ذٰلِکَ بِاَنَّ اللہَ نَزَّلَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّؕ وَ اِنَّ الَّذِیۡنَ اخْتَلَفُوۡا فِی الْکِتٰبِ لَفِیۡ شِقَاقٍۭ بَعِیۡدٍ﴿۱۷۶﴾٪ 

ترجمۂ کنزالایمان: یہ اس لئے کہ اللہ نے کتاب حق کے ساتھ اتاری اور بے شک جو لوگ کتاب میں اختلاف ڈالنے لگے وہ ضرور پرلے سرے کے جھگڑالو ہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہ (سزا) اس لئے ہے کہ اللہ نے حق کے ساتھ کتاب نازل فرمائی اور بے شک کتاب میں اختلاف کرنے والے دور کی مخالفت و ضد میں ہیں۔ 

{فِی الْکِتٰبِ: کتاب میں۔} کتاب سے مراد قرآن شریف ہے یا توریت شریف ،پہلی صورت میں اختلاف سے مراد ہو گا نہ ماننا اور دوسری صورت میں اس سے مراد ہو گا صحیح طور پر نہ ماننا کیونکہ یہودی قرآن کو تو بالکل نہ مانتے تھے اور توریت کو ماننے کے دعویدار تھے، مگر صحیح طور پر نہ مانتے تھے، ورنہ حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر ایمان لے آتے۔ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت مشرکین کے حق میں نازل ہوئی، اس صورت میں کتاب سے قرآن ہی مرادہوگا اور ان کا اختلاف یہ تھا کہ ان میں سے بعض قرآن کو شعر کہتے تھے ، بعض جادو اور بعض کہانت کہا کرتے تھے۔ (تفسیر قرطبی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۷۶، ۱/۱۸۱، الجزء الثانی)