أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَـقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اِبۡرٰهِيۡمَ رُشۡدَهٗ مِنۡ قَبۡلُ وَ كُنَّا بِهٖ عٰلِمِيۡنَ‌ۚ‏ ۞

ترجمہ:

اور بیشک اس سے پہلے ہم نے ابراہیم کو ہدایت عطا فرمائی تھی اور ہم ان کو خوب جانتے تھے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور بیشک اس سے پہلے ہم نے ابراہیم کو ہدیات عطا فرمائی تھی اور ہم ان کو خوب جاننے والے تھے جب انہوں نے اپنے (عرفی) باپ اور اپنی قوم سے کہا یہ کیسی مورتیاں (بت) ہیں جن (کی پرستش) پر تم جمے ہوئے ہو ؟ انہوں نے کہا ہم نے اپنے باپ دادا کو ان ہی کی عبادت کرتے ہوئے پایا تھا (ابراہیم نے) کہا بیشک تم اور تمہارے باپ دادا کھلی ہوئی گمراہی میں تھے انہوں نے کہا کیا آپ واقعی حق بات کہہ رہے ہیں یا یونہی مذاق کر رہے ہیں ؟ (الانبیاء :51-55)

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو نبوت عطا فرمانا 

اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں انبیاء (علیہم السلام) کے جو قصص بیان فرمائے ہیں، ان میں یہ دوسرا قصہ ہے جس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر ہے۔ اس میں فرمایا اور بیشک اس سے پہلے یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) سے پہلے ہم نے حضرت ابراہیم کو رشد عطا فرمائی۔

رشد کے معنی کے متعلق علامہ راغب اصفہانی متوفی 502 ھ لکھتے ہیں : الرشد الغی کی ضد ہے۔ ” الغی “ کا معنی گمراہی ہے اور الرشد کا معنی ہدایت ہے۔ قرآن مجید میں ہے :

قدتبین الرشد من الغی : (البقرہ :256) بیشک ہدایت گمراہی سے متمیز ہوچکی ہے۔

رشد (رپرپیش) دنیا اور آخرت میں راہ راست کے ساتھ خاص ہے اور رشد (راورش پر زبر) کا اطلاق صرف امور اخرویہ میں ہوتا ہے اور راشد اور رشید کا اطلاق دنیا اور آخرت دونوں میں ہوتا ہے : اولئک ھم الراشدون (الحجرات : ٧) یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔ اس کا تعلق آخرت کے ساتھ ہے : وما امرفرعوکن برشید۔ (ھود :97) اور فرعن کا کوئی حکم درست نہیں تھا، اس کا تعلق دنیا سے تھا۔ (المفردات ج ١ ص 259-260 مطبوعہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ، 1418 ھ)

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606 ھ لکھتے ہیں :

رشد کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد نبوت ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور ہم ان کو خوب جاننے والے تھے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو نبوت کے ساتھ مختص کرتا ہے جس کے متعلق اس کو معلوم ہو کہ یہ شخص نبوت کا حق ادا کرے گا اور جو کام منصب نبوت کے نامناسب ہوں اور جن کاموں سے اس کی قوم متنفر ہو، وہ کام نہیں کرے گا اور دوسرا قول یہ ہے کہ رشد سے مراد ہدایت ہے۔ قرآن مجید میں ہے :

فان انستم منھم رشداً فادفعوآ الیھم اموالھم (النساء :6) پھر اگر تم یتیموں میں ہدایت (ہوشیاری اور حسن تدبیر) پائو تو ان کے اموال انہیں سونپ دو ۔

اس میں ایک تیسر اقول بھی ہے کہ نبوت اور ہدایت دونوں رشد کے تحت داخل ہیں کیونکہ اس شخص کو منصب نبوت پر فائز کرنا جائز ہے جس کو اللہ تعالیٰ اپنی ذات اور صفات پر رہنمائی کرچکا ہو اور اس کو وہ امور بتاچکا ہو جو اس کے اور اس کی قوم کے رذائل سے منزہ ہونے اور فضائل سے متصف ہونے کے لئے ضروری ہوں۔ یعنی اس کو وہ کام معلوم ہوں جن کے کرنے سے دنیا اور آخرت میں مذمت ہوتی ہے اور جن کے کرنے سے دنیا اور آخرت میں تعریف اور تحسین ہوتی ہے۔ (تفسیر کبیرج ٨ ص 151-152 مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، 1415 ھ)

فرمایا : بیشک اس سے پہلے ہم نے ابراہیم کو ہدایت عطا فرمائی تھی۔ امام ابن جریر نے حضرت ابن عباس سے نقل کیا یعنی حضرت موسیٰ اور ہارون سے پہلے ان کو نبوت اور ہدایت عطا فرمائی تھی، اور مقاتل نے کہا ان کے بالغ ہونے سے پہلے بچپن میں ان کو نبوت عطا فرمائی تھی جب انہوں نے ستاروں کو دیکھ کر ان سے اللہ تعالیٰ کو الوہیت پر استدلال کیا تھا اور حضرت ابن عباس (رض) سے یہ تفسیر بھی مروی ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی صلب اور پشت میں ان کو نبوت عطا فرمائی تھی جب اللہ تعالیٰ نے ان کی پشت سے نبیوں کو نکال کر ان سے میثاق لیا تھا۔ (جامع البیان جز ١٧ ص 47 مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1415 ھ)

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو تبلیغ فرمانا 

تماثیل تمثال کی جمع ہے۔ اس کا معنی ہے تراشا ہوا مجسمہ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم مختلف چیزوں کی بنائی ہوئی مجسم تصویروں کی پرستش کرتی تھی۔ مثلاً انسان یا کسی حیوان کی صورت کی۔

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے کہا تم اور تمہارے باپ دادا کھلی ہوئی گمراہی میں تھے، جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے پوچھا کہ تم ان آیتوں کی عبادت کیوں کرتے ہو ؟ اس کی کیا دلیل ہے ؟ تو ان کے پاس اس کے سوا اور کوئی جواب نہ تھا کہ وہ اپنے باپ دادا کی تقلید کرتے ہیں۔ تب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمای : تم اور تمہارے باپ دادا تو کھلی ہوئی گمراہی میں تھے، ان کی قوم نے کہا آپ آپ سنجیدگی سے بات کہہ رہے ہیں یا مذاق کر رہے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک یہ بہت بعید تھا کہ جو کام برسوں سے نسل در نسل ہوتا چلا آ رہا ہو اس کو گمراہی کہا جائے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 51