أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَنۡ يَّنَالَ اللّٰهَ لُحُـوۡمُهَا وَلَا دِمَآؤُهَا وَلٰـكِنۡ يَّنَالُهُ التَّقۡوٰى مِنۡكُمۡ‌ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَـكُمۡ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰٮكُمۡ‌ؕ وَبَشِّرِ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ۞

ترجمہ:

ان کے خون اور ان کے گوشت اللہ کے پاس ہرگز نہیں پہنچتے لیکن تمہارا تقویٰ اس کے پاس پہنچتا ہے، اسی طرح اس نے ان مویشیوں کو تمہارے لئے مسخر کردیا ہے تاکہ تم اللہ کی ہدایت کے مطابق اس کی بڑائی بیان کرو اور نیکی کرنے والوں کو بشارت دیجیے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان کے خن اور ان کے گوشت اللہ کے پاس ہرگز نہیں پہنچتے لیکن تمہارا تقویٰ اس کے پاس پہنچتا ہے، اسی طرح اس نے ان مویشیوں کو تمہارے لئے مسخر کردیا ہے تاکہ تم اللہ کی ہدیات کے مطابق اس کی بڑائی بیان کرو او نیکی کرنے والوں کو بشارت دیجیے۔ بیشک اللہ ایمان والوں کی مدافعت کرتا ہے، بیشک اللہ کسی خیانت کرنے والے ناشکرے کو پسند نہیں کرتا۔ (الحج 37-38)

آیت مذکورہ کا شان نزول 

امام عبدالرحمٰن بن علی بن محمد جوزی المتوفی 597 ھ لکھتے ہیں :

اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ مشرکین جب کسی جانور کو ذبح کرتے تھے تو اس کا خون کعبہ کی دیواروں پر چھڑکتے تھے، ان کو دیکھ کر مسلمانوں نے بھی اس طرح کرنے کا ارادہ کیا تو اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اس کو ابو صالح نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے۔ مفسرین نے اس آیت کا یہ معنی بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس قربانی کے جانوروں کا خون اور گوشت نہیں پہنچایا جاتا، اس کے پاس صرف تقویٰ پہنچایا جاتا ہے اور جس عمل سے صرف اللہ کی رضا کا ارادہ کیا جائے اور اس آیت میں یہ اشارہ ہے کہ اگر اللہ کا تقویٰ نہ ہو تو اللہ تعالیٰ کسی جانور کے خون اور گوشت کو قبول نہیں فرماتا اور اس میں یہ تنبیہ ہے کہ جب کسی عمل کی نیت صحیح نہ ہو تو اس عمل کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ (زاد المسیر ج ٥ ص 434 مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، 1407 ھ)

قربانی کی دعا ذبح سے پہلے یا ذبح کے بعد مانگی جائے نہ کہ ذبح کرنے کی حالت میں 

اس آیت میں یہ بھی فرمایا ہے کہ جانور کو ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لینا چاہیے اور اس کی تکبیر پڑھنا چاہیے۔

حضرت جندب بجلی (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس عید الاضحی کے موقع پر حاضر ہوا آپ نے نماز پڑھائی پھر خطبہ دیا اور فرمایا جس نے نماز سے پہلے ذبح کرلیا وہ دوبارہ ذبح کرے اور جس نے ابھی تک ذبح نہیں کیا وہ اللہ کا نام لے کر ذبح کر۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث :1960)

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یوم الاضحی کو دوسینگوں والے سرمئی رنگ کے خصی مینڈھے ذبح کئے جب آپ نے ان کا منہ قبلہ کی طرف کر کے ان کو لٹا دیا تو یہ دعا پڑھی :

انی وجھت وجھی للذی فطر السموات والارض علی ملۃ ابراہیم حنیفا وما انا من المشرکین ان صلاتی و نس کی و محیای و مماتی اللہ رب العلمین لاشریک لک و بذالک امرت و انا من المسلمین اللھم منک ولک عن محمد و امتہ بسم اللہ واللہ اکبر۔ میں اپنا رخ اس ذات کی طرف کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا۔ میں ابراہیم کی ملت پر ہوں درآں حالیکہ میں باطل مذاہب سے اعراض کرنے والا ہوں اور میں مشرکین سے نہیں ہوں۔ بیشک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ رب العلمین کے لئے ہے۔ (اے اللہ ! ) تیرا کوئی شریک نہیں ہے اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمانوں میں سے ہوں۔ اے اللہ ! یہ قربانی تیری توفیق سے اور تیرے لئے ہے محمد اور اس کی امت کی طرف سے اللہ کے نام سے اور اللہ سب سے بڑا ہے۔

یہ دعا پڑھنے کے بعد آپ نے ان کو ذبح کرد یا۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث :2795 سنن الترمذی رقم الحدیث :1521 سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :1321)

اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ آپ نے ذبح کرنے سے پہلے اپنی اور امت کی طرف سے قربانی کے مقبول ہونے کی دعا کی۔

عروۃ بن الزبیر حضرت عائشہ(رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک سینگوں والے مینڈھے کو لانے کا حکم دیا جس کی ٹانگیں سیاہ ہوں اور اس کا پچھلا حصہ سیاہ ہو اور اس کی آنکھیں سیاہ ہوں، آپ کے پاس وہ مینڈھا قربانی کے لئے لایا گیا پھر آپ نے حضرت عائشہ (رض) سے فرمایا چھری لائو پھر فرمایا اس کو پتھر سے تیز کرو۔ حضرت عائشہ فرمتای ہیں : پس میں نے ایسا کیا پھر آپ نے چھری لی اور مینڈھے کو پکڑ کر لٹایا پھر اس کو ذبح کیا پھر یہ دعا کی :

باسم اللہ اللھم تقبل من محمد وال محمد ومن امۃ محمد۔ اللہ کے نام سے، اے اللہ اس قربانی کو محمد اور آل محمد اور امت محمد کی طرف سے قبو فرما۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث :1967، سنن ابودائود رقم الحدیث :2792)

اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ آپ نے ذبح کرنے کے بعد اپنے اور اہل بیت اور امت کی طرف سے قربانی کے قبول ہونے کی دعا کی۔

علامہ ابو عبداللہ مالکی قرطی نے لکھا ہے کہ ذبح کرنے والے کا یہ کنا اللھم تقبل منی جائز ہے اور امام ابوحنیفہ نے اس کو مکروہ کہا ہے اور ان کے خلاف وہ حدیث حجت ہے جو صحیح مسلم میں ہے، آپ نے فرمایا بسم اللہ اللھم تقبل من محمد وآل محمد و من امۃ محمد۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ۃ ص 63 مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1415 ھ)

اسی طرح علامہ یحییٰ بن شرف نواوی متوفی 676 ھ نے صحیح مسلم کی اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے :

اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ ذبح کرنے والا، ذبح کرنے کے حال میں بسم اللہ اللہ اکبر کے ساتھ کہے : اللھم تقبل منی اے اللہ میری طرف سے قبول فرما اور یہ ہمارے اور حسن کے نزدیک مستحب ہے اور امام ابوحنیفہ اور ماما مالک نے اس کو مکرو کہا ہے اور کہا ہے کہ یہ بدعت ہے۔ (شرح مسلم للنواوی ج ٩ ص 5394 مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ، 1417 ھ)

میں کہتا ہوں کہ علامہ قرطبی اور علامہ نووی نے صحیح نہیں لکھا۔ کوئی مسلمان بھی اللہ سے دعا کرنے کو مکروہ نہیں کہہ سکتا چہ جائیکہ امام اعظم ابوحینفہ اللہ سے دعا کرنے کو مکروہ کہیں اور حدیث میں یہ نہیں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پہلے مینڈھے کو ذبح کیا اور اس کے بعد اپنے اور اہل بیت اور امت کے لئے دعا کی، اور امام ابوحنیفہ نے ذبح کرتے وقت داع سے اس لئے منع کیا ہے کہ جانور غیر اللہ کے نام پر ذبح نہ ہوجائے جب وہ ذبح کرتے وقت یہ دعا کرے گا اے اللہ ! اس کو میری طرف سے میرے گھر والوں کی طرف سے اور تمام امت کی طرف سے قبول فرما تو ذبیحہ پر اللہ کے ساتھ غیر اللہ کا نام بھی بولا جائے گا۔ البتہ اگر چھری پھیرنے سے پہلے دعا کرے یا چھری پھیرنے کے بعد دعا کرے تو پھر یہ جائز ہے۔

علامہ علاء الدین محمد بن علی بن محمد حصکفی حنفی متوفی 1088 ھ لکھتے ہیں :

بسم اللہ پڑھنے میں یہ شرط ہے کہ ذکر خالص ہو اور اس میں دعا کی آمیزش نہ ہو (الی قولہ) اور اگر اس نے اللہ کے نام کے ساتھ غیر اللہ کو ملا کر ذکر کیا مثلاً بسم اللہ اللھم تقبل من قلان تو یہ مکروہ ہے۔ (الی قولہ) اور اگر اس نے فصل کرلیا۔ مثلاً ذبح کرنے سے پہلے دعا کرلی یا ذبح کرنے کے بعد دعا کرلی تو اب صحیح ہے کیونکہ اب ذبح کے وقت اللہ کے نام کے ساتھ غیر اللہ کے نام کا اتصال نہیں ہوا۔ (الدرالمختار مع ردالمختارج ٩ ص 362, 364 داراحیاء التراث العربی بیروت، 1417 ھ)

اور علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی 1252 ھ اس عبارت کی شرح میں لکھتے ہیں :

اگر اس نے ذبح کے وقت اللہ کا نام لینے اور اپنایا کسی اور کا نام لینے میں صورۃ یا معنی فصل کرلیا تو یہ جائز ہے۔ مثلاً اس نے جانور کو لٹایا پھر بسم اللہ، اللہ اکبر پڑھ کر جانور ذبح کیا پھر دعا کی یا پہلے دعا کی پھر بسم اللہ پڑھ کر جانور کو ذبح کیا تو یہ جائز ہے اور حدیث میں ہے پہلے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بسم اللہ پڑھ کر مینڈھا ذبح کیا پھر دعا کی۔ (ردا المختارج ٩ ص 363-364 مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، 1417 ھ)

قربانی کے جانوروں اور صدقہ فطر میں تنوع 

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : صرف مسنہ کی قربانی کرو، ہاں اگر دنبوں میں مسنہ دشوار ہو تو چھ ماہ کے دنبہ کی قربانی کرسکتے ہو۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث :2797، صحیح مسلم رقم الحدیث 4390 سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :1341)

بکرے، گائے اور اونٹ میں مسنہ اس جانور کو کہتے ہیں، جس کے دودھ پینے کے دانتوں کی جگہ چرنے اور کھانے کے دانت نکل آئے ہوں۔ بکروں میں دو دانت اس وقت نکل آتے ہیں جب اس کی عمر ایک سال کی ہوچکی ہو اور گائے اور اونٹ میں دو دانت اس وقت نکل آتے ہیں جب گائے کی عمر دو سال کی ہوچکی ہو اور اونٹ کی عمر پانچ سال کی ہوچکی ہو۔

جس طرح قربانی کے جانوروں میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تنوع کو مشروع اور مسنون فرمایا۔ یعنی بکرے، گائے اور اونٹ ہر ایک کی قربانی ہوسکتی ہے اور آپ کی ہے اور اب تک مسلمان حسب استطاعت بکروں، گایوں اور اونٹوں کی قربانی کرتے ہیں، اسی طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صدقہ فطر میں بھی تنوع کو مشروع فرمایا ہے، حدیث میں ہے :

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں ہم ایک صاع (چار کلو گرام) طعام (صدقہ فطر) ادا کرتے تھے یا ایک صاع (چار کلو) کھجوریں یا ایک صاع (چار کلو) جو ایک صاع (چار کلو) پنیریا ایک صاع (چار کلو) کشمش، جب حضرت معاویہ کا زمانہ آیا تو گندم آگیا اور انہوں نے کہا میری رائے میں نصف صاع (دو کلو) گندم ان کے چار کلو کے برابر ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :1507, 1506 سنن ابو دائود رقم الحدیث :1670 سنن الترمذی رقم الحدیث :676 سنن النسائی رقم الحدیث : 2511 سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :1829)

آج کل (2001 ء میں) نصف صاع یعنی دو کلو گندم تقریباً چھبیس روپے کے ہیں اور چار کلو کھجور تقریباً دو سو روپے کی ہیں اور چار کلو کشمش تقریباً چار سو روپے کی ہیں اور چار کلو پنیر تقیرباً ایک ہزار روپے کا ہے سو جس طرح قربانی کے جانوروں میں تنوع ہے اور ان کے کئی اقسام ہیں، اسی طرح صدقہ فطر میں بھی تنوع ہے اور اس کی کئی اقسام ہیں اور جو لوگ جس حیثیت کے ہوں وہ اس حیثیت سے صدقہ فطر ادا کریں۔ مثلاً جو کروڑ پتی لوگ ہیں، وہ چار کلوپنیر کے حساب سے صدق فطر ادا کریں جو لکھ پتی ہیں، وہ چار کلو کشمش کے حساب سے صدقہ فطر ادا کریں اور جو ہزاروں روپوں کی آمدنی والے ہیں وہ چار کلو گرام کھجور کے حساب سے صدقہ فطر ادا کریں اور جو سینکڑوں کی آمدنی والے ہیں، وہ دو کلو گندم کے حساب سے صدقہ فطر ادا کریں، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ آج کل کروڑ پتی ہوں یا سینکڑوں کی آمدنی والے ہوں، سب دو کلو گندم کے حساب سے صدقہ فطر ادا کرتے ہیں اور تنوع پر عمل نہیں کرتے، جب کہ قربانی کے جانوروں میں لوگ تنوع پر عمل کرتے ہیں اور کروڑ پتی لوگ کئی کئی لاکھ کے بیل خرید کر اور متعدد قیمتی اور مہنگے دنبے اور بکرے خرید کر ان کی قربانی کرتے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے ؟ ہم اپنا جائزہ لیں کہیں اس کی یہ وجہ تو نہیں ہے کہ قربانی کے مہنگے اور قیمتی جانور خرید کر ہمیں اپنی شان و شوکت اور امارت دکھانے کا موقع ملتا ہے۔ ہم بڑے فخر سے وہ قیمتی جانور اپنے عزیزوں اور دوستوں کو دکھاتے ہیں اور نمود اور نمائش کرتے ہیں اور صدقہ فطر کسی غریب آدمی کے ہاتھ پر رکھ دیا جاتا ہے، اس میں دکھانے اور سنانے اور اپنی امارت جتانے کے مواقع نہیں ہیں، اس لئے کروڑ پتی سے لے کر عام آدمی تک سب دو کلو گندم کے حساب سے صدقہ فطر ادا کرتے ہیں۔ سوچیے ہم کیا کر رہے ہیں ڈ ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن یہ ساری قربانیاں ریا کاری قرار دے کر ہماری منہ پر ماروی جائیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قربانی کے جانوروں کی متعدد قسمیں اس لئے کی ہیں کہ ہر طبقہ کے لوگ اپنی حیثیت کے لحاظ سے قربانی کا تعین کریں۔ اسی طرح آپ نے صدقہ فطر کی متعدد اقسام بھی اس لئے کی ہیں کہ ہر طبقہ کے لوگ اپنی حیثیت کے لحاظ سے صدقہ فطر ادا کریں سو جس طرح ہم اپنی حیثیت کے لحاظ سے قربانی کے جانوروں کا تعین کرتے ہیں، اسی طرح ہمیں اپنی حیثیت کے لحاظ سے صدقہ فطر کی قسم کا تعین بھی کرنا چاہئی اور تمام طبقات کے لوگوں کو صرف دو کلو گندم کے حساب سے صدقہ فطر کو نہیں ٹرخانا چاہیے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 22 الحج آیت نمبر 37