أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَ اِذَا وَقَعَ الۡقَوۡلُ عَلَيۡهِمۡ اَخۡرَجۡنَا لَهُمۡ دَآبَّةً مِّنَ الۡاَرۡضِ تُكَلِّمُهُمۡۙ اَنَّ النَّاسَ كَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا لَا يُوۡقِنُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور جب ان پر ہمارا قول واقع ہوجائے گا تو ہم ان کے لیے زمین سے ایک جانور(دآبۃ الارض) نکالیں گے جو ان سے کلام کرے گا ‘ بیشک لوگ ہماری آیتوں پر ایمان نہیں لاتے تھے ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب ان پر ہمار قول واقع ہوجائے گا تو ان کے لیے زمیان سے ایک جانور ( دآبۃ الارض) نکالیں گے جو ان سے کلام کرے گا ‘ بیشک لوگ ہماری آیتوں پر ایمان نہیں لاتے تھے۔ النمل : ٢٨ )

اللہ تعالیٰ کے قول واقع ہونے کی تفسیر میں اقوال 

اس آیت میں فرمایا ہے اور جب ان پر ہمارا قول واقع ہوجائے گا ‘ اس کی تفسیر میں متعدد اقوال ہیں :

قتادہ نے کہا اس کا معنی ہے جب ان پر ہمارا غضب واقع ہوجائے گا ‘ مجاہد نے کہا اس کا معنی ہے جب ان کے متعلق ہمارا یہ قول ثابت ہوجائے گا کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ حضرت ابن عمر اور حضرت ابو سعید خدری (رض) نے کہا جب لوگ نیکی کا حکم نہیں دیں گے اور برائی سے نہیں روکیں گے تو ان پر اللہ کا غضب واجب ہوجائے گا ‘ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے کہا علماء کے فوت ہونے ‘ علم کے ختم ہوجانے اور قرآن کے اٹھ جانے سے اللہ کا قول واقع ہوجائے گا۔ لوگوں نے کہا ہوسکتا ہے یہ مصاحف اٹھالیے جائیں ‘ لیکن انسانوں کے دلوں سے قرآن مجید کو کس طرح نکالا جائے گا۔ حضرت ابن مسعود نے کہا وہ زمانہ جاہلیت کے قصہ کہانیوں اور اشعار میں کھو جائیں گے اور قرآن مجید کو بھول جائیں گے اور اس وقت ان پر اللہ کا قول واقع ہوجائے گا۔

امام بزار نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے کہا : اس بیت اللہ کی بکثرت زیارت کیا کرو اس سے پہلے کہ اس کو اٹھا لیا جائے اور لوگ اس کی جگہ کو بھول جائیں اور قرآن مجید کی بکثرت تلاوت کیا کرو اس سے پہلے کہ اس کے اٹھا لیا جائے۔ الحدیث 

بعض علماء نے کہا کہ قول واقع ہونے سے مراد یہ آیت ہے : و لوشئنا لا تینا کل نفس ھد ھا ولکن حق القول منی لاملن جھنم من الجئۃ والناس اجمعین۔ (السجدۃ : ٣١) اگر ہم چاہیت تو ہر نفس کو ہدایت یافتہ بنادیتے لیکن میرا یہ قول حق (سچا) ہوچکا ہے کہ میں دوزخ کو ضرور بہ ضرورجنات اور انسانوں سے بھر دوں گا۔

پس قول کا واقع ہونا ان لوگوں پر عذاب کا واجب کرنا ہے ‘ اور جب وہ اس حد کو پہنچ جائیں گے کہ ان کی توبہ قبول نہیں ہوگی اور ان کے ہاں کوئی مومن پیدا نہیں ہوگا تو پھر ان پر قیامت آجائے گی۔

ابو العالیہ نے کہا یہ آیت اس آیت کے معنی میں ہے : واوحی الی نوح انہ لن یومن من قومک الا من قدامن فلا تبتس بما کانوایفعلون۔ (ھود : ٦٣) اور نوح کی طرف یہ وحی کی گئی کہ آپ کی قوم میں سے جو ایمان لا چکے ہیں ‘ ان کے علاوہ اب اور کوئی ایمان نہیں لائے گا ‘ سو آپ ان کے کاموں پر رنجیدہ نہ ہوں۔

النحاس نے کہا یہ بہترین جواب ہے کیونکہ لوگوں کی آزمائش کی جاتی ہے اور ان پر عذاب کو موخر کردیا جاتا ہے کیونکہ ان میں مومنین اور صالحین بھی ہوتے ہیں اور ان میں وہ لوگ بھی ہوتے ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ کو علم ہوتا ہے کہ یہ عنقریب ایمان لائیں گے اور توبہ کرلیں گے ‘ اس لیے لوگوں کو مہلت دی جاتی رہی اور ہم کو جز یہ لینے کا حکم دیا گیا اور جب یہ معنی زائل ہوجائے گا تو پھر ان پر قول واجب ہوجائے گا اور وہ قوم نوح کی مثل ہوجائیں گے اور اس پر قرینہ یہ ہے کہ اس آیت کے آخر میں فرمایا ہے بیشک لوگ ہماری آیتوں پر ایمان نہیں لاتے تھے۔ ان تمام اقوال کا خلاصہ یہ ہے کہ جب ایمان لانے والے نہیں رہیں گے تو اللہ تعالیٰ کا قول واقع ہوجائے گا اور قیامت آجائے گی۔

دآبۃ الارض کی صورت اور اس کے محل خروج کے متعلق احادیث ‘ آثار اور مفسرین کے اقوال 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تو ہم ان کو لیے زمین سے ایک جانور (دآبۃ الارض) نکالیں گے جو ان سے کلام کرے گا۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب تین چیزوں کا ظہور ہوجائے گا تو کسی ایسے شخص کے لیے ایمان لانا مفید نہیں ہوگا جو پہلے ایمان نہ لایا یا جس نے اپنے ایمان میں کوئی نیکی نہ کی ہو ‘ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ‘ دجال اور دآبۃ الارض۔ ( صحیح مسلم رقم الحدیث : ٨٥١‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٧٠٣)

اس حدیث میں بھی دآبۃ الارض کا ذکر ہے۔

اس جانور ( دآبۃ الارض) کی تعیین اور اس کے صفت میں اختلاف ہے ‘ اور اس میں کہ یہ جانور کہاں سے نکلے گا۔ علامہ قرطبی فرماتے ہیں اس سلسلہ میں پہلا قول یہ ہے کہ یہ جانور حضرت صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی کا بچہ ہے اور یہی سب سے صحیح قول ہے۔ّالجامع لاحکان القرآن ج ٣١ ص ٧٣)

حدیث میں ہے :

حضرت حذیفہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس جانور ( دآبۃ الارض) کا ذکر فرمایا : آپ نے فرمایا اس کے دہر میں تین مرتبہ خروج ہوں گے۔ وہ ایک جنگل کی انتہا سے نکلے گی اور اس کا ذکر ایک شہر یعنی مکہ میں داخل نہیں ہوگا ‘ پھر وہ ایک لمبے عرصے تک چھپا رہے گا ‘ پھر وہ دوسری بار نکلے گا اور اس کا ذکر جنگل میں پھیل جائے گا اور اس کا ذکرشہر یعنی مکہ میں بھی داخل ہوجائے گا پھر لوگ اس مسجد میں ہوں گے جس کی عزت اور حرمت اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام مساجد میں سب سے زیادہ ہے یعنی مسجد حرام میں ‘ اس وقت وہ لوگ صرف اس بات سے خوف زدہ ہوں گے کہ حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان اور اونٹنی کا بچہ بلبلا رہا ہوگا ‘ اور اپنے سر سے مٹی جھاڑ رہا ہوگا ‘ پھر کچھ لوگ اس کو دیکھ کر منتشر ہوجائیں گے البتہ مومنین کی ایک جماعت اپنے جگہ ثابت رہے گی اور وہ یہ جان لیں گے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کرسکتے سو وہ اونٹنی کا بچہ ان سے ابتدا کرے گا اور ان کے چہروں کو روشن کر دے گا ‘ حتیٰ کہ ان کے چہرے روشن ستارے کی مانند ہوجائیں گے ‘ وہ زمین میں پھرے گا کوئی شخص اس کو پکڑ نہیں سکے گا اور کوئی شخص اس سے بھاگ کر نجات نہیں پا سکے گا ‘ حتیٰ کی کوئی شخص اس سے بچنے کے لیے نماز کی پناہ لے گا تو وہ اس کے پیچھے آ کر کہے گا ‘ اے فلاں ! اب تو نماز پڑھ رہا ہے ‘ پھر وہ اس کے سامنے سے آکر اس کے چہرے پر نشان لگا دے گا ‘ پھر چلا جائے گا ‘ لوگ اپنے کاروبار میں مشغول ہوں گے ‘ مومن کافر سے کہہ رہا ہوگا اے کافر میرا حق ادا کر۔ (سنن ابوداؤدالطیالسی رقم الحدیث : ٩٦٠١‘ تفسیر ابن کثیر ج ٣ ص ٢١٤)

ایک روایت میں یہ ہے کہ اس کے جسم پر بالوں کے روئیں ہوں گے ‘ اس کی چارٹانگیں ہوں گی اور وہ ساٹھ ہاتھ لمبا ہوگا۔۔

حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ وہ جساسہ ہے ‘ اور حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ وہ انسانوں کی شکل پر ہوگا ‘ اس کا اوپر کا دھڑ بادلوں میں ہوگا ‘ اور نچلا دھڑ زمین پر ہوگا۔

ایک روایت ہے کہ وہ تمام حیوانوں کی شکلوں کا جامع ہوگا۔

المادردی اور الثعلبی نے ذکر کیا ہے کہ حضرت ابن الزبیر نے فرمایا اس کا سر بیل کا سا ہوگا اور آنکھیں خنزیر کی سی ہوں گی ‘ کان ہاتھی کی طرح ہوں گے ‘ اس کے سینگھ بارہ سنگھے کی طرح ہوں گے اور اس کی گردن شتر مرغ کی طرح ہوگی ‘ اس کا سینہ شیر کی طرح ہوگا ‘ اور اس کا رنگ چیتے کی طرح ہوگا ‘ اس کی کو کھ بلی کی طرح ہوگی اور دم مینڈھے کی طرح ہوگی اور اس کی ٹانگیں اونٹ کی طرح ہوں گی اور اس کے ہر جوڑ کے درمیان بارہ ہاتھ کا فاصلہ ہوگا۔ وہ مومن کے چہرہ کو حضرت موسیٰ کے عصا سے سفید کر دے گا اور کافر کے چہرہ کو حضرت سلیمان کی انگوٹھی سے سیاہ کر دے گا۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ٧٩٥٦١‘ تفسیر ابن کثیر ج ٣ ص ٣١٤‘ النکت والعیون للماوردی ج ٤ ص ٦٢٢) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دآبۃ ( الارض) زمین سے نکلے گا ‘ اس کے پاس حضرت سلیمان بن داؤد (علیہما السلام) کی انگوٹھی ہوگی اور حضرت موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) کا عصا ہوگا ‘ وہ مومن کے چہرے پر عصا مار کر اس کو روشن کر دے گا ‘ اور کافر کی ناک کی چونچ پر انگوٹھی سے نشان لگا دے گا ‘ حتیٰ کہ گھروں سے نکل کر لوگ اس کے گرد جمع ہوں گے وہ کہے گا یہ مومن ہے یہ کافر ہے۔ (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٦٦٠٤‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٧٨١٣‘ مسند احمد ج ٢ ص ٥٩٢)

حضرت عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو مکہ کے قریب ایک جنگل میں لے گئے ‘ ایک خشک زمین تھی جس کے گرد ریت تھی ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس جگہ سے دآبتہ الارض نکلے گا۔ (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٧٦٠٤‘ مسند احمدج ٥ ص ٧٥٣‘ تفسیر ابن کثیر ج ٣ ص ٢١٤)

حضرت علی بن ابی طالب سے دآبۃ الارض کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا اللہ کی قسم اس کی دم بھی ہوگی اور اس کی داڑھی بھی ہوگی۔ ہرچند کہ حضرت علی نے تصریح نہیں کی مگر اس میں اشارہ ہے کہ وہ انسانوں میں سے ہوگا۔ (الماوردی ج ٦ صا ٦٢٢ )

علامہ الماوردی متوفی ٠٥٤ ھ نے کہا جس زمین سے وہ نکلے گا اس کے متعلق چار قول ہیں : حضرت ابن عباس نے فرمایا : 

(١) وہ تہامہ کی بعض وادیوں سے نکلے گا۔

(٢) حضرت ابن عمر نے فرمایا وہ اجیاد کی گھاٹیوں میں ایک چٹان سے نکلے گا۔

(٣) حضرت ابن مسعود نے کہا وہ صفا سے نکلے گا۔

(٤) ابن منبہ نے کہا وہ بحر سدوم سے نکلے گا۔ (النکت والعیون ج ٤ ص ٧٢٢‘ دارالکتب العلمیہ بیروت)

علامہ ابوعبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٨٦٦ ھ لکھتے ہیں :

بعض متاخرین مفسرین نے کہا ہے کہ دآبۃ الارض انسان ہوگا وہ باتیں کرے گا ‘ اور کفار اور اہل بدعت سے مناظرہ اور مجادلہ کرکے ان کو ساکت کر دے گا ‘ سو جس نے ہلاک ہونا ہوگا وہ دلائل سے آگاہ ہو کر ہلاک ہوگا اور جس نے حق پر قائم رہنا ہوگا وہ دلائل سے آگاہ ہو کر حق پر قائم رہے گا ‘ ہمارے استاد امام ابوالعباس احمد ھن عمر القرطبی المتوفی ٦٥٦ ھ نے کہا ہے کہ دآبۃ الارض کی صورت کے متعلق کوئی حدیث صحیح نہیں ہے۔ جس نے کہا ہے کہ دآبۃ الارض انسان ہوگا اس کا قول قرآن مجید کے ان الفاظ کے قریب ہے ” وہ باتیں کرے گا “ لیکن اس بناء پر اس دآبۃ الارض میں کوئی خارق (خلاف) عادت چیز نہیں ہوگی ‘ اور نہ وہ اس دن نشانیوں میں سے ہوگا جن کا حدیث میں ذکر ہے کیونکہ کفار اور اہل بدعت سے مناظرہ کرنے والے اور ان کو ساکت کرنے والے انسان تو بہت ہیں سو وہ کوئی خاص چیز نہیں ہوگا اور اس کا قیامت کی دس نشانیوں میں ذکر کرنے کی بھی کوئی وجہ نہیں ہوگی ‘ پھر ایسے فاضل ‘ کاہل اور مناظر انسان کو دآبۃ الارض کہنے کی بھی کوئی وجہ نہیں ہوگی اور ایسے فاضل مناظر کو دآبۃ الارض ( زمین کا جانور) کہنا فصحاء کی عادت کے خلاف ہے اور تعظیم علماء اور دستور عقلاء کے منافی ہے۔ (المفھم ج ٧ ص ٢٤٢) اس لیے دآبۃ الارض کی صحیح تفسیر وہی ہے جو ہم اس سے پہلے مفسرین سے نقل کرچکے ہیں اور جس تفسیر کا حدیث میں ذکر ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٣١ ص ٨١٢‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ٥١٤١ ھ)

علامہ ابوالحیان محمد بن یوسف اندلسی غرناطی متوفی ٤٥٧ ھ لکھتے ہیں :

دآبۃ الارض کی ماہیت میں ‘ اس کی شکل میں ‘ اس کے نکلنے کی جگہ میں ‘ اس کی تعداد میں ‘ اس کی مقدار میں اور یہ کہ وہ لوگوں کے ساتھ کیا کرے گا اس میں بہت اختلاف ہے اور یہ اقوال آپس میں متعارض ہیں اور بعض اقوال بعض کی تکذیب کرتے ہیں۔ اس لیے ہم نے اس کے ذکر کو ترک کردیا کیونکہ اس کے ذکر کرنے میں اوراق کو سیاہ کرتا ہے اور وقت کو ضائع کرتا ہے۔ (البحرالمحیط ج ٨ ص ٩٢٦‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ٢١٤١ ھ)

علامہ سید محمود آلوسی متوفی ٠٧٢١ ھ لکھتے ہیں :

علامہ ابوالحیان اندلسی کا یہ کلام برحق ہے اور میں نے جو اس سلسلہ میں اقوال نقل کیے ہیں ‘ وہ صرف اس لیے کہ جس کو دآبۃ الارض کے متعلق تفصیل کو جاننے کا تجس اور شوق ہو اس کی تسکین ہو سکے ‘ پھر دآبۃ الارض کے متعلق جو احادیث ہیں ‘ ان میں سنن ترمذی کی حدیث اقرب الی القبول ہے اور وہ یہ ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دآبۃ ( الارض) زمین سے نکلے گا ‘ اس کے پاس حضرت سلیمان (علیہما السلام) کی انگوٹھی ہوگی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا ہوگا ‘ عصا سے مومن کا چہرہ روشن کرے گا ‘ اور انگوٹھی سے کافر کی ناک پر نشان لگا دے گا ‘ حتیٰ کہ گھروں سے لوگ اس کے گرد جمع ہوں گے وہ کہے گا سنو یہ مومن ہے اور سنو یہ کافر ہے۔ الحدیث۔ یہ حدیث حسن ہے۔ علامہ آلوسی لکھتے ہیں کہ دآبۃ الارض کے متعلق زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ چارپاؤں والا عجیب و غریب جانور ہے ‘ یہ نوع انسان میں سے اصلاََ نہیں ہے ‘ اللہ تعالیٰ آخر زمانہ میں اس کو زمین سے نکالے گا اور زمین سے نکالنے میں یہ اشارہ ہے کہ یہ توالد کے طریقہ سے نہیں نکلے گا جس طرح زمین سے حشرات الارض نکلتے ہیں اور یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ ( روح المعنی جز ٠٢ ص ٦٣‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ٧١٤١ ھ)

اس کے بعد فرمایا : جو ان سے کلام کرے گا ‘ بیشک لوگ ہماری نشانیوں پر ایمان نہیں لاتے تھے 

اس آیت کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دآبۃ الارض لوگوں سے یہ کہے گا کہ لوگ ہماری نشانیوں پر ایمان نہیں لاتے تھے ‘ وہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کو ہماری نشانیاں اس اعتبار سے کہے گا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نمائند گی کر رہا ہے ‘ اور یا اس کا معنی یہ ہے کہ وہ دآبۃ الارض لوگوں سے کلام کرے گا جیسا کہ احادیث میں وارد ہے ‘ وہ کہے گا سنو یہ مومن ہے ‘ سنو یہ کافر ہے ‘ اور یہ جو فرمایا ہے ‘ بیشک لوگ ہماری نشانیوں پر ایمان نہیں لاتے تھے یہ ابتداء اللہ تعالیٰ کا کلام ہے ‘ یعنی چونکہ لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتے تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے قرب قیامت میں زمین سے ایک عجیب و غریب جانور نکالا جو لوگوں سے باتیں کرتا تھا ‘ یہ ایک واضح اور کھلی ہوئی نشانی تھی لیکن قرب قیامت میں اس نشانی کو دیکھ کر ایمان لانا اب مفید نہیں ہوگا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 27 النمل آیت نمبر 82