مجدد الفِ ثانی و مجدد بریلی میں مناسبت و مماثلت

(ولادتِ مجددینِ اسلام کے ماہِ مبارک کی مناسبت سے…)

از: ابوزہرہ رضوی مالیگ اعلیٰ حضرت کے پیغام اور تعلیمات میں دسویں صدی ہجری کی عظیم شخصیت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی کی آواز بازِگشت سُنی جا سکتی ہے۔

    دونوں نے عقیدۂ توحید اور عشق و اتباعِ مصطفیٰ پر زور دیا۔

    دونوں نے سلفِ صالحین کے عقائد و افکار کی ترویج کی۔

    دونوں نے شریعت و طریقت میں فرق کرنے والوں کا محاسبہ کیا۔

    دونوں نے اہلِ بدعت اور باطل فرقوں کے خلاف قلمی اور عملی جہاد کیا۔

    دونوں نے گستاخانِ رسول، مدعیانِ نبوت، صحابہ و اہلبیت کے دشمنوں کا تعاقب کیا۔

    دونوں نے دو قومی نظریے کا احیاء کیا-

    دونوں نے عوام و خواص کی اصلاح کا بیڑہ اُٹھایا۔

    دونوں کے خلفا نے ان کے مشن کو آگے بڑھایا اور برصغیر پاک و ہند پر انقلابی اثر ڈالا۔

    دونوں نے ایسی تصانیف یادگار چھوڑیں جو پچھلوں کی سمجھ سے بھی بالاتر ہیں۔

(ص۔۲۸۳، انتخاب حدائق بخشش، از ڈاکٹر محمد مسعود احمد)

    دونوں شخصیات میں علمی و فکری یک جہتی، دینی و ملی کارناموں میں یک رنگی، اپنی ہمہ گیر خدمات و اثرات میں غیر معمولی یکسانیت کے علاوہ تاریخی اور واقعاتی حوالہ سے ذاتی اور شخصی نوعیت کی مماثلت اور وحدت بھی نظر آتی ہے،

مثلاً : دونوں کی ولادت و وفات کے زمانے… کہا جاتا ہے کہ جس دن امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی اسی دن امام شافعی کی ولادت ہوئی ہے۔ (ص۔۵۳۴، سیرالاولیاء) جس سے قدرت کا یہ منشا معلوم ہوتا ہے کہ ایک مجتہد کا دور ختم ہوتے ہی دوسرا مجتہد دُنیا میں آ رہا ہے؛ یا یہ کہ ایک مجتہد کے کام کو آگے بڑھانے کے لئے دوسرا مجتہد جلوہ گر ہو رہا ہے۔

    مجدد سرہندی کی ولادت ١٤؍ شوال کو ہوئی۔ اعلیٰ حضرت کی ولادت ۱۰؍ شوال کو دونوں کے مہینے ایک ہیں؛ اور ایام بھی قریب قریب ہیں۔

    سال اور سنہ دیکھیں تو مجدد الف ثانی ۹۷۱ھ میں پیدا ہوئے تو اعلیٰ حضرت ۱۲۷۲ھ میں گویا اپنی اپنی صدیوں میں ایک ہی عرصہ اور وقت ہے؛ اسی طرح وقتِ وفات میں بھی یہی یکسانیت موجود ہے۔

    مجدد سرہندی نے ۲۸؍ صفر کو وصال فرمایا؛ تو اعلیٰ حضرت کا وصال ۲۵؍ صفر کو؛ یہاں بھی وہی چیز ہے۔ دونوں کا مہینہ ایک اور تاریخیں بھی قریباً ایک سی؛ البتہ سنہ و سال میں معمولی فرق ہے کہ مجدد صاحب ١٠٣٤ھ میں فوت ہوئے تو اعلیٰ حضرت ١٣٤٠ھ میں۔

    جس طرح زمینی اور مکانی اعتبار سے ہم دیکھتے ہیں کہ وہ تمام علاقے تھانیسر، گووندوال، نگر کوٹ اور امرتسر ایک دائرہ کی شکل بنتے ہیں جہاں سے ہندوؤں کی احیائی تحریکیں اُٹھی تھیں اور جس کے نتیجہ میں دین الٰہی کا فتنہ ظاہر ہوا۔ قدرت نے ٹھیک انہی مقامات کے درمیان سرہند میں آپ (مجدد الف ثانی) کو پیدا فرمایا… اسی طرح اعلیٰ حضرت کے دور میں وہ تمام مقامات دیوبند، قادیان، سہارنپور، علی گڑھ، ندوہ (لکھنؤ) اور دہلی جہاں سے وہابیت، دیوبندیت، قادیانیت، نیچریت، غیر مقلدیت اور صلح کلیت کے فتنے اٹھے تھے ان تمام علاقوں کے بیچ ایک مرکزی مقام “شہر بریلی” میں آپ کو پیدا فرمایا؛ تاکہ وہ ہر محاذ پر بیک وقت نبرد آزما ہو سکیں۔

[ماخوذ: امام احمد رضا خدمات و اثرات، از ابوزہرہ رضوی، مطبوعہ رضا ریسرچ اینڈ پبلشنگ بورڈ مانچسٹر/نوری مشن مالیگاؤں]