أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِذۡ قَالَ مُوۡسٰى لِاَهۡلِهٖۤ اِنِّىۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًاؕ سَاٰتِيۡكُمۡ مِّنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ اٰتِيۡكُمۡ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

جب موسیٰ نے اپنی اہلیہ سے کہا بیشک میں نے آگ دیکھی ہے ‘ میں تمہارے پاس ابھی کوئی خبر لاتا ہوں یا کوئی سلگتا ہوا انگارہ تاکہ تم حرارت حاصل کرو

تفسیر:

اس سورة کے قصص انبیاء (علیہم السلام) میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا پہلا قصہ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جب موسیٰ نے اپنی اہلیہ سے کہا بیشک میں نے آگ دیکھی ہے ‘ میں تمہارے پاس ابھی کوئی خبر لاتا ہوں ‘ یا کوئی سلگتا ہوا انگارہ ‘ تاکہ تم حرارت حاصل کرو۔ پھر جب وہ اس جگہ پہنچے تو ان کو ندا کی گئی کہ جو آگ (کی تجلی) میں ہے ‘ اور جو اس کے آس پاس ہو وہ برکت والا ہے ‘ اور اللہ سبحان ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ (النمل : ٨۔ ٧)

اھل کا معنی 

النمل : ٧ میں فرمایا : جب موسیٰ نے اپنے اہل سے فرمایا ‘ علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں :

کسی شخص کے اہل وہ لوگ ہوتے ہیں جو اس کے ہم نسب ہوں ‘ ہم دین ہوں ‘ ہم پیشہ ہوں ‘ یا اس کے گھر میں یا اس کے شہر میں رہنے والے ہوں ‘ اصل میں کسی شخص کے اہل وہ لوگ ہوتے ہیں جو ایک گھر میں رہتے ہوں ‘ کسی شخص کی بیوی کو بھی اس کے اہل سے تعبیر کیا جاتا ہے ‘ ایک دین کے ماننے والوں کو بھی اہل کہا جاتا ہے ‘ جیسے اہل اسلام کہا جاتا ہے ‘ اور چونکہ شریعت نے اکثر احکام میں مسلم اور کافر کے درمیان نسب کا رشتہ منقطع کردیا ہے اس لیے حضرت نوح (علیہ السلام) سے فرمایا :

انہ لیس من اھلک ج انہ عمل غیر صالح۔ (ھود : ٦٤) یہ (آپ کا بیٹا) آپ کے اہل سے نہیں ہے اس کے نیک اعمال نہیں ہیں۔

جب کوئی شخص شادی کرے تو کہا جاتا ہے تاھل ‘ وہ اہل والا ہوگیا۔ (المفردات ج ١ ص ٧٣)

ابن ملک نے شرح المشارق میں لکھا ہے : اہل کی تفسیر ‘ بیوی ‘ اولاد ‘ نوکروں ‘ دوستوں اور رشتہ داروں سے کی جاتی ہے یہاں مراد یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی بیوی اپنے بچوں اور اپنے خدام سے فرمایا۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا آگ کو دیکھنا 

اللہ تعالیٰ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ یاد دلا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح ان کو بزرگی دی اور نبوت سے سرفراز فرمایا۔ ان کو اپنی ہم کلامی کا شرف عطا فرمایا ‘ اور ان کو بڑے بڑے معجزے عطا فرمائے ‘ اور ان کو فرعون اور اس کی قوم کے پاس رسول بنا کر بھیجا لیکن انہوں نے تکبر کیا اور آپ پر ایمان نہیں لائے۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے مصر کی طرف روانہ ہوئے اور اپنی بیوی کو ساتھ لے گئے۔ یہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی بیٹی تھی۔ ان کا نام صفورا تھا ‘ اس سفر میں آپ راستہ بھول گئے اور رات آگئی ‘ یہ سردیوں کا موسم تھا ‘ آپ کو دور سے آگ کا شعلہ نظر آیا۔ آپ نے اپنے اہل سے فرمایا تم لوگ یہیں ٹھہرو میں نے آگ کا شعلہ دیکھا ہے ‘ قرآن مجید میں انست کا لفظ ہے ‘ اٰنست کا لفظ انس سے بنا ہے جس کا معنی ظہور ہے ‘ انسان کو انسان اس لیے کہتے ہیں کہ وہ ظاہر ہوتا ہے اور جنات اس کے مقابلہ میں مخفی اور چھپے ہوئے ہوتے ہیں ذ جس طرح انس کا معنی ظہور ہے اسی طرح جن کا معنی مخفی ہونا ہے۔ انسان ظاہر ہے اور دکھائی دیتا ہے اور جن مخفی ہے اور دکھائی نہیں دیتا۔ حضرت موسیٰ کو آگ کا ایک شعلہ سا دکھائی دیا۔ انہوں نے کہا میں اس روشنی کے پاس جاتا ہوں ‘ ممکن ہے اس روشنی سے راستہ کی سمت معلوم ہوجائے یا میں وہاں سے آگ کا کوئی سلگتا ہوا انگارہ لے آئوں جس سے تم لوگ سردی کی اس یخ بستہ رات میں حرارت حاصل کرو۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 27 النمل آیت نمبر 7