أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَدِمۡنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوۡا مِنۡ عَمَلٍ فَجَعَلۡنٰهُ هَبَآءً مَّنۡثُوۡرًا ۞

ترجمہ:

انہوں نے (اپنے زعم میں) جس قدر (نیک) کام کئے تھے ہم ان کی طرف قصد کریں گے اور ان کو فضا میں بکھرے ہوئے (غبار کے) باریک ذرے بنادیں گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انہوں نے (اپنے زعم میں) جس قدر (نیک) کام کئے تھے ہم ان کی طرف قصد کریں گے اور ان کو فضا میں بکھیر ہوئے (غبار کے) باریک ذرے بنادیں گے۔ اس دن جنت والوں کا بہترین ٹھکانا ہوگا اور نہایت عمدہ خواب گا ہوگی۔ (الفرقان : ٢٤-٢٣ )

ھباء منثوراً کا معنی 

الازہری نے کہا سورج کی شعا میں جو کھڑکی یا روشن دان سے کمرے میں داخل ہوتی ہیں وہ شعاعیں غبار کے منتشر ذرات کے مشابہ ہوتی ہیں ان کو الھباء کہتے ہیں اور منثوراً کے معنی ہیں بکھری ہوئی اور منتشر چیز اور اس آیت کا معنی یہ ہے کہ کفار نے اپنے زعم میں جو نیک اعمال کئے تھے وہ آخرت میں ریزہ ریزہ کر کے ضائع کردیئے جائیں گے اور وہ فضا میں بکھرے ہوئے سورج کی شعاعوں کے باریک ذرات کی طرح ہو اجئیں گے کیونکہ ایمان کے بغیر کوئی صالح عمل مقبول نہیں ہوتا۔

ھباء منثورا کی تفسیر میں ایک وہ قول ہے جس کو ہم نے الازہری کے حالے سے نقل کیا ہے یعنی روشن دان سے دخل ہونے وال شاعوں میں غبار کی مانند باریک ذرات، اس کے عالوہ دیگر اقوال حسب ذیل ہیں :

ضحاک نے کہا اس کا معنی ہے گرد و غبار، قتادہ نے کہا آندھیاں جو درخت کے پتے اور کوڑا کرکٹ اڑاتی ہیں۔ معلی بن عبیدہ نے کہا اس کا معنی ہے یراکھ۔

حضرت ابو حذیفہ (رض) کے آزاد کردہ غلام سالم نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن کچھ لوگ آئیں گے جن کے پاس تہامہ کے پہاڑوں جتنی نیکیاں ہوں گی حتیٰ کہ جب ان کو لایا جائے گا تو اللہ تعالیٰ ان کی نیکیوں کو ھباء منثورا کر دے گا، پھر ان کو دوزخ میں ڈال دے گا۔ سالم نے کہا یا رسول اللہ ! آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں ! یہ بتائیں کہ وہ کیسے لوگ ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا وہ لوگ نماز پڑھتے ہوں گے، روزے رکھتے ہوں گے، نیند سے بیدار ہو کر رات کو قیام کرتے ہوں گے، لیکن جب ان کے اوپر کوئی حرام چیز کی جائے گی تو وہ اس پر اچھل پڑیں گے (گرم جوشی سے اس کو قبول کریں گے) اللہ تعالیٰ ان کے ان نیک اعمال کو ضائع فرما دے گا۔ (الدرا المنثور ج ٥ ص 224, 225 مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، ١٤٢١ ھ) 

نیکیاں صرف کفر اور ارتداد سے ضائع کی جاتی ہیں اس لئے اس حدیث کا محمل یہ ہے کہ وہ حرام چیزوں اور حرام کاموں کو جائز اور حلال سمجھیں گے اور حرام کو حلال سمجھنا کفر ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 25 الفرقان آیت نمبر 23