أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا قَبۡلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوۡحِىۡۤ اِلَيۡهِمۡ‌ فَاسْأَلُوا اَهۡلَ الذِّكۡرِ اِنۡ كُنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے آپ سے پہلے صرف مردوں کو رسول بنایا تھا جن کی طرف ہم وحی فرماتے تھے، سو اگر تم کو علم نہیں ہے تو علم والوں سے پوچھ لو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کا ارشاد ہے : اور ہم نے آپ سے پہلے صرف مردوں کو رسول بنایا تھا جن کی طرف ہم وحی فرماتے تھے۔ سو اگر تم کو علم نہیں ہے تو علم والوں سے پوچھ لو ہم نے ان (رسولوں) کے ایسے جسم نہیں نبائے تھے کہ وہ کھانا نہ کھاتے ہوں اور نہ وہ (دنیا میں) ہمیشہ رہنے والے تھے پھر ہم نے ان کے سامنے (اپنا) وعدہ سچا کر دکھایا تو ہم نے ان کو اور جن کو ہم نے چاہا نجات دے دی، اور حد سے تجاوز کرنے والوں کو ہلا کردیا بیشک ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہاری نصیحت ہے، سو کیا تم نہیں سمجھتے ؟ (الانبیاء :7-10)

رسول صرف انسانوں اور مردوں کو بنایا جاتا ہے 

الانبیاء : ٧ میں کفار کے پہلے اعتراض کا جواب ہے کہ یہ شخص تو تمہاری مثل بشر ہے یہ نبی کس طرح ہوسکتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ کی ہمیشہ سے عادت جاریہ رہی ہے کہ وہ مرد کو انسانوں کی طرف رسول بنا کر بھیجتا رہا ہے، اس سے پہلے جس قدر رسول آئے وہ سب مرد ہی تھے اسی عادت کے مطابق (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رسول بنا کر بھیجا ہے۔ سو آپ کا مرد ہونا آپ کے رسول ہونے کے منافی نہیں ہے، رسول کے لئے دلیل اور معجزہ کا ہونا ضروری ہے سو ہم نے (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دلائل اور معجزات دے کر بھیجا ہے، لہٰذا آپ کا بشر ہونا آپ کے نبی اور رسول ہونے کے خلاف نہیں ہے اگر تم کو اس پر یقین نہیں ہے تو تم اہل ذکر یعنی علماء سے پوچھ لو۔ اس زمانہ میں علماء اہل کتاب تھے، یہودی اور عیسائی علماء اور یہودیوں کو بھی یہ اعتراض تھا کہ حضرت موسیٰ بشر تھے اور جب حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) بشر اور انسان ہونے کے باوجود نبی ہوسکتے تھے تو (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بشر ہونے کے باوجود نبی کیوں نہیں ہوسکتے !

اس آیت میں یہ دلیل بھی ہے کہ رسول صرف مرد ہی کو بنایا جاتا ہے، عورت کو رسول نہیں بنایا جاتا، اس آیت میں علامہ قرطبی وغیرہ کے اس نظریہ کا رد ہے کہ عورت بھی نبی ہوسکتی ہے۔

مسئلہ تقلید 

اس میں علماء کا اختلاف نہیں ہے کہ عام شخص پر علماء کی تقلید کرنا واجب ہے اور اس آیت میں اہل ذکر سے مراد علماء ہیں اور اس پر اجماع ہے کہ جب نابینا شخص کو قبلہ کا علم نہ ہو تو اس پر اس شخص کی تقلید کرنا واجب ہے جس کو قبلہ کا علم ہو، اسی طرح جس شخص کو دینی مسائل میں عمل اور بصیرت نہ ہو، اس پر اس شخص کی تقلید کرنا واجب ہے جس کو ان مسائل کا علم ہو اور جس کو ان مسائل پر بصیرت حاصل ہو، اسی طرح اس میں بھی کسی کا اختلاف نہیں ہے کہ عام آدمی کو فتویٰ دینا جائز نہیں ہے کیونکہ اس کو ان دلائل کا علم نہیں ہے جن کے ساتھ تحلیل اور تحریم کا تعلق ہوتا ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ١١ ص 182، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1415 ھ)

شیخ محمد بن علی بن محمد الشوکانی متوفی 1250 ھ لکھتے ہیں :

اس آیت سے تقلید کے جواز پر استدلال کیا گیا ہے اور یہ استدلال خطا ہے اور اگر اس استدلال کو مان لیا جائے تو اس کا معنی ہے کہ علماء سے کتاب اور سنت کی نصوص کا سوال کیا جائے نہ کہ علماء کی رائے کے متعلق سوال کیا جائے اور تقلید کا معنی ہے کہ کسی شخص کے قول کو بغیر دلیل کے قبول کیا جائے۔ (فتح القدیر ج ٣ ص 546، مطبوعہ دارالوفاء 1418 ھ)

نواب صدیق حسن بھوپالی متوفی 1307 ھ لکھتے ہیں ،

اس آیت سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ تقلید جائز ہے اور یہ استدلال خطاء ہے اور اگر یہ استدلال مان لیا جائے تو اس کا معنی ہے کتاب اور سنت کی نصوص اور تصریحات کے متعلق سوال کرنا نہ کہ محض رائے کے متعلق سوال کرنا اور تقلید کا معنی ہے بغیر دلیل کے غیر کے قول کو قبول کرنا اور مقلد جب اہل الذکر سے کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کے متعلق سوال کرے گا تو وہ مقلد نہیں رہے گا۔ اکثر فقہاء نے اس آیت کی تفسیر میں کہا ہے کہ عام آدمی کے لئے علماء کے فتویٰ کی طرف رجوع کرنا جائز ہے، اور ایک مجتہد کے لئے دور سے مجتہد کے قول پر عمل کرنا جائز ہے لیکن یہ قول بعید ہے کیونکہ اس آیت میں خصوصیت کے ساتھ یہ بتایا ہے کہ علماء یہود اور علماء نصاریٰ سے یہ معلوم کرلو کہ بشر کو رسول بنا کر بھیجنا جائز ہے یا نہیں، آیات کے سیاق اور سباق سے یہی معنی متعین ہے۔ (فتح البیان ج ٨ ص 306، مطبوعہ المتکبہ العصریہ، بیروت، 1415 ھ)

ہر چند کے اس آیت کا شان نزول خاص ہے لیکن اس کے الفاظ عام ہیں اور اعتبار عموم الفاظ کا ہوتا ہے نہ کہ خصوصیت مورد کا اس کی وضاحت ہم النحل :43 میں کرچکے ہیں۔

علامہ محمد بن احمد السفارینی الحنبلی المتوفی 1188 ھ لکھتے ہیں :

ہر وہ مکلف جس میں اجتہاد مطلق کی صلاحیت نہ ہو اس کے لئے ائمہ اربعہ میں سے کسی ایک امام کی تقلید کرنا جائز ہے، ان ائمہ کے مذاہب اور ان کے اقوال ہر زمانہ میں محفوظ اور مضنبط ہیں اور ان کی شرائط اور انکے ارکان تواتر سے معلوم ہیں۔

تقلید کا لغت میں معنی ہے کسی چیز کو گلے میں اس طرح ڈالنا کہ وہ گلے کا احاطہ کرلے، اسی لئے ہار اور پتے کو قلاوہ کہتے ہیں اور عرف میں اس کا معنی ہے کسی دوسرے کے مذہب کو صحیح اعتقاد کر کے قبول کرنا اور اس کی اتباع کرنا بغیر اس کی دلیل کی معرفت کے لہٰذا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قول کی طرف رجوع کرنا، یا مفتی، یا اجماع یا قاضی کی طرف رجوع کرنا تقلید نہیں ہے ہرچند کے لغوی اعتبار سے اس کو تقلید کہنا جائز ہے، کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قول اور اجماع دلیل ہے، اس طرح صحابی کا قول بھی چند کے لغوی اعتبار سے اس کو تقلید کہنا جائز ہے، کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قول اور اجماع دلیل ہے، اس طرح صحابی کا قول بھی دلیل ہے لہٰذا ان کی طرف کرنا تقلید نہیں ہے، تقلید کے جواز پر قرآن مجید کی اس آیت سے استدلال کیا گیا ہے۔

فسئلوا اھل الذکر ان کنتم لاتعلمون (الانبیاء : ٧) پس اگر تم کو معلوم نہیں ہے تو اہل ذکر (علماء) سے معلوم کرلو۔

یہ آیت عام ہے اور سوال کرنے کی علت جہل ہے اور اس پر اجماع ہے کہ ہمیشہ سے عام لوگ علماء کی تقلید کرتے رہتے ہیں، نیز اگر یہ کہا جائے کہ ہر آدمی کے لئے اتنا علم حاصل کرنا فرض ہے کہ وہ کتاب، سنت، آثار صحابہ اور اجماع سے براہ راست مسائل نکال سکے تو اس سے لازم آئے گا کہ لوگ ذریعہ معاش اور صنعت اور حرفت سے معطل ہوجائیں اور توحید و رسالت اور آخرت کے عقائد میں یہ لازم نہیں آتا، اس لئے امام مالک نے یہ کہا ہے کہ عوام پر واجب ہے کہ وہ احکام شرعیہ میں مجتہدین کے اقوال پر عمل کریں۔ (لوامع الانوار البیتہ : ج ٢ ص 463-464 مبوعہ المتکب الاسلامی بیروت، 1411 ھ)

اس مسئلہ کی مکمل بحث اور تفصیل ہم النحل :43 میں کرچکے ہیں وہاں ملاحظہ فرمائیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 7