أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بِلِسَانٍ عَرَبِىٍّ مُّبِيۡنٍؕ‏ ۞

ترجمہ:

صاف صاف عربی زبان میں

علامہ آلوسی لکھتے ہیں :

حضرت جبریل الفاظ قرآنیہ کو لے کر نازل ہوتے تھے۔ اس سے پہلے قرآن مجید لوح محفوظ سے بیت العزت کی طرف نازل ہوا۔ یا جب جبریل (علیہ السلام) کو قرآن مجید کو نازل کرنے کا حکم دیا جاتا تو وہ اس کو لوح سے محفوظ کرلیتے تھے یا ان کی طرف قرآن مجید کی وحی کی جاتی اور وہ اس کو لے کر نازل ہوجاتے ‘ یا جیسا کہ بعض متقدین نے کہا ہے کہ حضرت جبریل اللہ سبحانہ سے قرآن مجید سنتے پھر بغیر کسی تغیر کے اس کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر القا کرتے۔

بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ حضرت جبریل نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قرآن مجید کے معانی نازل کرتے تھے پھر آپ معانی کو اپنے الفاظ سے تعبیر کرتے تھے لیکن یہ قول صحیح نہیں ہے کیونکہ اس آیت میں فرمایا ہے : بلسان عربی مبین (الشعرائ : ١٩٥) جبریل نے اس قرآن کو صاف صاف عربی زبان میں نازل کیا ہے اور اگر ایسا ہوتا تو پھر وحی متلو اور وحی غیر متلو میں اور قرآن اور حدیث میں کوئی فرق نہ رہتا۔

اسی طرح بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ یہ بھی جائز ہے کہ الروح الامین سے مراد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روح ہو کیونکہ آپ کی روح انتہائی مقدس اور فی نفسہا اس قدر کامل تھی کہ وہ خود بغیر کسی واسطے کے معانی کا ادراک کرتی تھی۔ یہ قول بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ اس پر اجماع ہے کہ الروح الامین سے مراد حضرت جبریل ہیں اور قرآن مجید میں تصریح ہے کہ قرآن مجید آپ پر حضرت جبریل نے نازل کیا ہے :

ترجمہ : (البقرہ : ٩٧)… آپ کہئے جو شخص جبریل کا دشمن ہے (وہ اپنے غیظ میں جل جائے) کیونکہ جبریل نے اس قرآن کو آپ کے قلب پر اللہ کے اذن سے نازل کیا ہے۔

اور بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ حضرت جبریل پر معانی القاء کئے گئے اور انہوں نے ان معانی کو اپنے الفاظ سے تعبیر کیا۔ یہ قول بھی صحیح نہیں ہے۔ صحیح قول یہی ہے کہ قرآن مجید کے الفاظ بھی اللہ عزوجل نے نازل کئے ہیں اور ان میں حضرت جبریل کا کوئی دخل نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

ترجمہ : (یوسف : ٢)… بیشک ہم نے اس قرآن عربی کو نازل کیا ہے تاکہ تم سمجھ سکو۔

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس قرآن کو جبریل سے سنتے تھے اور اپنی خداداد قوتوں سے اس کو یاد کرلیتے تھے اور یہ اس طرح نہیں تھا جس طرح عام بشر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قرآن سنتے تھے اور پھر اس کو یاد کرلیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید کے نزول کے وقت آپ پر سخت دہشت طاری ہوتی تھی اور شدید میں بھی آپ کی پیشانی پر پسینہ کے قطرے نمودار ہوجاتے تھے ‘ حتیٰ کہ بعض لوگ یہ سمجھتے تھے کہ آپ پر غشی طاری ہوگئی اور کبھی یہ گمان کیا جاتا کہ آپ اونگھ رہے ہیں۔

حضرت الحارث بن ہشام (رض) بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کہ آپ کے پاس وحی کس طرح آتی ہے ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کبھی کبھی مجھ پر وحی گھنٹی کی آواز کی طرح آتی ہے اور وہ مجھ پر بہت سخت ہوتی ہے۔ پس وحی مجھ سے منقطع ہوتی ہے اور میں اس کو یاد کرچکا ہوتا ہوں اور کبھی میرے پاس فرشتہ آدمی کی شکل میں آتا ہے۔ پس وہ مجھ سے کلام کرتا رہتا ہے اور میں اس کے کلام کو یاد کرتا رہتا ہوں۔ حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ میں نے انتہائی سرد دن میں دیکھا کہ آپ سے جب وحی کا نزول منقطع ہوا تو آپ کی پیشانی سے پسینہ بہ رہا تھا۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٣٣٣‘ السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ٧٦٧٩‘ مسند احمد رقم الحدیث : ٢٥٧٦٦ )

اور اسی کے موافق صحیح مسلم کی یہ حدیث ہے : حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے درمیان تشریف فرما تھے۔ اچانک آپ اونگھنے لگے۔ پھر آپ نے سر اٹھایا تو آپ مسکرا رہے تھے۔ ہم نے پوچھا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کس وجہ سے ہنس رہے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھ پر ابھی ابھی ایک سورت نازل ہوئی ہے ‘ پھر آپ نے پڑھا : بسم اللہ الرحمٰن الرحیم : انا اعطیناک الکوثر۔ فصل لربک وانحر۔ ان شانئک ھوالابتر۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٤٠٠‘ سنن ابودائود رقم الحدیث : ٧٨٤‘ سنن النسائی رقم الحدیث ‘ ٩٠٤)

بعض لوگوں نے یہ کہا کہ آپ پر تمام قرآن مجید بیداری میں نھازل ہوا ہے۔ اب ان پر یہ اشکال ہوا کہ یہ سورت الکوثر تو آپ پر اونگھنے کی حالت میں نازل ہوئی ہے۔ پھر انہوں نے اس کا یہ جواب دیا کہ دراصل پہلے آپ پر یہ سورت بیداری میں نازل ہوئی تھی پھر دوبارہ آپ پر یہ سورت اونگھ یا نیند میں نازل ہوئی۔ ہمارے نزدیک اس تاویل کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی طاقت سے قرآن کریم کو یاد کرتے تھے اور آپ کی نیند قرآن مجید کو یاد کرنے سے مانع نہیں تھی کیونکہ حدیث صحیح میں ہے :

ترجمہ :… حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : اے عائشہ ! بیشک میری آنکھیں سوتی ہیں اور میرا دل نہیں سوتا۔(صحیح البخاری رقم الحدیث : ١١٤٧‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٧٣٨‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٤٣٩‘ سنن ابودائود رقم الحدیث : ١٣٤١‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ١٦٩٧‘ السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ٣٩٣)

علامہ اصفہانی نے اپنی تفسیر کے شروع میں کہا ہے کہ اہل السنت والجماعت کا اس پر اتفاق ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام نازل کیا گیا ہے اور انزال کے معنی میں اختلاف ہے۔ بعض علماء نے کہا اس کا معنی ہے قرأت کا اظہار کرنا اور بعض علماء نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کا جبریل (علیہ السلام) پر انزال کیا اور وہ اس وقت آسمان میں تھے اور ان کو قرأت کی تعلیم دی۔ پھر حضرت جبریل اپنی صورت اصلیہ سے خالی ہو کر صورت بشریہ میں منتقل ہوجائیں اور دونوں میں سے پہلی صورت زیادہ دشوار ہے اور علامہ الطیبی نے کہا ہوسکتا ہے کہ آپ پر نزول قرآن اس طرح ہوا ہو کہ فرشتہ روحانی طور پر قرآن مجید کو حاصل کرے یا لوح محفوظ سے قرآن مجید کو یاد کرلے پھر اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کردے۔

اور علامہ القطب نے کشاف کے حواشی میں لکھا ہے کہ انزال کا معنی ہے کسی چیز کو بلندی سے نیچے کی طرف حرکت دینا اور یہ معنی کلام میں متحقق نہیں ہوسکتا۔ سو یہ معنی مجازی میں مستعمل ہے۔ پس جس شخص کے نزدیک قرآن مجید ایک معنی ہے جو اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ قائم ہے تو پھر انزال کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کلمات اور حروف کو پیدا کرے جو اس معنی پر دلالت کریں اور ان کو لوح محفوظ میں ثابت فرما دے اور جس شخص کے نزدیک قرآن مجید وہ الفاظ ہیں جو اس معنی پر دلالت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ قائم ہے تو پھر قرآن مجید کے انزال کا معنی یہ ہے کہ وہ محض ان الفاظ کو لوح محفوظ میں ثابت فرما دے اور یہ معنی انزال کے مجازی معنی ہے مناسب ہے۔

پھر اس آیت کا ظاہر اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ الروح الامین نے تمام قرآن مجید کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قلب شریف پر نازل کیا ہے اور یہ اس حدیث کے منافی ہے :

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رات میں لے جایا گیا تو اس کی انتہاء سدرۃ المنتہیٰ پر تھی اور وہ چھٹے آسمان میں ہے۔ زمین سے جو چیزیں اوپر چڑھتی ہیں ان کی انتہا اسی پر ہوتی ہے پس ان کو کھینچ لیا جاتا ہے اور اوپر سے جو چیزیں نیچے اترتی ہیں ان کی انتہاء بھی اس پر ہوتی ہے پس ان کو کھینچ لیا جاتا ہے ‘ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تین چیزیں دی گئیں۔ آپ کو پانچ نمازیں دی گئیں اور آپ کو سورة البقرہ کی آخری آیتیں دی گئیں اور آپ کی امت میں سے جس نے شرک نہ کیا ہو اس کے گناہ بخش دیئے گئے۔(صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٧٣ ‘ْ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٢٧٦‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٤٥١ )

اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ پر آپ کو سورة بقرہ کی آخری آیتیں دی گئیں۔ اس کے دو جواب دیئے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ ہوسکتا ہے کہ سورة البقرہ کی آخری آیات دوبارہ حضرت جبریل کی وساطت سے نازل کی گئی ہوں اور اس کا دوسرا جواب یہ ہے کہ سورة الشعراء کی زیر تفسیر آیت میں جو فرمایا ہے کہ اس قرآن کو الروح الامین نے نازل کیا ہے اس کا معنی یہ نہیں ہے کہ تمام قرآن مجید کو الروح الامین نے نازل کیا ہے بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ قرآن مجید کے اکثر اور غالب حصے کو جبریل امین نے نازل کیا ہے۔

نیز اس حدیث میں مذکور ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ چھٹے آسمان میں ہے اور اکثر احادیث میں یہ ہے کہ وہ ساتویں آسمان میں ہے اور اس حدیث کی توجیہ یہ ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ کی جڑ چھٹے آسمان میں ہے اور پورا درخت ساتویں آسمان میں ہے۔ (السدرۃ کا معنی ہے بیری کا درخت)

اس آیت کی جو یہ توجیہ کی گئی ہے کہ حضرت جبریل نے قرآن مجید کی اکثر آیات نازل کی ہیں۔ اس کی تائید میں یہ کہا گیا ہے کہ قرآن مجید کی بعض آیات حضرت اسرافیل (علیہ السلام) نے نازل کی ہیں اور یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کے ابتدائی زمانہ کا واقعہ ہے لیکن اس پر یہ اعتراض ہے کہ یہ بات بالکل ثابت نہیں ہے۔ اتقان میں مذکور ہے کہ امام احمد نے اپنی تاریخ میں ازدائود بن ابی ھنداز شعبی روایت کیا ہے کہ چالیس سال کی عمر میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی نازل کی گئی اور آپ کی نبوت کے ابتدائی تین سال میں حضرت اسرافیل آپ کے ساتھ رہے۔ وہ آپ کو مختلف چیزوں اور باتوں کی تعلیم دیتے تھے اور حضرت اسرافیل کی زبان سے آپ پر قرآن مجید نازل نہیں ہوا اور پھر جب تین سال گزر گئے تو پھر آپ کی نبوت کے ساتھ حضرت جبریل (علیہ السلام) مقارن ہوئے۔ پھر ان کی زبان سے دس سال تک آپ پر قرآن مجید نازل ہوتا رہا۔ یہ حدیث اس بات کی صریح مخالف ہے کہ آپ پر حضرت اسرافیل نے بھی وحی نازل کی ہے اور یہ حدیث اس کے بھی مخالف ہے کہ اول امر سے لے کر آخر تک آپ پر حضرت جبریل (علیہ السلام) وحی نازل کرتے رہے ہیں اور یہی صحیح ہے۔ ہاں قرآن مجید کے علاوہ دیگر امور میں حضرت جبریل کے علاوہ دوسرے فرشتوں نے بھی آپ پر وحی نازل کی ہے اور کئی مرتبہ قرآن مجید کے نزول کی تقویت کے لئے حضرت جبریل کے ساتھ دوسرے فرشتے بھی نازل ہوتے تھے۔

بعض علماء نے یہ بھی کہا ہے کہ ہرچند کہ قرآن مجیدکو حضرت جبریل ہی نازل کرتے تھے لیکن وہ ہمیشہ آپ کے قلب پر قرآن مجید کو نازل نہیں کرتے تھے بلکہ آپ کے قلب پر قرآن مجید کو نازل کرنا ‘ اکثر اور اغلب کے اعتبار سے ہے کیونکہ شیخ محی الدین ابن عربی نے الفتوحات المکیہ کے چودھریں باب میں لکھا ہے کہ جو فرشتہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی لے کر آتا تھا اس کی دو قسمیں ہیں ‘ کبھی وہ آپ کے قلب پر وحی نازل کرتا تھا اور کبھی وہ اس کو آپ کی بصر پر القا کردیتا۔ جس کو آپ دیکھتے تھے اور آپ کو دیکھنے سے جو وحی حاصل ہوتی تھی وہ اس کے بالکل مساوی تھی جو آپ کو سننے سے حاصل ہوتی تھی لیکن یہ تصحیح نہیں ہے۔ صحیح یہ ہے کہ قرآن مجید ہمیشہ حضرت جبریل نے آپ کے قلب پر نازل کیا ہے۔ البتہ بعض دیگر امور کے متعلق آپ پر وحی مذکورہ دوسرے طریقے سے بھی نازل ہوجاتی تھی جیسا کہ احادیث میں ہے بعض اوقات فرشتہ آپ کے پاس جسمانی شکل میں بھی آتا تھا۔ (روح المعانی جز ١٩ ص ١٨٨۔ ١٨٦ ملخصا ‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٧ ھ)

قرآن مجید کے عربی زبان میں ہونے کی تحقیق اور غیر عربی الفاظ کا جواب 

اس کے بعد فرمایا : صاف صاف عربی زبان میں۔ (الشعرائ : ١٩٥)

یعنی قرآن مجید کو ایسی صاف صاف عربی زبان میں نازل کیا گیا جس میں الفاظ کی اپنے معانی پر دلالت بالکل واضح تھی اور اس میں کوئی خفاء اور اشتباہ نہ تھا تاکہ عرب کے رہنے والے اور قریش مکہ یہ نہ کہہ سکیں کہ ہم اس کلام کو سن کر کیا کریں جس کو ہم سمجھ ہی نہیں سکتے۔ اس آیت سے عربی زبان کی فضیلت بھی ظاہر ہوتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو عربی زبان میں نازل کیا ہے کسی اور زبان میں نازل نہیں کیا۔ اسی وجہ سے اہل جنت کے لئے عربی زبان کو اختیار کیا گیا ہے اور اہل نار کے لئے عجمی زبان کو۔ سفیان نے کہا ‘ قیامت کے دن جنت میں داخل ہونے سے پہلے لوگ سریانی زبان میں کلام کریں گے اور جنت میں داخل ہونے کے بعد عربی زبان میں کلام کریں گے۔

امام عبدالرحمان بن محمد بن ادریس ابن ابی حاتم متوفی ٣٢٧ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

ابن بریدہ روایت کرتے ہیں کہ لسان عربی سے مراد لسان جرھم ہے۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٥٩٤٨ )

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ قرآن مجید کا صاف صاف عربی زبان میں ہونا کس طرح درست ہوگا ‘ جبکہ اس میں دوسری لغات بھی ہیں مثلاً اس میں سجیل کا لفظ ہے جس کا معنی پتھر اور کیچڑ ہے اور یہ فارسی زبان کا لفظ ہے اور قرآن مجید میں صُر کا لفظ ہے فصر من الیک (البقرہ : ٢٦٠) یعنی ان کو کاٹ کر ان کے ٹکڑے کردو اور یہ رومی زبان کا لفظ ہے اور قرآن مجید میں ہے ولات حین مناص (ص : ٣) اور نہ ہی وہ وقت بھاگنے کا تھا ‘ یہ سریانی زبان کا لفظ ہے اور کفلین کا لفظ ہے اس کے معنی ہیں دو حصے اور یہ حبشی زبان کا لفظ ہے اور تنور کا لفظ ہے جس میں روٹی پکائی جاتی ہے اور یہ فارسی زبان کا لفظ ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ عرب ان الفاظ کو استعمال کرتے ہیں اور ان کو اپنے عرف اور محاورہ میں پہچانتے ہیں ‘ اس لئے یہ الفاظ عربی زبان کے حکم میں ہیں۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ الفاظ لغات متداخلہ میں سے ہوں۔ یہ الفاظ دوسری زبانوں میں بھی مستعمل ہوں اور عربی زبان میں بھی مستعمل ہوں۔

عربی زبان کی فضیلت 

فقیہ ابواللیث نے کہا ہے کہ عربی زبان کو تمام زبانوں پر فضیلت ہے ‘ پس جس شخص نے عربی زبان خود سیکھی یا کسی دوسرے کو سکھائی تو اس کو اجر ملے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو عربی زبان میں نازل کیا ہے۔(روح البیان ج ٦ ص ٣٩٤‘ بیروت ١٤٢١ ھ)

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قریش کی محبت ایمان ہے اور جس نے عربوں سے محبت رکھی اس نے مجھ سے محبت رکھی اور جس نے عربوں سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔(مسند البزار رقم الحدیث : ٦٤‘ حافظ الہیثمی نے کہا اس کی سند میں العلاء بن عمر الحفی ضعیف راوی ہے ‘ مجمع الزوائد رقم الحدیث ١٦٦٠٠)

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تین وجہوں سے عربوں سے محبت رکھو ‘ کیونکہ میں عربی ہوں اور قرآن عربی ہے اور اہل جنت کا کلام عربی ہے۔(المعجم الکبیر رقم الحدیث : ١١٤٤١‘ حافظ الہیثمی نے کہا اس حدیث کی سند میں العلاء بن عمر الحنفی ضعیف راوی ہے ‘ مجمع الزوائد رقم الحدیث : ١٦٦٠٠)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی پر وحی عربی زبان میں نازل کی پھر بعد میں وہ نبی اس وحی کو اپنی قوم کی زبان میں بیان فرماتا۔(امام ابولقاسم طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ فرماتے ہیں ‘ اس حدیث کو زہری سے صرف لیمان بن ارقم نے روایت کیا ہے اور عباس بن الفضل اس میں متفرد ہے۔ المعجم الاوسط ج ٣ ص ٢٩٥ رقم الحدیث : ٤٦٣٥‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤٢٠ ھ اور حافظ الہیثمی نے کہا سلیمان بن ارقم ضعیف راوی ہے۔ مجمع الزوائد رقم الحدیث : ١٦٦٠٣)

عربی زبان کی تاریخ 

علامہ سید محمود آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں :

امام ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ جنت میں حضرت آدم (علیہ السلام) کی زبان عربی تھی۔ جب انہوں نے شجر ممنوع سے کھالیا تو اللہ تعالیٰ نے اس زبان کو ان سے سلب کرلیا۔ پھر وہ سریانی زبان میں کلام کرنے لگے۔ پھر جب انہوں نے توبہ کرلی تو اللہ تعالیٰ نے وہ زبان ان کو لوٹا دی۔ سریانی زبان ارض سوریہ کی طرف منسوب ہے اور یہ ایک جزیرہ کی زبان ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی زبان اور غرق سے پہلے ان کی قوم کی بھی یہی زبان تھی اور وہ عربی زبان کے مشابہ تھی لیکن اس میں تحریف ہوچکی تھی اور ان کی کشتی میں سوار لوگوں کی بھی ایک کے سوا یہی زبان تھی۔

” حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم الخلیل (علیہ السلام) کو یہ عربی زبان الہام کی گئی تھی۔ یہ حدیث بخاری اور مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے۔ ذہبی نے کہا مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے۔(المستدرک ج ٢ ص ٣٤٤‘ طبع قدیم ‘ المستدرک رقم الحدیث : ٣٣١٥‘ طًبع جدید ‘ کنزلالعمال رقم الحدیث : ٣٢٣١١)

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت تلاوت کی : قرانا عربیا لقوم یعلمون (فصلت : ٣) پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حضرت اسماعیل علیہ اسلام کو یہ زبان الہام کی گئی تھی۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور امام بخاری اور امام مسلم نے اس کو روایت نہیں کیا۔(المستدرک ج ٢ ص ٤٣٩‘ طبع قدیم ‘ المستدرک رقم الحدیث : ٣٦٤١‘ طبع جدید)

حضرت بریدہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ لسان عربی سے مراد جرہم کی لسان ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔ ذہبی نے بھی کہا یہ حدیث صحیح ہے۔ (المستدرک ج ٢ ص ٤٣٩‘ المستدرک رقم الحدیث : ٣٦٤٢‘ المکتبۃ العصریہ بیروت ‘ ١٤٢٠ ھ)

نیز علامہ آلوسی لکھتے ہیں۔

محمد بن سلام نے از یونس از ابو عمرو روایت کیا کہ تمام عرب حضرت اسماعیل کی اولاد ہیں ‘ سوائے حمیر اور جرہم کی بقایا نسل کے اور حافظ ابن کثیر نے ذکر کیا ہے کہ عرب میں وہ بھی ہیں جو حضرت اسماعیل کی اولاد نہیں ہیں ‘ جیسے عاد اور ثمود اور طسم اور جدیس اور امیم اور جرھم اور عمالیق اور ان کے علاوہ دوسری امتیں جو حضرت خلیل (علیہ السلام) سے پہلے تھیں اور انہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور ان کے زمانہ میں حجاز کے عرب ان کی اولاد سے تھے اور یمن کے عرب حمیر ہیں اور مشہور یہ ہے کہ وہ قحطان سے ہیں اور ان کا نام مہزم ہے اور وہ ابن ھود ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ قحطان حضرت ھود ہیں اور امام ابن اسحاق وغیرہ نے روایت کیا ہے کہ یمن کے عرب حضرت اسماعیل کی اولاد ہیں اور مطلقاً لغت عرب ان سے پہلے ہے اور یہ ان لغات میں سے ایک ہے جن کا حضرت آدم (علیہ السلام) کو علم تھا اور وہ اس زبان میں اور دوسری زبانوں میں کلام کرتے تھے اور وہ زیادہ تر سریانی زبان بولتے تھے اور بعض مورخین نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ عربی زبان ہی سب سے پہلی زبان ہے اور باقی زبانیں اس کے بعد حادث ہوئی ہیں ‘ تو قیفاً یا اصطلاحاً ۔ اور عربی لغت کے اولین لغت ہونے پر انہوں نے اس استدلال کیا ہے کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور وہ عربی زبان میں ہے لیکن یہ دلیل کمزور ہے اور عربی زبان سب سے افضل زبان ہے حتیٰ کہ امام ابو یوسف سے منقول ہے کہ جو شخص عربی اچھی طرح بول سکتا ہو اس کے لئے بلا ضرورت کوئی اور زبان بولنا مکروہ ہے۔ 

القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 195