أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَجَعَلۡنَا فِى الۡاَرۡضِ رَوَاسِىَ اَنۡ تَمِيۡدَ بِهِمۡ ۖوَجَعَلۡنَا فِيۡهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّهُمۡ يَهۡتَدُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے زمین میں اونچے اونچے پہاڑ بنا دیئے تاکہ لوگوں کے بوجھ سے زمین ایک طرف ڈھلک نہ جائے اور ہم نے اس زمین میں کشادہ راستے بنائے تاکہ لوگ ہدایت حاصل کریں

زمین کا اپنے مدار میں گردش کرنا 

رواسی : اس کا استعمال ٹھہرے ہوئے پہاڑوں کے لئے ہوتا ہے، اس کا مادہ رسو ہے اس کا معنی ہے کسی جگہ پر قائم رہنے والی چیز۔

ان تمیدبھم : ان پہاڑوں کی وجہ سیز میں اپنے مرکز پر قائم ہے اپنے مدار پر گردش کر رہی ہے اور اس سے ادھر ادھر نہیں ہٹتی۔

فجاجا : دو پہاڑوں کے درمیان جو گھاٹی یا راستہ ہوتا ہے اس کو فج کہتے ہیں، اس کا استعمال کشادہ راستہ کے لئے ہوتا ہے۔

لعلھم یھتدون : تاکہ وہ اپنی مصلحت کی چیزوں، سفر میں اپنے مقاصد اور کھیتی باڑی میں کام آنے اولی چیزوں کی طرف راہ پاسکیں۔

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ زمین کے اوپر بڑے بڑے اور اونچے اونچے پہاڑ پیدا کئے ات کہ ان کے بوجھ کی وج سے زمین اپنی جگہ پر قائم اور برقرار رہے اور لوگوں کے چلنے کی وجہ سے اس میں جنبش اور اضطراب نہ ہو اور وہ اپنے مرکز سے ہٹ نہ سکے۔

زمین اپنی پر بھی گردش کرتی ہے اور سورج کے گرد بھی گردش کرتی ہے، سائنس دان کہتے ہیں پہلے زمین آگ کا ایک گولہ تھی پھر یہ ٹھنڈی ہوگئی پھر یہ سخت جامد ہوگئی اور برسہا برس تک اسی طرح رہی۔

اس کائنات کی پیدائش کے متعلق سائنس کی تحقیق 

(١) تمام آسمان اور کائناتیں زمین کے ساتھ جڑی ہوئی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے انتہائی خوش اسلوب طریقے سے آسمانوں اور زمین کو ایک دور سے سے علیحدہ کردیا۔

(٢) کائناتیں (Heavens) جنہیں جنتیں بھی کہا جاتا ہے اور جو آسمان کے مخصوص حصے ہیں ایک کے بعد ایک تہہ در تہہ موجود ہیں۔ یہ ایک بےپناہ کھچائو (تنائو) یا ممکنہ اختلاف (Potential Difference) سے وجود میں لائی گئی ہیں۔ مگر یہی مضبوط نظام یا تنائو ہی ہے جس کی وجہ سے یہ کائناتیں اپنی جگہ موجود اور قائم ہیں۔ اس تنائو کو اللہ تعالیٰ کی قدرت نے ہی خلائی وقت کے تسلسل میں برقرار رکھ کر قائم کیا ہوا ہے۔

ان آیات کریمہ سے متعلق دیگر حقائق اب ذیل میں بیان کئے جائیں گے۔ ہم مزید مطالعہ کے ذریعہ یہ بھی دیکھیں گے کہ ایک دھماکے سے الگ کرنے کا عمل، کہ جس کے ذریعے یہ کائنات تشکیل پذیر ہوئی یا موجودہ صورت میں وجود میں آئی دراصل اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ اس سلسلے میں صرف ایک ہی تنائو (Tension) یا نظم نہیں، بلکہ مزید کئی تنائو یا نظام بھی ہیں۔

(الف) کئی عشروں کے غور و خوض اور تحقیقات کے بعد ماہرین علم طبیعات اور کائناتی فزکس کے ماہرین نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ کائنات کی تشکیل کو سب سے بہتر طور پر صرف ” عظیم دھماکہ “ (Big-Bang Theory) کے نظریے نے وہی بیان کیا ہے۔ یہ نظریہ دو سائنس دانوں مارٹن رائیل اور ایلن سینڈیج نے دنیا کے سامنے پیش کیا تھا۔ اس نظریئے کی رو سے کائنات ایک ناقابل یقین کثیف دھوئیں دار نکتے یا مقام سے پھٹ کر وجود میں آگئی۔ اس مقام یا نکتہ کو اکائی (Singularity) کا نام دیا گیا۔ کائنات کی تشکیل کے پہلے مرحلہ میں یہ اکائی یا ” سنگولیرٹی “ اتنی شدید گرم ابتدائی آگ کے گولے کی صورت میں پھیل گی اور اس کا درجہ حرارت تقریباً ایک سو ارب ڈگری کیلون (Kelvin) تک تھا۔ اس کے گاڑھے شوربے جیسے وجود سے اس وقت تک پروٹون (Proton) اور نیوٹرون (Interactions) برآمد ہوئے تھے۔ تب اس گاڑھے شوربہ جیسی چیزیں یعنی مادہ اور توانائی متواتر ایک دور سے میں تحلیل ہو رہے تھے اور چاروں اندرونی باہمی عمل (Interactions) سے علیحدہ شکل میں الگ ہوئی اور اس کے بعد طاقت ور اور کمزور برقی کشش کے مخالف باہمی عمل (Electromagnetic Interaction) خود اسی میں ترتیب سے پیدا ہوئے۔ آسمانوں اور زمین کا دھماکے سے علیحدہ ہونا (فتق) وقوع پذیر ہوا اور ترتیب کے ٹوٹ جانے اور ابتدائی ترتیب دیئے گئے مخالف باہمی عمل (symmetrical Interactions) کے علیحدہ (چاک) ہونے کی وجہ سے فزکس کے علم کے چار جانے پہچانے ” مخالف باہمی عمل “ پیدا ہوئے دور سے لفظوں میں نہ صرف ابتدائی اکائی کائنات سے ٹوٹ کر علیحدہ ہوئی بلکہ اس کے قوانین کی علیحدہ پہچان بھی اسی قسم کے عمل کی وجہ سے ظاہر ہوئی۔

پھر اللہ نے اپنی بےپناہ اور لامحدود شان کے طفل کائنات کو ایک نکتے یا مقام سے پوری طرح پھیلا دیا۔ جس کھچائو یا تنائو کے ذریعے یہ عمل وقوع پذیر ہوا وہ سورة شوریٰ کی آیت نمبر پانچ میں بیان کیا گیا ہے۔ اللہ نے آسمانوں کو ترتیب دیا پھر اس تنائو کے ذریعے زمین کو قائم کیا اس طرح موجودہ نظر آنے والی کائنات اور اس کے قوانین کو پیدا اور جاری کیا۔

اس سلسلے میں ایک اور اہم نکتہ آسمانوں اور زمین کے ابتدائی ملاپ یا یکجان ہونے سے متعلق ہے جو سورة الانبیاء کی آیت نمبرتین میں بیان کیا گیا ہے۔ مشہرو سائنسدان آئن سٹائن کا شہرہ آفاقن ظریہ یعنی نظریہ اضافیت (Theory Of Relativity) اس بات کا ثبوت فراہم کرتا ہے کہ مادہ اور توانائی ایک موقع پر ایک ہی چیز تھیں۔ مادہ بجائے خود توانائی کی تکثیفی (Condensed) صورت ہے۔ اور توانائی اپنی جگہ ایک آزاد شدہ مادہ ہے۔ وہ یہ ثابت کرنے میں بھی کامیاب ہوگیا کہ آسمانی کرہ اور وقت ایک دوسرے سے الگ نہیں کئے جاسکتے۔ یہ دونوں ایک خلا (کرہ آسمان) اور وقت کے تسلسل میں بندھے ہوئے ہیں۔ مزید برآں اس کی دریافتوں نے بھی بتایا کہ کشش ثقل اور اسی لئے حجم بھی اس تسلسل میں محض ایک خم (Curvature) ہے۔ دوسرے لفظوں میں مادہ کی تشکیل خلائی وقت کے تسلسل کو موڑ نے یا اس تسلسل میں محض ایک خم (Curvatiure) ہے۔ دوسرے لفظوں میں مادہ کی تشکیل خلائی وقت کے تسلسل کو موڑنے یا جھکانے سے ہوئی۔ اس عمل کے ہونے میں ایک ایسے تنائو کا کھچائو کو دخل ہے، جس نے درحقیقت آسمانوں اور زمین کو دھماکے سے الگ ” فتق “ کردیا۔

(ب) اب جبکہ کائنات وجود میں آگئی تو یہ اسی تنائو کی مدد سے قائم رہی ہے جو اس کے وجود میں آنے کے سلسلہ میں مددگار ہوا تھا۔ ایک طریقے سے یہ تنائو بطور خود بھی اپنی طرف کھچائو یا ملانیت (Attraction) اور دور کرنے یا پھینکنے (Repulsion) کے باہمی عمل سے ظاہر اور ثابت ہوتا ہے۔ بجلی کے معاملے میں یہ ایک مانی ہوئی حقیقت ہے کہ مخالف چارج ایک دوسرے کو اپنی طرف کھینچتے ہیں اور ایک ہی قسم کے چارج ایک دوسرے کو دور دھکیلتے ہیں۔ یہ ایسی حقیقت ہے جس کے توسط سے جو ہر (ایٹم) اور دیگر مادہ کی موجودگی ثابت ہوتی ہے۔ مزید برآں کشش ثقل کی تمام قوت اس مرکز گریز قوت کی مدد سے توازن پذیر ہے جسے لوکس (Locus) کہتے ہیں۔ جو سیاروں اور ستاروں کے نظام کو قائم رکھتی ہے۔ چناچہ ہر چیز کی بقاء، یعنی چھوٹے سے چھوٹے جوہر (ایٹم) سے لے کر ستاروں کے نظام تک کی بقا کی ضمانت بھی اسی تنائو یا کھچائو کے ذریعے مہیا کردی گئی ہے۔

جہاں اللہ تعالیٰ نے سورة کے شروع میں اپنی قدرت کاملہ کے ذریعے کائنات کی مادی اور ریاضیاتی تشکیل کا اعلان کیا ہے اس کے فوراً بعد کے بیان میں ہی اللہ کے رحیم اور مہربان ہونے کی خصوصیت بیان کی گی ہے۔ اللہ کا رحم سے دیکھنا، اس کی تمام مخلوق اور پوریکائنات پر کمال مہربانی کا اظہار ہے۔ اس رحم اور مہربانی کی خصوصیات میں، ان تمام کے لئے اللہ کی شفقت، حفاظت اور پناہ کا تصور موجود ہے۔

ثقل کی قوت جس سے تمام چیزیں ایک دوسرے کو اپنی طرف کھینچتی ہیں، اللہ کی پاک شفقت کی نشانی کا اظہار ہے۔ دوسری طرف تمام چیزوں کا چکر کی صورت میں گھومنا یعنی موشن (Rotational Motion0 ہے، جو چاہے وہ سورج کے گرد گھومنے والے ستاروں ہوں یا ایک نوات یعنی مرکزہ (Nucleus) کے گرد گھومنے والے الیکٹرون ہوں، کائنات میں پودے مادے کو کائنتا میں کشش ثقل کی قوت کے ذریعے مرتکز یا یکجان ہو کر فنا ہوجانے کے عمل سے رو کے ہوئے ہے۔ اور یہ گھومنے والی حرکت اس کے سوا کچھ نہیں کہ یہ تمام موجودات اپنے رب کی شان اور عظمت بیان کرتی ہیں۔ اس کا شکریہ ادا کرتی ہیں اور اس کی تعریف کی تسبیح کرتی ہیں۔ چناچہ مادی کائنات میں اللہ کی شفقت اور محبت کا ایک اظہار کشش ثقل کی قوت کی موجودگی ہے جبکہ اس کا رحم اور ترس کا عمل اس کی پیدا کردہ چھوٹی سے چھوٹی کائنات (Microcosmos) اور بڑی سے بڑی کائنات (macrocosmos) میں موجود گھومتی ہوئی رفتار (روٹیشنل موشن) میں نظر آتا ہے۔

(ج) جیسا کہ نظریہ اضافیت کے متعلق اوپر اشارہ کیا گیا تھا، خالی جگہ یا کرہ بالکل خلا (یاویکو وم) نہیں ہوتا۔ بلکہ اسے جدید فزکس میں پلینم (Plenum) کہا جاتا ہے۔ سائنس دان ہائزن برگ کے ’ اصول غیر یقینی کے نظریئے “ کے مطابق خالی جگہ یا خلا وقت کے اندر گھٹتا بھڑتا یا ڈگمگاتا رہتا ہے۔ ہائزن برگ کے بیان کردہ اس اصول کے تناظر میں جو حدود اور توانائی کی واضح اکائیوں کو انٹا کو غیر وجود سے وجود میں لایا جاسکتا ہے اور اس سے پہلے کہ وہ محفوظ ہوجائیں یا وجود غائب ہوجاتا ہے۔ وہ مجازی ذرہ (Virtual Particle) کہلاتا ہے۔ دوسری طرف اگر ان بھوتوں کی خصلت والے ذروں تک مناسب مقدار میں توانائی پہنچا دی جائے تو ان کو فعل میں لایا جاسکتا ہے یعنی ان میں جان ڈالی جاسکتی ہے محض کو انٹا سے وجود میں لانے کے عمل کا تو اب سائنسی لیبارٹریوں میں بھی مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ 

مشہور سائنسدان ڈیراک کے ابتدائی نظریہ خالی سمندر ویکیوم سی (Vacum Sea) کا خیال، جس میں ایک غائب ذرے (Antiparticle) کو ایک ذرے کا چھوڑا ہوا شگاف سمجھا جاتا ہے قرآن میں بتائے گئے، ” فتق “ کی صاف جو دور سے ایک ہی جیسی اور بغیر کسی کونے کے نظر آئے جبکہ اگر مائیکرو سکوپ سے دیکھا جائے تو وہ ذروں کے اور غیر ذروں (antiparticles) کے ابلتے ہوئے تیز چکر کھاتے ہوئے ایک سمندر کی طرف اسی ہی لمحے جوڑوں میں بننے والے غیر ذروں کی صورت اختیار کر کے ایک دم سے فنا ہوجاتے ہیں۔ یہ ناقابل یقین خیال اس وقت مادی طور پر ثابت کیا گیا جب سانسدان ولس لیمب نے اس حقیقت کو دریفات کیا جسے آج کل فزکس میں لیمب شفٹ (Lamb Shift) کہا جاتا ہے۔ 

لیمب، ہائیڈروجن جواہر (ایٹموں) کی بھوت یا روح کی طرف سیم ختصر تبدیلی مکان (Shift) کی پیمائش حاصل کرنے کے قابل ہوگیا تھا۔ یہ بھی ظاہر ہوا کہ اس تبدیلی مکان (شفٹ) کا عمل مجازی ذروں کے جوڑوں کی مرکزہ اور منفی برقی پارہ صالیکرٹون) کے درمیانی خالی مقام یا خلا میں مسلسل پیدائش اور مسلسل فنا ہوجانے کے عمل کی وجہ سے تھا۔ وہ برقی میدان جو منفی برقی پارہ (الیکٹرون) کے درمیانی خالی مقام یا خلا میں مسلسل پیدائش اور مسلسل فنا ہوجانے کے عمل کی وجہ سے تھا۔ وہ برقی میدان جو منفی (الیکٹرون) کے درمیانی خالی مقام یا خلا میں مسلسل پیدائش اور مسلسل فنا ہوجانے کے عمل کی وجہ سے تھا۔ وہ برقی میدان جو منفی برقی پارہ (الیکٹرون) کو مدار میں باندھے رکھتا ہے کبھی کبھی خالی جگہ (ویکوم) کے سمندر سے منفی برقی پارہ اور مثبت برقی پارہ (یعنی الیکٹرون اور پوزی ٹران) کا جوڑا بناتا ہے اور پھر فوراً ہی یہ جوڑا فنا ہوجاتا ہے۔ یہ عمل جسے ویکوم پولارائیزیشن (Vacum Pola-risation) کہتے ہیں اتنے عرصے کے لئے باقی رہتا ہے جس میں وہ منفی برقی پارہ (الیکٹرون) کی مدار میں چکر کھاتی ہوئی توانائی میں تبدیلی مکان (شفٹ) پیدا کر دے۔ اس طرح یہ برقی میدان کے تنائو (ٹینشن) کا وجود ہی ہے کہ جو اس صورت میں مجازی ذروں کے جوڑوں کو اپنی طرف کھینچ کر قائم رکھتا ہے۔

آسمانی طبیعات کے عجیب و غریب سیاہ شگافوں (Black Holes) کے ضمن میں انگریز ماہر طبیعات اسٹیفن باکنگ نے دریافت کیا کہ سیاہ شگاف غیر مستحکم ہوتا ہے اور اشعاع (Radiation) کے بالواسطہ اخراج کا ذریعہ بنتا ہے۔ سیاہ شگاف کے واقعاتی دائرہ افق کے نزدیک شدید ثقلی میدان، مجازی ذروں کے جوڑوں کی پیدائش کا سبب بنتے ہیں اور ان کا فنا ہوجانا برقی مقناطیسی اشعاع (Electromagnetic Radiation) کے نکلنے کی وجہ سے ہے۔ ان کا نظر آجانا ممکن ہے اور ان کا بالواسطہ مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ موجودہ زیر مطالعہ مسئلہ میں یہ ثقلی میدان کا شدید کھچائو تنائو ہی ہے جس کی وجہ سے خالی جگہ یعنی ویکوم کے تقسیم ہوجانے کے عمل سے مادہ اور توانائی کی تشکیل ہوتی ہے۔ یونیورسٹی آف نیوکاسل کے ماہر طبیعات پال ڈیویز نے اپنی تازہ کتاب جس کا نام ” خدا اور نئی طبیعات “ (Cod and New Physics) ہے، میں کہا ہے کہ آزاد خلا (ویکوم) یا بالکل نہ ہونے سے ہوجانے کی صورت، اللہ کی دخل اندازی (مرضی) کے بغیر ناممکن ہے۔

اوپر بیان کئے گئے حقائق کی روشنی میں، میں یہ بھی تجویز کرنا چاہوں گا کہ برقی اور ثقلی میدانوں کے علاوہ ایک شدید مقناطیسی میدان کا تنائو بھی ذروں کے اچانک وجود میں آجانے کا باعث ہوسکتا ہے۔ یہی وہ میدان ہے جو کائنات کے ہر مقام پر موجود ہے۔ جو آخرالذکر کے لئے حکم کرتا ہے اس کی شکل و صورت کی تشکیل کرتا ہے۔ اس کی پرت پر پرت جماتا ہے اور اس کو قائم رکھتا ہے، جیسا کہ ہم آئندہ موضوع میں دیکھیں گے۔ میرے ذہن میں جو بات ہے وہ تو بطور خاص آسمان کے طبقوں سے منطق ہے۔ دوسرے لفظوں میں سات آسمان اسی میدانی تنائو کا سہارا لئے ہوئے قائم ہیں۔

(١) سیاہ شگاف وہ نکتے یا مقام ہیں جن کے متعلق سورة الشوریٰ آیت نمبر پانچ اور سورة الانبیاء آیت نمبر تیس میں اس تنائو کی نشاندہی اور اصلیت کو ثابت کرتی ہے۔ کشش ثقل کا میدان اس طرح مرکوز ہے اور ہر مقام پر اس کثرت سے موجود ہے کہ اس سے بچ کر نکل جانا ناممکن ہوجاتا ہے ایک کم خطرناک مگر زیادہ خوش کن سطح پر پروٹونز اور الیکٹرونز اس مقناطیسی آندھی میں بہے جاتے ہیں جو سورج پر برپا (شمسی آندھی) ہے۔ زمین پر پہنچنے پر یہ ایک حیرن کن خوبصورت انداز میں قطبین پر چکر کھاتے ہوئے اترتے ہیں۔ اس عجوبے کو ” اردو ابوریلس “ (Aurora borealis) کہتے ہیں چناچہ اس عجوبے کی ابتدا اور اس کا اختتام مقناطیسی میدانوں کے تنائو میں ہی مضمر ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 31