ثُمَّ تَوَلَّیۡتُمْ مِّنۡۢ بَعْدِ ذٰلِکَ ۚ فَلَوْلَا فَضْلُ اللہِ عَلَیۡکُمْ وَرَحْمَتُہٗ لَکُنۡتُمۡ مِّنَ الْخٰسِرِیۡنَ﴿۶۴﴾

ترجمۂ کنزالایمان:پھر اس کے بعد تم پھر گئے تو اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو تم ٹوٹے والوں میں ہو جاتے۔
ترجمۂ کنزالعرفان:اس کے بعد پھر تم نے روگردانی اختیار کی تو اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاتے۔
{فَضْلُ اللہِ: اللہ کا فضل۔}یہاں فضل و رحمت سے یا تو توبہ کی توفیق مراد ہے کہ انہیں توبہ کی توفیق مل گئی اور یا  عذاب کومؤخر کرنا مراد ہے یعنی بنی اسرائیل پر عذاب نازل نہ ہوا بلکہ انہیں مزید مہلت دی گئی۔ (مدارک، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۶۴، ص۵۶)
ایک قول یہ ہے کہ فضل ِ الٰہی اور رحمت ِحق سے حضور سرور عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی ذات پاک مراد ہے معنی یہ ہیں کہ اگر تمہیں خاتم المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے وجود کی دولت نہ ملتی اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ہدایت نصیب نہ ہوتی تو تمہارا انجام ہلاک و خسران ہوتا۔(بیضاوی، البقرۃ،تحت الآیۃ: ۶۴، ۱/۳۳۶، روح المعانی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۶۴، ۱/۳۸۲، ملتقطاً)
اس سے معلوم ہوا کہ حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مخلوق پر اللہ تعالیٰ کا فضل بھی ہیں اور رحمت بھی ہیں۔