أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

هُدًى وَّبُشۡرٰى لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَۙ ۞

ترجمہ:

یہ ان ایمان والوں کے لیے ہدایت اور خوشخبری ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور یہ ان ایمان والوں کے لیے ہدایت اور خوشخبری ہے۔ جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوۃ ادا کرتے ہیں اور وہی آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ (النمل : ٣۔ ٢)

ہدایت اور بشارت کو مومنوں کے ساتھ مخصوص کرنے کی توجیہات 

اس کتاب کی صفت میں بیان فرمایا کہ یہ ہدایت اور خوشخبری ہے ‘ بظاہر یوں فرمانا چاہیے تھا کہ یہ ہدایت دینے والی اور خو شخبری دینے والی ہے لیکن اس پیرایہ میں مبالغہ ہے جیسے ہم کسی عالم کی تعریف میں مبالغہ کرتے ہوئے کہیں کہ وہ شخص تو خود علم ہے یا کسی کی سخاوت کی تعریف کرتے ہوئے کہیں کہ وہ شخص تو سراپا سخاوت ہے ‘ اس طرز پر فرمایا یہ کتاب مومنوں کے لیے سراسر ہدایت اور بشارت ہے۔

اس آیت میں ہدیت کو مومنوں کے سات مخصوص کردیا حالانکہ یہ کتاب تو تمام لوگوں کے لیے ہدایت ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں ہدایت کے ساتھ بشارت کا بھی ذکر ہے اور ظاہر ہے کہ یہ کتاب بشارت تو صرف مومنوں کے لیے ہے کیونکہ کافروں کے کام تو بہر حال قابل بشارت نہیں ہیں۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ اس کتاب کی آیتوں سے فائدہ تو صرف مومنوں نے اٹھایا ہے۔ اس لیے مآل کار یہ کتاب صرف مومنوں کے لیے ہدایت اور بشارت ہے ‘ جیسے قرآن مجید میں ہے :

انمآ انت منذر من یخشھا۔ (النزاعت : ٥٤) آپ تو صرف ان کو ڈرانے والے ہیں جو قیامت سے ڈرتے ہیں۔

تیسرا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں ہدایت کو مومنوں کے ساتھ خاص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس سے مراد ہے ہدایت میں زیادتی ‘ یعنی زیادہ ہدایت مومنوں کے ساتھ خاص ہے۔ جس طرح قرآن مجید میں ہے :

ویزید اللہ الذین اھتدو اھدی ط۔ (مریم : ٦٧) اور ہدایت یافتہ لوگوں کی ہدایت کو اللہ تعالیٰ زیادہ کردیتا ہے۔

اور اس کا چوتھا جواب یہ ہے کہ اس ہدایت سے مراد دنیا کی ہدایت نہیں ہے بلکہ اس سے مراد آخرت میں مومنوں کو جنت کا راستہ دکھانا ہے ‘ اور ظاہر ہے کہ یہ ہدایت مومنوں کے ساتھ ہی خاص ہے جیسا کہ قرآن مجید میں اس آیت میں ہے :

فامالذین امنوا باللہ واعتصموا بہ فسید خلھم فی رحمۃ منہ وفضل لا ویھدیھم الیہ صراطا مستقیما۔ (النسائ : ٥٧١) رہے وہ لوگ جو اللہ پر ایمان لائے اور انہوں نے اس (کے دامن رحمت) کو مضبوطی سے پکڑ لیا تو وہ ان کو عنقریب اپنی رحمت میں اور اپنے فضل میں داخل فرمائے گا اور ان کو اپنی طرف صراط مستقیم کی ہدایت دے گا۔

اس کا پانچواں جواب یہ ہے کہ اس ہدایت سے مراد ہے کامل ہدایت کہ انسانی حیات کے ہر شعبہ میں اور زندگی میں پیش آنے والے ہر ہر موڑ اور ہر ہر مرحلہ پر انسان کو ہدایت مل جائے اور ہر ہر قدم پر انسان کو صحیح اور غلط کا ادراک حاصل ہوجائے اور کسی بھی معاملہ میں وہ اللہ کی طرف سے ہدایت سے محروم نہ ہو ‘ اس کے لیے ضروری ہے کہ انسان اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کی طرف سے جو خبریں لائے ان کی تصدیق کرے اور جو احکام لائے ان کو مانے اور تصدیق کرے ‘ اور پانچوں وقت کی نماز پڑھ کر اور جب مالک نصاب ہو تو زکوۃ ادا کرکے ایمان کے تقاضے کو پورا کرے ‘ اور خصوصیت کے ساتھ آخرت پر یقین رکھے۔

اس سوال کا جواب کہ ایمان والوں کے ذکر کے بعد آخرت پر یقین رکھنے والوں کا ذکر کیوں فرمایا 

اگر یہ سوال کیا جائے کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے گا ‘ پانچوں وقت نماز پڑھے گا اور زکوۃ ادا کرے گا ‘ وہ لامحالہ آخرت پر بھی یقین رکھتا ہوگا ‘ پھر ایمان ‘ نماز اور زکوۃ کے بعد آخرت پر یقین رکھنے کا کیوں ذکر فرمایا ! اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کے شرف کے تین مراتب ہیں پہلا مرتبہ یہ ہے کہ اس کو مبدء فیاض کا علم ہو اور اس پر ایمان ہو ‘ اور آخری مرتبہ یہ ہے کہ اس کو معاد اور آخرت کا علم ہو اور اس پر ایمان ہو اور متوسط مرتبہ یہ ہے کہ وہ ان دونوں مرتبوں کے ثبوت اور تصدیق کے لیے اللہ تعالیٰ کے تمام احکام پر عمل کرے ‘ اور ان احکام میں اہم حکم یہ ہے کہ وہ اپنی جان اور مال کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کرے ‘ نماز پڑھے اور زکوۃ ادا کرے ‘ اور جو ان احکام پر پابندی سے عمل کرے گا وہ باقی احکام پر بھی پابندی سے عمل کرے گا۔ اس لیے اس آیت میں پہلے انسان کے شرف اور کمال کے پہلے مرتبہ کا ذکر فرمایا اور وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لانا ہے ‘ پھر متوسط مرتبہ کا ذکر کیا وہ نماز پڑھنا اور زکوۃ ادا کرنا ہے اور اس کے بعد آخری مرتبہ کا ذکر کیا اور وہ آخرت پر یقین رکھنا ہے۔

اس سوال کا دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ تعمیم کے بعد تخصیص ہے ‘ جیسے تنزل الملائکۃ والروح (القدر : ٤) میں عام فرشتوں کے ذکر کے بعد خصوصیت کی بنا پر حضرت جبریل کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسی طرح مومنین کا لفظ عام ہے یعنی جو لوگ اللہ کی ذات وصفات ‘ اس کی کتابوں ‘ اس کے رسولوں ‘ اس کی تقدیر اور عقدئہ آخرت پر ایمان رکھتے ہوں ‘ پھر عقیدہ آخرت کی خصوصیت کی وجہ سے اس کا الگ بھی ذکر فرمایا کہ وہ مسلمان آخرت پر یقین رکھتے ہوں۔

اور اس سوال کا تیسرا جواب یہ ہے کہ آخرت اور حشر و نشر کے متعلق لوگ دو قسم کے ہیں ‘ ایک وہ ہیں جن کو آخرت پر اور مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے پر ‘ حساب و کتاب اور جزا اور سزا پر یقین ہے ‘ اور وہ عذاب کے خوف ‘ ثواب کے شوق اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے نماز پڑھتے ہیں ‘ اور زکوۃ ادا کرتے ہیں اور باقی احکام پر عمل کرتے ہیں اور دوسرے وہ لوگ ہیں جن کا آخرت پر پورا یقین نہیں ہے ‘ اور برکاموں سے بچنے اور نیک کاموں کے کرنے کے لیے ان کے اندر سے کوئی تحریک نہیں اٹھتی۔ وہ لوگوں کی دیکھا دیکھی رسمی طور پر نماز پڑھتے ہیں اور زکوۃ ادا کرتے ہیں ‘ اور ان کے دلوں میں یقین کی کیفیت نہیں ہوتی اور دراصل یہ لوگ قرآن مجید کی ہدایت پر عمل کرنے والے نہیں ہیں اور نہ ہی قرآن مجید کی بشارت کا مصداق ہیں۔

اس سوال کا چوتھا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حصر کے ساتھ فرمایا ہے کہ جو مومنین نماز پڑھتے ہیں اور زکوۃ ادا کرتے ہیں اور وہی آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ اس کا معنی یہ ہے کہ آخرت پر حق الیقین اور کامل ایمان ان ہی مومنوں کا ہے جو ایمان اور اعمال صالحہ کو جمع کرنے والے ہیں کیونکہ آخرت کا خوف ہی ان کو شہوت اور غضب کے غلبہ کے وقت گناہوں سے باز رکھتا ہے ‘ اور جب سخت سردی کے موسم میں نرم اور گرم بستروں سے نکل کر فجر کی نماز پڑھنے کے لیے مسجد میں جانا دشوار ہو اور جب مال کی تنگی کے خوف سے زکوۃ کا ادا کرنا نفس پر دشوار ہو تو اس وقت صرف آخرت کا خوف ہی مسلمانوں کو سردی میں بستروں سے اٹھاتا ہے او مال میں کمی کے خطرہ کے باوجود زکوۃ کی ادائیگی پر اکستاتا ہے ‘ سو اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جو لوگ نفس پر دشواری کے باوجود نماز پڑھتے ہیں اور زکوۃ ادا کرتے ہیں دراصل وہی مسلمان آخرت پر کامل یقین رکھنے والے ہیں۔

زکوۃ مدینہ میں فرض ہوئی پھر مکی سورة میں اس کے ذکر کی توجیہ 

اس جگہ ایک اور اعتراض یہ ہوتا ہے کہ سورة النمل مکی ہے اور زکوۃ مدینہ میں دو ہجری میں رمضان کے روزوں کی فرضیت سے پہلے فرض ہوئی ‘(ردالمختار ج ٣ ص ٦٥١‘ داراحیاء التراث العرب بیروت) سو اس آیت میں نماز کے بعد زکوۃ کے ذکر کی کیا توجیہ ہوگی ‘ بعض علماء نے اس سوال کا یہ جواب دیا کہ اس آیت میں زکوۃ سے اس کا معروف معنی مراد نہیں ہے بلکہ زکوۃ سے مراد تزکیہ نفس اور نفس کی برائی اور بےحیائی کے کاموں سے پاکیزگی اور طہارت ہے اور نیک کاموں اور مکارم اخلاق سے نفس کو مزین کرنا مراد ہے ‘ مگر اس جواب پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ قرآن مجید کا اسلوب یہ ہے کہ جب بھی نماز کے بعد زکوۃ کا ذکر ہوتا ہے تو اس سے مراد زکوۃ معروف ہوتی ہے یعنی جو شخص مالک نصاب ہو وہ سال گزرنے کے بعد اس مال کا چالیسواں حصہ ادا کرے ‘ اس لیے اس سوال کے جواب میں یہ کہنا مناسب ہے کہ نفس زکوۃ ‘ یعنی اللہ کی راہ میں مطلقاً مال خرچ کرنا ‘ اتنی قدر مکہ میں ہی فرض ہوگئی تھی اور زکوۃ کی تمام تفصیلات اور اس کی شرائط اور مختلف اجناس کے مختلف نصابوں کا تعین مدینہ منورہ میں ہجرت کے دوسرے سال میں کیا گیا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 27 النمل آیت نمبر 2