أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّكَ لَا تُسۡمِعُ الۡمَوۡتٰى وَلَا تُسۡمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ۞

ترجمہ:

بیشک آپ مردوں کو نہیں سناتے اور نہ آپ بہروں کو (اپنی) پکار سناتے ہیں جب وہ پیٹھ پھیر کر جارہے ہوں

سماع موتی کے ثبوت میں احادیث اور آثار 

بے شک آپ مردوں کو نہیں سناتے۔ (النمل : ٨٠) اس آیت میں کفار کو مردہ فرمایا ہے کیونکہ جس طرح مردوں سے کسی کام کے کرنے کی امید نہیں ہوتی اسی طرح ان کے ایمان لانے کی امید بھی منقطع ہوچکی ہے اور جس طرح مردے کسی چیز سے نفع نہیں اٹھا سکتے اسی طرح یہ کفار بھی آپکے وعظ اور تبلیغ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا رہے ‘ اور چونکہ ان کی گستاخیوں کی وجہ سے ان کے دلوں پر کفر کی مہر لگائی جا چکی ہے تو آپ خواہ کتنی تبلیغ کریں ان میں ایمان داخل نہیں ہوسکتا ‘ کفار لوگوں کی باتیں سنتے تھے اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان کو بہرا فرمایا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جو قوت سماعت عطا کی تھی اس سے مقصود یہ تھا کہ وہ اللہ کے دین کی باتوں کو سنتے اور انکو مان کر ان پر عمل کرتے اور جب انہوں نے ایسا نہیں کیا تو پھر وہ اللہ کے نزدیک مردہ ہیں خواہ وہ دنیا جہان کی باتیں سنتے رہیں۔ 

اہل سنت و جماعت کے نزدیک قبر میں مردے زندہ کا کلام سنتے ہیں ‘ اور اس آیت میں مردوں کے سننے کے نفی نہیں کی بلکہ مردوں کو سنانے کی نفی کی ہے ‘ نیز اس آیت میں مردوں سے مراد وہ نہیں ہیں جن کے جسم مردہ ہوں بلکہ اس آیت میں مردوں سے مرادوہ ہیں جن کے دل مردہ ہوں ‘ نیز آیت میں مردوں سے مرادوہ نہیں ہیں جو حقیقتاً مردہ ہوں بلکہ اس آیت میں زندہ کافروں کو تشبیہاً اور مجازاً مردہ فرمایا ہے اور ہم جو کہتے ہیں کہ قبر میں مردے سنتے ہیں اس سے مراد حقیقتاً مردے ہیں نہ کہ وہ جو حقیقتاً زندہ ہوں اور مجاز اً مردہ ہوں۔

مردوں کے سننے کے متلعق ان احادیث میں واضح تصریح ہے۔

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کسی بندہ کو جب قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے اصحاب پیٹھ پھیر کر چلے جاتے ہیں تو وہ انکی جوتیوں کی آواز کو سنتا ہے ‘ اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اس کو بٹھا کر کہتے ہیں کہ تم اس شخص (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق کیا کہتے تھے ‘ جو شخص یہ کہے گا کہ یہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ‘ تو اس کیس کہا جائے گا دیکھو تمہارا ٹھکانا دوزخ میں تھا ‘ اللہ نے تمہارے اس ٹھکانے کو جنت کے ٹھکانے سے بدل دیا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٣٣٨‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٣٧٤‘ سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٣٢٣١‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٣١١٨‘ المستدرک ج ١ ص ٣٧٩‘ قدیم ‘ المستدرک رقم الحدیث : ١٤٠٣‘ جدید ‘ مسند البز اررقم الحدیث : ٨٧٣‘ مصنف ابن شیبہ ج ٣ ص ٣٧٨)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب کوئی آدمی اس شخص کی قبر کے پاس سے گزرے جس کو وہ دنیا میں پہچانتا تھا پھر اس کو سلام کرے تو وہ اس کو پہچان کر اس کے سلام کا جواب دیتا ہے ‘ اور جب وہ ایسے شخص کے پاس سے گزرے جس کو وہ نہیں پہچانتا تھا اور اس کو سلام کرے تو وہ اس کے سلام کا جواب دیتا ہے۔ (شعب الایمان ج ٧ ص ١٧‘ رقم الحدیث : ٩٢٩٦‘ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٠ ھ)

بشربن منصور بنا کرتے ہیں کہ طاعون کے زمانہ میں ایک شخص جیان کے پاس آتا جاتا تھا ‘ اور جنازوں کی نماز پٹرھتا تھا ‘ اور شام کو قبرستان کے دروازے پر کھڑے ہو کر یہ دعا کرتا تھا ‘ اللہ تعالیٰ تمہاری وحشت کو دور کردے اور آخرت کے سفر میں تم پر رحم فرمائے اور تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے ‘ اور اللہ تعالیٰ تمہاری نیکیوں کو قبول فرمائے ‘ اس شخص نے کہا ایک شام میں گھر چلا گیا اور قبرستان نہیں جاسکا ‘ اس رات میں نے خواب میں دیکھا کہ بہت لوگ میرے پاس آئے ‘ میں نے کہا آپ لوگ کون ہیں اور آپ کو کیا کام ہے ؟ انہوں نے کہا ہم قبروں والے ہیں ‘ میں نے پوچھا آپ لوگ کیوں آئے ہیں ؟ انہوں نے کہا تم ہر روز گھرجانے سے پہلے ہمیں ہدیہ پیش کرتے تھے ‘ میں نے پوچھا وہ کیا ہدیہ تھا ‘ انہوں نے کہا وہ دعائیں تھیں جو تم ہمارے لیے کرتے تھے ‘ اس شخص نے کہا میں پھر دعا کروں گا ‘ اس کے بعد میں نے ان دعاؤں کو ترک نہیں کیا۔ (شعب الایمان رقم الحدیث : ٨٩٢٩‘ ج ٧ ص ٧١‘ بیروت)

بشار بن غالب بیان کرتے ہیں کہ میں رابعہ عدویہ کے لیے بہت دعا کرتے تھا ‘ ایک دن میں نے ان کو خواب میں دیکھا انہوں نے مجھ سے کہا : اے بشار ! تمہارے ہدیے ہمارے پاس نور کے طباقوں (تھالیوں) میں ریشمی رومالوں سے ڈھکے ہوئے آتے ہیں ‘ میں نے پوچھا وہ کیسے ؟ انہوں نے کہا جب مردوں کے لیے دعا کی جائے اور وہ دعا قبول ہوجائے تو اس دعا کو طباق میں رکھ کر ریشمی رومال سے ڈھانپ کر وہ طباق اس مردے کو پیش کیا جاتا ہے جس مردے کے لیے دعا کی جاتی ہے اور اس سے کہا جاتا ہے یہ تمہارے لیے فلاں شخص کا ہدیہ ہے۔ (شعب الایمان ج ٧ ص ٨١۔ ٧١‘ رقم الحدیث : ٩٩٢٩‘ طبع بیروت : ٠١٤١ ھ)

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مقتولین بدر کو تین دن تک چھوڑے رکھا ‘ پھر آپ ان کے پاس گئے اور ان پر کھڑے ہو کر ان کو ندا کی اور فرمایا : اے ابوجہل بن ہشام ! اے امیہ بن خلف ! اے عتبہ بن ربیعہ ! اے شیبہ بن ربیعہ ! کیا تم نے اپنے رب کے وعدہ کو سچا نہیں پالیا ‘ کیونکہ میں نے اپنے رب کے وعدہ کو سچا پا لیا ہے۔ حضرت عمر (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد سن کر کہا یا رسول اللہ ! یہ کیسے سنیں گے ‘ اور کس طرح جواب دیں گے حالانکہ یہ مردہ ہیں ‘ آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے ! تم میری بات کو ان سے زیادہ سننے والے نہیں ہو ‘ لیکن یہ جواب دینے پر قادر نہیں ہیں ‘ پھر آپ کے حکم سے ان کو گھسیٹ کر بدر کے کنوئیں میں ڈال دیا گیا۔ (صحیح مسلم ‘ صفت اہل الجنہ : ٧٧‘ رقم الحدیث بلاتکرار : ٤٧٨٢‘ الرقم المسلسل : ٠٩٠٧‘ مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ ‘ ٧١٤١ ھ)

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٨٦٦ ھ فرماتے ہیں :

حضرت عائشہ (رض) نے مردوں کے سننے کا انکار کیا ہے اور انک لا تسمع الموتی ( النمل : ٠٨) اور وماانت بمسمع من فی القبور (فاطر : ٢٢) سے استدلال کیا ہے ‘ اور ان آیتوں اور اس حدیث میں کوئی تعارض نہیں ہے ‘ کیونکہ ہوسکتا ہے کہ مردے کسی وقت اور کسی حال میں نہ سنیں اور دوسرے وقت اور دوسرے حال میں سن لیں ‘ کیونکہ عام کی تخصیص کرنا جائز ہے ‘ خصوصاََ جب مخصص پایاجائے اور یہاں پر مخصص ہے کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب لوگ مردے کو دفن کرکے چلے جاتے ہیں تو وہ ان کی جوتیوں کی آہٹ سنتا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٨٣٣١) اور جب فرشتے قبر میں آکر مردے سے سوال کرتے ہیں اور وہ ان کو جواب دیتا ہے تو اس کا کسی نے انکار نہیں کیا ‘ اور امام عبدالبر نے حضرت ابن عباس رض اللہ عنہما سے یہ حدیث روایت کی ہے کہ تم میں سے جو شخص بھی اپنے اس مومن بھائی کی قبر کے پاس سے گزرتا ہے جس کو وہ دنیا میں پہچانتا تھا اور اس کو سلام کرتا ہے تو وہ اس کو پہچان کر اس کے سلام کا جواب دیتا ہے۔ (الاستذ کا رقم الحد یث : ٨٥٨١) اس حدیث کو ابو محمد عبدالحق نے صحیح قرار دیا ہے۔ (التذکرہ ج ١ ص ٧٢٢‘ مطبوعہ دارالبخاری مدینہ منورہ : ٧١٤١ ھ)

میں کہتا ہوں کہ ان آیتوں میں سنانے کی نفی ہے ‘ سننے کی نفی نہیں ہے ‘ اس لیے ان آیتوں کا اس حدیث سے تعارض نہیں ہے۔

نیز حدیث میں ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ابوزید نے کہا یا رسول اللہ ! میرا راستہ قبرستان کے پاس سے ہے ‘ آیا جب میں ان کے پاس سے گزروں تو ان سے کوئی بات کرلوں ؟ آپ نے فرمایا تم کہو السلام علیکم اہل القبور من المسلمین انتم لنا سلفا ونحن لکم تبعا وانا ‘ انشاء اللہ بکم لاحقون۔ (اے مسلمان قبر والو ! تم پر سلام ہو ‘ تم ہمارے پیش رو ہو اور ہم بعد میں آنے والے ہیں ‘ اور ہم انشاء اللہ تم سے ملنے والے ہیں) ابوزید نے کہا : یارسول اللہ ! آیا وہ سنتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا وہ سنتے ہیں ! لیکن تم کو جواب دینے کی طاقت نہیں رکھتے۔ (حافظ سیوطی نے کہا یعنی وہ ایسا جواب دینے کی طاقت نہیں رکھتے جس کو تم عادتاََ سن سکو)

(کتاب الضعفاء الکبیر للعقیلی ج ٤ ص ٩١‘ رقم : ٣٧٥١‘ احوال القبور لابن رجب ص ١٤١‘ شرح الصدورص ٣٠٢)

حضرت عمر بن الخطاب نے ایک قبر والے سے کلام کیا تو ان آپ کلام کا جواب دیا ‘ اس سے معلوم ہوا کہ قبر والوں کے سلام کا جواب دادتاََ سنائی نہیں دیتا لیکن کوئی شخص خلافِ عادت بطور کرامت ان کا کلام سن سکتا ہے جیسے حضرت عمر نے سنا ‘ حضرت عمر کی حدیث یہ ہے :

حافظ ابوالقاسم علی بن الحسن ابن عساکر دمشقی متوفی ١٧٥ ھ اپنے سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

یحییٰ بن ایوب الخزاعی بیان کرتے ہیں کہ میں نے سنا کہ حضرت عمر بن الخطاب کے زمانہ میں ایک عبادت گزار نوجوان تھا جس نے مسجد کو لازم کرلیا تھا ‘ حضرت عمر اس سے بہت خوش تھے ‘ اس کا ایک بوڑھا باپ تھا ‘ وہ عشاء کی نماز پڑھ کر اپنے باپ کی طرف لوٹ آتا تھا ‘ اس کے راستہ میں ایک عورت کا دروازہ تھا وہ اس پر فریفتہ ہوگئی تھی ‘ وہ اس کے راستہ میں کھڑی ہوجاتی تھی ‘ ایک رات وہ اس کے پاس سے گزرا تو وہ اس کو مسلسل بہکاتی رہی حتیٰ کہ وہ اس کے ساتھ چلا گیا ‘ جب وہ اس کے گھر کے دروازہ پر ہپنچا تو وہ بھی داخل ہوگئی ‘ اس نوجوان نے اللہ کو یاد کرنا شروع کیا اور اس کی زبان پر یہ آیت جاری ہوگئی : ان الذین اتقوا اذامسھم طئف من الشیطن تذکروا فاذاھم مبصرون۔ الاعراف : ١٠٢) بیشک جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں انہیں اگر شیطان کی طرف سے کوئی خیال چھو بھی جاتا ہے تہ وہ خبر دار ہوجاتے ہیں اور اسی وقت ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔

پھر وہ نوجوان بےہوش ہو کر گر کیا ‘ اس عورت نے اپنی باندی کو بلایا اور دونوں نے مل کر اس نوجوان کو اٹھایا اور اسے اس کے گھر کے دروازہ پر چھوڑ آئیں۔ اس کے گھر والے اسے اٹھا کر گھر میں لے گئے ‘ کافی رات گزرنے کے بعد وہ نوجوان ہوش میں آیا۔ اس کے باپ نے پوچھا اے بیٹے تمہیں کیا ہوا تھا ؟ اس نے کہا خیر ہے ‘ باپ نے پھر پوچھا تو اس نے پورا واقعہ سنایا۔ باپ نے پوچھا اے بیٹے تم نے کون سی آیت پڑھی تھی ؟ تو اس نے اس آیت کو دہرایا جو اس نے پڑھی تھی اور پھر بےہوش ہو کر گرگیا گھر والوں نے اس کو ہلایا جلایا لیکن وہ مرچکا تھا۔ انہوں نے اس کو غسل دیا اور لے جا کر دفن کردیا ‘ صبح ہوئی تو اس بات کی خبر حضرت عمر (رض) تک پہنچی۔ صبح کو حضرت عمر اس کے والد کے پاس تعزیت کے لیے آئے اور فرمایا تم نے مجھے خبر کیوں نہیں دی ؟ اس کے باپ نے کہا رات کا وقت تھا۔ حضرت عمر نے فرمایا ہمیں اس کی قبر کی طرف لے چلو ‘ پھر حضرت عمر اور ان کے اصحاب اس کی قبر پر گئے ‘ حضرت عمر نے کہا اے نوجوان ! جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرے اس کے لیے دو جنتیں ہیں ؟ اس نوجوان نے قبر کے اندر سے جواب دیا : اے عمر ! مجھے میر رب عزوجل نے جنت میں دو بار جنتیں عطا فرمائی ہیں۔ (تاریخ دمشق الکبیر ج ٨٤ ص ٧٠٣‘ مطبوعہ داراحیاع التراث العربی بیروت ‘ ١٢٤١ ھ ‘ تفسیر ابن کچیر الاعراف : ١٠٢‘ ج ٢ ص ٥١٣‘ دارالفکر ٩١٤‘ شرح الصدروص ٣١٢‘ بیروت ‘ ٤٠٤١ ھ ‘ کنز العمال رقم الحدیث : ٤٣٦٤ )

حافظ ابوبکر احمد بن حسین بیہقی متوفی ٨٥٤ ھ نے اپنی سند کے ساتھ اس حدیث کو اختصاراََروایت کیا ہے :

حسن بصری بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب کے زمانہ میں ایک نوجوان نے عبادت اور مسجد کا لازم کرلیا تھا ‘ ایک عورت اس پر عاشق ہوگئی ‘ وہ اس کے پاس خلوت میں آئی اور اس سے باتیں کیں اس کے دل میں بھی اس کے متعلق خیال آیا پھر اس نے ایک چیخ ماری اور بےہوش ہوگیا۔ اس کے چچا آیا اور اس کو اٹھا کرلے گیا جب اس کو ہوش آیا تو اس نے کہا اے چچا حضرت عمر کے پاس جائیں ان سے میرا سلام کہیں اور پوچھیں کہ جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے نے ڈرے اس کی کیا جزا ہے ؟ اس کا چچا حضرت عمر کے پاس گیا ‘ اس نوجوان نے پھر چیخ ماری اور جان بحق ہوگیا۔ حضرت عمر (رض) اس کے پاس کھڑے ہوئے اور کہا تمہارے لیے دو جنتیں ہیں ‘ تمہارے لیے دو جنتیں ہیں۔ (شعب الایمان رقم الحدیث : ٦٣٧‘ کنز العمال رقم الحدیث : ٥٦٣٤‘ روح المعنی جز ٧٢ ص ٦١١‘ الدرالمثورج ٧ ص ٤٢٦‘ داراحیاء التراث العربی بیروت)

سماع موتی  پر ہم نے شرح صحیح مسلم ج ٧ ص ٦٤٧۔ ٣٤٧ میں بھی لکھا ہے ‘ لیکن سب سے زیادہ تفصیل کے ساتھ ہم نے یہ بحث تبیان القرآنج ٤ ص ٩٨٥۔ ٦٧٥ میں کی ہے اور اتنی مفصل اور مدلل بحت اس موضوع پر اور کہیں نہیں ملے گی ‘ اور قدر ضروری بحث ہم نے یہاں بھی کی ہے اور سماع موتی ٰ کے ثبوت میں احدیث اور آثار پیش کیے ہیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 27 النمل آیت نمبر 80