أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاجۡعَلۡنِىۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِۙ ۞

ترجمہ:

اور مجھے نعمت والی جنت کے وارثوں میں سے بنا دے

جنت کی دعا کا مطلوب ہونا اور شہر مدینہ سے جنت کا زیادہ محبوب ہونا 

اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ دعا کی اور مجھے نعمت والی جنتوں کے وارثوں میں سے بنا دے۔ (الشعراء 85)

یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تیسرا مطلوب ہے، اس سے پہلی آیت میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دنیا کی سعادت کے حصول کی دا کی تھی اور اس آیت میں آخرت کی سعادت کے حصول کی دعا کی ہے۔

جس شخص کو اپنے کسی مورث (رشتہ دار) کے مرنے کے بعد اس کا ترکہ مل جائے اس کو وارث کہتے ہیں۔ اس آیت میں جنتیوں کو جنت کا وارث فرمایا ہے کیونکہ جو مومن نیک عمل کرتا ہے اس کو اس کے کسی استحقاق کے بغیر محض اللہ کے فضل سے جنت مل جاتی ہے جس طرح کسی وارث کو بغیر کسی استحقاق کے محض اپنے رشتہ دار کی موت سے اس کا ترکہ مل جاتا ہے۔

اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جنت کے حصول کی دعا کرنا حضرت ابراہیم کی سنت ہے اور اس دعا کو ترک کرنا تکبر ہے، بعض غالی اور ان پڑھ صوفی یہ کہتے ہیں کہ ہمیں جنت نہیں چاہیے ہمیں تو مولیٰ کی رضا چاہیے، بعض کہتے ہیں کہ ہمیں جنت نہیں مدینہ نہیں چاہیے، یہ لوگ اس پر غور نہیں کرتے کہ قرآن مجید کی بہ کثرت آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے جنت کی طرف رغبت دلائی ہے اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنت الفردوس کے سوال کرنے کا حکم دیا ہے۔ سو جنت کے حصول کی دعا کرنے سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول راضی ہوں گے اور اس کا سوال نہ کرنے یا جنت کی تنقیص کرنے سے اللہ اور اس کے رسول ناراض ہوں گے۔ سو اللہ کی رضا جنت کی دعا کرنے میں ہے نہ کہ جنت کی دعا کو ترک کرنے میں باقی رہا مدینہ کا مطلوب ہونا سو اس کی طلب برحق ہے اور اللہ کی رضا کا مطلوب ہونا بھی برحق ہے لیکن یہ اس کو کب مستلزم ہے کہ پھر جنت کو طلب نہ کیا جائے اور اس کے حصول کی دعا نہ کی جائے۔ نیز جس جگہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدفون ہیں وہ جنت کی کیا ریوں میں سے ایک کیا ری ہے، سو رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اب بھی جنت میں ہیں اور آخرت میں بھی جنت میں ہوں گے اور مدینہ صرف اس لئے محبوب ہے کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مسکن کا شہر ہے اور آپ کا اصل مسکن تو دنیا اور آخرت میں جنت ہی ہے، سو شہر مدینہ کی نسبت وہ جگہ زیادہ محبوب ہونی چاہیے جو آپ کا اصل مسکن ہے اور وہ جنت ہے لہٰذا شہر مدینہ کی بہ نسبت جنت زیادہ محبوب ہونی چاہیے کیونکہ آپ اب بھی جنت میں ہیں اور آخرت میں بھی جنت میں ہوں گے اور یہ واضح ہے کہ پورا شہر مدینہ جنت نہیں ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 85