أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ الَّذِىۡ عِنۡدَهٗ عِلۡمٌ مِّنَ الۡـكِتٰبِ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ يَّرۡتَدَّ اِلَيۡكَ طَرۡفُكَ‌ؕ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسۡتَقِرًّا عِنۡدَهٗ قَالَ هٰذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّىۡ‌ۖ لِيَبۡلُوَنِىۡٓ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ‌ؕ وَمَنۡ شَكَرَ فَاِنَّمَا يَشۡكُرُ لِنَفۡسِهٖ‌ۚ وَمَنۡ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّىۡ غَنِىٌّ كَرِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

جس شخص کے پاس کتاب کا علم تھا اس نے کہا میں آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے اس تخت کو آپ کے پاس حاضر کر دوں گا، سو جب سلیمان نے اس تخت کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو کہا یہ میرے رب کے فضل سے ہے تاکہ وہ میرا عمل ظاہر کرے کہ آیا میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری اور جو شکر کرتا ہے تو وہ اپنے فائدہ ہی کے لئے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بےپروا بزرگ ہے

حضرت سلیمان کے ولی کا پلک جھپکنے سے پہلے تخت بلقیس کو حاضر کر دینا 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جس شخص کے پاس کتاب کا علم تھا اس نے کہا میں آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے اس تخت کو آپ کے پاس حاضر کر دوں گا۔

سید ابوالاعلیٰ مودودی متوفی ١٣٩٩ ھ لکھتے ہیں :

وہ شخص بہر حال جن کی نوع میں سے نہ تھا اور بعید نہیں کہ وہ کوئی انسان ہی ہو، اس کے پاس کوئی غیر معملوی علم تھا، اور وہ اللہ کی کسی کتاب الکتب سے ماخوذ تھا۔ جن اپنے وجود کی طاقت سے اس تخت کو چند گھنٹوں میں اٹھا لانے کا دعویٰ کر رہا تھا یہ شخص علم کی طاقت سے اس کو ایک لحظہ میں اٹھا لایا۔

اس دیوہیکل جن کے دعوے کی طرح اس شخص کا دعویٰ صرف دعویٰ ہی نہ رہا بلکہ فی الواقع جس وقت اس نے دعویٰ کیا اسی وقت ایک ہی لحظہ میں وہ تخت حضرت سلیمان کے سامنے رکھا نظر آیا۔ (تفہیم القرآن ج ٣ ص ٥٧٧، مطبوعہ لاہور، 1983 ئ)

جس شخص کے پاس کتاب کا علم تھا اس کا مصداق کون تھا 

علامہ سید آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں :

حضرت ابن عباس، زید بن رومان، حسن بصری اور جمہور کا اس پر اتفاق ہے کہ وہ شخص آصف بن برخیا بن شمعیا بن منکیل تھا وہ بنی اسرائیل میں سے تھا، مشہور قول کے مطابق وہ حضرت سلیمان کا وزیر تھا۔ مجمع البیان میں مذکور ہے کہ وہ ان کا وزیر تھا وہ ان کا بھانجا تھا اور ان کا سچا خیر خواہ تھا اس کو اسم اعظم کا علم تھا۔ ایک قول یہ ہے کہ وہ ان کا کاتب (سیکریٹری) تھا۔ (روح المعانی ج ١٩ ص ٣٠٢، مطبوعہ دارالفکر، ١٤١٧ ھ ھ)

اس شخص کے متعلق دیگر اقوال یہ ہیں : علامہ علی بند محمد ماوردی متوفی ٤٥٠ ھ لکھتے ہیں۔

١) یہ وہ فرشتہ تھا جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان کے ملک کو طاقت دی۔

(٢) حضرت سلیمان علیہ السلام کا لشکر جو جن اور انس پر مشتمل تھا یہ اس کا کوئی فرد تھا۔

(۳) یہ خود حضرت سلیمان تھے اور انہوں نے ععفریت من الجن سے فرمایا تھا۔ میں اس تخت کو تیری پلک جھپکنے سے پہلے لے آتا ہوں۔ (امام رازی نے اسی قول کو ترجیح دی ہے۔ )

(٤) یہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے علاوہ کوئی اور انسان تھا، اور اس میں پھر پانچ قول ہیں۔

(١) قتادہ نے کہا اس کا نام ملیخا تھا

(ب) مجاہد نے کہا اس کا نام اسطوم تھا

(ج) ابن رومان نے کہا وہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا دوست تھا اور اس کا نام آصف بن برخیا تھا

(د) زبیر نے کہا اس کا نام ذوالنور تھا وہ مصری تھا

(ہ) ابن لھیعہ نے کہا وہ خضر تھے۔ (النکت والیعون ج ٤ ص ٢١٣، دارالکتب العلمیہ بیروت)

امام عبدالرحمٰن بن محمد بن ادیرس ابن ابی حاتم متوفی ٣٢٧ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔

سعید بن جبیر حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ وہ شخص آصف بن برخیا تھے جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے خالہ زاد بھائی تھے ان کے پاس اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم تھا۔ (الجامع لا حکام القرآن جز ٣ ۃ ص ١٩٠ مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

علامہ ابولبرکات عبداللہ بن احمد نسفی حنفی متوفی ٧١٠ ھ علامہ ابوالحیان محمد بن یوسف اندلسی متوفی ٧٥٤ ھ، حافظ ابن کثیر شافعی متوفی ٧٧٤ ھ علامہ ابراہیم بن عمر البقاعی المتوفی ٨٢٥ ھ حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ علامہ محمد بن مصلح الدین القوجوی الحفی المتوفی ٩٥١ ھ علامہ اسماعیل حقی حنفی متوفی ١١٣٧ ھ علامہ سلیمان الجمل المتوی ١٢٠٤ ھ علامہ احمد بن محمد صاوی مالکی متوفی ١٢٤١ ھ، علامہ محمد بن علی بن محمد شو کافی متوفی ١٢٥٠ ھ، عالمہ سید محمود الٓسوی متوفی ١٢٧٠ ھ غیر مقلد مفسر صدیق بن حسن قنوجی متوفی ١٣٠٧ ھ صدر لافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی متوفی ١٣٦٧ ھ غیر مقلد مفسر صدیق بن حسن قنوجی متوفی ١٣٠٧ ھ صدر الافاضل سید محمد نعیم الدین مراد ابادی متوفی ١٣٦٧ ھ شیخ شبیر احمد عثمانی متوفی ١٣٦٩ ھ مفتی محمد شفیع دیوبندی متوفی ١٣٩٦ ھ کی بھی یہی تحقیق ہے اور ان حضرات نے اسی کو صحیح قرار دیا ہے۔ ان کی کتب کیخ حوالہ جات حسب ذیل ہیں :

(مدارک التنزیل علی ھامش الخازن ج ٣ ص ٢٤١، پشاور، البحر المحیط ج ٨ ص ٢٤٠، بیروت تفسیر ابن کثیر ج ٣ ص ٢٠٠ بیروت، نظم الدرج ٥ ص ٤٢٧، دارالکتب العلمیہ بیروت، جلالین ص ٣٨٠ بیرت، حاشیہ شیخ زادہ علی البیضاوی ج ٦ ص 398 بیروت روح البیان ج ٦ ص 448 بیروت، حاشیۃ الجمل علی الجلاین ج و ص 315 حاشیۃ الصاوی علی الجلاین ج ٤ ص ٤٩٩ بیروت فتح القدیر ج ر ص ١٨٤ بیروت، روح المعانی جز ١٩ ص ٣٠٢ فتخ البیان ج ٥ ص ١٣٧ بیرت، خزائن العرفان علی کنزالایمان ص 608 کراچی تفسیر عثمانی ص ٥٠٦ متعارف القرآن، ج ٦ ص ٥٨٥، کراچی)

تخت بلقیس کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے حاضر کرنے کی کیفیت 

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٨٨ ھ لکھتے ہیں :

امام مالک نے کہا کہ بلقیس یمن میں تھی اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) شام میں تیھ اور تفاسیر میں ہے کہ وہ تخت جس جگہ تھا وہ جگہ پھٹ گئی اور تخت وہاں سے نکل کر حضرت سلیمان کے سامنے نکل آیا۔ (الجامع لا حکام القرآن جز ١٣ ص ١٩٢ مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

حافظ عماد الدین عمر بن اسماعیل بن کثیر شافعی دمشقی ٧٧٤ ھ لکھتے ہیں :

مفسرین نے کہا ہے کہ آصف بن برخیاء نے حضرت سلیمان سے کہا آپ یمن کی طرف دیکھئے جہاں آپ کا مطلوب عرش ہے پھر اللہ سے دعا کی تو وہ عرش زمین میں گھس کر غائب ہوگیا اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے نکل آیا۔ (تفسیر ابن کثیر ج ٣ ص ٤٠٠، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٩ ھ)

علامہ ابو الحسن ابراہیم بن عمر البقاعی المتوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں :

جس طرح ہماری شریعت میں اللہ تعالیٰ اپنے ولی کی آنکھ ہوجاتا ہے اور اس کے ہاتھ اور پیر ہوجاتا ہے اور وہ اللہ کی صفات کا مظہر ہو کر تصرف کرتا ہے، اس طرح آصف بن برخیا نے بھی اس تخت پر تصرف کیا۔ (نظم الدررج ٥ ص 426-427 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٥ ھ) 

حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ لکھتے ہیں :

حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے کاتب نے کہا اپنی نظر اٹھایئے، انہوں نے نظراٹھائی پھر نظر لوٹائی تو تخت سامنے موجود تھا۔ (الدرا المنثور ج ٦ ص 319 مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت : ١٤٢١ ھ)

علامہ السید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں :

شیخ اکبر قدس سرہ نے کہا ہے کہ آصف نے عین عرش میں تصرف کیا تھا اس نے اس جگہ اس عرش کو معدوم کردیا اور حضرت سلیمان کے سامنے موجود کردیا کیونکہ مرد کامل کا قول اللہ تعالیٰ کے لفظ ” کن “ کی طرح ہوتا ہے۔ (روح المعانی جز 19 ص 306 مطبوعہ دارلافکر بیروت، ١٤١٧ ھ)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صفت ” کن “ کے مظاہر 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت ” کن “ کا مظہر بنایا۔ آپ نے کئی چیزوں کے متعلق فرمایا ” ہو “ سو وہ ہوگئیں۔

حضرت کعب بن مالک (رض) کی طویل حدیبث میں ہے کہ ایک سفید ہیت والا شخص ریگستان سے آ رہاتھا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کن ایا خیثمہ ” تو ابو خیثمہ ہوجا “ تو وہ ابو خیثمہ ہوگیا۔ (صحیح مسلم الحدیث :2769 المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٥٤١٩ مجمع الزوائد ج ٦ ص 193 دلائل النبوۃ ج ٥ ص 226-223)

قاضی عیاض بن موسیٰ مالکی متوفی ٥٤٤ ھ اس کی شرح میں لکھتے ہیں :

حق کے مشابہ یہ ہے کہ ” کن “ یہاں پر تحقیق اور وجود کے لئے ہے یعنی تو تحقیقی طور پر ابوخیثمہ ہوجا۔ (اکمال المعلم بفوائد مسلم ج ٨ ص 278 مطبوعہ دارالوفاء، 1419 ھ)

علامہ نووی نے لکھا ہے تو جو کوئی بھی ہے حقیقتاً ابوخیثمہ ہوجا۔(صحیح مسلم بشرح النوادی ج ١١ ص 6910 مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ، ١٤١٧ ھ)

اسی طرح امام حاکم نیشا پوری نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن مسعود سے روایت کیا ہے کہ غزوہ تبوک میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کے متعلق فرمایا کن اباذر ” تو ابوذر ہوجا “ سو وہ شخص ابوزر ہوگیا۔(المستدرک ج ٣ ص 50-51 المستدرک رقم الحدیث : ٤٣٧٣، جدید کنزل العمال ١١ ص ٦٦٨ دلائل النبوۃ ج ٥ ٢٢٢، دارالکتب العلمیہ بیروت)

امام ابوبکر احمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکر (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس میں آ کر بیٹھتا تھا اور جب آپ بات کرتے تو وہ آپ کو چڑانے کے لئے اپنا منہ بگاڑ لیتا تھا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کن کذلک تم ہی طرح ہو جائو “ پھر ہمیشہ اس کا منہ بگڑار رہا حتیٰ کہ وہ مرگیا۔(دلائل النبوۃ ج ٦ ص 329 المستدرک ج ہ ص 261، قدیم، المستدرک رقم الحدیث : ٤٢٤١ جدید الخصائص الکبریٰ ج ٢ ص 71-72 البدایہ والنہایہ ج ٤ ص 568 طبع جدید)

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دروازہ پر کھڑے ہوئے تھے، آپ باہر نکلے تو ہم آپ کے ساتھ چلنے لگے آپ نے فرمایا : اے لوگو ! تم میں سے کوئی شخص بازار میں تلقین نہ کرے اور مہاجر دیہاتی سے بیع نہ کرے اور جو شخص ایسی گائے یا اونٹنی خریدے جس کے تھن باندھ کر اس کا دودھ روکا ہوا تھا اس کو اختیار ہے وہ چاہے تو اس کو واپس کر دے اور جتنا دودھ پیا ہے اس کا دگنا گندم بھی ساتھ دے۔ ایکشخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ چل رہا تھا اور آپ کی نقل اتار رہا تھا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کذلک فکن ” تو اسی طرح ہوجا “ وہ شخص بےہوش ہو کر گرگیا اس شخص کو اس کے گھر اٹھا کرلے جایا گیا۔ وہ دو ماہ بےہوش رہا اس کو جب بھی ہوش آتا تو اس کا منہ اسی طرح بگڑا ہوا ہوتا جس طرح نقل کے وقت تھا حتیٰ کہ وہ مرگیا۔ (دلائل النبوۃ ج ٦ ص 239-240)

ولی اور اس کی کرامت کی تعریفیں اور کرامت کے وقع پر دلائل 

اس آیت کے سیاق میں یہ بات آگئی ہے کہ آصف بن برخیا اللہ تعالیٰ کے ولی تھے اور انہوں نے تخت بلقیس کو مسافت بعیدہ سے پلک جھپکنے سے پہلے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے لا کر حاضر کردیا۔ اس آیت سے ہمارے علماء نے کر ات کو ثابت کیا ہے اور یہ بتایا کہ اولیاء اللہ سے کرامت ثابت ہوتی ہے۔

علامہ سعد الدین مسعود بن عمر تفتازاتی متوفی ٧٩٣ ھ لکھتے ہیں :

اولیاء اللہ کی کرامات برحق ہیں، ولی اس کو کہیت ہیں جو اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا حسب امکان عارف ہو، اور اللہ تعالیٰ کی دائما عبادت کرتا ہو اور ہر قسم کے گناہوں سے اجتناب کرتا ہو اور لذات اور شہوات میں انہماک اور استغراق سے اعراض کرتا ہو اور کرامت کی یہ تعریف ہے کہ ولی سے کوئی ایسا کام صادر ہو جو خرق عادت (خلاف معمول) ہو اور اس کے ساتھ دعویٰ نبوت مقارن اور متصل نہ ہو، پس جو خرق عادت اس شخص سے صادر ہو جو مومن اور صالح نہ ہو اس کو استدراج کہتے ہیں اور جو خرق عادت مومن اور صالح سے صادر ہو اور اس کے ساتھ دعویٰ نبوت بھی مقارن اور متصل ہو اس کو معجزہ کہتے ہیں، اور کرامت کے حق ہونے پر دلیل یہ ہے کہ اس قسم کے خرق عادت افعال صحابہ کرام سے تواتر کے ساتھ ثابت ہیں خصوصاً ان میں خرق عادت کی قدر مشترک تواتر سے ثابت ہے اگرچہ الگ الگ وہ افعال خبر واحد سے ثابت ہیں، نیز قرآن مجید میں ذکر ہے کہ حضرت مریم کے پاس بےموسمی پھل آتے تھے، اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے صاحبنے تخت بلقیس کو لا کر حاضر کیا۔

نیز لکھتے ہیں کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے صاحب آصف بن برخیاء نے مسافت بعیدہ سے پلک جھپکنے سے پہلے تخت بلقیس الکر حاضر کردیا اور حضرت مریم کے متعلق قرآن مجید میں ہے :

(آل عمران : ٣٧) جب بھی زکریا ان کے حجرے میں جاتے تو ان کے پاس (بےموسمی) رزق پاتے، وہ پوچھتے اے مریم ! تمہایر پاس یہ (بےموسمی) رزق کہاں سے آیا تو وہ کہتیں کہ یہ اللہ کے پاس سے ہے۔

اسی طرح بہ کثرت اولایء سے پانی پر چلنا مقنول ہے اور حضرت جعفر بن ابی طالب اور لقمان سرخسی سے ہوا میں اڑنا منقول ہے اور حضرت سلمان اور حضرت ابوالدرداء (رض) نے پتھر کی تسبیح کو سنا، اور اصحاب کہف کے کتے نے اصحاب کہف سے کلام کیا، اور روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ایک شخص گائے کو لے جا رہا تھا پھر وہ اس پر سوار ہوگیا تو گائے نے اس کی طرف مڑ کر دیکھ کر کہا میں اس کے لیے نہیں پیدا کی گئی میں تو کھیت میں ہل چلانے کے لیے پیدا کی گئی ہوں ‘ لوگوں نے کہا سبحان اللہ گائے نے کلام کیا ! تو نبی صلی للہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس پر ایمان لایا ‘ اسی طرح روایت ہے کہ حضرت عمر نے مدنیہ میں منبر پر کہا اور ان کا لشکر اس وقت نہاوند (ایران میں ہمدان اور کرمان کے درمیان ایک مشہور شہر) میں تھا۔ انہوں نے لشکر کے امیر سے کہا اے ساریہ ! پہاڑ کی اوٹ میں ہوجا ‘ پہاڑ کی اوٹ میں ہوجا ‘ کیونکہ جس جگہ وہ تھے وہاں دشمن کا خطرہ تھا ‘ اور اتنی دور سے حضرت ساریہ کا یہ کلام سنناان کی کرامت ہے ‘ اسی طرح حضرت خالد بن ولید نے زہرپی لیا اور ان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ‘ اور حضرت عمر کے خط ڈالنے سے دریائے نیل جاری ہوگیا۔ (شرح عقائد نسفی ص ١٠٦-١٠٥‘ مطبوعہ کراچی)

علامہ تفتازانی نے شرح مقاصد ج ٥ ص ٧٩-٧٢‘ میں ولی کی تعریف ‘ کرامت ‘ اس کے وقوع پر دلائل اور مخالفین کے شبہات کے جوابات میں زیادہ بحث کی ہے۔ طوالت کی وجہ سے ہم نے اس کا ذکر نہیں کیا ‘ جو اس کو پٹرھنا چاہے وہاں پڑھ لے۔

القرآن – سورۃ نمبر 27 النمل آیت نمبر 40