وَعَلَّمَ اٰدَمَ الۡاَسْمَآءَ کُلَّہَا ثُمَّ عَرَضَہُمْ عَلَی الْمَلٰٓئِکَۃِ ۙ فَقَالَ اَنْۢبِـُٔوْنِیْ بِاَسْمَآءِ ہٰۤؤُلَآءِ اِنۡ کُنۡتُمْ صٰدِقِیۡنَ﴿۳۱﴾

ترجمۂ کنزالایمان: اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھائے پھر سب اشیاء ملائکہ پر پیش کرکے فرمایا سچے ہو تو ان کے نام تو بتاؤ ۔
ترجمۂ کنزالعرفان:اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھادیے پھر ان سب اشیاء کو فرشتوں کے سامنے پیش کرکے فرمایا: اگر تم سچے ہو تو ان کے نام تو بتاؤ۔
{وَعَلَّمَ اٰدَمَ الۡاَسْمَآءَ کُلَّہَا:اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھادیے۔} اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر تمام اشیاء پیش فرمائیں اور بطورِ الہام کے آپ کو ان تمام چیزوں کے نام، کام، صفات، خصوصیات، اصولی علوم اور صنعتیں سکھا دیں۔ (بیضاوی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۳۱، ۱/۲۸۵-۲۸۶)
{اَنْۢبِـُٔوْنِیْ بِاَسْمَآءِ ہٰۤؤُلَآءِ: مجھے ان کے نام بتاؤ۔ }تمام چیزیں فرشتوں کے سامنے پیش کرکے ان سے فرمایا گیا کہ اگر تم اپنے اس خیال میں سچے ہو کہ تم سے زیادہ علم والی کوئی مخلوق نہیں اور خلافت کے تم ہی مستحق ہو تو ان چیزوں کے نام بتاؤ کیونکہ خلیفہ کا کام اختیار استعمال کرنا، کاموں کی تدبیر کرنااور عدل و انصاف کرناہے اور یہ بغیر اس کے ممکن نہیں کہ خلیفہ کو ان تمام چیزوں کا علم ہو جن پر اسے اختیار دیا گیاہے اور جن کا اسے فیصلہ کرنا ہے۔
علم کے فضائل:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے فرشتوں پرافضل ہونے کا سبب’’ علم‘‘ ظاہر فرمایا: اس سے معلوم ہوا کہ علم خلوتوں اور تنہائیوں کی عبادت سے افضل ہے۔

حضرت ابو ذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مجھ سے ارشاد فرمایا’’اے ابو ذر!رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ،تمہاراا س حال میں صبح کرنا کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی کتاب سے ایک آیت سیکھی ہو،یہ تمہارے لئے 100 رکعتیں نفل پڑھنے سے بہتر ہے اورتمہاراا س حال میں صبح کرنا کہ تم نے علم کا ایک باب سیکھا ہوجس پر عمل کیا گیا ہو یا نہ کیا گیاہو،تو یہ تمہارے لئے 1000نوافل پڑھنے سے بہتر ہے۔
(ابن ماجہ،کتاب السنّۃ، باب فی فضل من تعلّم القرآن وعلّمہ، ۱/۱۴۲، الحدیث: ۲۱۹)

حضرت حذیفہ بن یمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’علم کی فضیلت عبادت کی فضیلت سے زیادہ ہے اور تمہارے دین کی بھلائی تقویٰ (اختیار کرنے میں ) ہے۔ (معجم الاوسط، من اسمہ علی، ۳/۹۲، الحدیث:۳۹۶۰)
انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَام فرشتوں سے افضل ہیں :
واقعہ آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے یہ بھی معلوم ہوا کہ انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام فرشتوں سے افضل ہیں ، اور یہ عقیدہ کئی دلائل سے ثابت ہے،ان میں سے 6 دلائل درج ذیل ہیں :
(1)…حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اللہ تعالیٰ نے اپنا خلیفہ بنایا اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ فرشتوں سے افضل ہیں کیونکہ ہر شخص یہ بات اچھی طرح جانتا ہے بادشاہ کے نزدیک لوگوں میں سب سے بڑے مرتبے والا وہ شخص ہوتا ہے جو ولایت اور تصرف میں بادشاہ کا قائم مقام ہو۔
(2)…حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام فرشتوں سے زیادہ علم رکھنے والے ہیں اور جسے زیادہ علم ہو وہ افضل ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
قُلْ ہَلْ یَسْتَوِی الَّذِیۡنَ یَعْلَمُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ لَا یَعْلَمُوۡنَ (زمر: ۹)
ترجمۂ کنزالعرفان:تم فرماؤ: کیا علم والے اور بے علم برابر ہیں ؟
(3)…اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو یہ حکم دیاکہ وہ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو سجدہ کریں ،اس سے معلوم ہوا کہ وہ فرشتوں سے افضل ہیں کیونکہ سجدے میں انتہائی تواضع ہوتی ہے اور کسی کے سامنے انتہائی تواضع وہی کرے گا جو اس سے کم مرتبے والا ہو۔
(4)…اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
’’اِنَّ اللہَ اصْطَفٰۤی اٰدَمَ وَنُوۡحًا وَّ اٰلَ اِبْرٰہِیۡمَ وَ اٰلَ عِمْرٰنَ عَلَی الْعٰلَمِیۡنَ﴿ۙ۳۳﴾‘‘ (اٰل عمران: ۳۳)
ترجمۂ کنزالعرفان:بیشک اللہ نے آدم اور نوح اور ابراہیم کی اولاد اور عمران کی اولاد کو سارے جہان والوں پر چن لیا ۔
اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو تمام مخلوقات پر چن لیا اور چونکہ مخلوقات میں فرشتے بھی داخل ہیں اس لئے اِن پر بھی اُن انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو چنا گیا لہٰذا وہ فرشتوں سے افضل ہوئے۔
(5)…اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے بارے میں ارشاد فرمایا:
’’وَمَاۤ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیۡنَ‘‘ (انبیاء: ۱۰۷)
ترجمۂ کنزالعرفان:اور ہم نے تمہیں تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر ہی بھیجا ۔ اور چونکہ عالمین میں فرشتے بھی داخل ہیں اس لئے رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اِن کے لئے بھی رحمت ہوئے اور جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ فرشتوں کے لئے رحمت ِ مطلق ہیں تو یقینا ان سے افضل بھی ہیں۔
(6)…حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’میرے دو وزیر آسمانوں میں ہیں اور دو وزیر زمین میں ہیں۔آسمانوں میں میرے دو وزیر حضرت جبرئیل اور حضرت میکائیل عَلَیْہِمَا السَّلَامہیں اور زمین میں میرے دو وزیر حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاہیں۔
(مستدرک، کتاب التفسیر، من سورۃ البقرۃ، ۲/۶۵۳-۶۵۴، الحدیث: ۳۱۰۰-۳۱۰۱)
اس حدیث ِپاک سے معلوم ہو اکہ حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ بادشاہ کی طرح ہیں اور حضرت جبرئیل اور حضرت میکائیل عَلَیْہِمَا السَّلَامدونوں ان کے وزیروں کی طرح ہیں اور چونکہ بادشاہ وزیر سے افضل ہوتا ہے اس لئے ثابت ہوا کہ حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ فرشتوں سے افضل ہیں۔ (تفسیر کبیر، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۳۴، ۱/۴۴۵)