما ارید منھم من رزق وما ارید ان یطعمون ان اللہ ھو الرزاق ذو القوۃ المتین (الذاریات :56-58) میں نے جن اور انسان کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں میں ان سے نہ روزی چاہتا ہوں اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں بیشک اللہ خود ہی سب کو روزی پہنچانے والا، طاقت والا، زبرسدت ہے۔

ان آیتوں کا یہ معنی نہیں ہے کہ مسلمانوں کو دن رات نمازیں پڑھنی چاہئیں اور روزی حاصل کرنے کے لئے کسب نہیں کرنا چاہیے کیونکہ جس طرح نماز پڑھنا فرض ہے روزی حاصل کرنا بھی فرض ہے۔ قرآن مجید میں ہے :

فاذا قضیت الصلوۃ فانتسروا فی الارض وابتغوا من فضل اللہ (الجمعہ :10) جب نماز پڑھ لی جائے تو زمین میں پھیل جائو اور اللہ کا فضل وابتغوا من فضل اللہ (الجمعہ :10)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص اپنے اہل کو سوال سے روکنے کے لئے حلال کی طلب میں نکلے وہ بھی اللہ کے راستہ میں ہے اور جو شخص اپنے آپ کو سوال سے روکنے کے لئے حلال کی طلب سے نکلے وہ بھی اللہ کے راستہ میں ہے البتہ جو شخص مال کی کثرت کی طلب میں نکلے وہ شیطان کے راستے میں ہے۔ (مصنف عبدالرزاق ج ٥ ص 271-272 مطبوعہ بیروت، 139 ھ) 

القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 132