أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ذٰلِكَ وَمَنۡ يُّعَظِّمۡ شَعَآئِرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنۡ تَقۡوَى الۡقُلُوۡبِ ۞

ترجمہ:

یہی حق ہے اور جس نے اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کی تو بیشک یہ دلوں کے تقویٰ کے آثار سے ہے

شعائراللہ کے معنی اور مصداق کی تحقیق 

الحج : ٣٢ ہے اور جس نے اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کی تو بیشک یہ دلوں کے تقویٰ کے آثار سے ہے۔

مشعرہ کے معنی نشانی اور اشعار کا معنی علم میں لانا ہے۔ شعائر شعیرہ کی جمع ہے، شعیرہ اس نشاین کو کہتے ہیں جو اس چیز کو بتاتی ہے جس چیز کے لئے اس کو نشانی بنایا گیا ہے۔ اشعار بدنہ کے معنی یہ ہیں اونٹ پر ایسا نشان بنادو جس سے پتا چلے کہ وہ ھدی (قربانی کا جانور) ہے۔ اس بناء پر کہا گیا ہے کہ مناسک حج کی تمام عالمات کو شعائر حج کہتے ہیں جن میں کعبہ کا طواف، صفا اور مروہ کی سعی، رمی جمار اور زمزم کے پانی کو قبلہ روکھڑے ہو کر ادب سے پینا بھی شعائر اللہ کی تعظیم میں داخل ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ شعائر اللہ کا معنی ہے اللہ کی نشانیاں، اللہ کے نام کی چیزیں اور ایک قول یہ ہے کہ جو چیزیں عبادت کی جگہوں یا عبادت کا زمانہ ہوں یا عبادت کے کام ہوں، وہ سب شعائر اللہ ہیں۔ جگہ کے اعتبار سے کعبہ، میدان عرفات، مزدلفہ، جمار ثلاثہ، صفا اور مروہ، منیٰ اور تمام مساجد شعائر اللہ ہیں اور زمانہ کے اعتبار سے رمضان، حرمت والے مہینے (ذوالقعدہ، ذوالحج، محرم اور رجب) عیدالفطر، عیدالاضحی جمعہ اور ایام تشریق یہ سب شعائر اللہ ہیں، اور عبارت کے افعال مثلاً اذان، اقامت، نماز کی جماعت، نماز جمعہ، نماز عیدین یہ سب شعائر اللہ ہیں۔

امام ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ محمد بن موسیٰ سے روایت کیا ہے کہ عرفات اور مزدلفہ میں وقوف کرنا شعائر اللہ میں سے ہے اور شیطانوں کو کنکریاں مارنا شعائر اللہ میں سے ہے، اور قربانی کے اونٹ (ھدی) شعائر اللہ میں سے ہیں اور جو شخص ان کی تعظیم کرے گا وہ اس کے دل میں تقویٰ کا اظہار ہے۔ (جامع البیان رقم الحدیث :19017) ابن زید نے کہا شیطانوں کو کنکریاں مارنا اور صفا مروہ اور المشعر الحرام اور المزدلفہ یہ سب شعائر اللہ ہیں۔ (جامع البیان رقم الحدیث :19018)

امام ابن جریر نے کہا جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی عبادت اور ان کے مناسک حج کی علامات بنادیا ہے اور وہ مقامات جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے فرئاض ادا کرنے کا حکم دیا ہے وہ سب شعائر اللہ ہیں اور ان کی تعظیم کرنا دلوں کا تقویٰ ہے۔ (جامع البیان جز 17 ص 206، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1415 ھ)

علامہ سید محمود آلوسی متوفی 1270 ھ لکھتے ہیں :

شعائر سے مرا ہے ھدایا یعنی قربانی کے اونٹ جیسا کہ حضرت ابن عباس اور تابعین کی ایک جماعت سے منقول ہے۔ یہ شعیرہ کی جمع ہے اور اس کا معنی ہے علامت، اور الھدایا پر شعائر کا اطلاق اس لئے کیا ہے کہ وہ حج کی علامتیں ہیں یا اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کی ہدیات کی علامتیں ہیں اور ان کی تعظیم کا یہ معنی ہے کہ قربانی کے لئے بہت خوبصورت، بہت فربہ اور بہت مہنگے اونٹ خریدے جائیں۔ روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قربانی کے لئے سو اونٹ لے گئے ان میں ایک اونٹ ابوجہل کا تھا اس کی ناک میں سونے کا چھلا تھا اور حضرت عمر اور عمدہ اونٹ ھدی کے لئے اپنے ساتھ لے گئے، ان کو اس اونٹ کو خریدنے کے لئے تین سو دینار کی پیشکش کی گی۔ انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کہ اس اونٹ کو بیچ دیں اور اس رقم سے اور کئی اونٹ خرید لیں۔ تو آپ نے منع فرمایا بلکہ یہ حکم دیا کہ اس کو قربانی کے لئے اپنے ساتھ لے جائو، اور زید بن اسلم نے کہا الشعائر چھ ہیں، الصفا، المروۃ قربانی کے اونٹ، جمار (شیطانوں کو مارنے کی کنکریاں) المجسد الحرام، میدان عرفات اور حجراسود، اور ان کی تعظیم کا معنی یہ ہے کہ ان کے متعلق تمام افعال اور مناسک حج کو تمام و کمال کے ساتھ کیا جائے اور حضرت ابن عمر، حسن بصری، امام مالک اور ابن زید نے کہا ہے کہ منیٰ ، عرفہ، المزدلفتہ، الصفا، المروۃ اور بیت اللہ وغیرہ تمام مواضع حج شعائر اللہ ہیں۔ (روح المعانی جز 17 ص 223 مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1417 ھ)

اولیاء اللہ کے مزارات کا شعائر اللہ میں داخل ہونا 

نیز علامہ آلوسی نے لکھا ہے :

شیعہ اور ان جیسے دوسرے لوگوں نے اس آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہ ائمہ کی قبروں اور باقی صالحین کی قبروں کی تعظیم کرنا جائز ہے۔ بایں طور کہ ان پر شمعیں جلائی جائیں اور سونے اور چاندی کی مصنوعات لٹکائی جائیں اور وہ کام کئے جائیں جو بت پرست کرتے ہیں۔ (روح المعانی جز 17 ص 225)

میں کہتا ہوں کہ ائمہ سلف، صالحین اور اولیاء اللہ بھی شعائر اللہ ہیں کیونکہ جو چیز اللہ تعالیٰ کی ذات یا اس کی کسی صفت کی علامت ہو وہ شعائر اللہ ہمیں داخل ہے اور اللہ کا ولی وہ ہوتا ہے جس کو دیکھ کر خدا یاد آئے اور جس کی مجلس میں بیٹھ کر دل میں اللہ کا خوف پیدا ہو اور اس کی عبادت کی طرف دل جھک جائے، تو اللہ تعالیٰ کے ولی کے شعائر اللہ ہونے میں کیا شک ہے اور جب قربانی کا جانور شعائر اللہ کا مصداق ہوسکتا ہے تو انسان کا مل، اللہ کے نیک بندے اور اولیاء اللہ شعائر اللہ کا مصداق کیوں نہیں ہوسکتے اور جب ریت، مٹی اور پتھروں سے بنی ہوئی مسجدیں شعائر اللہ کا مصداق ہوسکتی ہیں تو اللہ کا بنایا ہوا انسان کامل اور اس کا سنوارا ہوا ولی کامل شعائر اللہ میں کیوں داخل نہیں ہوسکتا، اور ان کی قبروں کے اردگرد روشنی کرنا تاکہ مسلمان قرآن مجید کی تلاوت کرسکیں اور ان کے مزارات پر گنبد بنانا اور ان کی قبروں پر چادریں چڑھانا یقینا شعائر اللہ کی تعظیم ہے۔ البتہ اس میں اسراف کرنا اور حد سے تجاوز کرنا مثلاً بےتحاشہ چادریں چڑھانا اور سونے چاندی کے چڑھاوے چڑھانا اور ان کے عرس پر کھیل تماشے کرنا اور میلہ لگانا اور ان سے منتیں اور مرادیں مانگنا یہ تمام امور ناجائز اور حرام ہیں۔ اسی طرح ان کے مزارات کو بوسہ دینا، حد رکوع تک جھکنا اور سجدے کرنا اور طواف کرنا، یہ سب امور مکروہ اور حرام ہیں اور اگر عبادت کی نیت سے سجدہ کیا جائے تو اس کے شرک ہونے میں کیا شک ہے۔

علامہ عبدالغنی نابلسی، علامہ اسماعیل حقی، علامہ شامی، علامہ رافعی اور علامہ شعرانی نے اولیاء اللہ کی قبروں پر چادر چڑھانے، ان کے مزارات پر گنبد بنانے اور ان کی قبروں کی تعظیم کرنے کے متعلق بہت تفصیل سے لکھا ہے۔ ان عبارات کو مع حوالہ جات کے ہم نے شرح صحیح مسلم ج ٢ ص 814-822 میں لکھ دیا ہے، وہاں سے مطالعہ فرمائیں۔

اولیاءاللہ کے مزارات کو بوسہ دینا، طواف کرنا، حد رکوع تک جھکنا اور سجدہ کرنے کی ممانعت 

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی متوفی 1340 ھ لکھتے ہیں :

قبروں کا بوسہ لینا نہ چاہیے۔ (فتاویٰ رضویہ ج ٤ ص 163، مطبوعہ کراچی : 14010 ھ)

قبروں کیبوسہ دینے کو جمہور علماء مکروہ جانتے ہیں تو اس سے احتراز ہی چاہیے۔ (الی قولہ) راجح یہ ہے کہ قبر کا طواف کرنا ممنوع ہے۔ ملا علی قاری فرماتے ہیں کہ طواف کرنا کعبہ کی خصوصیات میں سے ہے پس انبیاء اور اولیاء کی قبروں کا طواف کرنا حرام ہے۔ (منسلک متوسط) (فتاویٰ رضویہ ج ٤ ص 181 ملحضاً مطبوعہ کراچی، 1410 ھ)

مزار کا طواف کہ محض بہ نیت تعظیم کیا جائے ناجائز ہے کہ تعظیم بالطواف مخصوص بہ خانہ کعبہ ہے، مزار کو بوسہ دینا نہ چاہیے۔ (فتاویٰ رضویہ ج ٤ ص ٨ مطبوعہ کراچی : 1410 ھ)

(١٧) خبردار جالی شریف کو بوسہ دینے یا ہاتھ لگانے سے بچو کہ خلاف ادب ہے۔ (فتاویٰ رضویہ ج ٤ ص 722، مطبوعہ کراچی، 1410 ھ)

(٣٨) روضہ انور کا نہ طواف کرو نہ سجدہ نہ اتنا جھکنا کہ رکوع کے برابر ہو۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعظیم ان کی اطاعت میں ہے۔ (فتاویٰ رضویہ ج ٤ ص 734 مطبوعہ کراچی، 1410 ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 22 الحج آیت نمبر 32