أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَتَوَكَّلۡ عَلَى الۡعَزِيۡزِ الرَّحِيۡمِۙ ۞

ترجمہ:

اور بہت غالب اور بےحد رحم کرنے والے پر توکل کیجئے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کے غالب اور رحیم ہونے کا معنی 

اور بہت غالب اور بےحد رحم فرمانے والے پر توکل کیجئے (الشعرائ : ٢١٧)

بہت غالب سے مراد یہ ہے کہ جو اپنے محبت کرنے والے کو رسوا نہیں کرتا اور عداوت کرنے والے کو سربلند نہیں کرتا اور وہ اپنے دشمنوں کو سرنگوں اور مغلوب کرنے پر قادر ہے اور بےحد رحم فرمانے والے سے مراد یہ ہے جو اس پر بھروسہ کرے اور اپنے معاملات اس کے سپرد کردے۔ وہ اس کو ناکام اور نامراد نہیں کرتا جو اپنے چاہنے والوں اور اپنے دوستوں کو فتح اور نصرت سے نوازتا ہے اور توکل کرنے سے مراد یہ ہے کہ تمام کاموں میں اللہ تعالیٰ پر توکل کرے اور اس کے ماسوا سے اعراض کرے اور ایسا شخص وہی ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے خواص اور کاملین میں سے ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو ان کے متبعین میں سے بنا دے۔

توکل کی تحقیق 

توکل کا معنی ہے کسی چیز کے حصول کے اسباب فراہم کرکے اس کے حصول کو اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دینا۔

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ! میں اونٹنی کو باندھ کر توکل کروں یا اس کو کھلا چھوڑ کر توکل کروں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ‘ اونٹنی کو باندھ کر توکل کرو۔(سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٥١٧‘ حلیۃ الاولیاء ج ٨ ص ٣٩٠‘ المسند الجامع رقم الحدیث : ١٥٩٢)

علامہ سید محمود آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں :

بہت سے علماء نے توکل کی یہ تعریف کی ہے کہ انسان جس کام کا مالک ہو اور اس کے نفع اور ضرر پر قادر ہو اس کام کو اللہ پر چھوڑ دے یہ توکل ہے اور بعض علماء نے یہ کہا کہ انسان پر کوئی ایسی مصیبت ٹوٹ پڑے جس کو وہ اللہ کی نافرمانی کرکے دور کرسکتا ہو اور وہ اللہ کی نافرمانی کرکے اس مصیبت کو دور نہ کرے تو یہ توکل ہے ‘ مثلاً جھوٹی گواہی پیش کرکے کسی الزام سے بچ سکتا ہو لیکن وہ اللہ پر بھروسہ کرکے ایسا نہ کرے تو یہ توکل ہے اور بعض علماء نے کہا یہ توکل کا ادنیٰ مرتبہ ہے۔

بعض عارفین سے منقول ہے کہ اللہ پر توکل کرنے میں لوگوں کی تین قسمیں ہیں :

(١)… انسان کسی چیز کے سبب کو حاصل کرکے اس کو طلب کرے اور اس کی نیت یہ ہو کہ وہ اس چیز سے مخلوق کو نفع پہنچائے گا۔

(٢)… انسان کسی چیز کے حصول کے اسباب سے صرف نظر کرے نہ اس چیز کو طلب کرے نہ اس چیز کی حرص کرے اور اپنے آپ کو فرائض اور واجبات کی ادائیگی میں مشغول رکھے۔

(٣)…انسان کسی چیز کو طلب نہ کرے اور اس کے حصول کے لئے کوئی کوشش نہ کرے اور یہ یقین رکھے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی چیز کو مہمل نہیں چھوڑا بلکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے اور اس کی تقدیر سے فارغ ہوچکا ہے اور اس نے ہر چیز کے حصول کو ایک وقت مقرر کے لئے مقدر کردیا ہے۔ پس متوکل وہ شخص ہے جس نے غور و فکر کرنے اور اشیاء کے اسباب کو تلاش کرنے سے اپنے نفس کو آرام اور راحت کے ساتھ رکھا ہوا ہے اور وہ اس کا منتظر ہے کہ تقدیر سے اس کے لئے کیا چیز ظاہر ہوتی ہے اور اس کو یہ یقین ہے کہ طلب کرنے سے اس کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور توکل اس کو منع نہیں کرے گا اور جب وہ اپنے آپ کو اسباب غلامی سے نکال لے گا اور وہ اپنے توکل میں اللہ تعالیٰ کے حق کے سوا اور کسی چیز کا لحاظ نہیں کرے گا تو اللہ اس کی ہر مہم میں کافی ہوگا۔ (روح المعانی جز ١٩ ص ٢٠٦۔ ٢٠٥‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٧ ھ)

حق توکل کا معنی 

حضرت عمر بن الخطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تم اللہ تعالیٰ پر اس طرح توکل کرو ‘ جس طرح توکل کرنے کا حق ہے تو تم کو اس طرح رزق دیا جائے گا جس طرح پرندوں کو رزق دیا جاتا ہے۔ وہ بھوکے صبح کرتے ہیں اور شام کو شکم سیر لوٹتے ہیں۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٣٤٤‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤١٦٤ )

علامہ شرف الدین حسین بن محمد الطیبی المتوفی ٧٤٣ ھ لکھتے ہیں :

حق توکل کا معنی یہ ہے کہ انسان کو یہ یقین ہو کہ اللہ کے سوا کوئی کسی کام کو کرنے والبا نہیں ہے اور مخلوق میں سے جو چیز بھی موجود ہے اس کو وہی رزق دیتا ہے ‘ وہی عطا کرتا ہے ‘ وہی منع کرتا ہے ‘ وہی زندگی دیتا ہے ‘ وہی موت دیتا ہے ‘ وہی غنی کرتا ہے اور وہی فقیر کرتا ہے اور جو چیز بھی موجود ہے ‘ اس کا وجود اللہ تعالیٰ سے ہی ہے۔ پھر وہ اچھے طریقہ سے اپنے مطلوب کی طلب میں کوشش کرے۔ اس کو پرندوں کے ساتھ تشبیہ دی ہے کیونکہ پرندے صبح کو بھوکے نکلتے ہیں پھر وہ اپنی روزی اور رزق کو تلاش کرتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر لوٹتے ہیں۔

امام ابو حامد غزالی نے کہا ہے کہ بعض لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ توکل کا معنی ہے بدن سے کسب اور کوشش کو ترک کرنا اور دل سے تدبیر کو ترک کرنا اور انسان زمین پر اس طرح پڑا رہے جیسے زمین پر کوئی کپڑے کا ٹکڑا پڑا ہو یا گوشت کی بوٹی پڑی ہو اور یہ جاہلوں کا گمان ہے اور ایسا توکل کرنا شریعت میں حرام ہے اور شریعت نے توکل کرنے والوں کی تعریف کی ہے تو جو شخص حرام کام کرے گا وہ کیسے تعریف اور تحسین کا مستحق ہوگا اور توکل کا معنی یہ ہے کہ بندہ اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے اپنے عمل کو بروئے کار لائے اور سعی اور جدوجہد کرے۔ (الکاشف عن حقائق السنن ج ٦ ص ٣٦٣‘ مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی ‘ ١٤١٣ ھ)

آیا اسباب کو ترک کرنا توکل میں داخل ہے یا نہیں ؟

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ‘ میری امت میں سے ستر ہزار نفر بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نہ داغ لگواتے ہوں گے نہ دم کرتے ہوں گے اور نہ بدفالی نکالتے ہوں گے اور صرف اپنے رب پر توکل کرتے ہوں گے۔(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٤٧٢‘ صحیح مسلم ‘ کتاب الایمان ٣٧١١‘ رقم بلاتکرار ٢١٨‘ الرقم المسلسل ٥١٣)

علامہ یحییٰ بن شرف نواوی متوفی ٦٧٦ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

امام عبداللہ المازری نے کہا ‘ اس حدیث سے استدلال کرکے بعض علماء نے کہا کہ دوا اور علاج کرنا مکروہ ہے اور جمہور علماء اس کے خلاف ہیں کیونکہ رسول اللہ نے بکثرت احادیث میں دوائوں کے اور کھانے پینے کے فوائد بیان کئے ہیں اور خود نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوائوں سے علاج کیا ہے اور آپ کے دوا کرنے اور دم کرنے سے شفاء کے متعلق حضرت عائشہ (رض) سے بکثرت احادیث منقول ہیں اور احادیث صحیحہ میں ہے کہ بعض صحابہ نے بچھو کے کاٹے ہوئے پر دم کرنے کی اجرت لی اور جب یہ چیزیں ثابت ہیں تو پھر اس حدیث کا محمل یہ ہے کہ حق توکل کے منافی وہ لوگ ہیں جو یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ دوائیں اپنی طبیعت سے نفع دیتی ہیں اور وہ شفا کو اللہ تعالیٰ کی طرف مفوض نہیں کرتے۔

قاضی عیاض نے کہا ‘ اکثر شارحین حدیث نے اس تاویل کو اختیار کیا ہے لیکن یہ تاویل درست نہیں ہے کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان لوگوں کی زائد فضیلت کا ذکر کیا ہے کہ یہ لوگ جنت میں بغیر حساب کے داخل ہوں گے اور ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح جمک رہے ہوں گے اور اگر یہ تاویل درست ہوتی تو پھر یہ لوگ اس فضیلت کے ساتھ مخصوص نہ ہوتے کیونکہ تمام مومنوں کا یہی عقیدہ ہے اور جس کا عقیدہ اس کے خلاف ہو ‘ وہ کافر ہے اور علماء اور اصحاب المعانی نے اس مسئلہ میں کلام کیا ہے اور علامہ ابو سلیمان خطابی وغیرہ نے کہا ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ پر توکل کرتے ہوئے اور اس کی تقدیر اور اس کی نازل کی ہوئی بیماری پر راضی رہتے ہوئے علاج اور دم کرانے اور دیگر اسباب کو ترک کردیتے ہیں۔ علامہ خطابی نے کہا یہ مومنین کا ملین کے بلند درجات میں سے ہے اور بہت علماء کا یہ مذہب ہے۔ قاضی عیاض نے کہا یہ اس حدیث کا ظاہر معنی ہے اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ داغ لگوانے ‘ دم کرانے اور طب کی باقی انواع میں کوئی فرق نہیں ہے اور یہ سب حق توکل کے منافی ہیں۔

قاضی عیاض فرماتے ہیں کہ حدیث کا ظاہر معنی وہی ہے جس کو علامہ خطابی نے اختیار کیا ہے اور حق توکل کرنے والے وہی لوگ ہیں جو اسباب کو ترک کردیں اور رہا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا علاج کرنا تو وہ بیان جواز کے لئے ہے کیونکہ حدیث صحیح میں ہے ‘ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امت کو داغ لگوانے سے منع بھی فرمایا ہے۔ (پہلے زمانہ میں درد کی جگہ پر لوہے کو گرم کرکے داغ لگا دیتے تھے اور یہ بھی علاج کی ایک قسم ہے۔ )

توکل کی حقیقت میں متقدمین اور متاخرین علاماء کا اختلاف ہے۔ ایک جماعت نے یہ کہا ہے کہ توکل کے اسم کا وہ ہر شخص مستحق ہے جس کے دل میں غیر اللہ کا خوف بالکل نہ ہو۔ اس کو کسی درندہ کا خوف ہو نہ کسی دشمن کا حتقٰ کہ وہ اللہ کی ضمانت پر اعتماد کرتے ہوئے رزق کے طلب کرنے کو بھی چھوڑ دے۔

اور ایک جماعت نے کہا توکل کی تعریف یہ ہے اللہ تعالیٰ پر اعتماد کرنا اور یہ یقین رکھنا کہ اس کی تقدیر نافذ ہوگی اور اپنے مقاصد کے حصول کے لئے سعی اور جدوجہد کرنے میں اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع کرنا خصوصاً کھانے پینے میں اور دشمنوں سے حفاظت کے معاملہ میں جیسا کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) کی یہ سنت ہے۔

قاضی عیاض نے کہا اول الذکر بعض متصوفہ اور اصحاب علم القلوب و الاشارات کا مذہب ہے اور ثانی الذکر عامۃ الفقہاء کا مذہب ہے اور صوفیاء میں سے محققین نے توکل کی تعریف میں یہ کہا ہے کہ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے اسباب کو اختیار کرنا ضروری ہے لیکن جب انسان صرف اسباب پر قناعت کرے اور مطمئن ہوجائے تو یہ توکل نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی سنت اور اس کی حکمت کے مطابق اسباب کو اختیار کرے اور اس کا یہ یقین ہو کہ یہ اسباب کسی نفع کے حصول یا ضرر کو دفع کرنے میں مستقل اور موثر نہیں ہیں اور نفع اور ضرر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کے ارادہ سے ہی ظاہر ہوگا۔ یہ تمام کلام قاضی عیاض کا ہے۔(اکمال المعلم بفوائد مسلم ج ١ ص ٦٠٤۔ ٦٠١‘ مطبوعہ دارالوفاء بیروت ‘ ١٤١٠ ھ ‘ صحیح مسلم بشرح النوادی ج ٢ ص ١١٠٠۔ ١٠٩٩‘ مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ ‘ ١٤١٧ ھ)

توکل کی تعریف میں صوفیا کے اقوال 

امام ابو القاسم عبدالکریم بن ھوازن القشیری المتوفی ٤٦٥ ھ لکھتے ہیں :

سہل بن عبداللہ تستری نے کہا متوکل کی تین علامتیں ہیں۔ وہ خود سے سوال نہیں کرتا ‘ کسی کی دی ہوئی چیز کو رد نہیں کرتا اور کسی کی دی ہوئی چیز کو جمع نہیں کرتا۔

با یزید سے پوچھا گیا کہ توکل کی کیا تعریف ہے ؟ انہوں نے پوچھا تمہارے نزدیک توکل کی کیا تعریف ہے ؟ سائل نے کہا ہمارے اصحاب یہ کہتے ہیں کہ توکل یہ ہے کہ اگر تمہارے دائیں اور بائیں درندے اور اژدھے ہوں تو تمہارے دل میں خوف نہ پیدا ہو۔ با یزید نے کہا ‘ ہاں یہ بھی درست ہے لیکن اگر اہل جنت کو جنت میں ثواب ہو رہا ہو اور اہل دوزخ کو دوزخ میں عذاب ہو رہا ہو اور تم ان میں تمیز کررہے ہو تو تم متوکلین میں سے نکل جائو گے۔

سہل بن عبداللہ نے کہا توکل کا پہلا درجہ یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اس طرح ہو جس طرح مردہ غسال کے ہاتھوں میں ہوتا ہے۔

امام قشیری فرماتے ہیں کہ توکل کا محل قلب ہے اور اس کی ظاہری حرکت قلب کے توکل کے منافی نہ ہو اور اس کے نزدیک تقدیر اللہ کی طرف سے ہو ‘ اگر کوئی چیز مشکل ہو تو اللہ کی تقدیر سے ہے اور اگر کوئی چیز آسان ہے تو وہ بھی اللہ کی تقدیر سے ہے۔ حضرت انس بن مالک رضٗی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اونٹنی پر سوار ہو کر آیا اور آپ سے پوچھا کہ اونٹنی کو کھلا چھوڑ کر توکل کروں یا اونٹنی کو باندھ کر توکل کروں ؟ آپ نے فرمایا اونٹنی کو باندھ کر تو کرو۔(سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٣٤٤ )

ابراہیم خواص بیان کرتے ہیں کہ وہ ایک دیہات میں جارہے تھے کہ انہوں نے ایک آواز سنی۔ انہوں نے مڑ کر دیکھا تو ایک اعرابی جا رہا تھا۔ اس نے کہا اے ابراہیم ! ہمارے نزدیک توکل یہ ہے کہ جب تم کسی شہر میں جائو تو شہر والوں سے تمہاری یہ امید نہ ہو کہ وہ تمہیں کھانا کھلائیں گے بلکہ اللہ پر توکل ہو۔ ابو تراب نخشنبی نے کہا کہ توکل یہ ہے کہ تم اپنے بدن کو عبادت میں مشغول رکھو اور اپنے دل کو اللہ کی یاد میں مستغرق رکھو اور قدر ضروری پر مطمئن رہو۔ اگر تم کو کچھ دیا جائے تو شکر کرو اور نہ دیا جائے تو صبر کرو۔

حمدون قصار سے توکل کے متعلق سوال کیا گیا تو اس نے کہا ‘ اگر تمہارے پاس دس ہزار روپے ہوں اور تم پر ایک روپے کا قرض ہو تو تم موت سے بےخوف نہ ہو۔ ہوسکتا ہے کہ تم پر وہ قرض رہ جائے اور تمہارے اوپر دس ہزار روپے قرض ہو اور تمہارے پاس اس کی ادائیگی کے لئے رقم نہ ہو تو تم اللہ تعالیٰ سے مایوس نہ ہو کہ وہ تمہارے قرض کی ادائیگی کی سبیل کردے گا۔

استاذ ابوعلی وقاق یہ کہتے تھے کہ متوکل کے تین درجات ہیں : التوکل ‘ پھر تسلیم ‘ پھر تفویض ‘ اللہ کے وعدہ پر مطمئن ہونا توکل ہے اور اس کے علم پر قناعت کرنا تسلیم ہے اور اس کے حکم پر راضی رہنا تفویض ہے۔ توکل ابتداء ہے ‘ تسلیم متوسط ہے اور تفویض انتہاء ہے۔ نیز استاذ ابوعلی وقاق کہتے تھے کہ توکل مومنین کی صفت ہے۔ تسلیم اولیاء کی صفت ہے اور تفویض موحدین کی صفت ہے ‘ یا توکل عوام کی صفت ہے اور تسلیم خواص کی صفت ہے اور تفویض خواص الخواص کی صفت ہے۔ نیز وہ کہتے تھے کہ توکل عام انبیاء کی صفت ہے اور تسلیم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی صفت ہے اور تفویض ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صفت ہے۔۔(الرسالۃ القشیریہ ص ٢٠٤۔ ٢٠٠‘ ملخصاً و ملتقطاً ‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٨ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 217