خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۚ لَا یُخَفَّفُ عَنْہُمُ الْعَذَابُ وَلَا ہُمْ یُنۡظَرُوۡنَ﴿۱۶۲﴾

ترجمۂ کنزالایمان:ہمیشہ رہیں گے اس میں نہ ان پر سے عذاب ہلکا ہو اور نہ انہیں مہلت دی جائے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے، ان پر سے عذاب ہلکا نہ کیا جائے گا اور نہ انہیں مہلت دی جائے گی۔

{لَا یُخَفَّفُ عَنْہُمُ الْعَذَابُ: ان پر سے عذاب ہلکا نہ کیا جائے گا۔} کفار کو کبھی عذاب سے چھٹکارا نہ ملے گا اور نہ انہیں نیک اعمال کی یا توبہ کی مہلت دی جائے گی ۔کافر کا عمل اسے کچھ نفع نہیں دیتا البتہ علماء نے فرمایا ہے اور احادیث سے سمجھ آتا ہے کہ جس عمل کا تعلق نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی ذاتِ گرامی سے ہو اس سے کافر کو بھی فائدہ ہوتا ہے جیسا کہ بخاری و مسلم میں ہے کہ ابوطالب کے عذاب میں حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی برکت سے کمی ہوئی اور یونہی نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ولادت کی خوشی میں ابو لہب نے اپنی لونڈی ثویبہ کو آزاد کیا تو جس انگلی کے اشارے سے اس نے آزاد کیا تھا اس سے اسے کچھ سیراب کیا جاتا ہے۔ یہی کلام علامہ عینی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ابولہب والی حدیث کے تحت عمدۃ القاری جلد نمبر14 صفحہ45پر فرمایا ہے۔