أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡنَا يٰنَارُ كُوۡنِىۡ بَرۡدًا وَّسَلٰمًا عَلٰٓى اِبۡرٰهِيۡمَۙ‏ ۞

ترجمہ:

ہم نے فرمایا : اے آگ ! تو ابراہیم پر ٹھنڈک اور سلامتی ہوجا

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر آگ کا ٹھنڈا ہونا 

امام ابن جریر اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت علی بن ابی طالب (رض) نے یا نار کونی بردا وسلاما علی ابراہیم کی تفسیر میں فرمایا، وہ آگ اس طرح حضرت ابراہیم پر ٹھنڈی ہوئی کہ ان کو اس سے کوئی ضرر نہیں پہنچا۔ (جامع البیان رقم الحدیث :18622)

ابوالعالیہ بیان کرتے ہیں کہ سلاما کا مطلب یہ ہے کہ اس کی ٹھنڈک نقصان نہیں دے گی اور اگر اللہ تعالیٰ و سلاما نہ فرماتا تو اس کی ٹھنڈک آگ کی گرمی سے زیادہ نقصان دہ ہوتی۔ (جامع البیان رقم الحدیث :18629)

منہال بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ نے فرھمایا مجھ پر اللہ کی سب سے زیادہ نعمتیں ان دنوں تھیں جب مجھے آگ میں ڈالا گیا تھا۔ (جامع البیان رقم الحدیث :18623)

امام فخر الدین رازی متوفی 606 ھ لکھتے ہیں :

مجاہد نے کہا حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا اگر وہ آگ سلامتی کے ساتھ ٹھنڈی نہ ہوت تو حضرت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس کی ٹھنڈک سے فوت ہوجاتے اور دنیا میں جس جگہ بھی آگ تھی وہ بجھ جای۔ سدی نے کہ کا فرشتوں نے حضرت ابراہیم علیہ اسللام کو بغلوں سے پکڑ کر اٹھایا، وہاں میٹھے پانی کا چشمہ تھا اور انواع و اقسام کے پھول تھے۔ اس آگ نے صرف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیڑیوں اور زنجیروں کو جلایا تھا۔ منہال بن عمرو نے بیان کیا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس آگ میں چالیس یا پچاس دن رہے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا میری زندگی کے سب سے اچھے ایام وہ تھے جو اس آگ میں گزرے تھے۔ امام ابن اسحاق نے کہا اللہ تعالیٰ نے سائے کے فرشتے کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس بھجیا، وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آ کر بیٹھ گیا اور آپ کا دل بہلاتا رہا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) آپ کے پاس جنت سے ریشم کی قمیض لے کر آئے اور کہا اے ابراہیم ! آپ کا رب فرماتا ہے کیا آپ کو یہ معلوم نہیں کہ آگ میرے محبو بندوں کو نقصان نہیں پہنچا سکتی، پھر نموذ نے اپنے قلعہ سے جھانک کر دیکھا تو حضرت ابراہیم باغ میں بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے اردگرد لکڑیاں جل رہی تھیں، پھر نموز نے چلا کر ہا اے ابراہیم ! کیا تم اس آگ سین کل سکتے ہو ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا : ہاں ! اس نے کہا پھر نکل آئیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) چل پڑے حتیٰ کہ اس آگ سے نکل آئے۔ نموز نے پوچھا : میں نے آپ کی صورت میں جو ایک شخص کو آپ کے پاس بیٹھے ہوئے دیکھا تھا، وہ کون تھا ڈحضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا۔ وہ سائے کا فرشتہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے میرا دل بہلانے کے لئے بھیجا تھا۔ نمروز نے کہا میں نے آپ کے رب کے نزدیک آپ کی عزت اور جاہت دیکھی ہے تو میں اس کا تقرب حاصل کرنے کے لئے چار ہزار گایوں کو ذبح کرنا چاہتا ہوں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا جب تک تم اپنے دین پر قائم ہ، اللہ تعالیٰ تمہاری قربانی قبول نہیں فرمائے گا۔ نموز نے کہا میں اپنے دین کو چھوڑنا نہیں چاہتا لیکن میں عنقریب گایوں کو ذبح کروں گا پھر اس نے گایوں کو ذبح کیا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے تعرض کرنا چھوڑ دیا۔ بعض روایات میں ہے کہ انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے بہت بڑا گڑھا کھودا پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اس میں ڈالا گپھر ان پر سات دن تک آگ جلتی رہی پھر اس گڑھے کو پاٹ دیا پھر اگلے دن اس گڑھے کو کھولا تو اس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بیٹھے ہوئے تھے اور آپ پر آگ کا کوئی اثر نہیں ہوا تھا، پھر ان سے حضرت لوط کے باپ ہار ان نے کہا ان پر آگ کا کوئی اثر نہیں ہوگا کیونکہ انہوں نے آگ پر جادو کردیا ہے لیکن ان کو کسی چیز پر بٹھا کر اس کے نیچے آگ جلائو تو یہ اس کے دھوئیں سے مرجائیں گے، تو انہوں نے ایک کنوئیں کے اندر آگ لگا کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کے اوپر بٹھا دیا اس آگ کی ایک چنگاری حضرت لوط کے باپ ہاران کی ڈاڑھی میں جا کر گری اور وہ خود جل کر مرگیا۔

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر جلائی ہوئی آگ کے ٹھنڈی ہونے کی کیفیت 

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر وہ آگ کس کیفیت سے ٹھنڈی ہوئی، اس میں حسب ذیل اقوال ہیں :

(١) اللہ تعالیٰ نے اس آگ سے جلانے اور تپش کے فعل کو زائل کردیا تھا اور اس کی روشنی اور چمک کو باقی رکھا تھا۔

(٢) اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے جسم میں ایسی کیفیت پیدا کردی تھی جس کی وجہ سے آگ کی اذیت آپ کو نہیں پہنچ سکتی تھی۔ جس طرح جہنم کے فرشتوں کو آگ ضرر نہیں پہنچاتی اور جس طرح سمندل ایک کیڑا ہے جو صرف آگ میں زندہ رہتا ہے۔

(٣) اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آگ کے درمیان ایک حاحئل چیز پیدا کردی جس کی وجہ سے آگ کا اثر آپ تک نہیں پہنچا۔ اللہ تعالیٰ نے آگ سے فرمیایا تو ابراہیم (علیہ السلام) پر ٹھنڈی ہوجا۔ اس کا معنی یہ ہے کہ خود وہ آگ ٹھنڈی ہوگئی اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تک اس کا اثر نہیں پہنچا، اور وہ آگ اپنی حالت پر بای نہیں رہی پھر فرمایا : سلاماً اس کا معنی یہ ہے کہ جب کوئی چیز بہت زیادہ ٹھنڈی ہو تو وہ بھی آگ کی طرح ہلاک کردیتی ہے۔ اس لئے فرمایا کہ وہ اعتدال کے ساتھ ٹھنڈی ہو۔

القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 69