أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاَيُّوۡبَ اِذۡ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّىۡ مَسَّنِىَ الضُّرُّ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِيۡنَ‌ ۞

ترجمہ:

اور ایوب کو یاد کیجیے جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ بیشک مھجے (سخت) تکلیف پہنچی ہے اور تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم فرمانے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ایوب کو یاد کیجیے جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ بیشک مجھے (سخت) تکلیف پہنچی ہے اور تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم فرمانے والا ہے سو ہم نے ان کی دعا قبول کی پس ان کو جو تکلیف تھی اس کو ہم نے دور کردیا اور ہم نے ان کو اپنی رحمت سے (پہلے سے) دگنے اہل و عیال عطا فرمائے اور (یہ) عبادت کرنے والوں کے لئے نصیحت ہے (الانبیاء :83-84)

حضرت ایوب (علیہ السلام) کا نام و نسب اور ان کی بعثت کی ترتیب 

انبیاء (علیہم السلام) کے قصص میں سے یہ چھٹا قصہ ہے۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے قصہ میں جو دلائل ہیں اور نصیحت آموز باتیں ہیں، وہ کسی اور قصہ میں نہیں ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنا عظیم فضل کرنے کے باوجود ان کو بیماری میں مبتلا کیا اور ان پر بہت سخت بیماری نازل کی۔ انہوں نے اس بیماری پر صبر کیا اور کوئی حرف شکایت زبان پر نہیں لائے اور اس میں انسانوں کے لئے یہ نصیحت ہے کہ غم ہو یا خوشی وہ ہرحال میں اللہ تعالیٰ کو یاد کرے، مصائب پر صبر کرے اور نعمتوں پر شکر کرے۔

حافظ عماد الین اسماعیل بن عمر بن کثیر شافعی متوفی 774 ھ لکھتے ہیں :

امام ابن اسحاق نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کا نسب اس طرح بیان کیا ہے :

ایوب بن موص بن زراح بن العیص بن اسحاق بن ابراہیم الخلیل النبی۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) حرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ذریت میں سے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے :

من ذریتہ دائود سلیمان وایوب ویوسف و موسیٰ و ہارون (الانعام :84) دائود، سلیمان، ایوب، یوسف اور موسیٰ اور ہارون سب ابراہیم کی اولاد میں سے ہیں۔

قرآن مجید میں حضرت ایوب (علیہ السلام) کا ذکر ان آیتوں میں ہے : (الانبیاء :83-84، ص 41-44)

حافظ ابن عسا کرنے بیان کیا کہ سب سے پہلے جو نبی مبعوث ہوئے وہ حضرت ادریس (علیہ السلام) ہیں، پھر حضرت نوح (علیہ السلام) پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پھر حضرت اسماعیل (علیہ السلام) پھر حضرت اسحاق (علیہ السلام) پھر حضرت یعقوب (علیہ السلام) پھر حضرت یوسف (علیہ السلام) پھر حضرت لوط (علیہ السلام) پھر حضرت ھود (علیہ السلام) پھر حضرت صالح (علیہ السلام) پھر حضتر شعیب (علیہ السلام) پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور پھر حضرت ہارون (علیہ السلام) پھر حضرت الیاس (علیہ السلام) پھر حضرت السیع (علیہ السلام) پھر حضرت عرفی بن سویلخ بن افرائیم بن یوسف بن یعقوب علیہ اسللام پھر حضرت یونس بن متی (علیہ السلام) پھر حضرت ایوب بن زراح (علیہ السلام) ، حافظ ابن عساکر کی اس ترتیب میں یہ اعتراض ہے کیونکہ حضرت ھود (علیہ السلام) اور حضرت صالح (علیہ السلام) کے متعلق مشہور یہ ہے کہ وہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے پہلے ہیں۔

حضرت ایوب (علیہ السلام) کو آزمائش میں مبتلا کیا جانا 

علماء التفسیر اور علماء التاریخ نے یہ بیان کیا ہے کہ حضرت ایوب بہت مالدار شخص تھے، ان کے پاس ہر قسم کا مال تھا، مویشی اور غلام تھے اور زرخیز اور غلہ سے لہلہاتے ہوئے کھیت اور باغات تھے اور حضرت ایوب (علیہ السلام) کی اولاد بھی بہت تھی پھر ان کے اس سے یہ تمام نعمتیں جاتی رہیں اور ان کے دل اور زبان کے سوا ان کے جسم کا کوئی عضو سلامت نہ رہا جس سے وہ اللہ عزو جل کا ذکر کرتے رہتے تھے اور وہ ان تمام مصائب میں صابر تھے اور ثواب کی نیت سے صبح اور شام اور دن اور رات اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے رہیتے تھے۔ ان کے مرض نے بہت طول کھینچا حتیٰ ہ ان کے دوست اور احباب ان سے اکتا گئے، ان کو اس شہر سے نکال دیا گیا اور کچے اور کوڑے کی جگہ ڈال دیا گیا، ان کی بیوی کے سوا ان کی دیکھ بھال کرنے والا اور کوئی نہ تھا، ان کی بیوی لوگوں کے گھروں میں کام کرتی اور اس سے جو اجرت ملتی، اس سے اپنی اور حضرت ایوب کی ضروریات کو پورا کرتی۔

وہب بن منبہ اور دیگر علماء بنی اسرائیل نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیماری اور ان کے مال اور اولاد کی ہلاکت کے متعلق بہت طویل قصہ بیان کیا ہے۔ مجاہد نے بیان کیا ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) وہ پہلے شخص ہیں جن کو چیچک ہوئی تھی ان کی بیماری کی مدت میں کئی اقوال ہیں، وہب بن منبہ نے کہا وہ مکمل تین سال تک بمیاری میں مبتلا رہے۔ حضرت انس (رض) نے کہا وہ سات سال اور کچھ ماہ بیماری میں مبتلا رہے، ان کو بنی اسرائیل کے گھورے (کچرا ڈالنے کی جگہ) پر ڈال دیا گیا تھا اور ان کے جسم میں کیڑے پڑے گئے تھے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے بیماری کو دور کردیا اور ان کو صحت اور عافیت عطا فرمائی۔ حمید نے کہا وہ اٹھارہ سال بیماری میں مبتلا رہے ان کے سارے جسم سے گوشت گل کر گرگیا تھا اور جسم پر صرف ہیاں اور گوشت باقی رہ گیا تھا۔ ایک دن ان کی بیوی نے کہا اے ایوب ! آپ کی بیماری بہت طول پکڑ گی ہے، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ آپ کو صحت اور عافیت عطا فرمائے۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے فرمایا : میں ستر سال صحت اور عافیت کے ساتھ رہا ہوں، حق تو یہ ہے کہ میں اب ستر سال صبر کروں۔ (البدایہ والنہایہ ج ۃ ص 308-309 مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1418 ھ)

حضرت ایوب (علیہ السلام) کے جسم میں کیڑے پڑنے کی تحقیق 

حافظ ابو القاسم علی بن الحسن ابن عساکر متوفی 571 ھ نے حضرت ایوب کی بیماری کا نقشہ اس طرح کھینچا ہے :

زبان اور دل کے علاوہ حضرت ایوب کے تمام جسم میں کپڑے پڑگئے تھے۔ ان کا دل اللہ کی مدد سے غنی تھا اور زبان اللہ تعالیٰ کا ذکر جاری رہتا تھا۔ کیڑوں نے ان کے تمام جسم کو کھالیا تھا حتیٰ کہ ان کی صرف پسلیاں اور رگیں باقی رہ گئی تھیں پھر کیڑوں کے کھانے کے لئے بھی کچھ باقی نہ رہا پھر کیڑے ایک دوسرے کو کھانے لگے دو کیڑے باقی رہ گئے تھے، انہوں نے بھوک کی شدت سے ایک دوسرے پر حملہ کیا اور ایک کیڑا دوسرے کو کھا گیا پھر ایک کیڑا ان کے دل کی طرف بڑھاتا کہ اس میں سوراخ کرے تب حضرت ایوب (علیہ السلام) نے یہ دعا کی بیشک مجھے (سخت) تکلیف پہنچی ہے اور تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ (مختصر تاریخ دمشق ج ٥ ص 107 مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1404 ھ)

حضرت ایوب (علیہ السلام) کے جسم میں کیڑے پڑنے کا واقعہ حفاظ ابن عساکر اور حافظ ان کثیر دونوں نے بنی اسرائیل کے علماء سے نقل کیا ہے اور انکی اتباع میں مفسرین نے بھی ذکر کیا ہے لیکن ہمارے نزدیک یہ واقعہ صحیح نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ انبیاء (علیہم السلام) کو ایسے حال میں مبتلا نہیں کرتا جس سے لوگوں کو نفرت ہو اور وہ ان سے گھن کھائیں۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) کے متعلق فرمایا :

انھم عندنا لمن المصطفین الاخیار (ص :47) یہ سب ہمارے پسندیدہ اور نیک لوگ ہیں۔

حضرت ایوب (علیہ السلام) پر کوئی سخت بیماری مسلط کی گی تھی لیکن وہ بیماری ایسی نہیں تھی جس سے لوگ گھن کھائیں۔ حدیث صحیح مرفوع میں بھی اس قسم کی کسی چیز کا ذکر نہیں ہے، صرف ان کی اولاد اور ان کے مال مویشی کے مرجانے اور ان کے بیمار ہونے پر صبر کا ذکر ہے۔ علماء اور واعظین کو چاہیے کہ وہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی طرف ایسے احوال منسبو نہ کریں جن سے لوگوں کو گھن آئے۔ اب ہم اس سلسلہ میں حدیث صحیح مرفوع کا ذکر کر ہے ہیں۔

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک حضرت ایوب (علیہ السلام) اپنی بیماری میں اٹھارہ سال مبتلا رہے، ان کے بھائیوں میں سے دو شخصوں کے سوا سب لوگوں نے ان کو چھوڑ دیا خواہ وہ رشتہ دار ہیں یا اور لوگ ہوں۔ وہ دونوں روز صبح و شام انکے پاس آتے تھے۔ ایک دن ایک نے دور سے سے کہا کیا تم کو معلوم ہے کہ ایوب نے کوئی ایسا بہت بڑا گناہ کیا ہے جو دنیا میں کسی نے نہیں کیا۔ دور سے نے کہا کیونکہ اٹھارہ سال سے اللہ تعالیٰ نے اس پر رحم نہیں فرمایا حتیٰ کہ اس سے اس کی بیماری کو دور فرما دیتا۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے کہا میں اس کے سوا اور کچھ نہیں جانتا کہ میں دو آدمیوں کے پاس گزرا جو آپس میں جھگڑ رہے تھے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کر رہے تھے میں اپنے گھر گیا تاکہ ان کی طرف سے کفارہ ادا کروں کیونکہ مجھے یہ ناپسند تھا ج کہ حق بات کے سوا اللہ تعالیٰ کا نام لیا جائے۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) اپنی ضروریات کے لئے جاتے تھے اور جب ان کی حاجت پوری ہوجاتی تو ان کی بیوی ان کا ہاتھ پکڑ کرلے آتی۔ ایک دن ان کو وپ اس آنے میں کافی دیر ہوگئی، اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ وحی کی :

ارکص برجلک ھذا مغسل بارد و شراب۔ (ص : ٤٢) (زمین پر) اپنی ایڑی ماریے یہ نہانے کا ٹھنڈا اور پینے کا پانی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ان کی ساری بیماری کو اس پانی میں نہانے سے دور کردیا (اور پانی پینے سے ان میں طاقت آگئی) اور وہ پہل ی سے بہت صحتمند اور حسین ہوگئے۔ ان کی بیوی ان کو ڈھونڈتی ہوئی آئی اور پوچھا اے شخص ! اللہ تمہیں برکت دے، کیا تم نے اللہ کے نبی کو دیکھا ہے جو بمیار تھے، اللہ کی قسم ! میں نے تم سے زیادہ ان کے مشابہ اور تندرست شخص کوئی نہیں دیکھا۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے فرمایا میں ہی تو وہ شخص ہوں۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے دو کھلیان تھے، ایک گندم کا کھلیان تھا اور ایک جو کا کھلیان تھا۔ اللہ تعالیٰ نے دو بادل بھیجے ایک گندم کے کھلیان پر برسا اور اس کو سونے سے اس قدر بھر دیا کہ سونا کھلیان سے باہر گرنے لگا اور دوسرا بادل جو کے کھلیان پر برسا اور اس کو چاندی سے بھر دیا حتٰی کہ چاندی باہر گرنے لگی۔ (صحیح ابن حبان رقم الحدیث :2898، المستدرک ج ہ ص 582، 581، حاکم نے کہا یہ حدیث صحیح ہے اور ذہبی نے اس کی موافقت کی۔ حافظ الیثمی نے کہا اس حدیث کو امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے روایت کیا ہے اور امام بزار کی سند صحیح ہے، مجمع الزوائد ج ٨ ص 208)

حضرت ایوب کے نقصانات کی تلافی کرنا 

قرآن مجید میں ہے 

ووھبنالہ اھلہ ومثلھم معھم رحمۃ منا وذکری لاولی الالباب۔ (ص :43) اور ہم نے اسے اس کا پورا کنبہ عطا فرمایا بلکہ اپنی رحمت سے اتنا ہی اور بھی اس کے ساتھ اور یہ عقل والوں کے لئے نصیحت ہے۔

بعض کہتے ہیں کہ پہلا کنبہ جو بہ طور آزمائش ہلاک کردیا گیا تھا، اسے زندہ کردیا گیا اور اس کی مثل اور مزید کنبہ عطا کردیا گیا اور اللہ نے پہلے سے زیادہ مال اور اولاد سے انہیں نواز دیا جو پہل ی سے دگنا تھا۔

حضرت ایوب (علیہ السلام) کی زوجہ کے لئے قسم پوری کرنے میں تخفیف اور رعایت 

حافظ ابن عساکر لکھتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ابیلس نے راستہ میں ایک تابوت بچھایا اور اس پر بیٹھ کر بیماروں کا علاج کرنے لگا۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیویاں وہاں سے گزری تو اس نے پوچھا کیا تم بیماری میں مبتلا اس شخص کا بھی علاج کردو گے ؟ اس نے کہا ہاں، اس شرط کے ساتھ کہ جب میں اس کو شفا دے دوں تو تم یہ کہنا کہ تم نے شفا دی ہے، اس کے سوا میں تم سے کوئی اور اجر نہیں طلب کرتا۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی نے حضرت ایوب (علیہ السلام) سے اس کا ذکر کیا انہوں نے فرمایا تم پر افسوس ہے یہ تو شیطان تھا اور اللہ کے لئے مجھ پر یہ نذر ہے کہ اگر اللہ نے مجھے صحت دے دی تو میں تمہیں سو کوڑے ماروں گا اور جب وہ تندسرت ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

وخذبیدک صغنا فاصرب بہ ولاتخت انا وجدلہ صابراً نعم العبد انہ اواب۔ (ص :44) اور اپنے ہاتھ سے (سو) تنکوں کا ایک مٹھاصجھاڑو) پکڑ لیں اور اس سیم اریں اور اپنی قسم نہ نہ توڑیں، بیشک ہم نے ان کو صابر پایا، وہ کیا ہی خوب بندے تھے بہت زیادہ رجوع کرنے والے۔

سو حضرت ایوب نے اپنی بیوی پر جھاڑو مار کر اپنی قسم پوری کرلی۔ (مختصر تاریخ دمشق ج ٥ ص 108 مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1404 ھ)

اس میں فقہاء کا اختلاف ہے کہ یہ رعایت صرف ایوب (علیہ السلام) کے ساتھ خاص تھی یا کوئی دوسرا شخص بھی سو کروڑوں کی جگہ سوتنکوں کی جھاڑو مار کر قسم توڑنے سے بچ سکتا ہے۔ حیدث میں ہے :

حضرت سعد بن عبادہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہمارے گھروں میں ایک شخص رہتا تھا جس کی خلقت ناقص تھی۔ وہ اپنے گھر کی ایک باندی (نوکرانی) سے زنا کرتا تھا۔ یہ قصہ حضرت سعد بن عبادہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پیش کیا۔ آپ نے فرمایا : اس کو سو کوڑے مارو۔ مسلمان نے کہا یا رسول اللہ ! یہ تو اس کے مقالہ میں بہت کمزور ہے اگر ہم نے اس کو سو کوڑے مارے تو یہ مرجائے گا۔ آپ نے فرمایا پھر اس کے لئے سو تنکوں کی ایک جھاڑو لو اور وہ جھاڑو اس کو ایک مرتبہ ماردو۔ (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :2574، المعجم الکبیر رقم الحدیث :5521، مسند احمد ج ٥ ص ٢٢٢ مسند احمد رقم الحدیث :22281 عالم الکتب بیروت، المسند الجامع رقم الحدیث :4824، علامہ بوصیری نے کہا : اس کی سند ضعیف ہے)

قرآن اور حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کمزور اور بیمار شخص پر قسم پوری کرنے کے لئے یا حد جاری کرنے کے لئے سو کوڑے مارنے کے بجائے سو تنکوں کی جھاڑو ماری جاسکتی ہے۔

حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کا نام رحمت بنت منشا بن یوسف بن یعقوب بن اسحاق تھا۔ (مختصر تاریخ دمشق ج ٥ ص 105)

حضرت ابن عابس (رض) بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کی تندرست کرنے کے بعد ان کا حسن و شباب بھی لوٹا دیا تھا اور ان کے ہاں اس کے بعد چھبیس بیٹے پیدا ہوئے۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) اس کے بعد ستر سال تک مزید زندہ رہے۔ تاہم اس کے خلاف مورخین کا یہ قول ہے کہ جب ان کی وفات ہوئی تو ان کی عمر 93 سال تھی۔ (البدایہ والنہایہ ج ۃ ص 311-312 ملحضات مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1418 ھ)

اس میں بھی مختلف روایات ہیں کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کو اس بھاری ابتلاء میں مبتلا کنے کی کیا وجہ تھی۔ بہر حال صحیح بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک اور مقبول بندوں کو مصائب میں مبتلا کرتا ہے۔

حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لوگوں میں سب سے زیادہ مصائب میں انبیاء (علیہم السلام) مبتلا ہوتے ہیں پھر صالحین، پھر جو ان کے قریب ہو اور جو ان کے قریب ہو۔ انسان پانی دین داری کے اعتبار سے مصائب میں مبتلا ہوتا ہے اگر وہ اپنے دین میں سخت ہو تو اس پر مصائب بھی سخت آتے ہیں۔ (الحدیث) (سنن الترمذی رقم الحدیث :2398، مصنف ابن ابی شیبہ ج ص 233، مسند حمد ج ۃ ص 172، سنن الدارمی رقم احلدیث :2786، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :4023 مسند الجز اور ارقم الحدیث، 1150 مسند ابویعلی رقم الحدیث :830)

حضرت ایوب (علیہ السلام) کی دعا کے لطیف نکات 

حضرت ایوب (علیہ السلام) نے نے دعا میں یہ نہیں فرمایا میری بیماری کو زائل فرما اور مجھ پر رحم فرما بلکہ رحمت کی ضرورت اور اس کا سبب بیان کیا اور کہا اے رب ! مجھے سخت تکلیف پہنچی ہے اور اپنے مطلوب کو کنایتاً بیان فرمایا۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے نے بہرحال اللہ تعالیٰ سے شکویٰ کیا اور یہ صبر کے منافی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے شکویٰ کرنا صبر کے منافی نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے نازل کئے ہوئے مصائب کو لوگوں سے شکایت کرنا صبر کے خلاف ہے۔ مثلاً لوگوں سے کہا جائے کہ دیکھو اللہ نے مجھ پر کتنی مصیبتیں نازل کی ہیں اور مجھے کیسی سخت بیماریوں میں مبتلا کیا ہے اور اس پر بےچینی اور بےقراری اور آہ فغاں کا اظہار کرے۔ اللہ تعالیٰ سے اپنے دل کا حال کہنا اور اپنے مصائب کا ذکر کرنا اور اسی سے شکایت اور فریاد کرنا صبر کے خلاف نہیں ہے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا تھا :

انما اشکوا بثی وحزنی الہ اللہ (یوسف : 86) میں اپنی پریشانی اور غم کی شکایت صرف اللہ سے کرتا ہوں۔

حضرت ایوب (علیہ السلام) نے نے کہا تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم فرمانے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ رحم فرمانے پر حسب ذیل دلائل ہیں۔

اللہ تعالیٰ کے ارحم الراحمین ہونے کی وجوہ 

(١) ہر وہ شخص جو دوسرے پر رحم کرتا ہے وہ دنیا میں اپنی تعریف و تحسین کرانے کے لئے کسی پر رحم کرتا ہے یا آخرت میں اس کا اجر طلب کرنے کے لئے رحم کرتا ہے یا کسی مصیبت زدہ شخص کو دیکھ کر اس کے دل میں جو رقت ہوتی ہے، اس رقت کو زائل کرنے کے لئے رحم کرتا ہے یا اس غرض سے رحم کرتا ہے کہ آج میں اس پر رحم کر رہ اہوں ہوسکتا ہے کہ کل مجھ پر رحم کی ضرورت ہو تو کوئی مجھ پر رحم کر دے، یا مضای میں اس شخص نے اس کے ساتھ کوئی نیکی کی تھی تو اس کا احسان اتارنے کے لئے وہ اس پر رحم کرتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ رحم کرنے والا کسی نہ کسی غرض اور کسی نہ کسی فائدہ کے حصول کے لئے کسی پر رحم کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بغیر کسی غرض کے رحم فرماتا ہے، اس کا مطلوب نہ کسی ضرر سے بچنا ہوتا ہے نہ کسی فائدہ کا حصول ہوتا ہے۔

(٢) جو شخص کسی پر رحم کرتا ہے اس کا یہ رحم اللہ کی مدد کے بغیر محقق نہیں ہوتا۔ مثلاً کوئی شخص کسی دوسرے کو کھانا، کپڑا یا دوائیں دیتا ہے تو یہ کھانا، کپڑے اور دوائیں تو اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں، وہ ان چیزوں کو پیدا نہ کرتا تو وہ کیسے رحم کرتا اور پیدا کرنے کے لعاوہ یہ چیزیں اگر رحم کرنے والے کی ملکیت میں نہ ہوتیں تو وہ کیسے رحم کرتا اگر اس کی ملکیت اور قدرت میں یہ چیزیں ہوتیں لیکن جس پر رحم کرنا ہے، اس میں ان سے فائدہ حاصل کرنے کی صلاحیت نہ ہوتی تو وہ کیسے رحم کرتا۔ مثلاً وہ کسی پیاسے کو پانی پلانا چاہتا مگر پیاسے شخص کا اوپر کا جبڑا نچلے جبڑے پر بیٹھ گیا، اس کا منہ بند ہوگیا اور وہ پانی پی نہیں سکتا تو وہ اس پر کیسے رحم کرے گا، پیاسے کو پانی پلانے کے لئے بھی پانی اللہ نے پیدا کیا پھر رحم کرنے والے کو پانی پلانے پر قدرت بھی اللہ نے دی، پانی پینے والے میں پانی پینے کی لاحیت بھی اللہ نے رکھی تو پھر بندوں کا کیا رحم ہے، بندوں کے رحم کی اللہ تعالیٰ کے رحم کے مقابلہ میں وہ نسبت ہے جو معمولی قطرہ کو سمندر سے ہوتی ہے بلکہ وہ بھی نہیں ہے۔

(٣) بندہ کسی پر اس وقت رحم کرت ہے جب اس کے دل میں رحم کرنے کا محرک، باعث اور داعی پیدا ہوتا ہے اور یہ حرک اور داعی بھی اللہ تعالیٰ پیدا کرتا ہے تو پھر بندہ نے کیا رحم کیا ؟ سب کچھ تو اللہ نے کیا ہے، اس لئے حضرت ایوب (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے کہا تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم فرمانے والا ہے۔

کیا دنیا میں مصائب کا آنا اللہ تعالیٰ کے ارحم الراحمین ہونے کے منافی ہے ؟

ایک اعتراض یہ ہے کہ یہ دنیا آفتوں، مصیبتوں، بیماریوں اور درودوں سے بھری ہوئی ہے۔ علاوہ ازیں لوگ ایک دوسرے پر ظلم کرتے ہیں، ڈاکے ڈالتے ہیں، بھتے لیتے ہیں اور قتل کردیتے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ ارحم الراحمین کیسے ہوا جب کہ اللہ تعالیٰ سب پر قادر تھا کہ وہ لوگوں کو ان آلام اور مصائب سے محفوظ کردیتا۔ امام فخر الدین رازی نے اس اعتراض کا یہ جواب دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ضار (ضرر پہنچانے والا) بھی ہے اور نافع بھی ہے اور اس کا ضار ہونا نافع ہونے کے منافی نہیں ہے اور اس کا ضرر پہنچانا اپنی ذات سے کسی مشقت کو دور کرنے کے لئے نہیں ہے اور اس کا نفع پہنچانا کسی منفعت کو حال کرنے کے لئے نہیں ہے بلکہ وہ مالک ہے جو چاہے کرے، وہ کسی فعل پر جواب دہ نہیں ہے۔ (تفسیر کبیرج ٨ ص 176 مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، 1415 ھ)

امام رازی کا جواب بھی درست ہے لیکن میرے ندیک بات یہ ہے کہ اگر کسی شخص پر کوئی مصیبت نازل ہوتی ہے تو وہ بھی اس کے لئے رحمت ہے اور اللہ تعالیٰ دنیا میں اس پر بیماریاں اور مصائب نازل کر کے اس کو آخرت کے عذاب سے بالکل بچا لیتا ہے یا اسکے عذاب میں تخفیف کردیتا ہے۔ یہ تو مسلمانوں کے حق میں ہے اور رہے کفار تو ان پر اللہ تعالیٰ کی یہی رحمت کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا میں سامان زیست مہیا کیا ہوا ہے، خواہ وہ کسی حال میں ہوں۔

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسلمان کو کانٹا چبھے یا اس سے زیادہ کوئی تکلیف ہو، اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کا ایک درجہ بلند کردیتا ہے اور اس کی وجہ سے اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :5640 صحیح مسلم رقم الحدی :2572، سنن الترمذی رقم الحدیث :165، مسند احمد ج ٦ ص 42)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسلمان کو جب بھی تھکاوٹ، بیماری، پریشانی اور غم ہوتا ہے اور جب بھی کوئی رنج اور فکر ہوتا ہے حتیٰ کہ اس کو کانٹا بھی چبھے تو اس کو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدی :5641 صحیح مسلم رقم الحدیث :2573 سنن الترمذی رقم الحدیث :966، مسند احمد ج ٣ ص ٤ مسند ابویعلی رقم الحدیث :1256)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 83