أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَعَلِّىۡۤ اَعۡمَلُ صَالِحًـا فِيۡمَا تَرَكۡتُ‌ؕ كَلَّا‌ ؕ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآئِلُهَا‌ؕ وَمِنۡ وَّرَآئِهِمۡ بَرۡزَخٌ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ ۞

ترجمہ:

تاکہ میں اس دنیا میں وہ نیک کام کرلوں جن کو میں چھوڑ آیا ہوں، ہرگز نہیں، یہ طرف ایک بات ہے جس کو یہ کہہ رہا ہے اور ان کے پس پشت ایک حجاب ہے جس دن تک ان کو اٹھایا جائے گا

موت کے وقت ہر شخص کو لازماً علم ہوگا کہ وہ اللہ کے اولیاء میں سے ہے یا اس کے اعداء میں سے 

یہ آیت اس پر بھی دلالت کرتی ہے کہ جس شخص کو بھی موت آئے گی اس کو مرنے سے پہلے معلوم ہو جاء یگا کہ وہ اللہ کے الویاء میں سے ہے یا اللہ کے اعداء میں سے ہے، وہ کہے گا تاکہ میں دنیا میں وہ نیک کام کرلوں جن کو میں نے ترک کردیا تھا

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا نیک عمل سے مراد کلمہ شہادت ہے یعنی اس نے کلمہ شہادت کے تقاضے کے مطابق جو اطاعات ترک کردیں اور ان کو ضائع کردیا اور وہی شخص دنیا میں دوبارہ لوٹائے جانے کا سوال کرے گا جس کو اپنے عذاب کا یقین ہوجائے گا۔

لعل اور کلا کا معنی 

لعل کا معنی ہوتا ہے شاید جس کام کے ہنے یا نہ ہونے کا تردد ہو، مرنے والے کو اس میں تردد ہوگا کہ اس کو لوٹا دیا جائے گا یا نہیں اور اس میں تردد ہوگا کہ اس کو عبادت کی توفیق ہوگی یا نہیں ورنہ اس کا اپنی طرف سے نیک عمل کرنے کا پختہ ارادہ ہوگا اس صورت میں اس آیت کا معنی ہوگا کہ میں نے جو اطاعات ترک کی ہیں شاید میں لوٹائے جانے کے بعد نیک عمل کروں لعل کا معنی تاکہ بھی ہوتا ہے اور ہم نے ترجمہ میں یہی معنی کیا ہے تاکہ میں اس دنیا میں وہ کام کرلوں جن کو میں چھوڑ کر آیا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کلا یعنی ہرگز نہیں اس کا معنی یہ ہے کہ تمہاری دعا ہرگز قبول نہیں کی جائے گی اور تم کو دنیا میں دوبارہ ہرگز نہیں بھجیا جائے گا اور اس کا یہ معنی بھی ہے کہ اگر تم کو دنیا میں دوبارہ بھیج بھی دیا تو تم نیک عمل ہرگز نہیں کرو گے بلکہ جس طرح پہلے عمل کرتے تھے اسی طرح عمل کرو گے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے :

(الانعام : ٢٨) اور اگر ان لوٹا بھی دیا جائے تو یہ پھر وہی کام کریں گے جن سے ان کو منع کیا گیا تھا۔

اس لئے فرمایا : یہ صرف ایک بات ہے جس کو یہ کہہ رہا ہے، یعنی یہ صرف زبانی دعیٰ ہے اور محض دفع وقتی کے طور پر ایک بات کہی ہے۔

برزخ کا معنی 

ان کے پس پشت تک برزخ ہے جس دن تک انہیں اٹھایا جائے گا۔

برزخ کا معنی ہے دو چیزوں کے درمیان کی حد، روک، حائل، موت سے حشر تک کے عالم کو برزخ کہتے ہیں۔

علامہ قرطبی مالکی متوفی ٦٦٨ ھ نے لکھا ہے جو وقت موت اور حشر کے درمیان حائل ہے وہ برزخ ہے یہ ضحاک، مجاہد اور ابن زید کا قول ہے، ضحاک نے کہا جو وقت دنیا اور آخرت کے درمیان ہے وہ برزخ ہے حضرت ابن عباس (رض) نے کہا برزخ حجاب ہے۔ ابن عیسیٰ نے کہا قیامت تک کی مہلت برزخ ہے کلبی نے کہا دو صوروں کی درمیان جو مدت ہے وہ برزخ ہے اور یہ مدت چالیس سال ہے، یہ تمام اقوال متقارب ہیں اور ہر وہ چیز جو دو چیزوں کے درمیان حائل ہو وہ برزخ ہے، جوہری نے کہا جو چیز دو چیزوں کے درمیان حائل ہو وہ برزخ ہے اور برزخ دنیا اور آخرت کے درمیان موت کے وقت سے لے کر حشر تک کا وقت ہے۔ سو جو شخص مرگیا وہ عالم برزخ میں دخل ہوگیا۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ١٢ ص ١٣٩ مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 23 المؤمنون آیت نمبر 100