مَنۡ کَانَ عَدُوًّا لِّلہِ وَمَلٰٓئِکَتِہٖ وَرُسُلِہٖ وَجِبْرِیۡلَ وَمِیۡکٰىلَ فَاِنَّ اللہَ عَدُوٌّ لِّلْکٰفِرِیۡنَ﴿۹۸﴾

ترجمۂ کنزالایمان:جو کوئی دشمن ہو اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبریل اور میکائیل کا تو اللہ دشمن ہے کافروں کا۔
ترجمۂ کنزالعرفان:جو کوئی اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اورجبرائیل اور میکائیل کا دشمن ہو تو اللہ کافروں کا دشمن ہے۔ 

{مَنۡ کَانَ عَدُوًّا: جو کوئی دشمن ہو۔} اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور فرشتوں سے دشمنی کفر اور غضبِ الٰہی کا سبب ہے اور محبوبانِ حق سے دشمنی خداعَزَّوَجَلَّ سے دشمنی کرنا ہے۔حضرتِ جبریل عَلَیْہِ السَّلَام انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے خادم ہیں ،ان کا دشمن رب تعالیٰ کا دشمن ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ ایک فرشتے سے عداوت سارے فرشتوں سے عداوت ہے۔ یہی حال انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیاء عظام رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِم سے عداوت رکھنے کا ہے۔

حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’جو میرے کسی ولی سے دشمنی کرے، اسے میں نے لڑائی کا اعلان کردیا۔(بخاری، کتاب الرقاق، باب التواضع، ۴/۲۴۸، الحدیث: ۵۶۰۲)