أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اُذِنَ لِلَّذِيۡنَ يُقٰتَلُوۡنَ بِاَنَّهُمۡ ظُلِمُوۡا‌ ؕ وَاِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَـصۡرِهِمۡ لَـقَدِيۡرُ ۞

ترجمہ:

جن لوگوں سے (ناحق) قتال کیا جاتا ہے ان کو (جہاد کی) اجازت دے دی گئی ہے کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا ہے، بیشک اللہ انکی مدد کرنے پر ضرور قادر ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جن لوگوں سے (ناحق) قتال کیا جاتا ہے، ان کو (جہاد کی) اجازت دے دی گئی ہے کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا ہے، بیشک اللہ انکی مدد کرنے پر ضرور قادر ہے۔ جن لوگوں کو ان کے گھروں سے ناحق نکالا گیا محض اتنی بات پر کہ وہ کہتے تھے کہ ہمارا رب اللہ ہے اور اگر اللہ بعض لوگوں کو دوسرے بعض لوگوں سے دور کرتا نہ رہتا تو راہبوں کی خانقاہیں اور کلیسائیں اور یہودیوں کے معبد اور جن مسجدوں میں اللہ کا بہت ذکر کیا جاتا ہے، ان سب کو ضرور منہدم کردیا جاتا، اور جو اللہ (کے دین) کی مدد کرتا ہے اللہ اس کی ضرور مدد فرماتا ہے۔ بیشک اللہ ضرورت قوت والا، بہت غلبہ والا ہے۔ (الحج :39-40)

کافروں کو قتل کرنے کی ممانعت کی توجیہات 

الحج :38 اس موقع پر نازل ہوئی تھی جب کافر کی ایذاء رسانیوں اور زیادتیوں پر مسلمانوں کو صبر کرنے کا حکم دیا گیا تھا اور ان کو معاف کرنے اور درگزر کرنے کا حکم تھا اور یہ مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے سے پہلے کا واقعہ ہے۔ مسلمانوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت طلب کی کہ وہ خفیہ طریقہ سے کافروں کو قتل کردیں تو آپ نے ان کو منع فرما دیا اور یہ آیت نازل ہوئی کہ مسلمان فکر نہ کریں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کا مشرکین سے خود دفاع کرے گا اور ان کا بدلہ لے گا، بیشک اللہ کسی خیانت کرنے والے ناشکرے کو پسند نہیں کرتا یعنی مسلمانوں کو اس سے منع کیا کہ وہ خفیہ طریقے سے کافروں کو قتل کریں کیونکہ یہ غدر دھوکا اور خیانت ہے۔ حدیث میں ہے :

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ دھوکا دینے والے اور عہد شکنی کرنے والوں کے لئے قیامت کے دن ایک جھنڈا گاڑ دیا جائے گا اور کہا جائے گا یہ فلاں بن فلاں کی عہد شکنی ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث 6178، صحیح مسلم رقم الحدیث :1735 مسند احمد رقم الحدیث :54570 عالم الکتب السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث :8737)

اس آیت کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ حجت اور دلیل کے ساتھ مسلمانوں کی مدافعت اور حفاظت کرے گا اور کوئی مشرک کسی مسلمان کو قتل نہیں کرسکے گا اور اگر کسی مشرک نے کسی مسلمان کو قتل کر بھی دیا تو مسلمان اللہ کی رحمت میں ہوگا۔

اس آیت کی چوتھی تفسیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمنوں کو یہ بشارت دی ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو کفار پر غلبہ عطا فرمائے گا اور ان کے مظالم اور ایذائوں کو مسلمانوں سے دور کر دے گا۔ جیسا کہ اس آیت میں فرمایا ہے :

لن یضروکم الا اذی وان یقاتلوکم یولوکم الادبار اثم لاینصرون۔ (آل عمران : ١١١) وہ تمہیں ایذاء پہنچانے کے سوا اور زیادہ ضرر نہیں پہنچا سکتے اور اگر انہوں نے تم سے جنگ کی تو یہ پیٹھ موڑ کر بھاگیں گے پھر ان کی مدد نہیں کی جائے گی۔

کفار سے درگزر کی آیات کا منسوخ ہونا اور ان سے قتال کی اجازت دینا 

الحج :39 میں فرمایا : جن لوگوں سے (ناحق) قتال کیا جاتا ہے ان کو (جہاد کی) اجازت دے دی گئی ہے کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا ہے۔

یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب ہیں جن کو مکہ میں مشرکین بہت سخت ایذائیں پہنچاتے تھے۔ مسلمان آپ کے پاس آتے، کسی کا سرپھٹا ہوا ہوتا، کسی کو کوڑوں سے مارا ہوا ہوتا، کسی کو تپتی ہوئی ریت پر گھسیٹا ہوا ہوتا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے فرماتے : صبر کرو، ابھی مجھے ان سے قتال کرنے کا حکم نہیں دیا گیا حتیٰ کہ آپ نے مکہ سے مدینہ ہجرت کرلی۔ ستر سے زیادہ آیتیں کفار کی ایذاء رسانیوں پر صبر کرنے کے متعلق نازل ہوئی تھیں اور یہ پہلی آیت ہے جس میں کفار سے جنگ کرنے کی اجازت دی گئی ہے اور اس آیت کے نازل ہونے کے بعد وہ تمام آیتیں منسوخ ہوگئیں جن میں کافر کی زیادتیوں پر عفو اور درگزر کا حکم دیا گیا تھا۔ یہ ستر سے زیادہ آیات درحقیقت ایک آیت کے حکم میں ہیں جن میں کفار کی زیادتیوں پر صبر کا حکم دیا گیا ہے۔

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی 310 ھ اپنی اسانید کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ چلے گئے تو حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے کہا انہوں نے اپنے نبی کو نکال دیا انا للہ و انا الیہ راجعون اور جب یہ آیت نازل ہوئی اذن للذین یقاتلون الآیۃ تو میں نے جان لیا کہ اب جنگ ہوگی۔ (جامع البیان رقم الحدیث :19098)

اس آیت کی تفسیر میں ابن زید نے کہا مشرکین کو معاف کرنے کا حکم دینے کے دس سال بعد یہ آیت نازل ہوئی اور مسلمانوں کو ان سے قتال کی اجازت دی گئی۔ (جامع البیان رقم الحدیث :19100)

قتادہ نے کہا یہ پہلی آیت ہے جس میں مسلمانوں کو کفار سے قتال کی اجازت دی گئی ہے۔ (جامع البیان رقم الحدیث :19105)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 22 الحج آیت نمبر 39