أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اُولٰٓئِكَ الَّذِيۡنَ لَهُمۡ سُوۡٓءُ الۡعَذَابِ وَهُمۡ فِى الۡاٰخِرَةِ هُمُ الۡاَخۡسَرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے برا عذاب ہے اور وہی آخرت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں

پھر فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے برا عذاب ہے۔ یعنی دنیا میں ان کو قتل کیا جائے گا اور گرفتار کیا جائے گا جیسا کہ جنگ بدر میں ہوا ‘ اور وہی آخرت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں ‘ کیونکہ انہوں نے ہدایت کے بدلہ میں گمراہی کو خریدا تو وہ دوزخ کے عذاب کی نجات سے محروم ہوگئے ‘ اور جنت اور اس کی نعمتوں کے نہ ملنے کا نقصان اٹھایا۔

دوزخ سے پناہ مانگنے اور جنت کے حصول کی دعا کرنے کے متعلق آیات اور احادیث 

بعض علماء نے کہا ہے کہ دنیا والے آخرت کے خسارے میں رہتے ہیں اور آخرت والے مولیٰ کی خسارے میں رہتے ہیں اور جو دنیا اور آخرت کسی کسی کی طرف التفات نہ کرے وہ اپنے مولیٰ کو پالیتا ہے۔ (روح البیان ج ٦ ص ١١٤‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت)

اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی دنیا سے ترک تعلق کرلے اور اس کے دل میں دوزخ کے عذاب کا خوف اور جنت کی نعمتوں کا شوق نہ ہو اور وہ دنیا اور آخرت سے بےپرواہ ہوجائے ‘ اور دنیا کی کسی ذمہ داری کو پورانہ کرے اور جنگلوں اور غاروں میں جا کر اللہ اللہ کرتا رہے ‘ یہ رہبانیت ہے اور اسلام میں ممنوع ہے اور آخرت سے بےپرواہ ہونا قرآن مجید کی بہ کثرت آیات اور بہت احادیث کے انکار اور ان کی توہین کو مستلزم ہے ‘ انبیاء (علیہم السلام) دنیا کی چیزوں میں مشغول رہے ہیں وہ کھاتے پیتے تھے ‘ نکاح کرتے تھے ‘ ازواج کے حقوق ادا کرتے تھے ‘ رزق حلال کے حصول کے لیے کسب اور جدوجہد کرتے تھے ‘ دوزخ کے عذاب سے پناہ طلب کرتے تھے اور جنت کے حصول کی دعا کرتے تھے۔ حدیث میں ہے :

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دعا بہت کثرت سے کرتے ہیں : اے اللہ ! اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں اچھائی عطا فرما اور آخرت میں اچھائی اور خیر عطا فرما اور ہم کو دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھ۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٩٨٣٦‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٠٩٦٢‘ سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٩١٥١‘ مسند احمد رقم الحدیث : ٤٠٠٢١‘ عالم الکتب ‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٩٣٩)

اللہ تعالیٰ نے عبادالرحمن کے متعلق ذکر فرمایا ہے وہ یہ دعا کرتے ہیں :

ربنا اصرف عنا عذاب جھنم ۔ ان عذابھا کان غراما۔ (الفرقان : ٥٦) اے ہمارے رب ! ہم سے جہنم کا عذاب دور کردے ‘ کیونکہ اس کا عذاب چمٹ جانے والا ہے۔

اور حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) نے جنت کی طلب کی دعا کی :

واجعلنی من ورثۃ جنۃ النعیم۔ (الشعرائ : ٥٨) اور مجھ کو نعمتوں والی جنت کے وارثوں میں سے بنا دے۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عذاب قبر سے ‘ عذاب جہنم سے اور فتنہ دجال سے پناہ طلب کرتے تھے۔ (صحیح مسلم کتاب المساجد : ٣٣١‘ رقم الحدیث : بلاتکرار ٨٨٥‘ الرقم المسلسل : ٨٠٣١‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٧١٥٥ )

اور ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ دعا کی ہے :

اللھم انی اعوذبک من الکسل والھرم والمغرم والماثم اللھم ان اعوذ بک من النار وفتنۃ النار۔ (الحدیث) اے اللہ ! میں سستی ‘ بڑھاپے ‘ قرض اور گناہ سے تیری پناہ میں آتا ہوں ‘ اے اللہ ! میں دوزخ کی آگ اور دوزخ کی آگ کے فتنہ سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٧٣٦‘ سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٠٨٨‘ سنن ترمذی رقم الحدیث : ٥٩٤٣‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٨٠٣١‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٨٣٨٣‘ مسند احمد رقم الحدیث : ٥٨٠٥٢‘ عالم الکتب ‘ مسند احمد ج ٦ ص ٧٥‘ المستدرک ج ١ ص ١٤٥‘ مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٣٦٩١‘ مکتب اسلامی ‘ کنزالعمال رقم الحدیث : ٨٧٧٣)

اور ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طلب جنت کی دعا تعلیم دی ہے۔

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اس دعا کی تعلیم دی :

اللھم انی اسئلک الجنۃ وما قرب الیھا من قول اور عمل اعوذبک من النار وما قرب الیھا من قول اوعمل۔ (اے اللہ ! میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور ان باتوں اور ان کاموں کا جو جنت کے قریب کردیں ‘ اور میں تجھ سے دوزخ سے پناہ مانگتا ہوں اور ان باتوں اور ان کاموں سے جو دوزخ کے قریب کردیں۔

(سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٦٤٨٣‘ مصنف ابن ابی شیبہ ج ٠١ ص ٤٦٢‘ مسند احمد ج ٦ ص ٧٤١‘ ٦٤١‘ ٣٣١‘ مسند احمد رقم الحدیث : ٣٣٥٥٢‘ عالم الکتب بیروت ‘ مسند احمد رقم الحدیث : ٠٠٩٤٢‘ دارالحدیث قاہرہ ‘ الادب المفرد للبخاری رقم الحدیث : ٩٣٦‘ مسند ابو یعلی رقم الحدیث : ٣٧٤٤‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٩٦٨‘ المستدرک ج ١ ص ٢٢٥۔ ١٢٥‘ کتاب الدعا رقم الحدیث : ٧٤٣١)

حضرت ام سلمہ (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چند دعائیں روایت کی ہیں ان میں یہ دو دعائیں بھی ہیں اور ان دعائوں میں آپ نے خود جنت کی طلب کی ہے۔

اللھم ونجنی من النار مغفرۃ اللیل والنھار والمنزل الصالح من الجنۃ آمین ‘ اللھم انی اسئلک خلاصا من النار سالما وادخلنی الجنۃ۔ اے اللہ ! مجھے دوزخ کی آگ سے نجات دے ‘ اور رات اور دن کی مغفرت عطا فرما اور جنت کا عمدہ درجہ عطا فرما ‘(آمین) اے اللہ ! میں تجھ سے سلامتی کے ساتھ دوزخ سے چھٹکارے کا سوال کرتا ہوں ‘ اور مجھ کو جنت میں داخل فرمادے (آمین)

(المعجم الکبیر ج ٣٢ ص ٧١٣۔ ٢١٣‘ رقم الحدیث : ٧١٧‘ المعجم الاوسط ج ٤ ص ٤٥٣۔ ٣٥٣‘ رقم الحدیث : ٨١٢٦‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ٠٢٤١ ھ ‘ حافظ الہیشمی نے کہا المعجم الکبیر کی ایک سند کے راوی اور المعجم الاوسط کے راوی ثقہ ہیں ‘ مجمع الزوائد ج ٠١ ص ٧٧١)

بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ اگر جنت کے شوق اور دوزخ کے خوف سے عبادت کی جائے گی تو وہ اللہ کے لیے نہیں ہوگی یہ کہنا صحیح نہیں ہے کیونکہ قرآن مجید میں دوزخ سے نجات اور جنت کے حصول کے لیے ایمان لانے اور جہاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

یایھا الذین امنوا ھل ادلکم علی تجارۃ تنجیکم من عذاب الیم۔ تؤمنون باللہ ورسولہ و تجاھدون فی سبیل اللہ با موالکم و انفسکم ط ذلکم خیر لکم ان کنتم تعلمون۔ یغفر لکم ذنوبکم وید خلکم جنت تجری من تحتھا الانھر و مسکن طیبۃ فی جنت عدن ط ذالک الفوزالعظیم۔ واخری تحبونھا ط نصر من اللہ و فتح قریب ط وبشرالمؤمنین۔ (الصف : ٣١۔ ٠١)

اے ایمان والو ! کیا میں تمہیں اس تجارت پر رہنمائی کروں جو تمہیں درد ناک عذاب سے نجات دے دے۔ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائو اور اپنے مالوں اور جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کرو ‘ یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تمہیں علم ہو۔ اللہ تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور تم کو ان جنتوں میں داخل کردے گا جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں ‘ اور ان پاکیزہ گھروں میں جو جنات عدن میں ہوں گے ‘ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ اور تمہیں ایک اور نعمت بھی عطا فرمائے گا جس کو تم پسند کرتے ہو ‘ اور وہ اللہ کی مدد اور جلد فتح و کامرانی ہے ‘ اور ایمان والوں کو بشارت دے دیجیے۔ (الصف : ٣١۔ ٠١)

اسی طرح ایک اور آیت میں فرمایا ہے :

ان اللہ اشتری من المؤمنین انفسہم واموالہم بان لھم الجنۃ ط۔ (التوبہ : ١١١) بیشک اللہ نے مومنین سے ان کی جانوں کو اور ان کے مالوں کو جنت کے بدلہ میں خرید لیا ہے۔

جنت کی تعریف اور تحسین اور جنت کے مطلوب ہونے پر قرآن اور حدیث میں تصریحات 

ہمارا یہ منشا نہیں ہے کہ انسان صرف دوزخ کے خوف اور جنت کے شوق سے عبادت کرے اور اللہ کی رضا کے لیے عبادت نہ کرے۔ بیشک بندے کے لیے سب سے بڑا انعام اللہ تعالیٰ کی رضا ہے ‘ ہم صرف ان لوگوں کا رد کررہے ہیں جو دوزخ کے خوف اور جنت کے شوق سے عبادت کرنے کی مذمت کرتے ہیں اور جنت کی طلب سے منع کرتے ہیں اور جنت کی تنقیص اور تحقیر کرتے ہیں ‘ جیسا کہ ان اشعار سے ظاہر ہوتا ہے :

عجب رنگ پر ہے بہار مدینہ :: کہ سب جنتیں ہیں نثار مدنیہ 

طیبہ کے ہوتے خلد بریں کیا کروں حسن :: مجھ کو یہی پسند ہے مجھ کو یہی عزیز 

سیر گلشن کون دیکھے دشت طیبہ چھوڑ کر::  سوئے جنت کون جائے درتمہارا چھوڑ کر 

ایسے جلوے پر کروں میں لاکھ حوروں کو نثار :: کیا غرض کیوں جائوں جنت کو مدینہ چھوڑ کر 

تیری میری چاہ میں زاہد بس اتنا فرق ہے::  تجھ کو جنت چاہیے مجھ کو مدینہ چاہیے 

سینکڑوں جنتیں قربان ہوئی جاتی ہیں::  مرتبہ دیکھو مدینہ کے بیا بانوں کا 

تری جنت تری حوریں مبارک ہوں تجھے زاہد::  ہمیں تو راس آئی ہے گدائی کوئے جاناں کی 

کعبہ ہو یا کہ عرش بریں ہو کہ خلد ہو :: سب آکے جھومتے ہیں مدینہ کے سامنے 

جبکہ واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آخرت میں مدینہ کو چھوڑ کر ہی جنت میں تشریف لے جائیں گے ‘ نیز رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اب بھی جنت میں ہیں ‘ کیونکہ حدیث میں ہے : حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :

مابین بیتی و منبری روضۃ من ریاض الجنۃ۔ میرے حجرے اور میرے منبر کے درمیان جو جگہ ہے وہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٩١١‘ ٥٩١١‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٩٣١‘ ٠٩٣١‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٥١٩٣‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٧٩٦‘ مسند احمدج ٢ ص ٦٣٢‘ سنن بیہقی ج ٥ ص ٧٤٢‘ مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٣٤٢٥‘ مکتب اسلامی ‘ مسند حمیدی رقم الحدیث : ٠٩٢‘ مجمع الزوائد ج ٤ ص ٩۔ ٨‘ مشکوۃ رقم الحدیث : ٤٩٦‘ کنزالعمال رقم الحدیث : ٥٣٨٤٣ )

اس حدیث سے واضح ہوگیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اب بھی جنت میں ہیں اور آخرت میں بھی جنت میں ہوں گے ‘ دنیا اور آخرت میں آپ کا گھر جنت میں ہے ‘ اور جس سے محبت ہوتی ہے اس کے گھر سے بھی محبت ہوتی ہے اور محبوب کے گھر کی بہت تعریف اور توصیف کی جاتی ہے ‘ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت کے دعویدار جنت کی تنقیص کیوں کرتے ہیں ‘ جبکہ اللہ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنت کی بےحد تعریف و توصیف کی ہے اور اس کی طرف رغبت دلائی ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

والسبقون السبقون۔ اولئک المقربون۔ فی جنت النعیم۔ ثلۃ من الاولین۔ و قلیل من الاخرین۔ علی سرورموضونۃ۔ متکئین علیھا متقبلین۔ یطوف علیہم ولدان مخلدون۔ باکواب واباریق لا وک اس من معین۔ لایصدعون عنھا ولا ینزفون۔ وفاکھۃ مما یتخیرون۔ ولحم طیر مما یشتھون۔ وحورعین۔ کا مثال اللؤ المکنون۔ جزآء بما کانوا یعملون۔ لا یسمعون۔ فیھا لغوا ولا تاثیما۔ الا قیلا سلما سلما۔ واصحب الیمین لا مآاصحب الیمین۔ فی سدرمخضود۔ وطلح منضود۔ وظل ممدود۔ ومآء مسکوب۔ وفا کھۃ کثیرۃ۔ لامقطوعۃ ولاممنوعہ۔ وفرش مرفوعۃ۔ انآ انشا نھن انشآئ ۔ فجعلنھن ابکارا۔ عربا اترابا۔ لاصحب الیمین۔ ثلۃ من الاولین۔ و ثلۃ من الاخرین۔ (الواقعہ : ٠٤۔ ٠١)

اور آگے بڑھنے والے ‘ آگے (ہی) بڑھنے والے ہیں۔ وہی (اللہ کے) مقرب ہیں۔ (وہ) نعمتوں والی جنتوں میں ہیں۔ بڑا گروہ پہلے لوگوں میں سے ہوگا۔ اور تھوڑے سے لوگ بعد والوں میں سے ہوں گے۔ وہ زرین تختوں پر۔ ایک دوسرے کے سامنے مسند آراء ہوں گے۔ ان کے پاس ہمیشہ رہنے والے لڑکے آتے جاتے رہیں گے۔ جنتی شراب سے بھرے ہوئے پیالے ‘ جگ اور جام لے کر۔ جس سے نہ ان کے سر میں درد ہوگا اور نہ ان کی عقل خراب ہوگی۔ اور ان پھلوں کو لے کر جن کو وہ پسند کریں گے۔ اور ان کی پسند کے پرندوں کا گوشت لے کر۔ اور (ان جنتوں میں) بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں ہوں گی۔ جو چھپے ہوئے موتیوں کی طرح ہیں۔ یہ ان کے (نیک) اعمال کی جزا ہے۔ وہ جنتوں میں کوئی گناہ کی اور بےکار بات نہیں کہیں گے۔ مگر ہر طرف سے سلام سلام کی آواز آئے گی۔ اور دائیں طرف والے کیا ہی اچھے ہیں دائیں طرف والے۔ وہ بغیر کانٹوں کے بیر کے درختوں میں ہوں گے۔ اور تہ بہ تہ کیلوں میں۔ اور لمبے لمبے سایوں میں۔ اور بہتے ہوئے پانی میں۔ اور بہ کثرت پھلوں میں۔ جو نہ کبھی ختم ہوں گے نہ ان سے روکا جائے گا۔ اور (وہ) اونچے اونچے بستروں میں ہوں گے۔ ہم نے ان حوروں کو خصوصیت سے بنایا ہے۔ پس ہم نے ان کو کنواریاں بنایا ہے۔ محبت کی جانے والیاں اور ہم عمر۔ (وہ) دائیں ہاتھ والوں کے لیے ہیں۔ بڑا گروہ پہلے لوگوں میں سے ہوگا۔ اور بڑا گروہ بعد والوں میں سے ہوگا۔ 

جنت کے فضائل اور محاسن میں احادیث بھی بہ کثرت مروی ہیں۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ‘ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے ان نعمتوں کو تیار کر رکھا ہے ‘ جن کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے ‘ نہ کسی کان نے سنا ہے ‘ اور نہ کسی بشر کے دل میں ان کا خیال آیا ہے ‘ اور اگر تم چاہو تو اس آیت کو پڑھو :

فلاتعلم نفس مآ اخفی لہم من قرۃ اعنی ج جزآء بما کانوا یعملون۔ (السجدۃ : ٧١) کوئی نفس نہیں جانتا کہ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا چھپار کھا ہے (یہ) ان کے نیک کاموں کی جزاء ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٤٢٣‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٤٢٨٢‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٧٩١٣)

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جنت میں ایک درخت ہے جس کے سائے میں سوار سو سال تک چلتا رہے پھر بھی اس کا سایہ ختم نہیں ہوگا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٥٢٣‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٩٣٣‘ مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٦٧٨٠٢)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو پہلا گروہ جنت میں داخل ہوگا ان کی صورت چودھویں رات کے چاند کی طرح ہوگی اور جو لوگ ان کے بعد داخل ہوں گے وہ آسمان کے ایک حسین اور چمکدار تارے کی طرح روشن ہوں گے ‘ ان سب کے دل ایک شخص کے دل کی طرح ہوں گے ‘ ان میں آپس میں نہ بغض ہوگا نہ حسد۔ ہر شخص کے لیے بڑی آنکھوں والی حوروں میں سے دو بیویاں ہوں گی ‘ ان کی پنڈلیوں کا گودا کھال اور ہڈیوں کے پارے نظر آرہا ہوگا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٥٢٣‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٧٣٧٢‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٦٣٤٧‘ مسند احمد رقم الحدیث : ٣٨١٨)

حضرت سہل بن سعد الساعدی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جنت میں چابک کی جگہ بھی دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٠٥٢٣‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٨١٣١‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٨٨١)

اب جب یہ واضح ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنت کی بہت تعریف اور تحسین فرمائی ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اب جس جگہ آرام فرما ہیں وہ بھی جنت ہے اور آخرت میں بھی جنت میں ہوں گے اور اول آخر آپ کا گھر جنت ہے تو پھر جنت جنت کی تحقیر کرنا اور مدینہ منورہ سے اس کا تقابل کرکے جنت کو مدینہ سے کم بتانا اور جنت کے مقابلہ میں مدینہ منورہ کو افضل اور اپنا مطلوب قرار دینا ‘ قرآن اور حدیث کی ان صریح نصوص کثیرہ کا انکار یا پھر ان سے بےعلمی پر مبنی ہے۔

اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم کو جنت نہیں مدینہ چاہیے اور جو لوگ جنت کی طلب کو اپنی شان اور اپنے مقام کے خلاف سمجھتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ دوزخ سے نجات کی طلب کرنا اور جنت کے حصول کی طلب کرنا نقصان اور خسارہ ہے۔ اصل چیز مولیٰ کی رضا کو طلب کرنا ہے ان کا اس قسم کی آیات اور احادیث پر کیسے ایمان ہوگا !

اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی تحسین فرمائی جو یہ دعا کرتے ہیں :

الذین یقولون ربنآ اننآ امنا فاغفر لنا ذنوبنا وقنا عذاب النار۔ (آل عمران : ٦١) جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہم ایمان لے آئے ‘ سو ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہم کو دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھ۔

والذین یقولون ربنا اصرف عنا عذاب جھنم ق ان عذابھا کان غراما۔ (الفرقان : ٥٦) اور جو لوگ (راتوں کو اٹھ کر) یہ دعا کرتے ہیں اے ہمارے رب ! ہم سے دوزخ کے عذاب کو دور کردے ‘ بیشک دوزخ کا عذاب چمٹنے والا ہے۔

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دعا کرتے تھے :

اللھم انی اعوذبک من فتنۃ النار و عذاب النار۔ اے اللہ ! میں تجھ سے دوزخ کے فتنہ اور دوزخ کے عذاب سے پناہ طلب کرتا ہوں۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧٧٣٦‘ سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٠٨٨‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٨٠٣١)

اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنت کو طلب کرنے کا حکم دیا ہے۔

وسارعوا الی مغفرۃ من ربکم وجنۃ عرضھا السموت والارض لا اعدت للمتقین۔ (آل عمران : ٣٣١) اور تم اپنے رب کی مغفرت کی طرف دوڑو اور اس جنت کی طرف دوڑو ‘ جس کا عرض آسمانوں اور زمینوں کے برابر ہے ‘ جو متقین کے لیے تیار کی گئی ہے۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لایا اور نماز قائم کی اور رمضان کے روزے رکھے ‘ اللہ پر حق ہے کہ اس کو جنت میں داخل کردے۔ وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرے یا اس زمین میں بیٹھا رہے جس میں وہ پیدا کیا گیا ‘ صحابہ نے عرض کیا : یارسول اللہ ! کیا ہم لوگوں کو یہ خوش خبری نہ سنائیں ! آپ نے فرمایا : جنت میں سو درجے ہیں ‘ اللہ نے ان کو فی سبیل اللہ جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کیا ہے ‘ اور ہر دو درجوں کے درمیان آسمان اور زمین جتنا فاصلہ ہے ‘ پس جب تم اللہ سے سوال کرو تو اس سے فردوس کا سوال کرو ‘ جنت کا وسط ہے اور سب سے بلند درجہ ہے ‘ اور اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے اور اسی سے جنت کے دریا جاری ہوتے ہیں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٠٩٧٢‘ مسند احمد رقم الحدیث : ٠٠٤٨ )

اللہ کی رضا کا بہت بڑا درجہ ہے 

انسان کو اللہ تعالیٰ کی عبادت اس نیت سے کرنی چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا بندہ ہے اور بندگی کا یہی تقاضا ہے کہ بندہ اپنے مولیٰ کی اطاعت کرے ‘ اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کرم سے عبادت کرنے پر اجر وثواب کا وعدہ فرمایا ہے ‘ تو اگر وہ اخروی ثواب اور جنت کے حصول کی امید پر اور اس غرض سے عبادت کرے تو یہ بھی صحیح ہے بلکہ مستحسن ہے ‘ کیونکہ اس میں آخرت کی تصدیق ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ کے وعدہ اور اس کی بشارت پر ایمان کا اظہار ہے ‘ لیکن اس سے بھی افضل مقام یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دیدار اور اس کی رضا کی طلب کے لیے اس کی عبادت کرے۔ قرآن مجید میں ہے :

ومن الناس من یشری نفسہ ابتغآء مرضات اللہ ط واللہ رئوف بالعباد۔ (البقرہ : ٧٠٢) اور بعض لوگ وہ ہیں جو اللہ کی رضا جوئی کے لیے اپنے آپ کو فروخت کردیتے ہیں ‘ اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربانی فرمانے والا ہے۔

لا خیر فی کثیر من نجواھم الا من امر بصدقۃ او معروف اواصلاح بین الناس ط ومن یفعل ذلک ابتغآء مرضات اللہ فسوف نؤ تیہ اجرا عظیما۔ (النساء : ٤١١) ان (منافقوں) کی اکثر سرگوشیوں میں کوئی خیر نہیں ہے ‘ ہاں جس نے صدقہ دینے کا حکم دیا یا کسی نیکی کا یا لوگوں کے درمیان صلح کرانے کا ‘ اور جس نے یہ کام اللہ کی رضا جوئی کے لیے کیا تو عنقریب ہم اسے اجر عظیم عطا فرمائیں گے۔

وعداللہ المؤ منین والمؤ منت جنت تجری من تحتھا الانھر خلدین فیھا و مسکین طیبۃ فی جنت عدن ط ورضوان من اللہ اکبر ط ذلک ھوالفوز العظیم۔ (التوبۃ : ٢٧ )

اللہ نے ان ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں سے ان جنتوں کا وعدہ فرمایا ہے جن کے نیچے سے دریا جاری ہوتے ہیں ‘ وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں اور پاکیزہ مکانوں کا جو دائمی جنتوں میں ہیں ‘ اور اللہ کی رضا سب سے بڑی چیز ہے ‘ اور یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے جنات اور مساکین طیبہ کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : ان سب سے بڑی چیز اللہ تعالیٰ کی رضا ہے۔

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اہل جنت سے فرمائے گا : اے اہل جنت ! وہ کہیں گے لبیک اے ہمارے رب ‘ ہم تیری اطاعت کے لیے حاضر ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیا تم راضی ہوگئے ؟ وہ کہیں گے : ہم کیوں نہیں راضی ہوں گے ’ تو نے ہمیں اتنا کچھ عطا فرمایا ہے جو تو نے اپنی مخلوق میں کسی کو عطا نہیں فرمایا ‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میں تم کو اس سے افضل چیز عطا فرمائوں گا۔ وہ عرض کریں گے : اس سے افضل چیز اور کیا ہوگی ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میں نے تم پر اپنی راضا حلال کردی ہے ‘ میں اب تم سے کبھی ناراض نہیں ہوں گا۔(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٨١٥٧‘ صحیح مسلم الحدیث : ٩٢٨٢‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٤٦٥٢ )

اللہ کی رضا سب سے بڑی نعمت ہے ‘ بندہ کو جب یہ علم ہوجائے کہ اس کا مولیٰ اس سے راضی ہے تو اس کو ہر نعمت سے زیادہ خوشی ہوتی ہے ‘ جیسا کہ اس کو جسمانی آرام اور آسائش حاصل ہو لیکن اس کو یہ علم ہو کہ اس کا مولیٰ اس سے ناراض ہے تو تمام عیش اور آرام مکدر ہوجاتا ہے اور اس کو پھولوں کی سیج بھی کانٹوں کی طرح چھبتی ہے اور جب اس کو اپنے مولیٰ اور محبوب کی رضا کا علم ہو تو جسمانی تکالیف اور بھوک و پیاس کا بھی اساس نہیں ہوتا اگرچہ جائیکہ جسمانی نعمتوں اور لذتوں کے ساتھ اس کو یہ علم ہو کہ اس کا مالک اور مولیٰ اور محبوب بھی اس سے راضی ہے تو اس کی خوشی اور راحت کا کون اندازہ کرسکتا ہے۔

حسن بصری نے کہا : اللہ کی رضا سے ان کے دلوں میں جو لذت اور خوشی حاصل ہوتی ہے وہ جنت کی تمام نعمتوں سے زیادہ لذیذ ہوتی ہے اور ان کی آنکھیں سب سے زیادہ اس نعمت سے ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ زمخشری نے کہا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : اللہ کی رضا سب سے بڑی ہے ‘ اس میں مقربین کے درجات کی طرف اشارہ ہے ہرچند کہ تمام جنتی اللہ تعالیٰ سے راضی ہوتے ہیں لیکن ان کے درجات مختلف ہوتے ہیں ‘ ہر فلاح اور سعادت کا سبب اللہ کی رضا ہے۔ (البحر المحیط ج ٥ ص ٢٦٤۔ ١٦٤‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ٢١٤١ ھ)

اللہ تعالیٰ کی رضا اس وقت حاصل ہوگی جب اہل جنت اللہ تعالیٰ کا دیدار کریں گے۔

حضرت جریر بن عبد اللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ‘ آپ نے چودھویں رات کے چاند کی طرف دیکھا۔ آپ نے فرمایا : تم عنقریب اپنے رب کو اس طرح دیکھو گے جس طرح اس چاند کو دیکھ رہے ہو ‘ اگر تم سے ہو سکے تو طلوع شمس سے پہلے اور غروب شمس سے پہلے کی نمازوں (فجر اور عصر کی نمازوں) سے عاجز نہ ہونا ‘ پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی :

وسبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس وقبل الغروب۔ (ق : ٩٣)

طلوع شمس سے پہلے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجئے اور غروب سے پہلے۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٥٥‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٣٣٦‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٥٥٢‘ سنن ابودائود رقم الحدیث : ٩٢٧٤‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٧٧١)

حضرت صہیب (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب اہل جنت ‘ جنت میں داخل ہوجائیں گے تو اللہ تبارک وتعالیٰ فرمائے گا : تم کوئی اور چیز چاہتے ہو جو میں تم کو عطا فرمائوں ! وہ عرض کریں گے : کیا تو نے ہمارے چہرہ سفید نہیں کیا ! کیا تو نے ہم کو جنت میں داخل نہیں کیا ! ! کیا تو نے ہم کو دوزخ سے نجات نہیں دی ! ! ! آپ نے فرمایا : پھر اللہ تعالیٰ حجاب منکشف کردے گا ‘ اور اہل جنت کو ایسی کوئی چیز نہیں عطا کی گئی ہوگی جو ان کو اپنے رب عزوجل کے دیدار سے زیادہ محبوب ہو۔

(صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٨١‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٥٥٢‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٧٨١‘ مسند احمد رقم الحدیث : ٣٦٩٨١‘ ٨٥٩٨١‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت)

حضرت عمار بن یاسر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں یہ دعا کرتے تھے : اے اللہ ! اپنے علم غیب سے اور مخلوق پر اپنی قدرت سے مجھے اس وقت تک زندہ رکھنا جب تک میرے لیے زندہ رہنا بہتر ہو اور مجھے اس وقت وفات دینا جب تیرے علم میں میرے لیے وفات بہتر ہو ‘ اے اللہ ! میں تجھ سے غیب میں (جب کوئی دیکھ نہ رہا ہو) اور شہادت میں (لوگوں کے سامنے) تیرے خوف کا سوال کرتا ہوں ‘ اور میں رضا اور غضب میں کلمہ حق کہنے کا سوال کرتا ہوں ‘ اور فقراء اور غنا میں میانہ روای کا سوال کرتا ہوں ‘ اور میں تجھ سے ختم نہ ہونے والی نعمت کا سوال کرتا ہوں ‘ اور زائل نہ ہونے والی آنکھوں کی ٹھنڈک کا سوال کرتا ہوں ‘ اور تقدیر واقع ہونے کے بعد اس پر راضی رہنے کا سوال کرتا ہوں اور موت کے بعد ٹھنڈی زندگی کا سوال کرتا ہوں اور تیرے چہرے کی طرف دیکھنے کی لذت کا اور تجھ سے ملاقات کے شوق کا سوال کرتا ہوں جو بغیر کسی ضرر اور گمراہ کرنے والے فتنہ کے حاصل ہو ‘ اے اللہ ! ہمیں ایمان کی زینت کے ساتھ مزین کر اور ہمیں ہدایت یافتہ اور ہدایت دینے والا بنا دے۔ (سنن النسائی رقم الحدیث : ٤٠٣١‘ مسند احمد ج ٤‘ ص ٤٦٢ )

اس حدیث میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ کے دیدار کرنے اور اس کی ملاقات کے شوق کے حصول کی دعا کی ہے۔

ابو یزید نے کہا : اللہ کے کچھ ایسے بندے ہیں کہ اگر اللہ جنت میں اپنے چہرے کو حجاب میں کرے تو وہ جنت میں اس طرح فریاد کریں گے جس طرح دوزخی دوزخ میں فریاد کرتے ہیں۔

بعض حکایات میں ہے کہ کسی نے خواب میں دیکھا کہ معروف کرخی کے متعلق کہا گیا کہ یہ معروف کرخی ہیں ‘ جب یہ دنیا سے گئے تو اللہ کی طرف مشتاق تھے تو اللہ عزوجل نے اپنا دیدار ان کے لیے مباح کردیا۔

کہا گیا ہے کہ اللہ عزوجل نے حضرت دائود (علیہ السلام) کی طرف وحی کی کہ جو لوگ مجھ سے روگردانی کیے ہوئے ہیں کاش وہ جانتے کہ مجھ کو ان کا کتنا انتظار ہے اور ان کے لیے کیسی نرمی ہے اور ان کے گناہ ترک کرنے کا مجھ کو کتنا شوق ہے تو وہ میرے اشتیاق میں مرجاتے اور میری محبت میں ان کی رگیں کٹ جاتیں ‘ اے دائود ! یہ تو مجھ سے رو گردانی کرنے والوں کے لیے میرا ارادہ ہے تو جو میری طرف بڑھنے والے ہیں ان کے متعلق میرا ارادہ کیسا ہوگا !

استاذ ابو علی الدقاق یہ کہتے تھے : حضرت شعیب (علیہ السلام) روئے حتیٰ کہ بینا ہوگئے ‘ پھر اللہ عزوجل نے ان کی بینائی لوٹا دی ‘ وہ پھر روئے حتی کہ کہ نا بینا ہوگئے ‘ اللہ عزوجل نے پھر ان کی بینائی لوٹا دی ‘ وہ پھر روئے حتی کہ نا بینا ہوگئے ‘ پھر اللہ عزوجل نے ان کی طرف وحی کی اگر تمہارا یہ رونا جنت کے لیے ہے تو میں تمہارے لیے جنت مباح کردیتا ہوں ‘ اور اگر تمہارا یہ رونا دوزخ کی وجہ سے ہے تو میں تمہیں دوزخ سے پناہ دے دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا : نہیں بلکہ میں تجھ سے ملاقات کے شوق میں رورہا ہو۔ اللہ عزوجل نے ان کی طرف وحی کی : اسی وجہ سے میں نے اپنے نبی اور اپنے کلیم کو دس سال تمہاری خدمت میں رکھا۔

اور کہا گیا ہے کہ جو اللہ کی طرف مشتاق ہو اس کی طرف ہر چیز مشتاق ہوتی ہے ‘ اور حدیث میں ہے : حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جنت تین شخصوں کی مشتاق ہے : علی ‘ عمار اور سلمان۔ (سنن الرمذی رقم الحدیث : ٣٢٨٣‘ تاریخ دمشق ج ٥‘ ص ٩٥٢) ( رسالہ قشیریہ ص ١٦٣۔ ٩٥٣‘ ملخصا ‘ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت ‘ ٨١٤١ ھ)

جنت کی تخفیف نہ کی جائے 

مذکورہ الصدر احادیث اور اقوال صوفیہ کا یہ تقاضا ہے کہ عذاب نار سے نجات اور جنت کی تمام نعمتوں سے بڑی نعمت اللہ تعالیٰ کا دیدار اور اس کی رضا ہے اور یہ بالکل برحق ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ عذاب نار سے نجات اور جنت کوئی معمولی نعمت ہے اور جنت کی تخفیف کی جائے یا العیاذ با للہ جنت کی تحقیر کی جائے ‘ بعض لوگ اللہ کی رضا کو بنیاد بنا کر جنت کی تخفیف اور تنفیص کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہمیں جنت نہیں چاہیے۔ ہمیں اللہ کی رضا چاہیے اور یہ نہیں جانتے کہ اللہ کی رضا بھی جنت میں حاصل ہوگی اور اللہ تعالیٰ نے جنت کو طلب کرنے کا حکم دیا ہے ‘ اور یہ بھی نہیں جانتے کہ اللہ کی رضا اس کا حکم ماننے سے حاصل ہوگی اور اللہ تعالیٰ نے جنت کو طلب کرنے کا حکم دیا ہے ‘ اور یہ بھی نہیں جانتے کہ اللہ کی رضا بھی جنت میں حاصل ہوگی اور اس کا دیدار بھی جنت میں ہوگا ‘ اور بعض لوگ مدینہ منورہ کی محبت کو بنیاد بنا کر جنت میں ہوں گے۔ قرآن مجید اور احادیث صحیحہ میں بہت زیادہ جنت کی تعریف کی گئی ہے اور اس کی طرف رغبت دلائی گئی ہے اور تمام نبیوں اور رسولوں نے دوزخ کے عذاب سے پناہ مانگی ہے اور جنت کے حصول کی دعا کی ہے اور ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں یہ تلقین کی ہے کہ ہم عذاب نار سے پناہ مانگیں اور جنت الفردوس کے حصول کی دعا کریں اور یہ ذہن میں رکھیں کہ اللہ کی رضا اور اس کا دیدار بھی ہمیں جنت میں ہی حاصل ہوگا ‘ اس لیے بھی جنت مقصود ہے اور ہمارے نبی سید نا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دائمی قیام گاہ بھی جنت ہے اور محبوب کا دیار اور اس کا گھر بھی محبوب ہوتا ہے۔ اس لیے بھی جنت ہمیں مطلوب اور محبوب ہونی چاہیے۔ اے اللہ ! ہمیں دوزخ کے اور ہر قسم کے عذاب سے اپنی پناہ میں رکھ اور ہمیں جنت الفردوس عطا فرما ‘ ہم سے راضی ہوجا اور ہمیں اپنا دیدار عطا فرما ! بیشک تیری رضا اور تیرا دیدار سب سے بڑی نعمت ہے سو ہم سے وہ کام کر اجن سے تو راضی ہو ! اور ان کاموں سے بچا جن سے تو ناراض ہو۔ آمین یا رب العلمین بحرمۃ نبیک سید نا محمد خاتم النبیین ‘ قائد المرسلین شفیع المذنبین وعلی آلہ الطاھرین و اصحابہ الراشدین وعلی اولیاء امتہ ملتہ وسائر المؤمنین والمسلمین اجمعین۔

القرآن – سورۃ نمبر 27 النمل آیت نمبر 5