فَمَنْ خَافَ مِنۡ مُّوۡصٍ جَنَفًا اَوْ اِثْمًا فَاَصْلَحَ بَیۡنَہُمْ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیۡہِؕ اِنَّ اللہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ﴿۱۸۲﴾٪

ترجمۂ کنزالایمان: پھر جسے اندیشہ ہوا کہ وصیت کرنے والے نے کچھ بے انصافی یا گناہ کیا تو اس نے ان میں صلح کرادی اس پر کچھ گناہ نہیں بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر جس کو وصیت کرنے والے کی طرف سے جانبداری یا گناہ کا اندیشہ ہوتو وہ ان کے درمیان صلح کرادے تو اس پر کچھ گناہ نہیں۔ بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

{فَمَنْ خَافَ: تو جسے اندیشہ ہو۔} اگر کسی عالم یا حاکم یا وصی یا رشتے داروغیرہ کو معلوم ہو کہ مرنے والا وصیت میں کسی پر زیادتی کر رہا ہے یا شرعی احکام کی پابندی نہیں کررہا تو مرنے والے کو سمجھا بجھا کر وصیت درست کرا دے تو یہ شخص گنہگارنہیں بلکہ اپنے نیک عمل کی وجہ سے ثواب کا مستحق ہوگا۔ یونہی اگر فوت ہونے والا تو غلط وصیت کرگیالیکن بعد میں کوئی حاکم یا عالم یا رشتے داروغیرہ یہ لوگ مُوصٰی لہ یعنی جس کے حق میں وصیت کی گئی اس میں اور وارثوں میں شرع کے موافق صلح کرادے تو گنہگار نہیں بلکہ مستحقِ ثواب ہوسکتا ہے۔