أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَكَذَّبُوۡهُ فَاَخَذَهُمۡ عَذَابُ يَوۡمِ الظُّلَّةِ‌ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ ۞

ترجمہ:

سو انہوں نے شعیب کی تکذیب کردی تو ان کو سائبان والے دن کے عذاب نے پکڑ لیا ‘ بیشک وہ بہت بھاری دن کا عذاب تھا

اصحاب الایکہ کا اپنے انکار پر اصرار اور ان پر عذاب کا نزول 

پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

سو انہوں نے شعیب کی تکذیب کردی تو ان کو سائبان والے دن کے عذاب نے پکڑ لیا۔ بیشک وہ بہت بھاری دن کا عذاب تھا۔ (الشعراء : ١٨٩) یعنی انہوں نے اپنے شبہات کے زائل ہونے اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کے دلائل واضح ہونے کے باوجود اپنی تکذیب پر اصرار کیا تو ان کو یوم الظلہ کے عذاب نے اپنی گرفت میں لے لیا۔ الظلۃ سایا کرنے والے بادل کو کہتے ہیں اور سائبان کو بھی کہتے ہیں۔ انہوں نے یہی کہا تھا کہ ان کے اوپر آسمان سے کوئی ٹکڑا گرا دیا جائے۔ گویا وہ آسمان کی جانب سے کسی عذاب کے نازل ہونے کا مطالبہ کررہے تھے تو ان پر آسمان کی طرف سے ہی عذاب نازل کردیا گیا۔

حضرت شعیب (علیہ السلام) کو دو امتوں کی طرف بھیجا گیا تھا ‘ اصحاب مدین اور اصحاب الایکہ۔ اصحاب مدین کو چنگھاڑ اور زلزلہ کے عذاب سے ہلاک کیا گیا اور اصحاب الایکہ کو یوم الظلۃ کے عذاب سے ہلاک کیا گیا۔

القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 189