أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَا يَحۡزُنُهُمُ الۡـفَزَعُ الۡاَكۡبَرُ وَتَتَلَقّٰٮهُمُ الۡمَلٰٓئِكَةُ ؕ هٰذَا يَوۡمُكُمُ الَّذِىۡ كُنۡـتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ ۞

ترجمہ:

بڑی گھبراہٹ بھی ان کو غمگین نہ کرسکے گی۔ فرشتے (یہ کہتے ہوئے) ان کا استقبال کریں گے یہی تمہارا وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا

الفزع الاکبر کی تفسیر میں اقوال 

(١) العوفی نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ الفزع الاکبر سے مراد وہ صور ہے جو آخرت میں پھونکا جائے گا۔

(٢) سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ اس سے مراد اہل دوزخ کا دوزخ میں بند ہوجانا ہے۔

(٣) ابن جریج نے کہا اس سے مراد جنت اور دوزخ کے درمیان موت کو ذبح کرنا ہے۔

(٤) حسن بصری نے کہا الفزع الاکبر سے مراد وہ وقت ہے جب کسی شخص کو دوزخ میں جانے کا حکم دیا جائے گا۔ (زاد المسیرج ٥ ص 394 مبوعہ بیروت، 1407 ھ)

الفزع الاکبر سے نہ گھبرانے والوں کے مصداق 

حافظ جلال الدین سیوطی متوفی 911 ھ لکھتے ہیں :

امام بزار اور امام ابن مردویہ نے حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مہاجرین کے لئے سونے کے منبر ہوں گے جن پر وہ قیامت کے دن بیٹھیں گے اور وہ الفزع (گھبراہٹ) سے مامون ہوں گے۔

امام طبرانی نے حضرت ابوامامہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو لوگ اندھیروں میں مسجدں میں داخل ہوتے ہیں انہیں قیامت کے دن نور کے منبروں کی بشارت دو لوگ گھبرائیں گے اور وہ نہیں گھبرائیں گے۔

امام طبرانی نے المعجم الاوسط میں حضرت ابوالدرداء (رض) سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ کی ذات کے لئے محبت کرنے والے قیامت کے دن اللہ کے سائے میں ہوں گے جس دن اللہ کے سائے کے سوا کسی کا سایہ نہیں ہوگا، وہ نور کے منبروں پر ہوں گے، لوگ گھبرائیں گے اور وہ نہیں گھبرائیں گے۔

امام احمد اور امام ترمذی نے سند حسن کے ساتھ حضرت ابن عمر (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قیامت کے دن تین شخص مشک کے ٹیلوں پر ہوں گے، وہ الفزع الاکبر سے خوف زدہ اور دہشت زدہ نہیں ہوں گے ایک وہ شخص جو لوگوں کا امام ہو اور لوگ اس سے راضی ہوں، دوسرا وہ شخص جو ہر دن اور رات اذان دے اور تیسرا وہ شخص جو اللہ کا بھی حق ادا کرے اور اپنے ملاکوں کا بھی۔ (الدرا المنثور ج ٥ ص 683، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1414 ھ)

فرشتے ان کا استقبال کس جگہ کریں گے اس سکے متعلق دو قول ہیں مقاتل نے کہا جس وقت وہ اپنی قبروں سے کھڑے ہوں گے۔ ابن السائب نے کہا جنت کے دروازہ پر (زاد المسیرج ٥ ص 394)

القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 103