أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَمَّنۡ يُّجِيۡبُ الۡمُضۡطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَيَكۡشِفُ السُّوۡٓءَ وَيَجۡعَلُكُمۡ خُلَفَآءَ الۡاَرۡضِ‌ ؕ ءَاِلٰـهٌ مَّعَ اللّٰهِ ‌ؕ قَلِيۡلًا مَّا تَذَكَّرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

(بتائو ! ) جب بےقرار اس کو پکارتا ہے تو اس کی دعا کو کون قبول کرتا ہے اور کون تکلیف کو دور کرتا ہے اور تم کو زمین پر پہلوں کا قائم مقام بناتا ہے ! کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے تم لوگ بہت کم نصیحت کو قبول کرتے ہو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (بتائو ! ) جب بےقرار اس کو پکارتا ہے تو اس کی دعا کو کون قبول کرتا ہے اور کون تکلیف کو دور کرتا ہے اور تم کو زمین پر پہلوں کا قائم مقام بناتا ہے ! کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے ! تم لوگ بہت کم نصیحت کو قبول کرتے ہو !۔ (النمل : ٦٢) 

مضطر (بےقرار) کے مصداق کے متعلق اقوال 

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : مضطر (بےقرار) وہ شخص ہے جس کو کسی چیز کی سخت ضرورت ہو اور وہ اس کی طلب کی وجہ سے مشقت میں مبتلا ہو ! سدی نے کہا مضطر وہ شخص ہے جو کسی مصیبت کو دور کرسکتا ہو اور نہ کسی راحت کو حاصل کرسکتا ہو۔ ذوالنون نے کہا مضطر وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کے سوا باقی سب سے رشتے منقطع کرچکا ہو۔ ابو جعفر اور ابو عثمان نیشا پوری نے کہا مضطر وہ شخص ہے جو دیوالیہ ہوچکا ہو ‘ سہل بن عبداللہ نے کہا مضطر وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو اس کے پاس دعا کے قبول ہونے کے لیے پیشگی عبادت کا کوئی وسیلہ نہ ہو۔ ایک شخص مالک بن دینار کے پاس آیا اور کہا میں آپ سے اللہ کے لیے سوال کرتا ہوں ‘ آپ میرے لیے دعا کریں میں مضطر ہوں ‘ انہوں نے کہا جب تم مضطر ہو تو اللہ تعالیٰ سے سوال کرو وہ مضطر کی دعا کو قبول فرماتا ہے۔ 

مضطر (بر قرار) کی دعا 

عبدالرحمن بن ابی بکرہ نے اپنے والد سے کہا میں ہر روز صبح و شام تین تین بار آپ کو یہ دعا کرتے ہوئے سنتا ہوں۔ اے اللہ ! میرے بدن کو عافیت سے رکھ ‘ اے اللہ ! میرے کانوں کو عافیت سے رکھ ‘ اے اللہ ! میری آنکھوں کو عافیت سے رکھ ‘ تیرے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے۔ حضرت ابوبکر (رض) نے کہا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا ہے تو میں آپ کی سنت پر عمل کرنا پسند کرتا ہوں ‘ حضرت ابن عباس (رض) نے اس دعا میں کہا : اے اللہ ! میں کفر اور فقر سے تیری پناہ میں آتا ہوں ‘ اے اللہ ! میں عذاب قبر سے تیری پناہ میں آتا ہوں ‘ اور کہا حضور صبح اور شام تین تین بار یہ دعا کرتے تھے اور میں آپ کی سنت پر عمل کرنے کو پسند کرتا ہوں ‘ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کرب میں مبتلا (بےقرار) کی دعا یہ ہے : اے اللہ میں تیری رحمت کی امید رکھتا ہوں تو مجھے پلک جھپکنے کے لیے بھی میرے نفس کے سپرد نہ کر اور تو میرے تمام کاموں کو درست کر دے تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٥٠٩٠‘ مسند احمد رقم الحدیث : ٢٠٤٥٢) 

قرآن اور حدیث سے اس پر استدلال کہ مضطر اور مصیبت زدہ کی دعا قبول ہوتی ہے خواہ وہ مومن ہو یا کافر 

جب کوئی شخص کرب میں مبتلا ہو ‘ مضطر اور بےقرار ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرماتا ہے خواہ وہ شخص مومن ہو یا کافر ہو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

حتیٰ اذا کنتم فی الفلک وجرین بھم بریح طیبتہ وفرحوا بھا جاء تھا ریح عاصف و جاءھم الموج من کل مکان و ظنوا انھم احیط بھم دعوا اللہ مخلْصین لہ الدین ہ لن انجیتنا من ھذہ لنکونن من الشکرین۔ فلما انجہم اذا ھم یبغون فی الارض بغیر الحق ( یونس : ٢٣- ٢٢ )

حتیٰ کہ جب تم کشتیوں میں (محو سفر) ہو اور وہ کشتیاں موافق ہوا کے ساتھ لوگوں کو لے کر جا رہی ہوں اور لوگ ان سے خوش ہو رہے ہوں تو (اچانک) ان کشتیوں پر تیز آندھی آئے اور (سمندر کی) موجیں ہر طرف سے ان کو گھیر لیں اور لوگ یہ یقین کرلیں کہ وہ (طوفان میں) پھنس چکی ہیں اس وقت وہ اخلاص سے عبادت کرتے ہوئے اس سے دعا کرتے ہیں کہ اگر تو نے ہمیں اس (طوفان) سے بچا لیا تو ہم ضرور تیرا شکر کرنے والوں میں سے ہوجائیں گے۔ پھر جب اللہ نے انہیں بچا لیا تو وہ پھر یکایک زمین میں ناحق بغاوت (فساد) کرنے لگتے ہیں۔ 

فاذار کبوا فی الفلک دعوا اللہ مخلصین لہ الدین ۔ فلما نجہم الی البر اذا ھم یشرکون۔ (العنکبوت : ٦٥) پس جب یہ لوگ کشتیوں میں سوار ہوتے ہیں تو اخلاص سے عبادت کرتے ہوئے اللہ ہی کو پکارتے ہیں پھر جب وہ ان کو (طوفان سے) نجات دے کر خشکی کی طرف لے آتا ہے تو وہ اسی وقت شرک کرنے لگتے ہیں۔ 

سوجو مضطر اور بےقرار اخلاص کے ساتھ اللہ سے دعا کرتا ہے وہ اس کی دعا قبول فرمالیتا ہے۔ 

اسی طرح احادیث میں مطلقاً مظلوم کی دعا قبول کرنے کا ذکر ہے۔ 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس میں کوئی شک نہیں کہ تین (قسم کی) دعائیں قبول ہوتی ہیں ‘ مظلوم کی دعا اور مسافر کی دعا اور باپ کی دعا اس کی اولاد کے لیے۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ١٥٣٦‘ مصنف ابن ابی شیبہ ج ١٠ ص ٤٢٩‘ مسند احمد ج ٢ ص ٢٥٨‘ سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٩٠٥‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٨٦٢‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٢٦٩٩‘ شرح النتہ رقم الحدیث : ١٣٩٤)

حضرت معاذ بن جبل (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں یمن کا حاکم بنا کر بھیجتے وقت چند ہدایات دیں اور آخر میں فرمایا اور مظلوم کی دعا سے بچنا کیونکہ اس کی دعا اور اللہ کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہوتا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٤٩٦‘ سنن ابودائود رقم الحدیث : ١٥٨٤‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٦٢٥‘ ٢٤٣٥‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٧٨٣) 

حضرت خزیمہ بن ثابت (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مظلوم کی دعا سے بچو ‘ کیونکہ اس کی دعا بادلوں کے اوپر اٹھائی جاتی ہے ‘ اللہ جل جلالہ فرماتا ہے : مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم ! میں تمہاری ضرور مدد کروں گا ‘ خواہ کچھ اقت گزرنے کے بعد۔ (المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٣٧١٨‘ المستد رک ج ١ ص ٢٩‘ قدیم ‘ المستدرک رقم الحدیث : ٨١‘ یہ حدیث حضرت ابوہریرہ سے بھی مروی ہے صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٢٤٠٩‘ ٢٤٠٨‘ سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٤٤٦‘ ١٩٧٠‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٧٥٢‘ مسند احمد ج ٢ ص ٤٤٥‘ ٣٠٥‘ مجمع الزوائد ج ١٠ ص ١٥٢‘ متن حدیث کے الفاظ متقارب ہیں)

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مظلوم کی دعا سے بچو خواہ وہ کافر ہو کیونکہ اس کی دعا کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہوتا۔ (مسند احمد ج ٣ ص ١٥٣‘ اس حدیث کی سند میں ایک راوی ابو عبداللہ الاسدی ہے حافظ المنذری نے کہا ہے میں اس کو نہیں پہچانتا ‘ الترغیب والترہیب ج ٣ ص ١٨٨‘ حافظ الہیشمی نے بھی کہا میں اس کو نہیں پہنچانتا ‘ مجمع الزوائد ج ١٠ ص ١٥٢‘ حافظ زین نے کہا اس حدیث کی سند حسن ہے حاشیہ مسند احمد ج ١٠ ص ٤٩٥‘ رقم الحدیث : ١٢٤٨٨‘ مطبوعہ دارالحدیث قاہرہ ‘ ١٤١٦ ھ)

مظلوم ‘ مسافر اور والد کی دعا جلد قبول فرمانے کی حکمت 

اللہ تعالیٰ مظلوم کے اخلاص کی وجہ سے اس کی دعا کو قبول فرما لیتا ہے اور یہ ضرورت کی بنا پر اس کے کرم کا تقاضا ہے ‘ اور اس کے اخلاص کو قبول کرلینا ہے خواہ وہ کافر ہو اسی طرح اگر وہ شخص اپنے دین میں سب سے بڑا فاجر ہو تو جب وہ گڑ اکر اخلاص کے ساتھ دعا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا کو قبول فرمائے گا کیونکہ کسی کا کفریا فجور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے عموم اور شمول سے مانع نہیں ہے اور مظلوم کی دعا کے قبول ہونے کا معنی یہ ہے ‘ اللہ تعالیٰ (رض) الم کے خلاف اس کی مدد فرماتا ہے یا ظالم سے اس کا بدلہ لیتا ہے یا ظالم پر اس سے بڑے ظالم کو مسلط کردیتا ہے جو اس ظالم پر ظلم کرتا ہے ‘ قرآن مجید میں ہے : 

وکذلک نولی بعض الظلمین بعضا بما کانو یکسبون۔ (الانعام : ١٢٩) اسی طرح ہم بعض ظالموں کو ان کے اعمال کی وجہ سے بعض دوسرے ظالموں پر مسلط کردیتے ہیں۔ 

اس طرح ایک ظالم دوسرے ظالم کو ہلاک اور تباہ و برباد کردیتا ہے اور ہم ایک ظالم کا انتقام دوسرے ظالم سے لے لیتے ہیں جس طرح جب جرمنوں کا ظلم اور ان کی بربریت حد سے بڑھی تو اللہ تعالیٰ نے امریکا ‘ روس اور برطانیہ کو ان پر مسلط کردیا۔ 

حضرت خزیمہ بن ثابت (رض) کی روایت میں ہے مظلوم کی دعا سے بچو کیونکہ اس کی دعا بادلوں کے اوپر اٹھائی جاتی ہے ‘ اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مظلوم کی دعا کے لیے فرشتوں کو مقرر فرمادیا ہے وہ اس کی دعا کو بادلوں کے اوپر اٹھا کرلے جاتے ہیں ‘ پھر وہاں سے اس کو آسمان کی طرف لے جاتے ہیں اور آسمان دعا کا قبلہ ہے تاکہ اس کو تمام فرشتے دیکھ لیں ‘ اور دعا کو اوپر لے جانے سے فرشتوں کی مدد کا اظہار ہوتا ہے اور اس دعا کی قبولیت میں ان کی شفاعت حاصل ہوتی ہے ‘ اور مظلوم کی دعا کو جلد قبول کرنے سے لوگوں کو اللہ کی ناراضگی ‘ اس کی معصیت اور اس کے حکم کی مخالفت کرنے سے ڈرانا مقصود ہے جیسا جی اس حدیث میں ہے : 

حضرت ابوذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : اے میرے بندو ! میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام کرلیا ہے اور ظلم کو تمہارے درمیان بھی حرام کردیا ہے ‘ اے میرے بندو ! سو تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو ! الحدیث۔ (صحیح مسلم ‘ البروالصلہ : ٥٥‘ رقم الحدیث بلا تکرار : ٢٥٧٧‘ الرقم المسلسل : ٦٤٥٠‘ مکتبہ نزار مصطفیٰ ‘ ١٤١٧ ھ)

پس مظلوم مضطر اور مکروب ہے اور اپنا بدلہ لینے کے لیے بےقرار ہے ‘ اور مسافر بھی اسی کے قریب ہے کیونکہ وہ اپنے اہل اور وطن سے جدا ہے ‘ دوستوں اور مددگاروں سے دور ہے ‘ اور دوران سفر اجنبی لوگوں کے درمیان رہنے کی وجہ سے اس کا کوئی موافق اور مددگار نہیں ہے ‘ اس لیے وہ بھی مکروب اور مضطر ہے اور اس کی دعا بھی اللہ تعالیٰ ازراہ کرم جلد قبول فرماتا ہے ‘ اسی طفح جب والد اپنی اولاد کے لیے دعا کرتا ہے تو وہ بھی اپنی اولاد کے لیے بےقرار اور مضطر ہوتا ہے اور اولاد کی تکلیف سے اس کے باپ کو اذیت پہنچتی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ ‘ مظلوم اور مسافر کی طرح اس کی دعا کو بھی جلد قبول فرمالیتا ہے۔ 

مضطر اور مکروب کی فریاد رسی سے توحید پر استدلال 

نیز اس آیت میں فرمایا : اور کون ظلم کو دور کرتا ہے ‘ یعنی مخلوق سے ضرور اور ظلم کو کون دور کرنت ہے ‘ اور فرمایا اور تم کو زمین پر پہلوں کا قائم مقام بناتا ہے ‘ یعنی ایک قوم مرجاتی ہے اور اس کی جگہ دوسری قوم آجاتی ہے اور وہ تمہاری اولاد کو تمہارا قائم مقام بنا دیتا ہے ‘ اگر پہلے لوگ مر کر بعد والوں کے لیے جگہ خالی نہ کرتے تو بعد والوں کے لیے زمین تنگ ہوجاتی۔

کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے ؟ تم لوگ بہت کم نصیحت قبول کرتے ہو۔ اگر اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہوتا تو جس طرح اللہ نے اپنی عبادت اور توحید کا پیغام دے کر رسول بھیجے ہیں تو وہ دوسرا معبودبھی اپنا پیغام بھیجا ‘ اپنے رسولوں پر معجزات نازل کرتا ‘ وہ بھی آسمانی کتابیں نازل کرتا ‘ اور جب ایسا نہیں ہوا تو مان لو کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی واحد لا شریک ہے ‘ وہی ستائش اور عبادت کا مستحق ہے ‘ اس کے سوا اور کوئی اس کائنات کا پیدا کرنے والا نہیں ہے۔ 

ہر صاحب عقل اس بات کو تسلیم کرے گا کہ ستائش اور عبادت کا وہی مستحق ہے جو مصائب دور کرے ‘ دکھ اور پریشانی میں کام آئے ‘ اور جب اللہ تعالیٰ کے سوا مصائب کو کوئی دور نہیں کرتا ‘ مشکلات کو اس کے سوا کوئی حل نہیں کرتا تو اس کے سوا عبادت کا بھی کوئی مستحق نہیں ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 27 النمل آیت نمبر 62