وَمِنْ حَیۡثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِؕ وَحَیۡثُ مَا کُنۡتُمْ فَوَلُّوۡا وُجُوۡہَکُمْ شَطْرَہٗ ۙ لِئَلَّا یَکُوۡنَ لِلنَّاسِ عَلَیۡکُمْ حُجَّۃٌ٭ۙ اِلَّا الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مِنْہُمْ٭ فَلَا تَخْشَوْہُمْ وَاخْشَوْنِیۡ٭ وَلِاُتِمَّ نِعْمَتِیۡ عَلَیۡکُمْ وَلَعَلَّکُمْ تَہۡتَدُوۡنَ﴿۱۵۰﴾ۙۛ

ترجمۂ کنزالایمان: اور اے محبوب! تم جہاں سے آ ؤ اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرو اور اے مسلمانو !تم جہاں کہیں ہو اپنا منہ اسی کی طرف کرو کہ لوگوں کو تم پر کوئی حجت نہ رہے مگر جو ان میں ناانصافی کریں تو ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو اور یہ اس لئے ہے کہ میں اپنی نعمت تم پر پوری کروں اور کسی طرح تم ہدایت پاؤ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اے حبیب! تم جہاں سے آ ؤ اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرو اور اے مسلمانو!تم جہاں کہیں ہو اپنا منہ اسی کی طرف کرو تاکہ لوگوں کو تم پر کوئی حجت نہ رہے مگر جو اُن میں سے ناانصافی کریں تو ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو اورتاکہ میں اپنی نعمت تم پر مکمل کردوں اورتاکہ تم ہدایت پاؤ۔

{وَمِنْ حَیۡثُ خَرَجْتَ: اور تم جہاں سے آؤ۔}اس رکوع میں تین مرتبہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اور مسلمانوں کو مسجد حرام یعنی کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے ،اس سے بظاہر ایسالگتا ہے کہ یہ تکرا ر ہے لیکن در حقیقت یہ تکرار نہیں کیونکہ ہر بار کے حکم کی علت جدا ہے ، پہلی بار جب نماز میں مسجد حرام کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا گیا تو اس کی علت یہ بیان ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی رضا جوئی کے لئے مسجد حرام کو قبلہ بنایا اور نماز میں ا س کی طرف منہ کرنے کاحکم دیا۔دوسری مرتبہ جب مسجد حرام کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا گیا تو اس کی علت یہ بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے ہرامت کا الگ الگ قبلہ بنایا ہے جس کی طرف منہ کر کے وہ نماز پڑھتے ہیں ، اور جب امت ِمحمدِیَّہ بھی ایک امت ہے تو ان کا قبلہ مسجد حرام کو بنایا اور اس کی طرف منہ کر کے انہیں نماز پڑھنے کا حکم دیاگیا۔تیسری مرتبہ جب یہ حکم دیاگیا تو اس کی یہ علت بیان فرمائی کہ قبلہ کے معاملے میں یہودی مسلمانوں کے خلاف حجت قائم نہ کر سکیں۔
(تفسیر کبیر، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۵۰، ۲/۱۱۹، ملخصاً)
{وَحَیۡثُ مَا کُنۡتُمْ فَوَلُّوۡا وُجُوۡہَکُمْ شَطْرَہٗ: اے مسلمانو!تم جہاں کہیں ہو اپنا منہ اسی کی طرف کرو ۔} اس آیت میں مجموعی طور لوگوں سے فرما دیا گیا کہ تم حالت ِ سفر میں ہو یا حالت ِ اقامت میں ، جنگل و بیابان میں ہو یا شہر میں ، ہر جگہ ہر حالت میں اور ہر وقت تم سب نے نماز میں خانہ کعبہ ہی کی طرف منہ کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو اس اعتراض کا حق نہ رہے کہ ان کی کتابوں میں تو قبلہ کی تبدیلی کالکھا ہوا تھا لیکن اِس نبی نے تو ایسا کیا ہی نہیں ،یا وہ یہ اعتراض نہ کرسکیں کہ یہ نبی ہمارے دین کی تو مخالفت کرتے ہیں لیکن قبلہ ہمارے والا ہی مانتے ہیں اور مشرکین کو یہ اعتراض کرنے کا موقع نہ ملے کہ نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے قریش کی مخالفت میں حضرت ابراہیم اور حضرت ا سمٰعیل عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا قبلہ بھی چھوڑ دیا حالانکہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ان کی اولاد میں سے ہیں اور ان کی عظمت و بزرگی مانتے بھی ہیں۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۵۰، ۱/۱۰۱)
{اِلَّا الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مِنْہُمْ: مگر جو ان میں ناانصافی کریں۔} یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے توحجت پوری ہوچکی، اب بھی اگر کوئی اعتراض کرتا ہے تو وہ خود ظالم ہے۔ یاد رہے کہ دین کی راہ میں طعنے سننا انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سنت رہی ہے۔
{فَلَا تَخْشَوْہُمْ وَاخْشَوْنِیۡ: تو ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو۔}اس آیت میں مسلمانوں کو حکم دیاجا رہا ہے کہ تم کعبہ کی طرف منہ کر نماز پڑھنے کی وجہ سے کفار کی طرف سے ہونے والے اعتراضات سے نہ ڈرو،ان کے طعنے تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور تم میرے حکم کو پورا کرنے کے معاملے میں مجھ سے ڈرو اور میرے حکم کی مخالفت نہ کرو، بے شک میں تمہارا مددگار ہوں۔
(روح البیان، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۵۰، ۱/۲۵۵)
اللہ تعالیٰ کا عذاب ہر وقت پیش نظر رکھنا چاہئے:
اس آیت سے معلوم ہو اکہ انسان کو ہر وقت اللہ تعالیٰ کا عذاب پیش نظر رکھنا چاہئے اور کسی بھی کام کو کرنے یا نہ
کرنے سے پہلے ا س بات پر غور ضرور کر لینا چاہئے کہ یہ کام کرنے یا نہ کرنے سے اللہتعالیٰ کی رضاحاصل ہو گی یا اس کا  نتیجہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کی صورت میں ظاہر ہو گا۔مروی ہے کہ جب حضرت معاذبن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ رونے لگے ۔ ان سے پوچھا گیا کہ آپ کو کس چیز نے رُلایا ؟ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا:’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! میں نہ تو موت کی گھبراہٹ سے رو رہاہوں اور نہ ہی دنیا سے رخصتی کے غم میں آنسو بہا رہا ہوں ،بلکہ میں تو اس لئے روتا ہوں کہ میں نے حضور اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے سنا کہ دو مٹھیاں ہیں ، ایک جہنم میں جائے گی اور دوسری جنت میں۔ اور مجھے نہیں معلوم کہ میں کون سی مٹھی میں ہوں گا۔(شعب الایمان، الحادی عشرمن شعب الایمان وہو باب فی الخوف من اللہ تعالی، ۱/۵۰۲، الحدیث: ۸۴۱)
حضرت حسن بصری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ’’قیامت کے دن ان لوگوں کا حساب آسان ہوگا جو آج دنیا میں اللہتعالیٰ کی رضا کے لئے اپنا مُحاسبہ کرتے ہیں ، وہ اس طرح کہ انہیں جب بھی کوئی کام درپیش ہو تو پہلے اس پر غور کرتے ہیں ،پھر اگر وہ کام اللہ تعالیٰ کی رضاکے لئے ہوتواسے کرگزرتے ہیں اور اگر اس کے برخلاف نظر آئے تو اس سے رک جاتے ہیں۔پھر فرمایا: ’’اور بروزِ قیامت ان لوگوں کا حساب کٹھن ہوگا جو آج دنیا میں عمل کرتے وقت غوروفکر نہیں کرتے اور کسی قسم کا محاسبہ کئے بغیر وہ کام کر ڈالتے ہیں۔ ایسے لوگ دیکھیں گے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کا چھوٹے سے چھوٹا عمل شمار کر رکھا ہے ۔پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:
’’ وَ یَقُوۡلُوۡنَ یٰوَیۡلَتَنَا مَالِ ہٰذَا الْکِتٰبِ لَایُغَادِرُ صَغِیۡرَۃً وَّلَاکَبِیۡرَۃً اِلَّاۤ اَحْصٰىہَا ‘‘ (کہف:۴۹)
ترجمۂ کنزُالعِرفان:اورکہیں گے: ہائے ہماری خرابی! اس نامہ اعمال کو کیاہے کہ اس نے ہر چھوٹے اور بڑے گناہ کو گھیرا ہوا ہے۔
(ذم الہوی، الباب الثالث فی ذکر مجاہدۃ النفس ومحاسبتہا وتوبیخہا، ص۵۱، رقم: ۱۲۲-۱۲۳)
{ وَلِاُتِمَّ نِعْمَتِیۡ عَلَیۡکُمْ: اور تاکہ میں تم پر اپنی نعمت پوری کروں۔}اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے مسلمانو! جس طرح اللہتعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تمہارا رسول بنایاجو کہ تمہارے سامنے حق کی طرف ہدایت دینے والی آیتیں تلاوت فرماتے ہیں ،رشد و ہدایت کے راستے کی طرف رہنمائی کرتے ہیں ،اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی عظیم قدر ت پر قطعی دلائل قائم کرتے ہیں ،تمہیں بت پرستی کی نجاست سے پاک کرتے ہیں اورتمہیں وہ چیز سکھاتے ہیں جن سے تم اپنے نفسوں کو پہچان سکو اور ان کا تَزکِیہ کر سکو، اسی طرح مستقل طور پر تمہارے لئے بیتُ اللہ کو قبلہ بنا دیا تاکہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنی نعمت پوری کرے۔ (تفسیر منیر، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۵۰، ۱/۳۳، الجزء الثانی)
گویا جیسے مسلمانوں کا نبی جداگانہ تھا ایسے ہی ان کا قبلہ بھی جداگانہ ہو گیا۔