تِلْکَ اُمَّۃٌ قَدْ خَلَتْۚ لَہَا مَا کَسَبَتْ وَلَکُمۡ مَّا کَسَبْتُمْۚ وَلَا تُسْـَٔلُوۡنَ عَمَّا کَانُوۡا یَعْمَلُوۡنَ﴿۱۴۱﴾

ترجمۂ کنزالایمان:وہ ایک گروہ ہے کہ گزر گیا ان کے لئے ان کی کمائی اور تمہارے لئے تمہاری کمائی اور ان کے کاموں کی تم سے پرسش نہ ہوگی۔

ترجمۂ کنزالعرفان:وہ ایک امت ہے جو گزرچکی ہے ۔ان کے اعمال ان کے لئے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لئے ہیں اور تم سے اُن کے کاموں کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا۔ 

{تِلْکَ اُمَّۃٌ:وہ ایک امت ہے۔}اس آیت میں یہودیوں کو ایک بار پھر تنبیہ کی گئی کہ تم اپنے اسلاف کی فضیلت پر بھروسہ نہ کرو کیونکہ ہر ایک سے اسی کے اعمال کی پوچھ گچھ کی جائے گی۔ (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۴۱، ۱/۹۶)

اس میں ان مسلمانوں کے لئے بھی نصیحت ہے جو اپنے ماں باپ یا پیرو مرشد وغیرہ کے نیک اعمال پر بھروسہ کر کے خود نیکیوں سے دور اور گناہوں میں مصروف ہیں۔