بَلٰی٭ مَنْ اَسْلَمَ وَجْہَہٗ لِلہِ وَہُوَ مُحْسِنٌ فَلَہٗۤ اَجْرُہٗ عِنۡدَ رَبِّہٖ۪ وَلَا خَوْفٌ عَلَیۡہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوۡنَ﴿۱۱۲﴾

ترجمۂ کنزالایمان:ہاں کیوں نہیں جس نے اپنا منہ جھکایا اللہ کے لئے اور وہ نکو کار ہے تو اس کا نیگ اس کے رب کے پاس ہے اور انہیں نہ کچھ اندیشہ ہو اور نہ کچھ غم۔
ترجمۂ کنزالعرفان:ہاں کیوں نہیں ؟ جس نے اپنا چہرہ اللہ کے لئے جھکا دیا اور وہ نیکی کرنے والا بھی ہو تو اس کااجر اس کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
{بَلٰی: کیوں نہیں۔}جنت میں داخلے کا حقیقی معیار ایمانِ صحیح اور عملِ صالح ہے اور کسی بھی زمانے اور کسی بھی نسل و قوم کا آدمی اگر صحیح ایمان و عمل رکھتا ہے تو وہ جنت میں جائے گا۔ البتہ یہ یاد رہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے اعلانِ نبوت کے بعد آپ کی نبوت نہ ماننے والے کا ایمان قطعاً صحیح نہیں ہوسکتا اور کوئی بھی عمل ایمان کے بغیر صالح نہیں ہوسکتا،گویا جو حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر ایمان رکھے اور عملِ صالح کرے وہ جنت کا مستحق ہے۔
چونکہ یہودیوں اور عیسائیوں نے کہا تھا کہ ان کے سوا کوئی جنت میں داخل نہیں ہوگا تو اس کے جواب میں فرمایا گیا کہ ان کے علاوہ کوئی جنت میں کیوں داخل نہیں ہوگا جبکہ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ جو بھی ایمان صحیح اور عمل صالح لے کر آئے گا وہ جنت میں داخل ہوگا۔