زمین ساکن ہے یا متحرک؟
sulemansubhani نے Monday، 1 June 2020 کو شائع کیا.
زمین ساکن ہے یا متحرک؟
✍شان اسلم
یکم جون 2020ء بروز پیر بوقت رات 12:02
💎قارئین کرام! سب سے پہلےیہ سمجھ لیجئیے کہ اس مسئلہ کا تعلق کفر و اسلام سے ہرگز نہیں ۔
💎سائنسدانوں میں یہ مسئلہ اختلافی ہے اگرچہ سائنس سے تعلق رکھنے والوں کی اکثریت زمین کے متحرک ہونے کی قائل ہے لیکن اس کے مقابل ناصرف مسلمان بلکہ غیر مسلم سائنسدانوں کی آراء بھی پائی جاتی ہیں جو زمین کو ساکن ثابت کرتے ہیں۔
💎امام احمد رضا خان بریلوی رحمة اللہ علیه کا یہ خاصہ ہے کہ آپ وہ واحد مذہبی و سائنسی شخصیت ہیں جنہوں نے زمین کے ساکن ہونے کا استدلال نہ صرف قرآن بلکہ فزکس و ریاضیات اور دیگر سائنسی اصولوں کی بنیاد پر زمین کیا
🍁(اےکاش!کوئی سیدی امام احمد رضا کی تحقیق کو جدید دور کے مطابق آسان اردو و انگلش میں عوام کے سامنے پیش کر دے تاکہ عوام بھی ان کی تحقیق سے مستفید ہو سکے)🍁
💎اہل سنت ہی کہ ہاں دوسرا موقف بھی پایا جاتا ہے جسے محقق اہل سنت علامہ غلام رسول سعیدی رحمة اللہ عليه نے جدید و معروف سائنسی نقطہ نظر کی تائید پر اپنی تفسیر تبیان القرآن میں پیش فرمایا ہے۔
💎نتیجہ کلام یہ ہے کہ زمین کے ساکن و متحرک ہونے کا استدلال اسلام و سائنس دونوں میں اختلافی ہے۔لہذا اس میں عوام کو پریشان نہیں ہونا چاہئیے کہ وہ کونسا موقف اپنائے کیونکہ یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں جس پر آپ کی مسلمانی کا انحصار ہو بلکہ فقیر کہتا ہے کہ عام عوام کے زمین کو ساکن ماننے یا نہ ماننے کا کوئی اعتبار نہیں کہ ان کا اس مسئلہ سے کونسا براہ راست کوئی تعلق ہے یا کونسی ان کی کوئی سائنسی تحقیق پھنسی پڑی ہے کہ اگر موقف غلط ہوگیا تو ان کی کوئی تجرباتی محنت برباد ہو جائے گی۔
کیا ہی خوب ہوتا محترم کہ آپ یہاں علامہ غلام رسول سعیدیٌ کی تفسیر تبیان القرآن سے اقتباس پیش کردیتے۔
نیز آپ کہتے ہیں کہ اس مسئلے کا اسلام اور کفر سے کوئی تعلق نہیں، لیکن اعلیٰ حضرت نے اسے پوری شدت کے ساتھ اسلامی مسئلہ ثابت کیا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں نزول ؔیات فرقان بسکون و زمین و آسمان۔ اور اس میں آپ نے اس جملے کو اپنی کتاب کے بالکل شروع میں لکھا ہے کہ اسلامی مسئلہ یہ ہے کہ زمین و آسمان دونوں ساکن ہیں کواکب چل رہے ہیں۔
جب یہ اسلامی مسئلہ ہوگیا تو سائنسی نہ رہا۔ اور یمسک السمٰوٰت والی آیت کے بارے میں زمین کا ساکن ہونا بیان کرکے فرماتے ہیں
قرآن عظیم کے وہی معنی لینے ہیں جو صحابہ و تابعین و مفسرین معتمدین نے لیے ان سب کے خلاف وہ معنی لینا جن کا پتا نصرانی سائنس میں ملے مسلمان کو کیسے حلال ہوسکتا ہے، قرآن کریم کی تفسیر بالرائے اشد کبیرہ ہے جس پر حکم ہے۔ فلیتبوأمقعدہ من النار ۔۱
وہ اپنا ٹھکا نا جہنم میں بنالے۔
( ۱ ؎ جامع الترمذی ابواب التفسیر باب ماجاء فی الذی یفسر القرآن برایہ امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۱۹)
یہ تو اُس سے بھی بڑھ کر ہوگا کہ قرآن مجید کی تفسیر اپنی رائے سے بھی نہیں بلکہ رائے نصارٰی کے موافققرآن عظیم کے وہی معنی لینے ہیں جو صحابہ و تابعین و مفسرین معتمدین نے لیے ان سب کے خلاف وہ معنی لینا جن کا پتا نصرانی سائنس میں ملے مسلمان کو کیسے حلال ہوسکتا ہے، قرآن کریم کی تفسیر بالرائے اشد کبیرہ ہے جس پر حکم ہے۔ فلیتبوأمقعدہ من النار ۔۱
وہ اپنا ٹھکا نا جہنم میں بنالے۔
( ۱ ؎ جامع الترمذی ابواب التفسیر باب ماجاء فی الذی یفسر القرآن برایہ امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۱۹)
یہ تو اُس سے بھی بڑھ کر ہوگا کہ قرآن مجید کی تفسیر اپنی رائے سے بھی نہیں بلکہ رائے نصارٰی کے موافق
امید ہے کہ آپ توجہ فرمائیں گے۔
جی علامہ غلام رسول سعیدی صاحب کا بیان کردہ موقف یہاں تو نہیں پر سائٹ پہ یقینا موجود ہوگا تبیان القرآن یونی کوڈ میں 21 سپارہ جاری ہے
بقیہ مضمون نگار بنفس نفیس خود یہاں موجود نہیں آپ نے بھی اگر کچھ تحریر کرنا ہے تو وہ آپ ہمیں ارسال کرسکتے ہیں شکریہ
sulemansubhani@gmail.com