أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

رَبِّ هَبۡ لِىۡ حُكۡمًا وَّاَلۡحِقۡنِىۡ بِالصّٰلِحِيۡنَۙ ۞

ترجمہ:

اے میرے رب مجھے حکم (صحیح فیصلہ) عطا فرما اور مجھے نیکو کاروں کے ساتھ ملا دے

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کا پہلا مطلوب اور حکم کا معنی 

سابقہ آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی حد وثناء کی اور اس کے بعد انے مطالب کے حصول کے لئے دعا کی، اس سے یہ معلوم ہوا کہ اپنے مطلوب کی دعا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کرنی چاہیے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا میں اپنے مطالب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :

اے میرے رب مجھے حکم (صحیح فیصلہ) عطا فرما اور مجھے نیکو کاروں کے ساتھ ملادے۔

حکم سے مراد علم شریعت ہے یا ایسا علم جس کے ذریعہ وہ زمین میں اللہ کی خلاف قائم کرسکیں اور مخلوق کی رہنمائی کرسکیں، اور یہ کہ وہ علم کے تقاضوں پر عمل پیرا ہوں کیونکہ جس شخص کو کسی چیز کا علم نہ ہو یا وہ علم کے تقاضوں پر عامل نہ ہو اس کو حکیم نہیں کہا جاتا اور نہ اس کے علم کو حکم اور حکمت کہا جاتا ہے۔ نیز فرمایا اور مجھے نیکو کاروں کے ساتھ ملادے، یعنی مجھے ایسے علوم اور ایسے اعمال اور اخلاق کی توفیق دے جو مجھے عبادت و ریاضت میں ایسے کاملین اور راسخین کے گروہ میں شامل کردیں جو تمام صغائر اور کبائر گناہوں سے منزہ ہوں یا جنت میں مجھے ان کے ساتھ مجمتع کردے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ دعا قبول فرمالی چناچہ ان کے متعلق فرمایا :

ولقد اصطفینہ فی الدنیا وانہ فی الاخرۃ لمن الصالحین۔ (البقرہ : ٠٣١) اور بیشک ہم نے ابراہیم کو دنیا میں (بھی) برگزیدہ کیا اور بیشک وہ آخرت میں نیکو کاروں میں سے ہیں۔

اور یہ اس دعا میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مطالب میں سے پہلا مطلوب ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 83