أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَهُوَ الَّذِىۡ خَلَقَ مِنَ الۡمَآءِ بَشَرًا فَجَعَلَهٗ نَسَبًا وَّ صِهۡرًا‌ ؕ وَكَانَ رَبُّكَ قَدِيۡرًا ۞

ترجمہ:

اور وہی ہے جس نے پانی سے انسان کو پیدا کیا پھر اس کے لئے نسب اور سسرال کا رشتہ بنایا اور آپ کا رب قدرت والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور وہی ہے جس نے پانی سے انسان کو پیدا کیا، پھر اس کے لئے نسب اور سسرال کا رشتہ بنایا اور آپ کا رب قدرت والا ہے۔ (الفرقان : ٥٤ )

پانی اور بشر کی تفسیر 

اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اس پانی سے مراد وہ پانی ہے جس سے حضرت آدم (علیہ السلام) کی مٹی کو گوندھ کر ان کا خمیر تیار کیا گیا تھا تاکہ وہ پانی بشر کی اصل اور اس کا مادہ ہو اور وہ پانی مٹ سے مل کر مختلف شکلوں کو قبول کرنے کی استعداد اور صلاحیت رکھ سکے، اس بنا پر اس پانی سیم راد معروف پانی ہے اور بشر سے مراند حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں اور بشر پر تنوین تعظیم کی ہے اور ” من “ ابتدائیہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے پانی سے ایک عظیم بشر کی خلقت کی ابتداء کی۔

اور اس کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ پانی سے مراد نطفہ ہے اور بشر سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہے۔

اس کے بعد فرمایا پھر اس کے لئے نسب اور صبہر (سسرال) کا رشتہ بنایا۔ یعنی انسان کی دو قسمیں کردیں، ایک قسم وہ مرد ہیں جن کی طرف ان کو منسوب کیا جاتا ہے مثلاً انسان کے آباء اور دوسری قسم اس کے اصہبار ہیں جن سے عورتوں کی وجہ سے رشتے قائم ہوتے ہیں جیسے اس کی بیوی کا باپ یا اس کی بیوی کی ماں وغیرہ۔

نسب کا معنی اور اس کی تحقیق 

علامہ جمال الدین ابن منظور افریقی متوفی ٧١١ ھ لکھتے ہیں :

نسب کا رشتہ انسان کے باپ کی طرف سے قائم ہوتا ہے۔ (لسان العرب ج ١ ص ٧٥٥ مطبوعہ نشر ادب الحوذۃ ایران ١٤٠٥ ھ)

ڈاکٹر وھبہ زحیلی لکھتے ہیں :

بچہ کا پانی ماں سے نسب ہرحال میں ثابتہ وتا ہے خواہ ولادت شرعی ہو یا غیر شرعی ہو، اور اس کا اپنے باپ سے نسب اسی وقت ثابت ہوتا ہے جب اس کا بچہ کی ماں سے نکاح ثابت ہو خواہ نکاح صحیح ہو یا نکاح فاسد ہو، یا اس عورت کے ساتھ وطی بالشبہ ہو یا وہ اس بچہ کے ساتھ نسب کا اقرار کرے، زمانہ جاہلیت میں زنا کے سبب سے جو نسب ثابت ہوجاتا تھا اس کو سلام نے باطل کردیا ہے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا اور زانی کے لئے کنکر پتھر ہیں۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٢٧٤ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٠٠٧ مسند احمد ج ٢ ص ٢٠٧) اور زنا اثبات نسب کی صلاحیت نہیں رکھتا اور زانی صرف رجم کئے جانے کا مستحق ہے۔

ظاہر حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ بچہ باپ کے ساتھ اس وقت لاحق کیا جائے گا جب اس کا اپنی بیوی کے ساتھ وطی کرنا ممکن ہو خواہ وہ ناح صحیح ہو یا نکاح فاسد ہو یہ جمہور کی رائے ہے، اور امام ابوحنیفہ کی یہ رائے ہے کہ محض عقد نکاح سے بھی نسب ثابت ہوجائے گا کیونکہ صرف وطی کا ظن بھی ثبوت نسب کے لئے کافی ہے۔ (الفقہ الاسلامی وادلتہ ج ٧ ص ٦٧٥ مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤٠٩ ھ)

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں :

نکاح فاسد میں دخول کرنا عدت اور ثبوت نسب کا موجب ہے، نیز لکھتے ہیں :

امام محمد کے نزدیک ثبوت نسب کے لئے ضروری ہے کہ بچہ کی ولادت وقت دخول کے چھ ماہ بعد سے شمار کی جائے اور امام ابوحینفہ اور امام یوسف کے نزدیک وقت عقد سے چھ ماہ بعد کا اعتبار ہے کیونکہ عقد کو دخلو کا قائم مقام قرار دیا گیا ہے اور مشائخ نے امام محمد کیق ول پر فتویٰ دیا ہے۔ (ردا المختارج ٥ ص ١٥٨ مطبوعہ داراحیاء ال تراث العربی بیروت : ١٤١٩ ھ)

علامہ علاء الدین الحصکفی نے الموطوء ۃ بالشبھۃ کا عطف المنکوحۃ نکاحا فاسدا پر کیا ہے اس کا تقاضایہ ہے کہ اس میں بھی نسب ثابت ہوجائے گا، جیسا کہ ڈاکٹر وھبہ زحیلی نے لکھا ہے۔

صہر کا معنی اور اس کی تحقیق 

علامہ حسین بن حمد راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ لکھتے ہیں :

خلیل نے کہا ہے کہ بیوی کے اہل بیت کو صہر کہتے ہیں، مثلاً بیوی کا باپ، اس طرح بیوی کی ماں وغیرہ یہ سب اصہار ہیں۔ (المفردات ج ٢ ص ٣٧٥ مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ بیروت ١٤١٨ ھ)

حضرت ربیعہ بن الحارث (رض) نے حضرت علی (رض) سے کہا :

لقد نلت صھر رسول اللہ علیہ وسلم فمانفسناہ علیک۔ آپ کو یہ شرف حاصل ہے کہ آپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے داماد ہیں، سو ہم خود کو آپ پر ترجیح نہیں دیتے۔

(صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٠٧٢، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٢٩٨٥ سنن النسائی رقم الحدیث : ٢٦٠٩)

علامہ المبارک بن محمد ابن اثیر الجزری المتوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :

صہر اور نسب میں فرق یہ ہے کہ نسب کا رجوع آباء کی جہت سے ولادت قریبہ کی طرف ہوتا ہے، (یعنی باپ کی طرف) اور صبر وہ رشتہ ہے جو تزویج اور ناح کی وجہ سے وجود میں آتا ہے۔ (یعنی سسرالی رشتے) ۔

(النہایہ ج ٣ ص ٥٨ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٨ ھ)

اصہار (سسرالی رشتہ داروں) کے مصادیق 

سسرالی رشتہ داروں کی چار قسمیں ہیں :

(١) بیویوں کی سگی مائیں اور دادیاں۔

(٢) بیوی کی سابق شوہر سے بیٹیاں اور ان بیٹیوں کی اولاد، خواہ وہ بیٹی موجودہ شوہر کے زیر پرورش ہو یا نہ ہو۔

(٣) بیٹے اور پوتے کی بیوی اور نواسے کی بیوی، خواہ بیٹے نے بیوی کے ساتھ جماع کیا ہو یا نہ کیا ہو، البتہ منہ بولے بیٹے کی بیوی حرام نہیں ہے۔

(٤) سگے باپ دادا کی بیویاں، یہ وہ حرمات صہر یہ ہیں جو کسی شخص پر دائما حرام ہوتی ہیں۔ (عالمگیری ج ١ ص 274 مطبوعہ امیریہ کبریٰ بولاق مصر، ١٣١٤ ھ)

نکاح سے حرمت مصاہرت کا متفق علیہ ہونا اور زنا سے حرمت مصاہرت کا مختلف فیہ ہونا 

نکاح کے ذریعہ جو صہر اور سسرالی رشتہ کی عورتیں ہوتی ہیں ان کے حرام ہونے پر تما فقہاء اور ائمہ کا اتفاق ہے خواہ نکاح صحیح ہو یا نکاح فاسد ہو مثلاً بیوی کی ماں، بیوی کے سابق شوہر کی بیٹی، یا بیٹے کی بیوی یا باپ کی بیوی (سوتیلی ماں) اور زنا کے ذریعہ جو یہ رشتہ وجود میں آتے ہیں ان کے حرا ہونے میں اختلاف ہے، مثلاً مزنیہ (جس عورت سے زنا کیا گیا ہو) کی ماں اور مزنیہ کی بیٹی امام احمد اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک زانی پر مزنیہ کی ماں اور بیٹی دونوں سے نکاح کرنا حرام ہے اور امام شافعی اور امام مالک کے نزدیک زنا سے حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوتی لہٰذا زانی پر مزنیہ کی ماں اور اس کیب یٹی سے نکاح کرنا حرام نہیں ہے۔

زنا سے حرمت مصاہرت ثابت نہ ہونے پر فقہاء مالکیہ اور شافعیہ کے دلائل اور ان کے جوابات 

امام مالک اور امام شافعی زنا سے حرمت مصاہرت ثابت نہ ہونے پر اس آیت سے استدلال کرتے ہیں :

(النسائ : ٢٣) اور تمہاری ان عورتوں کیبیٹیاں (تم پر حرام ہیں) جن سے تم صحبت کرچکے ہو۔

اس آیت میں ان بیویوں کیبیٹیوں کو حرام فرمایا ہے جن بیویوں سے صحبت کی جا چکی ہو اور بیوی نکاح سے وجود میں آتی ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ کسی عورت کی بیٹی سے نکاح حرام ہونے کی شرط یہ ہے کہ اس عورت سے نکاح کر کے اس کے ساتھ صحبت کی گئی ہو اور جس عورت سے زنا کیا گیا ہو اس کی بیٹی سے نکاح کرنا اس آیت کی رو سے حرام نہیں ہے لہٰذا زنا سے حرمت مصاہرت ثابت نہ ہوئی۔

فقہاء احناف اس دلیل کا یہ جواب دیتے ہیں کہ یہ آیت ان کے موید نہیں ہے بلکہ انکے خلاف ہے کیونکہ اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ جن عورتوں سے تم دخول (صحبت) کرچکے ہو ان کی بیٹیاں تم پر حرام ہیں اور اس دخول کو مطلقاً ذکر فرمایا ہے دخول بالنکاح نہیں فرمایا، اور یہ دخول اس سے عام ہے کہ نکاح کے بعد ان عورتوں کے ساتھ دخول کیا ہو یا نکاح سے پہلے زنا کے ذریعہ ان عورتوں کے ساتھ دخول کیا ہو، اور دخول کا لفظ حلال اور حرام دونوں پر واقع ہوتا ہے۔ سو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نکاح کے بعد ان عورتوں کے ساتھ دخول کیا ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نکاح سے پہلے ان عورتوں کے ساتھ دخول کیا ہو، لہٰذا احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ جس عورت سے زنا کیا گیا ہو اس کی بیٹی کے ساتھ نکاح کرنے کو بھی حرام قرار دیا جائے کیونکہ اس آیت کے عموم میں وہ بھی داخل ہے، نیز جب حلال اور حرام ہونے کے دلائل مساوی ہوں تو حرام کو ترجیح دی جاتی ہے۔ 

فقہاء شافعیہ اس حدیث سے بھی استدلال کرتے ہیں :

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ سوال کیا گیا کہ ایک شخص حرام طریقہ سے کسی عورت کا پیچھا کرتا ہے پھر اس کی بیٹی سے نکاح کرتا ہے یا کسی کی بیٹی کا حرام طریقہ سے پیچھا کرتا ہے پھر اس کی ماں سے ناکح کرتا ہے، آپ نے فرمایا کوئی حرام کام کسی حلال چیز کو حرام نہیں کرتا۔ (سنن دار قطنی ج ٣ ص 267 رقم الحدیث : ٣٦٣٢ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیرت، ١٤١٧ ھ)

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص نے کسی عورت سے زنا کیا پھر اس سے یا اس کی بیٹی سے نکاح کا ارادہ کیا، آپ نے فرمایا کوئی حرام کام کسی حلال چیز کو حرام نہیں کرتا، صرف اس چیز کو حرام کرتا ہے جو پہلے نکاح سے ہو۔ (اس حدیث کا صحیح محمل عنقریب مصنف عبدالرزاق : ١٢٨١٣ دارالکتب العلمیہ میں بیان ہوگا) (سنن دار قطنی رقم الحدیث : ٣٦٣٨، مبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٧ ھ)

فقہاء مالکیہ اور شافعیہ نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ حرمت مصاہرت صرف نکاح سے ہوتی ہے زنا سے نہیں ہوتی، فقہاء احناف نے اس حدیث کے حسب ذیل جواب دیئے ہیں :

(١) یہ دونوں حدیثیں سخت ضعیف ہیں، ان دونوں حدیثوں کی سند میں عثمان بن عبدالرحمٰن وقاصی ہے اور وہ متروک راوی ہے اور اس پر اتفاق ہے کہ جس حدیث کا راوی متروک ہو اس سے استدلال نہیں کیا جاتا۔

امام حمد بن اسماعیل بخاری متوفی 256 ھ نے اس کے متعلق لکھا کہ یہ متروک ہے۔ (تاریخ کبیرج ٦ ص ٧، رقم ٨٣٤١ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤٢٢ ھ)

علامہ ابن ھمام متوفی ٢٦١ ھ اس حدیث کی سند پر جرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں : یہ حدیث حضرت ابن عباس سے بھی مروی ہے اس کی سند میں عثمان بن عبدالرحمان وقاصی ہے، یحییٰ بن معین نے اس کے متعلق کہا وہ کذاب ہے، امام بخاری، امام ابو دائود اور امام نسائی نے کہا وہ کچھ بھی نہیں، یہ حدیث حضرت ابن عمر سے بھی مروی ہے اس کی سند میں اسحاق بن ابی فرورہ ہے اور وہ متروک ہے اور یہ حدیث حضرت عائشہ (رض) سے بھی مروی ہے وہ بھی ضعیف ہے، امام احمد نے اس کے متعلق کہا کہ یہ عراق کے بعض قصہ گو لوگوں کا کلام ہے۔ (فتح القدیر ج ٣ ص ٢١٢ طمبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

(٢) شدید ضعیف ہونے کے علاوہ یہ حدیث قرآن مجید سے متصادم ہے جس سے ثابت ہے کہ زنا سے حرمت مصاہرہ ثابت ہوجاتی ہے۔

امام شافعی کا یہ اعتراض کہ زنا گناہ ہے اور صہر کی نعمت کے حصول کا سبب نہیں بن سکتا !

علامہ ابوالحسن علی بن ابی بکر مرغینانی متوفی ٥٩٧ ھلکھتے ہیں :

جس شخص نے کسی عورت کے ساتھ زنا کیا اس پر اس کی ماں اور اس کی بیٹی حرام ہوجائے گی اور امام شافعی نے کہا زنا حرمت مصاہرت کو واجب نہیں کرتا کیونکہ حرمت مصاہرت ایک نعمت ہے اور وہ ممنوع کام کے ارتکاب سے حاصل نہیں ہوگی اور ہماری دلیل یہ ہے کہ وطی اولاد کے واسطہ سے جزئیت کا سبب ہے حتیٰ کہ اولاد کی نسبت ماں باپ میں سے ہر ایک کی طرف ہوتی ہے، پس عورت کے اصول اور فروع مرد کے اصول اور فروع مرد کے اصول اور فروغ کی طرح ہوتے ہیں اور مرد کے اصول اور فروع عورت کے اصول و فروع کی طرح ہوتے ہیں اور بغیر ضرورت کے جز سے نفع حاصل کرنا حرام ہے، لہٰذا جب مرد اور عورت ایک دور سے کا جز ہوگئے تو مرد کا عورت سے وطی کرنا حرام ہوگیا مگر اولاد کی ضرورت کی وجہ سے اس کو جائز قرار دیا گیا ہے اور زنا سے اولاد کے حصول کی غرض نہیں ہوتی۔ (ہدایہ اولین ص ٣٠٩ مطبوعہ مکتبہ شرکت علمیہ ملتان)

علامہ مرغینانی کے جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ زنا کرنے سے جو اولاد ہوئی تو اس کے سب سے زانی اور مزنیہ دونوں ایک شخص کی طرح ہوگئے اور مزنیہ کے ماں باپ گویا زانی کے ماں باپ ہوگئے اور مزنیہ کی بیٹی زانی کی بیٹی ہوگئی اور جس طرح کسی شخص کے لئے اپنی ماں یا اپنی بیٹی سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے اسی طرح زانی کے لئے مزنیہ کی ماں یا اس کی بیٹ سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے۔ رہا یہ اعتراض کہ جب وطی سے واطی اور موطوء ایک شخص کی طرح ہوجاتے ہیں تو پھر کسی شخص کے لئے اپنی بیوی سے وطی کرنا بھی ناجائز ہونا چاہیے اس کا یہ جواب دیا کہ یہ ضرورت کی بناء پر جائز قرار دیا گیا ہے اور وہ ضرورت ہے اولاد کی طلب، جیسا کہ حضرت آدم کے اپنے نفس سے حضرت حوا پیدا ہوئیں پھر اولاد کی طلب کی ضرورت سے ان کے ساتھجماع کرنا جائز قرار دیا گیا اور یہ ضرورت ناکح سے پوری ہوجاتی ہے، اس لئے زنا کو حرام قرار دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ علامہ مرغینانی کے جواب سے زنا سے حرمت مصاہرت پر ایک عقلی دلیل حاصل ہوتی ہے لیکن یہ امام شافعی کے اصل اعتراض کا جواب نہیں ہے۔ امام شافعی کا اصل اعتراض یہ ہے کہ مصاہرت ایک نعمت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بہ طور امتنان اور احسان کے فرمایا ہے، اور وہی جس نے پانی سے انسان کو پیدا کیا پھر اس کے لئے نسب اور صہر (سسرال کے رشتے) کو بنایا۔ اور صہر اس لئے بھی نعمت ہے کہ اس سے اجنبی لوگ رشتہ دار بن جاتے ہیں۔ انسان جس لڑکی سے نکاح کرتا ہے اس کا باپ پہلے اجنبی تھا اب وہ اس کا سسر بن جاتا ہے اور اس کی ماں اس کی ساس بن جاتی ہے اور صہر کے یہ رشتے نکاح سے حاصل ہوتے ہیں زنا سے حاصل نہیں ہوتے۔ نکاح سے صہر کی نعمت حاصل ہوتی ہے۔ زنا سے یہ نعمت حاصل نہیں ہوتی اس لئے نکاح کی تعریف و توصیف کی جاتی ہے اور زنا کی مذمت کی جاتی ہے۔ نکاح کو سنت اور کار ثواب قرار دیا جاتا ہے جب کہ زنا پر سو کوڑے مارے جاتے ہیں یا رجم کیا جاتا ہے اور اگر زنا بھی نکاح کی طرح صہر کی نعمت کے حصول کا سبب ہوتا تو جس طرح نکاح کی کثرت مطلوب ہوتی ہے زنا کی کثرت بھی مطلوب ہوتی، جب کہ زنا کی ممانعت مطلوب ہے، نیز جب کوئی شخص اپنی بیٹی کا کسی انسان سے نکاح کرتا ہے تو وہ انسان اس شخص کا داماد بن جاتا ہے اور اس انسان کا باپ اس کا سمدھی بن جاتا ہے اور وہ شخص اپنے داماد پر شفقت کرتا اور سمدھی کی تعظیم اور تکریم کرتا ہے اور اس سے واضح ہوتا ہے کہ صہر ایک نعمت ہے، اور اگر ایک انسان کسی شخص کی بیٹی سے زنا کرے تو وہ شخص اس انسان پر شفقت نہیں کرتا بلکہ اس کو دشمن اور مبغوض جانتا ہے اور اس کو قتل کرنے کے در پے رہتا ہے اور آئے دن ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ صہر کی نعمت نکاح سے حاصل ہوتی ہے زنا سے یہ نعمت حاصل نہیں ہوتی، نکاح سے دو خاندانوں میں ملاپ اور اتصال ہوتا ہے اور زنا سے دو خاندانوں میں بغض، عناد اور انفصال ہوتا ہے، لہٰذا زنا حرمت مصاہرت کا سبب نہیں ہوگا کیونکہ زنا سے مصاہرت (سسرالی رشتہ) ہی حاصل نہیں ہوتی تو حرمت مصاہرت کیسے حاصل ہوگی۔ )

امام شافعی کا یہ اعتراض بہت قوی ہے اور اس کا عقلی دلائل سے جواب نہیں دیا جاسکتا، ہم صرف یہی کہہ سکتے ہیں کہ قرآن مجید اور احادیث سے یہ ثابت ہے کہ زنا سے بھی حرمت مصاہرت ثابت ہوتی ہے اس لئے قرآن اور حدیث کے مقابلہ میں ہم اس عقلی اعتراض کو ترک کرتے ہیں۔ 

زنا سے حرمت مصاہرت کے ثبوت میں فقہاء احناف اور فقہاء حنبیلہ کے دلائل 

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

(النسائ : ٢٢) ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن عورتوں سے تمہارے باپ دادا نکاح کرچکے ہیں۔

نکاح کا اصل معنی جماع کرنا ہے، امام لغت خلیل بن احمد فراھیدی لکھتے ہیں :

نکح : وھو البضع و بجری نکح ایضا مجری التزویج۔ نکاح کا معنی جماع کرنا ہے اور یہ عقد کے معنی میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ (کتاب العین ج ٣ ص 1837 مطبوعہ انتشارات اسوہ ایران، ١٤١٤ ھ)

لہٰذا اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جن عورتوں سے تمہارے باپ دادا دخول اور جماع کرچکے ہیں تم ان کے ساتھ دخول اور جماع نہ کرو، خواہ تمہارے باپ دادا نے ان کے ساتھ زنا کی صورت میں دخول کیا ہو یا عقد نکاح کی صورت میں، نیز اس آیت میں نکاح سے مراد مطلقاً دخول ہے۔ خواہ عقد نکاح سے ہو یا زنا سے، اس پر دلیل یہ آیت ہے :

(النسائ : ٢٢) اور ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن عورتوں سے تمہارے باپ دادا نکاح کرچکے ہیں یہ بےحیائی کا کام ہے، اور بغض کا سبب ہے اور بہت برا طریقہ ہے۔

اس آیت میں بھی نکاح سے مراد عقد نکاح نہیں ہے بلکہ دخول اور جماع ہے کیونکہ بےحیائی، بغض کا سبب اور بہت برا طریقہ عقد نکاح کرنا نہیں ہے بلکہ زنا کرنا ہے یعنی تمہارے باپ دادا جن عورتوں سے دخول اور جماع کرچکے ہیں خواہ بہ صورت نکاح، خواہ بہ صورت زنا، تم ان سے نکاح نہ کرو، اور یہ آیت بھی اس باب میں نص صریح ہے کہ باپ کی مزنیہ سے نکاح کرنا ممنوع اور حرام ہے اور اس سے واضح ہوگیا کہ زنا سے حرمت مصاہرت ثابت ہوجاتی ہے۔

نیز اگر کوئی شخص اپنے باپ کی مدخولہ اور مزنیہ سے نکاح کرے گا تو یہ فعل قطع رحم کا موجب ہوگا کیونکہ اس کا باپ جب اس مزنیہ سے الگ ہوگا تو ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے اس فعل پر نادم ہو اور اس عورت سے نکاح کرنا چاہے، اور جب اس کا بیٹا اس عورت سے نکاح کرچکا ہوگا تو اس سے اس کے باپ کے دل میں بیٹے کے خلاف بغض اور حسد پیدا ہوگا اور یہ قطع رحم کا موجب ہے اور قطع رحم حرام ہے اور یہ حرام اس وجہ سے لازم آیا کہ اس نے باپ کی مزنیہ سے نکاح کرلیا لہٰذا باپ کی مزنیہ سے نکاح کرنا حرام ہوگا، پس اس سے واضح ہوگیا کہ زنا سے حرمت مصاہرت ثابت ہوی ہے۔

زنا سے حرمت مصاہرت کے ثبوت میں حسب ذیل احادیث اور آثارہیں :

زنا سے حرمت مصاہرت کے ثبوت میں احادیث اور آثار 

امام شافعی سے دوسرا اختلاف اس امر میں ہے کہ جس شخص نے کسی عورت کو شہوت سے مس کرلیا یا شہوت سے اس کی فوج کو دیکھا تو اس عورت کی ماں اور اس کی بیٹی بھی اس شخص پر حرام ہوجاتی ہے (شہوت کا معنی یہ ہے کہ اس کے دل میں اس سے وطی کرنے کی خواہش ہو اور یہ ایک مخفی امر ہے جو اس کے بتانے سے ہی معلوم ہوسکتا ہے) امام شافعی کے نزدیک مس کرنے اور فرج کی طرف دیکھنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی کیونکہ یہ وطنی اور دخول نہیں ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا، اور نہ اس سے احرام فاسد ہوتا ہے اور نہ اس سے غسل واجب ہوتا ہے، اور ہماری دلیل یہ ہے کہ عورت کو مس کرنا اور اس کی فرج کی طرف دیکھنا اس سے وطی کرنے کا قوی داعی، سبب اور محرک ہے اس لئے موضع احتیاط میں اس کو وطی کے قائم مقام کردیا گیا ہے۔ ہم جو زنا سے حرمت مصاہرت کے ثبوت میں احادیث اور آثار پیش کر رہے ہیں ان سے جس طرح یہ واضح ہوتا ہے کہ زنا سے حرمت مصاہرت ثابت ہوتی ہے اس طرح ان سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ عورت کو مس کرنے یا اس کی فرج کی طرف دیکھنے سے بھی حرمت مصاہرت ثابت ہوتی ہے۔

امام ابوبکر عبداللہ بن محمد بن ابی شبیہ متوفی ٢٣٥ ھ اپنی اسانید کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

ابوھانی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جس شخص نے کسی عورت کی فرج کی طرف دیکھا اس شخص کے لئے اس عورت کی ماں اور اس کی بیٹی حلال نہیں ہیں۔

مصنف ابن ابی شبیہ رقم الحدیث : ٦٢٢٩، ج ٣ ص ٤٦٩ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٦ ھ)

حضرت عمران بن الحصین (رض) نے کہا جو شخص اپنی بیوی کی ماں سے زنا کرے اس پر اس کی بیوی حرام ہوجاتی ہے۔ (مصنف ابن ابی شبیہ رقم الحدیث : ١٦٢٢٦ )

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف نظر رحمت نہیں فرماتا جو کسی عورت اور اس کی بیٹی کی فرج کی طرف دیکھے۔ (مصنف ابن ابی شبیہ رقم الحدیث : ١٦٢٢٨ )

عطاء نے بیان کیا کہ جو شخص کسی عورت سے زنا کرے اس پر اس کی بیٹی حرام ہوجاتی ہے اور اگر بیٹی سے زنا کرے تو اس پر اس کی ماں حرام ہوجاتی ہے۔ (مصنف ابن ابی شبیہ رقم الحدیث : ١٦٢٣١)

ابراہیم نخعی سے ایک شخص کے متعق سوال کیا گیا جس نے ایک عورت سے زنا کیا اور اب وہ شخص اس کی ماں سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو انہوں نے کہا وہ اس کی ماں سے نکاح نہیں کرسکتا۔ (مصنف ابن ابی شبیہ رقم الحدیث : ١٦٢٣٢)

ابراہیم نخعی نے کا جب کوئی شخص کسی عورت کو شہوت کے ساتھ مس کرے تو اس کی ماں کے ساتھ نکاح کرے نہ اس کی بٹی کے ساتھ۔ (مصنف ابن ابی شبیہ رقم الحدیث : ١٦٢٣٤)

مجاہد اور عطاء نے کہا جب کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ زنا کرے تو اس عورت سے نکاح کرنا اس کے لئے حلال ہے اور اس کی کسی بٹی کے ساتھ نکاح کرنا اس کے لئے حلال نہیں ہے۔ (مصنف ابی شبیہ رقم الحدیث : ١٦٢٣٥)

امام عبدالرزاق بن ھمام متوفی ٢١١ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

ابن جریج بیان کرتے ہیں کہ عطا سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص کسی عورت سے زنا کرتا ہے، آیا وہ اس کی بٹی سے نکاح کرسکتا ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں ! وہ اس کی ماں کی فرج پر مطلع ہوچکا ہے، ان سے کہا گیا کیا نہیں کہا جاتا کہ حرام کام کسی حلال چیز کو حرام نہیں کرتا ! انہوں نے کہا یہ باندی کے متعلق ہے ایک شخص کسی باندی کے ساتھ زنا کرتا ہے پھر اس کو خرید لیتا ہے، یا کسی آزاد عورت کے ساتھ زنا کرتا ہے پھر اس سے نکاح کرلیتا ہے پس اس کے پہلے زنا کرنے کی وجہ سے اس سے نکاح کرنا حرام نہیں ہوتا۔

(مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٢٨١٣ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤٢١ ھ مصنف عبدالرزاق، رقم الحدیث : ١٢٧٦١، ج ٧ ص ١٩٧ مکتب اسلامی بیرت، ١٣٩٠ ھ)

ابن جریج نے کہا میں نے عطاء سے سنا کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کی ماں یا اس کی بیٹی سے زنا کیا تو اس پر وہ دونوں حرام ہوئیں گی۔ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٢٨١٤ دار الکتب العملیہ، مصنف ج ٧ ص ١٩٨ مکتب اسلامی)

شعبی، حسن، قتادہ اور طائوس نے کہا اگر کوئی شخص اپنی بیوی کی ماں سے زنا کیر یا اس کی بٹی سے زنا کرے تو وہ دونوں اس پر حرام ہوجائیں ی۔ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٢٨١٧، ١٢٨١٦، ١٢٨١٦، ١٢٨١٥ دارالکتب العلمیہ، مصنف ج ٧ ص ١٩٨ مکتب اسلامی)

عروہ بن الزبیر سے پوچھا گیا کہ ایک شخص ایک عورت سے زنا کرتا ہے آیا وہ اس کی بٹی سے نکاح کرسکتا ہے، انہوں نے کہا نہیں ! (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٢٨١٨، دارالکتب العلمیہ، مصنف ج ٧ ص ١٩٨ مکتب اسلامی)

یحییٰ بن یعمر نے شعبی سے کہا کوئی حرام کام کسی حلال چیز کو حرام نہیں کرتا، شعبی نے کہا کیوں نہیں کرتا، اگر تم خمر (انگور کی شراب) کو پانی میں ڈالو تو اس پانی کا پینا حرام ہوگا، حس بصری نے بھی شعبی کی طرح جواب دیا۔ 

(مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٢٨٢٢، دارالکتب العلمیہ مصنف ج ٧ ص ١٩٩، مکتب اسلامی)

شعبی نے کہا کہ حضرت عبداللہ نے کہا جب بھی حلال اور حرام جمع ہوتے ہیں تو حرام کو حلال پر غلبہ وتا ہے۔

(مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٢٨٢٦ دار الکتب العلمیہ بیروت، ١٤٢١ ھ مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٢٧٧٢ ج ٧ ص ١٩٩، مکتبا سلامی بیروت، ١٣٩٠ ھ)

زنا سے حرمت مصاہرت کے ثبوت میں ففقہاء حنبلیہ کا موقف 

علامہ موفق الدین عبداللہ بن احمد بن قدامہ حنبلی متوفی ٦٢٠ ھ لکھتے ہیں :

جب کوئی شخص کسی عوتر کے ساتھ زنا کیر تو وہ عورت اس شخص کے باپ اور بیٹے پر حرام ہوجاتی ہے اور اس شخص کے اوپر اس عورت کی ماں اور اس کی بیٹی حرام ہوجاتی ہے جس طرح نکاح حلال اور نکاح بالشبھہ میں اسی طرح حرمت ہوتی ہے، امام احمد نے اس کی تصریح کی ہے اور حضرت عمران بن حصین سے بھی اسی طرح مروی ہے، اور حسن بصری، عطا، مجاہد، شعبی ابراہیم نخفی، ثوری، اسحاق اور اصحاب رائے (فقہاء احناف) کا بھی یہی قول ہے۔ ہماری دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ ولاتنکحوا مانکح ابآئو کم من النسآء (النسائ : ٢٢) اور اس آیت میں نکاح سے مراد وطی ہے، نیز فرمایا : انہ کان فاحشۃ ومقتا وسآء سبیلاً (النسائ : ٢٢) اور یہ تغلیظ عقد نکاح میں نہیں ہوسکتی سو یہ تغلیظ وطی اور زنا میں ہے، اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اللہ اس شخص کی طرف نظر رحمت سے نہیں دیکھتا جو کسی عورت اور اس کی بٹی کی فرج کی طرف دیکھے اور آپ نے فرمایا جو کسی عورت اور اس کی بیٹی کی فرج کی طرف دیکھے وہ معلون ہے۔ (المغنی لا بن قدامہ ج ٧ ص ٩٠ مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤٠٥ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 25 الفرقان آیت نمبر 54