فَمَنۡۢ بَدَّلَہٗ بَعْدَمَا سَمِعَہٗ فَاِنَّمَاۤ اِثْمُہٗ عَلَی الَّذِیۡنَ یُبَدِّلُوۡنَہٗؕ اِنَّ اللہَ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ﴿۱۸۱﴾ؕ 

ترجمۂ کنزالایمان:تو جو وصیت کو سن سنا کر بدل دے اس کا گناہ انہیں بدلنے والوں پر ہے بیشک اللہ سنتا جانتا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر جو وصیت کو سننے کے بعد اسے تبدیل کردے تو اس کا گناہ ان بدلنے والوں پر ہی ہے، بیشک اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔

{فَمَنۡۢ بَدَّلَہٗ بَعْدَمَا سَمِعَہٗ: پھر جو وصیت کو سننے کے بعد اسے تبدیل کردے۔} وصیت کرنے کے بعد زندگی کے اندر اندر وصیت کرنے والے کو تو وصیت تبدیل کرنے کا اختیار ہوتا ہے لیکن فوت ہونے کے بعد کسی دوسرے شخص کو وصیت میں تبدیلی کی اجازت نہیں خواہ وصی تبدیل کرے یا گواہ یا کوئی اور۔ یونہی وصیت کے کاغذات میں تبدیلی کی جائے یا مال کی تقسیم میں۔ افسوس کہ مال کی محبت میں لوگ وصیتوں میں بہت ہیر پھیر کرتے ہیں ، وصیت چھپا دیتے ہیں ، جعلی وصیت نامے بنالیتے ہیں ، وصیت میں تبدیلی کردیتے ہیں ، وصیت پر عمل نہیں کرتے۔ ایک اہم مسئلہ یہ بھی یاد رہے کہ وصیت کے بارے میں ضروری ہے کہ شریعت نے جو قوانین بنائے ہیں ان پر عمل کیا جائے۔ ان سے ہٹ کر عمل کی اجازت نہیں مثلاً ورثاء راضی نہ ہوں پھر بھی تہائی مال سے زیادہ کی وصیت کردی جائے اور اس پر عمل کرلیا جائے۔ یہ سب ناجائز و حرام ہے۔