وَ اِلٰـہُکُمْ اِلٰہٌ وّٰحِدٌۚ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیۡمُ﴿۱۶۳﴾

ترجمۂ کنزالایمان:اور تمہارا معبود ایک معبود ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں مگر وہی بڑی رحمت والا مہربان۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور تمہارا معبود ایک معبود ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، بڑی رحمت والا، مہربان ہے۔
{وَ اِلٰـہُکُمْ اِلٰہٌ وّٰحِدٌ: اور تمہارا معبود ایک معبود ہے۔} کفار نے حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے اللہ تعالیٰ کی شان و صفت معلوم کی تو یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی کہ تمہارا معبودایک معبود ہے۔ (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۶۳، ۱/۱۰۸)
نہ اس کے اجزاء ہیں ، نہ کوئی اس کی مثل ہے ، معبود و رب ہونے میں کوئی اس کا شریک نہیں ، وہ اپنی ذات و صفات اور افعال میں یکتا ہے، مخلوق کو تنہا اسی نے بنایا، وہ اپنی ذات میں اکیلا ہے۔
اسم اعظم والی آیات:
حضرت اسماء بنت یزید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاسے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ان دو آیتوں میں ہے،ایک یہ آیت:
وَ اِلٰـہُکُمْ اِلٰہٌ وّٰحِدٌۚ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیۡمُ
دوسری سورۂ اٰل عمران کی ابتدائی آیت:
الٓمَّٓ ﴿۱﴾ۙ اللہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَۙ الْحَیُّ الْقَیُّوۡمُؕ
(ترمذی، کتاب الدعوات، ۶۴-باب، ۵/۲۹۱، الحدیث: ۳۴۸۹)