وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمُ اتَّبِعُوۡا مَاۤ اَنۡزَلَ اللہُ قَالُوۡا بَلْ نَتَّبِعُ مَاۤ اَلْفَیۡنَا عَلَیۡہِ اٰبَآءَنَاؕ اَوَلَوْ کَانَ اٰبَآؤُہُمْ لَا یَعْقِلُوۡنَ شَیْـًٔا وَّلَا یَہۡتَدُوۡنَ﴿۱۷۰﴾ 

ترجمۂ کنزالایمان: اور جب ان سے کہا جائے اللہ کے اتارے پر چلو تو کہیں بلکہ ہم تو اس پر چلیں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا کیا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ عقل رکھتے ہوں نہ ہدایت۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب ان سے کہا جائے کہ اس کی پیروی کرو جو اللہ نے نازل کیا ہے تو کہتے ہیں : بلکہ ہم تواس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایاہے۔ کیا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ عقل رکھتے ہوں نہ وہ ہدایت یافتہ ہوں ؟

{وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمُ: اورجب ان سے کہا جائے۔} جب کافروں سے کہا جاتا کہ توحید و قرآن پر ایمان لاؤ اور پاک چیزوں کو حلال جانو جنہیں اللہ تعالیٰ نے حلال کیاتو مشرکین اس کا ایک ہی جواب دیتے کہ ہم تو اسی راہ و رسم اور طور طریقے پر چلیں گے جس پر ہمارے باپ دادا چلتے آئے ہیں۔ انہیں فرمایا گیا کہ جب باپ دادا دین کے امور کونہ سمجھتے ہوں اور راہِ راست پر نہ ہوں توان کی پیروی کرنا حماقت و گمراہی ہے۔باپ دادا چالیس سال کی عمر کو پہنچ کر خود کشی کرتے ہوں تو کیا اولاد بھی چالیس سال کی عمر میں خود کشی کرے؟ وہ روزانہ کیچڑ میں چھلانگ مارتے ہوں تو کیا اولاد بھی یہی شروع کر دے؟ سیدھی بات ہے کہ صحیح بات میں پیروی کی جائے اور غلط میں ہرگز نہیں۔
شریعت کے مقابلے میں باپ دادا کی پیروی کرنا کیسا؟
شریعت کے مقابلہ میں گمراہ باپ دادا کی پیروی کرنا حرام ہے۔ یونہی گناہ کے کاموں میں باپ دادا کی پیروی ناجائز ہے کہ بحکمِ حدیث اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے کام میں کسی کی اطاعت نہیں کی جاسکتی۔
(مسلم، کتاب الامارۃ، باب وجوب طاعۃ الامراء فی غیر معصیۃ۔۔۔ الخ، ص۱۰۲۴، الحدیث: ۳۹(۱۸۴۰))
ہمارے ہاں شادی مرگ اور دیگر کئی مواقع پر شریعت پر چلنے کا کہا جائے تو لوگ آگے سے یہی باپ دادا، خاندان اور برادری کے رسم و رواج کا عذر پیش کرتے ہیں یہ بھی سراسر غلط و باطل ہے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ بروں کی پیروی بری ہے اور اچھوں کی پیروی اچھی جیسے ہم بزرگانِ دین، صحابہ، تابعین، ائمہ مجتہدین، اولیاء و صالحین کی پیروی کرتے ہیں تو یہ بہت اچھی ہے کہ اس کا حکم خود قرآن نے دیا ہے چنانچہ فرمایا:وَکُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ(التوبہ:۱۱۹)
ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور سچوں کے ساتھ ہوجاؤ۔
ہر نماز میں بزرگوں کی پیروی کی دعا مانگنے کا فرمایا چنانچہ فرمایا:
صِرٰطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ۬ۙ۬ (الفاتحہ: ۷)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: ان لوگوں کے راستے پر چلا جن پر تو نے انعام کیا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اچھوں کی پیروی کرنے اور بروں کی پیروی سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔