أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوۡا رَبَّكُمۡ‌ۚ اِنَّ زَلۡزَلَةَ السَّاعَةِ شَىۡءٌ عَظِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

اے لوگو ! تم سب اپنے رب سے ڈرو، بیشک قیامت کا زلزلہ بہت سنگین چیز ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے لوگو ! تم سب اپنے رب سے ڈرو، بیشک قیامت کا زلزلہ بہت سنگین چیز ہے جس دن تم اس کو دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اس (بچے) کو فراموش کر دے گی جس کو دودھ پلایا تھا اور ہر حاملہ کا حمل ساقط ہوجائے گا اور تم کو لوگ مدہوش نظر آئیں گے حالانکہ وہ مدہوش نہیں ہوں گے لیکن اللہ کا عذاب بہت سخت ہے بعض لوگ اللہ کے متعلق بغیر علم کے جھگڑا کرتے ہیں اور ہر سرکش شیطان کی پیروی کرتے ہیں جس کے متعلق (لوح محفوظ) میں لکھا جا چکا ہے کہ جو اس کو دوست بنائے گا، وہ اس کو گمراہ کر دے گا اور اس کو بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب لے جائے گا (الحج :1-4)

مشکل الفاظ کے معانی 

زلزلہ : زمین کی حرکت شدیدہ، تزلزل کا معنی ہے، اضطراب۔ اس کی اصل ہے ” زل “ یعنی کوئی چیز پھسل گئی اور اپنی جگہ سے حرکت کی گئی۔ زلزلہ کا لفظ کسی کو دھمکانے اور دہلانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے، قیامت کی شرئاط میں سے ایک شرط یہ یہ کہ قیامت سے پہلے زمین میں زلزلہ آئے گا اور قیامت کے ہولناک امور میں سے ایک امر زلزلہ ہے، سخت خوف اور دہشت کے لئے بھی اس کا استعمال ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے :

مشتھم الباسآء والضرآء و زلزلوا۔ (البقر :214) تم سے پہلے لوگوں پر مصیبتیں اور بیماریاں آئیں اور ان کو جھجھوڑا ڈالا گیا۔

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کفار کے خلاف دعا فرمائی :

اللھم اھزمھم وزلزلھم (صحیح البخاری رقم الحدیث :6392) اے اللہ ! ان کو ناکام کر دے اور ان کو جھنجھوڑ ڈال۔ 

ڈھول : تکلیف کی شدت یا خوف اور دہشت کی وجہ سے کسی چیز کا ذہن سے نکل جانا۔ مقصود یہ ہے کہ قیامت کی ہولاناکیاں دیکھ کر لوگ اپنے عزیزوں اور متعلقین کے تعلق کو بھول جائیں گے۔

تقویٰ کی تعریف اور اس کی ضرورت 

الحج : ١ میں فرمایا ہے اے لوگو ! تم سب اپنے رب سے ڈرو۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو تقویٰ کا حکم دیا ہے اور تقویٰ کا معنی ہے بچنا، اجتناب کرنا، ترک کرنا۔ یعنی ہر حرام اور مکروہ کام سے اجتناب کیا جائے اور ہر فرض اور واجب کے ترک سے اجتناب کیا جائے اور متقی اللہ کے عذاب سے ڈر کر حرام کاموں کو اور فرائض کے ترک کرنے کو چھوڑ دے۔

اللہ سبحانہ نے لوگوں کو ت قویٰ کا حکم دیا پھر قیامت کی ہولناکیوں اور عذاب شدید کو بیان فرماتا تاکہ لوگ جانلیں کہ جب وہ تقویٰ اختیار کریں گے تو اپنے آپ کو قیامت کے اس دہشت ناک سے بچا لیں گے اور اپنے نفس کو ضرر سے بچانا واجب ہے، اس لئے تقویٰ کا اختیار کرنا واجب ہے۔

مسلمانوں اور کافروں کے درمیان عددی نسبت 

حضرت عمران بن حصین (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک سفر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اصحاب سے اگٓے بڑھ گئے پھر آپ نے بلند آواز سے سورة ١ الحج کی پہلی دو آیتیں تلاوت فرمائیں۔ جب آپ کے اصحاب نے ان کو سنا تو وہ اپنی سواریوں کو نکال کر حضور تک پہنچے جب وہ آپ کے پاس پہنچ گئے تو آپ نے فرمایا : کیا تم کو معلوم ہے وہ کون سا دن ہو گا صحابہ نے کہا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : یہ وہ دن ہے جس میں حضرت آدم کو ندا کی جائے گی اور ان کا رب فرمائے گا : اے آدم ! دوزخ والوں کو بھیج دو ۔ حضرت آدم عرض کریں گے : اے میرے رب ! دوزخ والے کون ہیں ؟ فرمائے گا ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے دوزخی ہیں اور ایک جتنی ہے۔ یہ سن کر صحابہ ناامید ہوگئے اور انہوں نے ہنسنا چھوڑ دیا۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا یہ حال دیکھا تو فرمایا : (نیک) عمل کرو اور خوش رہو اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں میں محمد کی جان ہے تمہارے ساتھ دو قسم کی مخلوق ہے وہ جس چیز کے ساتھ بھی ہوں بڑھتی رہتی ہیں یا جوج اور ماجوج جو بنو آدم سے ہلاک ہوئے اور جو بنو ابلیس سے ہلاک ہوئے پھر اصحاب خوش ہوگئے۔ پھر آپ نے فرمایا (نیک) عمل کرو اور خوش رہو، اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں محمد کی جان ہے، تم لوگوں کے مقابل ہمیں اس طرح ہو جس طرح کسی چوپائے کے ہاتھ میں تل ہو یا اونٹ کے پہلو میں تل ہو۔

حاکم نے کہا یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور بخاری اور مسلم نے اس کو روایت نہیں کیا۔ (یہ حاکم کا تسامح ہے، صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں یہ حدیث حضرت ابو سعید خدری سے مروی ہے اور زیادہ واضح ہے) المستدرک رقم الحدیث :3502، طبع جدید، مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت، 1418 ھ) 

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ عزوجل قیامت کے دن فرمائے گا اے آدمچ وہ کہیں گے لبیک وسعدیک، پھر بلند آواز سے ندا فرمائے گا اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم اپنی اولاد میں سے دوزخ والوں کو نکال لو۔ وہ کہیں گے اے میرے رب ! دوزخ والے کتنے ہیں ؟ فرمائے گا ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ اس وقت حاملہ عورت کا حمل گرجائے گا اور بچے بوڑھے ہوجائیں اور تم لوگوں کو مدہوش دیکھو گے حالانکہ وہ مدہوش نہیں ہوں گے لیکن اللہ کا عذاب بہت سخت ہے۔ یہ بات اصحاب پر بہت سخت گراں گزری حتیٰ کہ ان کے چہرے متغیر ہوگئے پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نو سو ننانوے یا جوج اور ماجوج میں سے ہوں گے اور ایک تم میں سے ہوگا، اور تم لوگوں کے مقابل ہمیں ایسے ہو جیسے سفید بیل کے پہلو میں سیاہ بال ہو یا سیاہ بیل کے پہلو میں سفید بال ہو، اور مجھے توقع ہے کہ تم اہل جنت کے چوتھائی ہو گے پھر ہم نے نعرہ لگایا اللہ اکبر، پھر فرمایا تم تہائی اہل جنت ہو گے ہم نے پھر کہا اللہ اکبر، پھر فرمایا تم نصف اہل جنت ہو گے پس ہم نے نعرہ لگایا اللہ اکبر، پھر فرمایا تم تہائی اہل جنت ہو گے ہم نے پھر کہا اللہ اکبر، پھر فرمایا تم نصف اہل جنت ہو گے پس ہم نے کہا اللہ اکبر۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :4741 مسند احمد رقم الحدیث :11304 عالم الکتب بیروت، صحیح مسلم رقم الحدیث :222)

حافظ ابن حجر عسقلانی نے علامہ ابوالعباس قرطبی سے نقل کیا ہے کہ ہزار میں سے نو سو ننانوے یاجوج ماجوج ہوں گے اور وہ کفار جو یاجوج اور ماجوج کی مثل ہوں گے اور ہزار میں سے ایک تم ہو گے یعنی تم اور وہ مسلمان جو تمہاری مثل ہوں۔ حافظ عسقلانی نے کہا اور ایک تم ہو گے اس سے مراد ہے تمام امتوں کے مسلمان کیونکہ حضرت ابن مسعود کی حدیث میں ہے کہ جنت میں صرف مسلمان داخل ہوں گے۔ (فتح الباری ج ١٣ ص 205، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، 1420 ھ)

میں کہتا ہوں اس طرح یا جون اور ماجوج سے مراد ہے تمام امتوں کے کفار جو کفر میں یاجوج اور ماجوج کی مثل ہوں گے۔ خلاصہ یہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلا مکی اولد میں سے ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے کافر ہوں گے اور اس کے مقابل ہمیں ایک مسلمان ہوگا اور وہی جنتی ہوگا اور باقی دوزخی ہوں گے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 22 الحج آیت نمبر 1