وَقَالَ الَّذِیۡنَ لَایَعْلَمُوۡنَ لَوْلَا یُکَلِّمُنَا اللہُ اَوْ تَاۡتِیۡنَاۤ اٰیَۃٌ ؕ کَذٰلِکَ قَالَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبْلِہِمۡ مِّثْلَ قَوْلِہِمْؕ تَشٰبَہَتْ قُلُوۡبُہُمْؕ قَدْ بَیَّنَّا الۡاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یُّوۡقِنُوۡنَ﴿۱۱۸﴾

ترجمۂ کنزالایمان:اور جاہل بولے اللہ ہم سے کیوں نہیں کلام کرتا یا ہمیں کوئی نشانی ملے ان سے اگلوں نے بھی ایسی ہی کہی ان کی سی بات اِن کے اُن کے دل ایک سے ہیں بیشک ہم نے نشانیاں کھول دیں یقین والوں کے لئے ۔
ترجمۂ کنزالعرفان:اور جاہلوں نے کہا: اللہ ہم سے کیوں نہیں کلام کرتا یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آجاتی۔ ان سے پہلے لوگوں نے بھی ایسی ہی بات کہی تھی تو اِن کے دل آپس میں ایک جیسے ہوگئے۔ بیشک ہم نے یقین کرنے والوں کے لئے نشانیاں کھول کر بیان کردیں۔
{الَّذِیۡنَ لَایَعْلَمُوۡنَ:جو نہیں جانتے۔} اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ یہودیوں نے حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کہا کہ اگر آپ اپنے قول کے مطابق اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں تو اللہ تعالیٰ سے فرمایئے کہ وہ ہم سے کلام کرے تاکہ ہم خود ا س کا فرمان سن لیں۔اس پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ان سے پہلے یہودیوں نے بھی حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے ایسی ہی بات کہی تھی۔دوسری تفسیر یہ ہے کہ مشرکین مکہ نے حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے کہا کہ اللہ تعالیٰ جس طرح فرشتوں اور انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کلام فرماتا ہے اس طرح خود ان سے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت کے متعلق کیوں کلام نہیں فرماتا تاکہ ہمیں یقین ہو جائے کہ آپ نبی ہیں اور ہم آپ پر ایمان لے آئیں یاہمارے پاس کوئی ایسی نشانی کیوں نہیں آجاتی جس سے ہمیں آپ کی صداقت معلوم ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان مشرکوں سے پہلے کفار نے بھی اپنے رسولوں سے ایسی ہی بات کہی تھی۔(در منثور، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۱۸، ۱/۲۷۱، روح البیان، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۱۸، ۱/۲۱۵، قرطبی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۱۸، ۱/۷۱، الجزء الثانی، ملتقطاً)
یہ ان کا کمال تکبر اور نہایت سرکشی تھی کہ انہوں نے اپنے آپ کو انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ملائکہ کے برابر سمجھا۔

{تَشَابَهَتْ قُلُوْبُهُمْ:ان کے دل آپس میں مل گئے۔} یہودونصاریٰ اور مشرکین کے اقوال کا گزشتہ منکرین کے اقوال کے مطابق ہونا ان کے دلوں کی سختی اور کفر کے ایک دوسرے سے مشابہ ہونے کی علامت ہے۔ اس میں نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو تسلی دی گئی کہ آپ جاہلوں کی سرکشی اور معاندانہ انکار سے رنجیدہ نہ ہوں۔ پچھلے کفار بھی اپنے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے ساتھ ایسا ہی کرتے تھے ،جیسے یہودیوں نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کہا تھا کہ ہم آپ کی بات نہ مانیں گے جب تک اللہ تعالٰی کوا علانیہ نہ دیکھ لیں۔یاد رہے کہ کفار سے معاشرت، لباس اور وضع قطع میں بھی مشابہت کرنا منع ہے کہ ظاہر باطن کی علامت ہوتا ہے اور ظاہر کا باطن پر اثر ہوتا ہے۔ لہٰذا کفار کے طور طریقے سے بالکل دوری اختیار کی جائے تاکہ ان کا ظاہر مسلمان کے باطن کو متاثر نہ کرے۔