وَمَثَلُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا کَمَثَلِ الَّذِیۡ یَنْعِقُ بِمَا لَا یَسْمَعُ اِلَّا دُعَآءً وَّ نِدَآءًؕ صُمٌّۢ بُکْمٌ عُمْیٌ فَہُمْ لَا یَعْقِلُوۡنَ﴿۱۷۱﴾

ترجمۂ کنزالایمان: اور کافروں کی کہاوت اس کی سی ہے جو پکارے ایسے کو کہ خالی چیخ پکار کے سوا کچھ نہ سنے، بہرے گونگے اندھے تو انہیں سمجھ نہیں۔ 

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور کافروں کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو کسی ایسے کو پکارے جو خالی چیخ و پکار کے سوا کچھ نہیں سنتا۔ (یہ کفار) بہرے، گونگے، اندھے ہیں تو یہ سمجھتے نہیں۔
{وَمَثَلُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا: اور کافروں کی مثال۔} حضور پرنورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافروں کو مسلسل دینِ حق کی دعوت دیتے رہتے۔ کافر سنتے تو تھے لیکن اس سے کچھ نفع حاصل نہ کرتے یعنی ایمان نہ لاتے۔ ان کے اس سننے کی مثال بیان کی گئی کہ جس طرح جانوروں کا ایک ریوڑ ہو اور ان کا مالک انہیں آواز دے تو وہ محض ایک آواز تو سنتے ہیں لیکن مالک کے کلام کا مفہوم نہیں سمجھتے، یونہی کافروں کا حال ہے کہ حبیب ِ خداصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ انہیں حق کی طرف بلاتے ہیں ، یہ ان کا کلام سنتے ہیں لیکن جواب میں جانوروں جیسا طرزِ عمل ظاہر کرتے ہیں۔ ایسے آنکھ، کان، زبان کا کیا فائدہ جس سے کوئی نفع نہ اٹھایا جاسکے۔ اس اعتبار سے تو یہ بہرے، گونگے اور اندھے ہیں۔ اس آیت میں کچھ درس ہمارے لئے بھی ہے کہ دعوت و تبلیغ، وعظ و نصیحت، قرآن و حدیث ، اصلاح و تفہیم کے باوجود جو طرزِ عمل ہمارا ہے وہ بھی کچھ سوچنے کا تقاضا کرتا ہے کہ اِس اعتبار سے ہمارے آنکھ، کان بھی کھلے ہوئے ہیں یا نہیں ؟