أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنۡ وَّلَدٍ وَّمَا كَانَ مَعَهٗ مِنۡ اِلٰهٍ‌ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۢ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ‌ؕ سُبۡحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا يَصِفُوۡنَۙ ۞

ترجمہ:

اللہ نے اپنی کوئی اولاد نہیں بنائی اور نہ اس کے ساتھ کوئی عبادت کا مستحق ہے ورنہ ہر معبود اپنی مخلوق کو الگ کرلیتا اور ان میں سے بعض دور سے بعض پر غالب آجاتے، اللہ ان اوصاف سے پاک ہے کہ یہ اس کے متعلق بیان کرتے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اللہ نے (اپنی) کوئی اولاد نہیں بنائی اور نہ اس کے ساتھ کوئی عبادت کا مستحق ہے، ورنہ ہر معبود اپنی مخلوق کو الگ کرلیتا اور ان میں سے بعض دوسرے بعض پر غالب آجاتے، اللہ ان اوصاف سے پاک ہے جو یہ اس کے متعلق بیان کرتے ہیں۔ وہ ہر باطن اور ظاہر کا جاننے والا ہے اور وہ اس شرک سے بلند ہے جو وہ اس کے متعلق کہتے ہیں۔ (المومنون : ٩٢-٩١)

اللہ تعالیٰ کی اولاد نہ ہونے اور اس کا شریک نہ ہونے پر دلائل 

المومنون : ٩١ میں اللہ تعالیٰ نے دو دعویٰ کئے ایک یہ دعویٰ فرمایا کہ اس کی کوئی اولاد نہیں ہے اور اس میں ان مشرکین کا رد فرمایا جو کہتے تھے کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں اور دوسرا دعویٰ یہ فرمایا کہ اس کے ساتھ کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے اس میں مقصود ہو کیونکہ عیسائی کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے اور مجسوی یہ کہتے تھے کہ عبادت کے وہ مستحق ہیں یزداں خالق خیر ہے اور اہرمن خالق شر ہے۔ پھر فرمایا اپنے سے ضعیف پر غالب آنا چاہتا آجاتے جیسے جب متعدد بادشاہوں تو ان میں اور اس دلیل سے اللہ کی اولاد کی بھی نفی ہوتی ہے کیونکہ بیٹا بھی ملک اور سلطنت کے حصول کے لئے باپ پر غالب کرنے کی کوشش کرتا ہے جیسے ایک رنگ زیب نے اپنے باپ شاہ جہاں کو اقتدار سے محروم کے قید خانہ میں ڈال دیا تھا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 23 المؤمنون آیت نمبر 91