أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَعۡلَمُ مَا بَيۡنَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡ وَ لَا يَشۡفَعُوۡنَۙ اِلَّا لِمَنِ ارۡتَضٰى وَهُمۡ مِّنۡ خَشۡيَـتِهٖ مُشۡفِقُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور کچھ ان کے پیچھے ہے اور وہ اسی کی شفاعت کریں گے جس کی شفاعت سے وہ راضی ہو اور وہ اس کی ہیبت سے لرزہ براندام ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے اور وہ اسی کی شفاعت کریں گے جس کی شفاعت سے وہ راضی ہو اور وہ اس کی ہیبت سے لرزہ براندام ہیں اور ان میں سے جس نے یہ کہا کہ میں اللہ کے سوا عبادت کا مستحق ہیں تو اس کو ہم دوزخ کی سزا دیں گے اور ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں (الانبیاء :28-29)

وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہیں،

حضرت ابن عباس نے اس کی تفسیر میں فرمایا وہ ان کے پہلے کئے ہوئے اعمال کو بھی جانتا ہے اور ان کے بعد کے کئے ہوئے اعمال کو بھی جانتا ہے، اور ایک قول یہ ہے کہ وہ ان کی دنیا کے احوال کو بھی جانتا ہے اور ان کی آخرت کے احوال کو بھی جانتا ہے،

مقاتل نے کہا اس کا معنی یہ ہے کہ وہ جانتا ہے کہ ان کی تخلیق سے پہلے کیا تھا اور ان کی تخلیق کے بعد کیا ہوگا

اور حقیقت میں اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کو محیط ہے اور وہ اس کے ملک اور اس کی سلطنت میں اس کے محکوم ہیں اور جب ان کی یہ کیفیت ہے تو وہ لوگوں کی عبادت کے کس طرح مستحق ہوں گے وہ تو خود اللہ تعالیٰ کے حاکام کے آگے ہاتھ باندھے غلام ہیں اور جب وہ اس کے سامنے لب کشائی نہیں کرسکتے تو وہ اس کی اجازت کے بغیر اس سے کسی کی شفاعت کیونکر کرسکتے ہیں ! اس معنی کی وضاحت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور وہ اسی کی شفاعت کریں گے جس کی شفاعت سے وہ راضی ہو اور وہ اس کی ہیبت سے لرزہ براندام ہیں۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں، اس کی نظیر یہ آیت ہے :

(النباء :38) جس دن جبریل اور فرشتے صف باندھے کھڑے ہوں گے اور جس دن وہی شفاعت کریں گے جن کو رحمٰن اجازت دے گا اور وہ درس بات کہیں گے۔

پھر فرمایا : اور ان میں سے جس نے یہ کہا کہ میں اللہ کے سوا عبادت کا مستحق ہوں تو اس کو ہم دوزخ کی سزا دیں گے۔ 

امام محمد بن جریر طبری متوفی 310 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

ابن جریج نے اس کی تفسیر میں کہا کہ فرشتوں میں سے جس نے یہ کہا، اور ابلیس کے وسا کسی نے یہ نہیں کہا تھا اس نے لوگوں کو اپنی عبادت اور اطاعت کی دعوت دی تھی سو یہ آیت ابلیس کے متعلق نازل ہوئی ہے۔

قتادہ نے کہا خصوصیت کے ساتھ یہ آیت اللہ کے دشمن ابلیس کے متعلق نازل ہوئی ہے جب اس لعین نے وہ کہا جو اس نے کہا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو مردود قرار دے دیا تھا۔ (جامع الباین جز ١١ ص 24، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1415 ھ)

فرشتوں کا مکلف ہونا 

علامہ ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ قرطبی مالکی متوفی 668 ھ لکھتے ہیں :

اس آیت سے ابلیس مراد ہے، کیونکہ اس نے اللہ کا شریک ہونے کا دعویٰ کیا اور لوگوں کو اپنی عبادت کرنے کی دعوت دی اور وہ فرشتوں میں سے تھا (حقیقت میں وہ جنات میں سے تھا لیکن چونکہ وہ فرشتوں کے ساتھ رہتا تھا اس لئے حکماً ان ہی میں سے تھا) اور فرشتوں میں سے کسی نے یہ نہیں کہا تھا کہ وہ اللہ کے سوا معبود ہے، اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ فرشتے معصوم ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں اور فرشتے مجبوراً اللہ تعالیٰ کی عبادت نہیں کرتے جیسا کہ بعض جاہلوں کا گمان ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن ج ١ ١ ص 191، مطبوعہ دارالفکر بیروت 1415 ھ)

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606 ھ لکھتے ہیں :

یہ آیت تین چیزوں پر دلالت کرتی ہے : (١) یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ فرشتے مکلف ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وہ کسی بات میں اس پر سبقت نہیں کرتے اور وہ اس کے حکم پر ہی عمل کرتے ہیں (الانبیاء :27) اور فرمایا وہ اس کے خوف سے لرزہ براندام ہیں (الانبیاء :28) اس میں ان کو وعید سنائی ہے، (٢) یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ فرشتے معصوم ہیں، کیونکہ فرمایا وہ اس کے حکم پر ہی عمل کرتے ہیں (٣) اس آیت میں وعید کا عموم ہے کیونکہ فرمایا ہم اسی طرح ظالموں کو سزا دیتے ہیں لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ گناہگار مسلمانوں کو اپنے فضل سے معاف فرما دے گا، اس لئے اس آیت میں ظالم سے مراد کافر ہیں۔ ) تفسیر کبیرج ٨ ص 136، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، 1415 ھ)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تمام فرشتوں اور نبیوں پر فضیلت 

امام ابوبکر احمد بن حسین بیہقی متوفی 458 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا بیشک اللہ عزوجل نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تمام آسمان والوں پر بھی فضیلت دی ہے اور تمام انبیاء پر بھی فضیلت دی ہے، لوگوں نے کہا اے ابن عباس ! ہمارے نبی کی آسمان والوں والوں پر کیا فضیلت ہے ! حضرت ابن عباس نے کہا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان والوں سے فرمایا :

(الانبیاء :29) ان میں سے جس نے یہ کہا کہ میں اللہ کے سوا عبادت کا مستحق ہوں، تو اس کو ہم دوزخ کی سزا دیں گے اور ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دییت ہیں۔

(الفتح :1-2) (اے نبی مکرم ! ) بیشک ہم نے آپ کو روشن فتح عطا فرمائی تاکہ اللہ آپ کے تمام اگلے اور پچھلے بہ ظاہر خلاف اولیٰ کام معاف فرما دے۔

لوگوں نے کہا اے ابن عباس ! ہمارے نبی کی دیگر انبیاء پر کیا فضیلت ہے ؟ حضرت ابن عباس نے کہا اللہ فرماتا ہے :

(ابراہیم : ٤) ہم نے ہر رسول کو اس کی قوم کی زبان میں بھیجا۔

اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

وما ارسلنک الا کافۃ للناس (سبا 28) ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لئے ہی رسول بنایا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام جن اور انس کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔ (دلائل النبوۃ ج ٥ ص 486-487 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، 1410 ھ 

مرتکب کبیرہ کے لئے شفاعت کا جواز 

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا ہے : اور وہ (فرشتے) اس کی شفاعت کریں گے جس کی شفاعت سے وہ راضی ہوگا۔ (الانبیاء :28)

معتزلہ نے اس آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہ کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لئے شفاعت نہیں ہوگی کیونکہ اہل کبائر کے متعلق یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے امام فخر الدین رازی متوفی 606 ھ ان کے رد میں فرماتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) اور ضحاک نے لمن ارتضیٰ (جس سے اللہ راضی ہو) کی تفسیر میں کہا ہے یعنی جس نے لا الہ الا اللہ کہا ہو۔

یہ آیت اہل کبائر کے لئے شفاعت کو ثابت کرنے کے لئے ہماری انتہائی قوی دلیل ہے، اور اس کی تقریر اس طرح ہے کہ جس شخص نے لا الہ الا اللہ کہا اس سے اللہ تعالیٰ راضی ہوگیا اور جس سے اللہ تعالیٰ راضی ہوگیا وہ اس آیت کے عموم میں داخل ہوگیا اور اس کے لئے فرشتوں کی شفاعت جائز ہوگی، اسی طرح اس کے لئے نبیوں اور دیگر مقربین کی شفاعت بھی جائز ہوگئی۔ (تفسیر کبیرج ٨ ص 135-136 مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت 1415 ھ)

علامہ ابو عبداللہ قرطبی مالکی متوفی 668 ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

حضرت ابن عباس نے فرمایا یہ وہ مسلمان ہیں جنہوں نے لا الہ الا اللہ کی شہادت دی ہو، مجاہد نے کہا اس سے مراد ہر وہ مسلمان ہے جس سے اللہ راضی ہو اور فرشتے کل آخرت میں بھی شفاعت کریں گے اور دنیا میں بھی، کیونکہ وہ مومنین کے لئے استغفار کرتے ہیں اور زمین والوں کے لئے بھی جیسا کہ قرآن مجید میں اس کی تصریح ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ١ ۃ ص 190-191، مطبوعہ دارالفکر بیروت 1415 ھ)

علامہ آلوسی نے بھی اس آیت سے اہل کبائر کے لئے شفاعت کے جواز پر استدلال کیا ہے اور حضرت ابن عباس کی روایت سے ثابت کیا ہے کہ لا الہ الا اللہ کہنے والوں سے اللہ تعالیٰ راضی ہے، علامہ ابوالحیان اندلسی نے بھی حضرت ابن عباس کی روایت سے استدلال کیا ہے۔ (روح المعانی جز ١٧ ص 49، دارالفکر، 1417، البحر المحیط ج ٧ ص 423، دارالفکر، 1412 ھ)

مسئلہ شفاعت میں سید مودودی کی تفسیر پر تبصرہ 

سید ابوالاعلیٰ مودودی متوفی 1399 ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

خواہ فرشتے ہوں یا انبیاء و صالحین ہر ایک کا اختیار شفاعت لازما ً اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو کسی کے حق میں شفاعت کی اجازت دے بطور خود ہر کس و ناکس کی شفاعت کردینے کا کوئی بھی مجاز نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن ج ٣ ص 156، مطبوعہ لاہور، 1983 ء)

سید ابوالاعلی نے یہ صحیح نہیں لکھا، ہر فرد کی شفاعت کرنے کے لئے خصوصی اجازت لینی ضروری نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شفاعت کرنے کے جواز کا عام قاعدہ بیان فرما دیا ہے، کہ کفار اور مشرکین کے لئے شفاعت نہیں کی جائے گی اور گناہگار مسلمانوں کے لئے شفاعت کرنے کی عام اجازت دی ہے بلکہ ان کی شفاعت کرنے کا حکم دیا ہے، شفاعت تو مغفرت کے حصول کی دعا ہے اور استغفار ہے اور کسی کے لئے استغفار کرنے کے لئے اس کے لئے خصوصی اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ گناہگار مسلمانوں کے لئے استغفار کرا، اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کرنا ہے۔ اظہار بندگی ہے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے قرآن مجید میں متعدد جگہ جو اس پر زور دیا ہے کہ اللہ کی اجازت اور اس کے اذن کے بغیر کوئی کسی کے لئے اللہ تعالیٰ کی جناب میں ان کی شفاعت کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد فرمایا ہے اللہ تعالیٰ کے حضور اس کے اذن کے بغیر کوئی شفاعت نہیں کرسکتا اور اللہ تعالیٰ نے بتوں کو شفاعت کرنے کیا اجازت نہیں دی اس کو انبیاء اور اولیاء پر چسپاں کرنا جیسا کہ سید ابوالاعلیٰ مودودی نے کیا ہے نہ صرف غلط ہے بلکہ انبیاء (علیہم السلام) کی سخت بےادبی ہے، خوارج کفار کے متعلق نازل ہونے والی آیات کو مسلمانوں پر چسپاں کرتے تھے۔ حضرت ابن عمران کو بدترین مخلوق کہتے تھے اور فرماتے تھے کہ جو آیات کفار کے متعلق نازل ہوئی ہیں انہوں نے ان کو مومنوں پر چسپاں کردیا۔ (صحیح البخاری کتاب استتابتہ المرتدین، باب قتل الخوارج و الملحدین : ٦)

سید مودودی نے کفار کی آیات کو انبیاء اور اولیاء پر چسپاں کردیا۔

کفار اور مشرکین کے لئے استغفار اور شفاعت کا عدم جواز اور مسلمانوں کے لئے شفاعت کا جواز 

ہم نے یہ کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کفار اور مشرکین کے لئے استغفار اور شفاعت کرنے سے منع فرمایا ہے اس کی دلیل یہ آیت ہے :

ما کان للنبی والذین امنوآ ان یستغفروا للمشرکین (التوبہ :113) نبی اور مومنین کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ مشرکین کے لئے استغفار اور شفاعت کریں۔

اور مسلمانوں کے لئے استغفار کرنے کے حکم کی دلیل یہ آیت ہے :

واستغفر لذنبک وللمومنین والمومنت (محمد :19) اور آپ اپنے بظاہر خلاف اولیٰ کاموں کے لئے استغفار کریں اور ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کے گناہوں کے لئے مغفرت طلب کریں۔

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بغیر شفاعت کا اذن طلب کئے ہوئے اپنے والدین اور عام مومنوں کے لئے استغفار کیا اور شفاعت کی۔

ربنا اغفرلی ولوالدی وللمومنین یوم یقوم الحساب (ابراہیم :41) اے ہمارے رب ! میری مغفرت کر اور میرے والدین کی اور مومنوں کی جس دن حساب قائم ہو۔

نیز بغیر طلب اذن کے اہل کبائر کے لئے شفاعت کی :

فمن یعنی فانہ منی ومن عصانی فانک غفور رحیم (ابراہیم :36) سو جس نے میری پیروی کی وہ میرا ہے اور جس نے میری نافرمانی کی تو بیشک تو بہت بخشنے والا ہے بےحد مہربان ہے۔

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے گناہ گار مسلمانوں کے لئے بغیر طلب اذن کے شفاعت کی :

ان تعدبھم فانھم عبادک وان تغفرلھم فانک انت العزیز الحکیم (المائدہ :118) اگر تو ان کو سزا دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو ان کو معاف فرما دے تو تو زبردست ہے، بہت حکمت والا ہے۔

فرشتے بغیر طلب اذن کے اللہ سے مومنین کے لئے شفاعت کرتے ہیں :

(المومن :7) حاملین عرش اور جو اس کے نزدیک (فرشتے) ہیں اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں اور اس پر ایمان لاتے ہیں اور مومنوں کے لئے استغفار کرتے ہیں اور یہ دعا کرتے ہیں اے ہمارے رب ! تیری رحمت اور تیرا علم ہر چیز کو شامل اور محیط ہے، جن لوگوں نے توبہ کی ہے اور تیرے راستہ کی اتباع کی ہے ان کو معاف فرما اور ان کو دوزخ کے عذاب سے بچالے۔

(الشوریٰ : ٥) اور فرشتے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور زمین والوں کے لئے استغفار کرتے ہیں۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا فرشتے تمہارے لئے اس وقت تک استغفار کرتے رہتے ہیں جب تک کہ تم اپنی نماز کی جگہ بیٹھے رہو جب تک تم بےوضو نہ ہو فرشتے دعا کرتے ہیں، اے اللہ اس کو معاف فرما، اے اللہ ! اس پر رحم فرما۔ (صحیح البخاری رقم الدیث :659، 647، مسند احمد رقم الدیث :9363)

اسی طرح قرآن مجید میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مسلمانوں کے لئے استغفار کرنے کا ذکر ہے اور یہ ذکر نہیں ہے کہ آپ نے اس سے پہلے گناہ گار مسلمانوں کے لئے شفاعت کرنے کی خصوصیت سے اجازت طلب کی، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

(النساء :64) اور جب یہ اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے تھے تو یہ آپ کے پاس آجاتے پھر اللہ سے مغفرت طلب کرتے اور رسول بھی ان کے لئے استغفار کرتے تو یہ ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا ہے۔ بےحد رحم فرمانے والا پاتے۔

حافظ عماد الدین اسماعیل بن عمربن کثیر متوفی 774 ھ لکھتے ہیں :

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں عاصیوں اور گناہگاروں کو یہ ہدایت دی ہے کہ جب ان سے خطا اور گناہ ہوجائے تو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئیں اور آپ کے پاس آ کر استغفار کریں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ درخواست کریں کہ آپ بھی ان کے لئے اللہ سے درخواست کریں اور جبوہ ایسا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرمائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وہ ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا اور بہت مہربان پائیں گے، مفسرین کی ایک جماعت نے ذکر کیا ہے ان میں شیخ ابومنصور الصباغ بھی ہیں، انہوں نے اپنی کتاب الشامل میں عتبی کی یہ مشہور حکایت لکھی ہے کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر پر بیٹھا ہوا تھا کہ ایک اعرابی نے آ کر کہا السلام علیک یا رسول اللہ اللہ، میں نے اللہ عزوجل کا یہ ارشاد سنا ہے، لوانھم اذظلموا انفسھم جاءوک ۔ الایہ اور میں آپ کے پاس آگیا ہوں اور اپنے گناہ پر اللہ سے استغفار کرتا ہوں اور اپنے رب کی بارگاہ میں آپ سے شفاعت طلب کرنے والا ہں، پھر اس نے دو شعر پڑھے :

جو زمین کے مدفونین میں سب سے بہتر ہیں جن کی خوشبو سے زمین اور ٹیلے خوشبو دار ہو گئے 

میری جان اس قبر پر فدا ہو جس میں آپ ساکن ہیں اس میں عفو ہے اس میں سخاوت ہے اور لطف و کرم ہے 

پھر وہ اعرابی چلا گیا عتبی بیان کرتے ہیں کہ مجھ پر نیند غالب آگئی میں نے خواب میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زیارت کی اور آپ نے فرمایا : اے عتبی ! اس اعرابی کے پاس جا کر اس کو خشوبخری دو کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی مغفرت کردی۔

(تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص 328-329، الجامع لاحکام القرآن ج ٥ ص 265 البحر المحیط ج ٣ ص 694 مدارک التنزیل علی ہامش الخازن ج ١ ص 399)

مفتی محمد شفیع متوفی 1396 ھ لکھتے ہیں :

یہ آت اگرچہ خاص واقعہ منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہے، لیکن اس کے الفاظ سے ایک عام ضابطہ نکل آیا کہ جو شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوجائے اور آپ اس کے لئے دعائے مغفرت کردیں اس کی مغفرت ضرور ہوجائے گی اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضری جیسے آپ کی دنیا حیات کے زمانہ میں ہوسکتی تھی اسی طرح آج بھی روضہ اقدس پر حضاری اسی حکم میں ہے۔ (اس کے بعد مفتی صاحب نے بھی عتبی کی مذکور الصدر حکایت بیان کی ہے ) ۔ معارف القرآن ج ٢ ص 459-460 مطبوعہ ادارۃ المعارف کراچی)

اس آیت کی تفسیر میں کسی مفسر نے بھی یہ نہیں لکھا کہ جب گناہگار مسلمان آپ سے شفاعت کی درخواست کریں تو آپ ان کے لئے مغفرت کی دعا کرنے اور ان کی شفاعت کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ سے اس کی اجازت طلب کریں۔

قرآن مجید میں یہ بھی ذکر ہے کہ مسلمانوں نے اپنے فوت شدہ مسلمان بھائیوں کے لئے مغفرت کی دعا اور ان کی شفاعت کی اور یہ ذکر نہیں ہے کہ انہوں نے اس سے پہلے اللہ سے اس شفاعت کی خصوصی اجازت طلب کی، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

(الحشر :10) اور جو مسلمان ان کے بعد (ہجرت کر کے) آئے وہ کہتے تھے کہ اے ہمارے رب ہماری مغفرت فرما اور ہمارے ان بھائیوں کی بھی مغفرت فرما جو ہم سے پہلے ایمان لا چکے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

من ذالذی یشفع عندہ الا باذنہ۔ کون ہے جو اس کے اذن (البقرہ :255) کے بغیر اس کی بارگاہ میں شفاعت کرے ؟

امام ابوجعفر محمد بن جریرطبری متوفی 310 ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

جب اللہ اپنے مملکوں کو سزا دینے کا ارادہ کرے تو کون ہے جو ان کو اللہ کی اجازت کے بغیر اس سے چھڑا سکے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ اس لئے فرمایا ہے کہ مشرکین نے یہ کہا تھا کہ ہم بتوں کی اس لئے عبادت کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے قریب کردیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تمام آسمان اور زمین میری ملکیت ہیں اس لئے میرے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرنی چاہیے۔ اس لئے تم بتوں کی عبادت نہ کرو، جن کے متعلق تمہارا یہ زعم ہے کہ وہ تم کو میرے قریب کردیں گے، کیونکہ وہ تم سے کسی عذاب کو دور نہیں کرسکتے، شفاعت تو رسولوں، میرے اولیاء اور میرے اطاعت گزاروں کے لئے ہے۔ (جامع البیان ج ٣ ص 13 مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1415 ھ)

علامہ آلوسی متوفی 1270 ھ نے بھی لکھا ہے اس آیت سے مشرکین کو مایوس کرنا ہے جو بتوں کے متعلق شفاعت کا عقیدہ رکھتے تھے۔ (روح المعانی جز ٣ ص 14 مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1415 ھ)

علامہ ابوالحیان محمد بن یوسف اندلسی متوفی 754 ھ لکھتے ہیں :

اس آیت میں اذن سے مراد اللہ تعالیٰ کا حکم ہے جیسا کہ حدیث میں ہے آپ شفاعت کیجیے آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی یا علم ہے (یعنی اللہ تعالیٰ کے علم کے بغیر کون شفاعت کرسکتا ہے) یا مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قدرت دینے کے بغر کون شفاعت کرسکتا ہے خواہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر شفاعت کرے۔ (البحر المحیط ج ٢ ص 610، مطبوعہ دارالفکر بیروت 1412 ھ)

قرآن مجید کی آیات، احادیث اور مفسرین کی عبارات سے واضح ہوگیا کہ گناہگار مسلمانوں کے لئے انبیاء اور مقربین کی شفاعت کے لئے اذن لینا لازمی شرط نہیں ہے اور سید ابوالاعلیٰ مودودی کا اذن کو شفاعت کے لئے لازمی شرط قرار دینا صحیح نہیں۔ البتہ بعض احادیث میں شفاعت کے لئے اذن حاصل کرنے کا بھی ذکر ہے لیکن اذن کے بغیر بھی شفاعت کی گی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی شفاعت کرنے کا حکم دیا ہے اس لئے یہ شفاعت کرنے کی لازمی شرط نہیں ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 28